الغزالی

مارچ
31
by طالب علم at ‏8:38 PM
(15 مناظر / 0 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
فی زمانہ کچھ منافق قسم کے لوگ اکابرین اہل سنّت والجماعت احناف دیوبند کے بارے میں یہ دعویٰ بڑے زور و شور سے کررہے ہیں کہ یہ حضرات وحدت الوجودی ھے۔ان منافقین کی اس محنت، مشقت ، کدوکاش اور پروپیگنڈہ کی حقیقت لا مذہب غیر مقلدوں نے جو اعتراضات قائم کئے ہیں انکے تمام اعتراضات کے علمی اور معقول جوابات دئے جا چکے ہے ۔
جنکی لنک یہ رہی
پوسٹ نمبر 1
https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1077487339278906/
پوسٹ نمبر 2
https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1077557455938561/
پوسٹ نمبر 3
https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1077605495933757/
پوسٹ نمبر 4
اعتراضات کی جوابی پوسٹ لنک اور انٹی جی کے 7 جھوٹ
https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1077726085921698/
پوسٹ نمبر 5
https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1078212032539770/
پوسٹ نمبر 6
https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1078250999202540/

اہل باطل نے اپنے تئیں اس کا حل یہ نکالا کہ بجائے اپنی شکست اور لوگوں کے ڈر سے اس کے...
مارچ
31
by طالب علم at ‏8:30 PM
(9 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
کہاں سے فتنہ اٹھتا ہے کہاں نفرت پنپتی ہے
سمجھ لیتے ہیں سب لیکن نظرانداز کرتےہیں
کسی کمظرف کی شعلہ بیانی سے نہ ڈریئےگا
جو خالی ہوتے ہیں برتن بہت آواز کرتے ہیں
مارچ
31
by احمدقاسمی at ‏10:10 AM
(18 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
طاعون زدہ علا قہ میں آمد ورفت پر پا بندی​
(جواب سوال ۱۰)
حکومت کا اس طرح کی پابندی لگا نا درست ہے اور آپ ﷺ کےارشاد کے مطابق ہے جو حضرت سعد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف سے منقول ہے کہِ اذا سمعتم با الطاعون فی ارض فلا تدخلوھا اون وقع بارض وانتم لھا فلا تخرجوا منھا ۔
ترجمہ:جب تم کسی سرزمین میں طاعون کی اطلاع پاؤ تو داخل نہ ہو اور اگر جہاں تم ہو وہیں طاعون پھوٹ پڑے تو اس مقام سے با ہر نہ جاؤ۔
جب اسباب کے درجہ میں ان امراض کا متعدی ہونا ثابت ہے تو صحت عامہ کی حفاظت کے لئے اس قسم کی تدابیر از قبیل واجبات ہیں ۔ طاعون وجذام اور اس سلسلۂ میں احتیاط وتوکل کے مو ضوع پر امام غزالی اور حافظ ابن قیم رحمھااللہ تعالی نے اسرار شریعت کے رمز شناس اور فن طب کے غواص وشناور کی حیثیت سے جو کلام کیا وہ اس باب میں خضر طریق ہیں ۔امام غزالی کی گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ طاعون زدہ شہر کے لوگوں کو با ہر جانے سے اس لئے رو کا گیا ہے کہ وہاں جو لوگ بہ ظاہر صحت مند نظر آتے ہیں ان کا بھی طاعون سے متا ثر ہونا بعید نہیں کیوں کہ ابتدائی مر حلہ میں بیماریوں کا اثر ظاہر نہیں ہوپاتا...
مارچ
30
https://dc615.4shared.com/img/D3T4R0H7ea/s24/1712a2038d8/Image?async=&rand=0.40195189332072534
by احمدقاسمی at ‏7:34 AM
(16 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
جیسا کہ سوشل میڈیا پر موجودہ حالات میں گھروں میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے فتاوی گردش کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ "اذن عام" جو کہ جمعہ کے لئے شرط ہے پھر اس شرط کا کیا ہوگا؟ خلجان دور فرمادیں
[3/25, 5:26 PM]
مفتی نعمان صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند:
بسم اللہ الرحمن الرحیم،
الجواب وباللہ التوفیق:۔ گھروں میں جمعہ ادا کرنے کے تعلق سے شوشل میڈیا پر جو فتاوی گردش کررہے ہیں، اُن میں سے بعض میں واقعی طور پر اذن عام کی شرط کا لحاظ نہیں کیا گیا ہے؛ جب کہ اذن عام صحت جمعہ کے لیے شرط ہے؛ اسی وجہ سے اگر کوئی اپنے بند گھر میں بیوی بچوں کو لے کر جمعہ ادا کرے گا تو جمعہ ادا نہ ہوگا؛ البتہ اذن عام کے لیے اتنا کافی ہے کہ آس پاس کا کوئی شخص اگر آنا چاہے تو آنے کی اجازت ہو۔ اور اگر زیادہ مجمع کو اس لیے منع کیا جائے کہ مقامی انتظامیہ کو اشکال ہوگا تو یہ اذن عام کے منافی نہیں؛ لہٰذا اگر باہر کا دروازہ کھول کر باہری کمرہ میں جمعہ قائم کیا جائے اور آس پاس کے لوگوں کو وقت کی اطلاع کرکے جمعہ میں شرکت کی اجازت دیدی جائے تو جمعہ ہوجائے گا کذا في عامۃ کتب الفقہ والفتاوی۔فقط واللہ تعالی أعلم، محمد نعمان سیتا پوری...