الغزالی

جون
02
http://algazali.org/index.php?attachments/020202-gif.52/
by محمدداؤدالرحمن علی at ‏9:14 AM
(635 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات


@حافظ نوید امجد طیب صاحب آپ کو میری طرف سے اور الغزالی انتظامیہ کی طرف سے آپ کو الغزالی پر دل کی اتاہ گہرائیوں سے خوش آمدید

[​IMG]

آپ آئے بہار آئی
[​IMG]

امید ہے کہ آپکی آمد سے فورم کی رونق میں اضافہ ہو گا اور آپ سے بھت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔

[​IMG]
آپکو...
مئی
22
by محمدداؤدالرحمن علی at ‏5:19 PM
(52 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
دستر خوان پر اللہ کی نعمتیں
بیان:حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب

مئی
15
by محمدداؤدالرحمن علی at ‏9:57 AM
(916 مناظر / 0 پسند کردہ)
25 تبصرہ جات
درس خلاصہ قرآن
خلاصہ پارہ نمبر 1
مدرس: حضرت مولانا خادم حسین صاحب
بتاریخ:7 مئی 2019 بمطابق یکم رمضان1440ھ
اپریل
25
by محمدداؤدالرحمن علی at ‏6:52 AM
(195 مناظر / 2 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮﻭﻣﺮﻣﺖ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺭﻗﻢ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ﮐﻤﯿﭩﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﯽ ﺍُﺱ ﻧﮑﮌ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﮍﺍﺗﺎﺟﺮ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺴﻖ ﻭ ﻓﺠﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ﺍﮔﺮ آﭖ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﻣﻤﮑﻦ ﻫﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ -ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺣﺎﻣﯽ ﺑﮭﺮ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﯾﺎ۔ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺎﺟﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ آﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﭩﭙﭩﺎ ﮔﺌﮯ , ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﺳﭙﯿﮑﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺍﺩﮬﺮ ﺗﮏ آﭘﮩﻨﭽﮯ ﻫﻮ۔ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭ ﻣﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭼﻨﺪﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ آﻥ ﭘﮩﻨﭽﯽ ..ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ , ﺻﺎﺣﺐ , ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﮯ آﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ آﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺖِ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ , ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ , ﺍﻟﻠﮧ آﭖ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﺩﮮ ﮔﺎ .تاجر ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻻؤ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﺪﮦ ﺩﻭﮞ۔ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎﺍﺱ ﺗﺎﺟﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮎ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺗﮭﻮﮎ ﻭﺍﻻ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯﺳﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﻞ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﺗﺎﺟﺮ...
اپریل
20
by محمدداؤدالرحمن علی at ‏7:06 AM
(143 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
ماہ شعبان المعظم کی ناجائز رسوم اور بدعات و منکرات

از فقیہ الامت مولانا مفتی سید عبدالکریم گمتھلوی ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ

منکراتِ ماہ ہذا:
اس شبِ مبارک میں صرف دوتین باتیں ثابت ہیں ، عبادت کرنا اور قبرستان میں جاکردعائے مغفرت کرنا۔اس کے علاوہ شریعت میں کچھ واردنہیں ہوا، حتیٰ کہ اس رات کوایصالِ ثواب وغیرہ کی بھی کوئی اصل نہیں ۔اگر مفصل دلائل مطلوب ہوں تو ’’ترجیح الراحج‘‘ حصہ سوم، فصل سوم ضرورقابل ملاحظہ ہے ۔مگرجاہل لوگوں نے عبادت کی جگہ بہت سی بے ہودہ رسمیں ایجاد کر رکھی ہیں جن کو سیدی مرشدی حضرت حکیم الامت مولاناتھا نوی دامت برکاتہم نے ’’إصلاح الرسوم ‘‘میں بخوبی بیان فرمایاہے ۔لہٰذا بعینہٖ’’ إصلاح الرسوم‘‘ کی عبارت درج ذیل ہے :
شب براء ت میں حدیث شریف سے اس قدرثابت ہے کہ حضور ﷺ بحکم حق تعالیٰ جنت البقیع میں تشریف لے گئے اور اموات کے لیے استغفار فرمایا ۔اس سے آگے سب ایجاد ہے جس میں مفاسدِ کثیرہ پیداہوگئے ہیں:
۱۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضورسرورِعالم ﷺ کا دندانِ مبارک جب شہیدہوا تھا آپﷺ نے حلوہ نوش فرمایاتھا۔ یہ بالکل موضوع اور غلط قصہ ہے، اس کااعتقاد کرناہرگز جائز نہیں...​