الغزالی

جون
25
by احمدقاسمی at ‏10:10 AM
(25 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
ہمارے واعظ​
واعظ کو ضروری ہے کہ انبیا اور ملا ئکہ کی نسبت محتاط رہے۔خدا سے شرمائے اور وعظ کو خرافات نہ بنائے ۔خدا کی ذات میں گفتگو کر نی اور نبیوں اور فرشتوں کے مقامات میں با وجود لا علمی کے گفتگو کرنا نہ چاہئے۔اللہ پاک نے انبیا کی بڑی تو صیف فرمائی ہے اور سارے عالم پر انھیں فضیلت دی ہے ۔یہودکے بیا نوں پر جو ہمارے مفسرین نے داخل کر لئے ہیں۔ انبیاء علیھم السلام کو مطعون ٹھیرا نا برا ہے ۔حضرت داؤد کے قصہ میں مفسرین نے اوریا کی عورت کی نسبت جو قصہ وضع کر لیاہے وہ غلط محض ہے حضرت یوسف کے معاملہ میں قصداگنہ کا الزام آپ کے سر تھو پا ہے ۔حضرت لوط کے قصہ میں طرح طرح کے خرافات پیدا کر چکے ہیں ۔ یہ لوگ ایسے راویوں کے کلام پر اعتماد کرتے ہیں جنھوں نے خدام پر اتہام کئے تھے۔ ایسے واعظین پر خدا ورسول اور فرشتوں کی لعنت ہے کیونکہ جن سامعین کے دل شبہات سے بھرے ہیں ان میں گناہ کر نے کا ارادہ پیدا ہو جاتا ہے اور ان قصوں کو وہ اپنی حجت بنا لیتا ہے ۔عیاذبا اللہ انبیاء علیھم السلام ان تمام خرافات سے با لکل پاک ہیں یہ واعظین شیطان کے مقدمہ الجیس ہیں ۔جیسا کہ حدیث میں ہے ۔(فتوحات باب ۱۵۴)...
جون
25
by احمدقاسمی at ‏10:07 AM
(40 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
عصمت انبیا ء​

مفسرین نے جن خرافات سے انبیا کو منسوب کیا ہے وہ ان سے بہت دور ہیں کلام الٰہی میں ان کا کہیں پتہ نہیں مفسروں کا یہ وہم ہے کہ جن قصص وحکایات کو تفسیرقرآن میں وہ شامل کرتے ہیں وہ من جا نب اللہ ہیں ۔حق سبحانہ ہمکو بد گوئی اور بد گمانی سے محفوظ رکھے ۔ یہ لوگ اس میں سخت خاطی ہیں مثلا حضرت ابرا ہیم کی طرف شک کی نسبت خود رسول اللہﷺ نے فرمادیا ۔ہم حضرت ابرا ہیم سے بڑھ کر شک کے مستحق ہیں ۔حضرت ابرا ہیم نے مردہ کے زندہ کر نے کا شک نہ فرمایا جب ان کو بتلا یا گیا کہ مردہ کے زندہ کر نےکی مختلف شکلیں ہیں تویہ شکلیں وہ نہ سمجھ سکے۔ ان کی طبیعت میں تلاش حق تھی آخر حق سبحانہ نے انھیں اشکال سے شکل خاص میں مردہ کو زندہ کر کے بتلادیا ۔ اور ان کو تسکین ہو گئی اور جان لیا کہ اللہ سبحانہ مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔

ایسے ہی حضر ت یوسف ،لوط اور موسیٰ علیھم السلام کے قصص اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات میں تصرفات اور ہاروت ماروت کا قصہ جو گھڑا گیا ہے۔ یہ سب کی سب یہودیوں کی من گھڑت کہا نیاں ہیں ۔

انھیں سے اپنی تفسیروں کو مزین کر دیا گیا اور انبیا کے عصمت پر دلخراش...
جون
25
by احمدقاسمی at ‏10:02 AM
(2 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
سحر یا جادو کے نسبت شیخ نے ب ۱۶ اور ب ۴۰ فتو حات میں یو ں ارشاد فر مایا!
سحر کا لفظ سَحَر سے ما خوذ ہے ۔ سحر صبح صادق اور صبح کاذب کے درمیانی وقت کا نام ہے چونکہ اس وقت میں روشنی اور تاریکی ملی ہوئی ہو تی ہیں لہذا اس کو نہ تو" لیل "کہا جاتا ہے کیونکہ اس وقت میں روشنی کی جھلک بھی اس میں مو جود ہے ۔اور نہ ہی اسکو "نہار "کہا جا سکتا ہے کیو نکہ ظلمت بھی اس میں شامل ہے اور نہ ہو آفتاب برآمد ہو ہے اسی طرح ساحروں کے سحر نہ تو با لکلیہ با طل ہیں اور نہ ہی کلیہ حق ہیں اس لئےکہ جن چیزوں کو ساحر وں کے ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں ۔ وہ فی نفس الامر وہی نہیں ہو تی ہیں اسی لئے قرآن میں"یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعیٰ فرمایا ۔سحروااعین الناس واسترھبوھم "یعنی لوگوں کی آنکھوں کو نظر بند کر کر انھیں دوڑایا ۔(ابن عربی ۶۰)
جون
21
by دیوان at ‏10:09 PM
(67 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
پہلی بات
کسب معاش یعنی روزی کمانے کے لیے کوشش کرنا اسلام میں مطلوب ہے۔ بلکہ اللہ کے عائد کردہ اور فرائض کے بعد ایک فرض ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام نے اس فرض کو نبھایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اپنی روزی خود کماؤ۔ مانگنا آپ ﷺ نے جائز قرار دیا مگر صرف اس صورت میں کہ وسائل نہ ہوں چاہے بیماری کے سبب سے یا تنگدستی کی وجہ سے۔ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، اور ان کے بعد آنے والے بڑے بڑے علماء نے اس فرض کو ادا کیا ہے۔ روزی کمانے کے تین طریقے ہیں: زراعت، تجارت اور اجارہ (نوکری)۔ ان میں تجارت سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ ہے اس لیے کہ اس کا فائدہ زیادہ لوگوں کو پہنچتا ہے۔ تجارت کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں جو ان شاءاللہ آپ اس کتاب میں پڑھیں گے۔ لیکن فرد کے لیے بھی اور جماعت کے لیے بھی اس کا سب بڑا فائدہ حریت فکر و عمل ہے۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ کی اس عبارت پر غور کریں جو انہوں اپنی کتاب اسلام کا اقتصادی نظام صفحہ 443 پر لکھی ہے:
’’اقتصادی نظام کی ترقی و برتری کا راز سب سے زیادہ تجارت میں مضمر ہے جو قوم یا ملت جس قدر اس میں دلچسپی لیتی ہے وہ اسی قدر اپنی...
جون
18
by احمدقاسمی at ‏5:19 AM
(52 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
جنتی فروٹ​

کہا جاتا ہے کہ جب آدم علیہ السلام زمین کی طرف اترے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے تین قسم کے پھل انھیں توشہ (ٹفن) کے طور پر دیئے تھے جن میں سے دس چھلکے والے ،دس گٹھلی والے اور دس ایسے جن کا چھلکا نہ گٹھلی

چھلکے دار پھل: (۱) آخروٹ(۲) بادام (۳) پستہ (۴) ریٹھا(۵) خشخاش(۶) سیتا سپاری یا جفت بلوط(۷) گول بلوط(۸) کھجور ( سیاہ چمکدار بغیر گٹھلی) (۹) انار (۱۰) کیلا۔

گٹھلی دار پھل:
1۔آڑو۲۔ خوبانی۳۔آلو بخارا۴۔ کھجور۵۔ غبیرا ۶۔ بیر۷۔ شفتا لو ۸۔ عناب ۹۔ گولر ۱۰۔ شاہ لوج۔

چھلکے اور بغیر گٹھلی والے پھل:

۱۔سیب ۲۔ بہی ۳۔ نا شپاتی۴۔ انگور ۵۔ شہتوت۶۔ انجیر ۷ لیموں ۸۔ خرنوب ۹۔ ککڑی(کھیرا اور تر) ۱۰۔ خربوزہ۔

تاریخ طبری اردوجلد اول ص ۸۹