الغزالی

اپریل
08
by مولانانورالحسن انور at ‏8:31 AM
(195 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
ایک ڈاکٹر نے مریض سے پوچھا جناب آپ کے تین دانت کیوں ٹوٹ گے
مریض جناب بیگم نے کڑ ک روٹی بناٰ ی تھی
ڈاکٹر تم نے انکار کردینا تھا

مریض لمبا سانس کھینچ کر جی انکار ہی کیا تھا یہ سب اسی کا نتیجہ ہے
جی ہاں میاں بیوی کا رشتہ محبت پیار کا ہے جسطرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے حقوق بیان کئے ہیں اسی طرح خاوند کےحقوق کو بھی بیان کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کیا میں تمھیں جنتی عورتیں نہ بتاوں صحابہ نے عرض کی جی یارسول اللہ آپ نے فر مایا محبت کر نے والی زیادہ بچے جننے والی جب شوھر ناراض ہو جاے تو یہ شوھر سے کہے میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے میں اسوقت وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک آپ راضی نہ ہو جائیں ( طبرانی) ایک شخص اپنی بیٹی لیکر دربار رسالت میں آے اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیٹی شادی سے انکاری ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ کی بات مان لو
کہنے لگی آپ مجھے پہلے یہ بتائیں شوھر کا حق کیا ہے
آپ نے فرمایا اگر شوھر کو کوئی زخم...
مارچ
30
by مولانانورالحسن انور at ‏9:00 AM
(206 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
پرانےوقتوں کی بات ہےچار چور چوری کے ارادے سے نکلے را ت بھر پھرتے رہے کچھ نہ ملا واپس جانے لگے تو ایک حویلی سے گدھے کی آواز آٰی ا ن نے سوچا خالی ہاتھ کیا جانا ہے یہ گدھا ہی لے چلتے ہیں ایک چور اندر داخل ہوا اس نے دروازہ کھولدیا یہ سب اندر داخل ہوگے
تو وہاں ایک بوڑھا سورہا تھا انہیں بہت غصہ آیا کہ اتنی بڑی حویلی اور اس میں صرف ایک بوڑھا اور گدھا ان نے مشورہ کیا کہ ہم بابا اٹھا کر لے جاتے ہیں ان نے چارپای سمیت بابے کو اٹھایا اور چلے گے
صبح دیر تک بابا جی گھر نہین پہنچے تو بیٹوں کو پریشانی ہوی دیکھا تو حویلی میں بابا موجود نہیں تلاش کیامگر نہ مل سکے چپ کرکے بیٹھ گے تو اہل محلہ نے بابے کے متعلق پوچھنا شروع کردیا کھوجی کا انتظام کیا اور چوروں کے گاوں پہنچ گے نمبردار کو صورت حال بتای نمبردار اپنے گاوں کے اچھے برے سب کو جانتا تھا اس نے چوروں کو طلب کیا چوروں نے ساری صورت حال بتای کہ یہ چار بیٹے جوان ہیں مگر بابے کو حویلی مین تنہا سولا رکھا ہے چوروں نے کہا ہم نے بابا نہیں دینا اسے ہم اپنے باپ کی طرح سمھجتے ہیں ۔۔۔۔
یہ بابے کی محبت میں نہیں لوگوں کے طعنوں کی وجہ سے آیے ہیں
اگر بابا...
مارچ
30
by مولانانورالحسن انور at ‏8:18 AM
(168 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
پرانےوقتوں کی بات ہےچار چور چوری کے ارادے سے نکلے را ت بھر پھرتے رہے کچھ نہ ملا واپس جانے لگے تو ایک حویلی سے گدھے کی آواز آٰی ا ن نے سوچا خالی ہاتھ کیا جانا ہے یہ گدھا ہی لے چلتے ہیں ایک چور اندر داخل ہوا اس نے دروازہ کھولدیا یہ سب اندر داخل ہوگے
تو وہاں ایک بوڑھا سورہا تھا انہیں بہت غصہ آیا کہ اتنی بڑی حویلی اور اس میں صرف ایک بوڑھا اور گدھا ان نے مشورہ کیا کہ ہم بابا اٹھا کر لے جاتے ہیں ان نے چارپای سمیت بابے کو اٹھایا اور چلے گے
صبح دیر تک بابا جی گھر نہین پہنچے تو بیٹوں کو پریشانی ہوی دیکھا تو حویلی میں بابا موجود نہیں تلاش کیامگر نہ مل سکے چپ کرکے بیٹھ گے تو اہل محلہ نے بابے کے متعلق پوچھنا شروع کردیا کھوجی کا انتظام کیا اور چوروں کے گاوں پہنچ گے نمبردار کو صورت حال بتای نمبردار اپنے گاوں کے اچھے برے سب کو جانتا تھا اس نے چوروں کو طلب کیا چوروں نے ساری صورت حال بتای کہ یہ چار بیٹے جوان ہیں مگر بابے کو حویلی مین تنہا سولا رکھا ہے چوروں نے کہا ہم نے بابا نہیں دینا اسے ہم اپنے باپ کی طرح سمھجتے ہیں ۔۔۔۔
یہ بابے کی محبت میں نہیں لوگوں کے طعنوں کی وجہ سے آیے ہیں
اگر بابا...
فروری
22
by محمدداؤدالرحمن علی at ‏7:19 AM
(147 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
صحابۂ کرام ثاور علماء دیوبند کا موقف
از: حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی زیدمجدہٗ
مہتمم دارالعلوم دیوبند
یوں تو علوم وفنون، تہذیب وتمدن، صنعت وحرفت اور وہ تمام چیزیں جن کی انسانی زندگی میں ضرورت پیش آتی ہے ان کی تحصیل وتکمیل فرائض میں داخل ہے؛ لیکن ان تمام فرائض میں نفوس انسانی کی تہذیب وتکمیل سب سے اہم اور ضروری فرض ہے؛ اسی لیے دنیا میںانسان اوّل حضرت آدم علیہ السلام ہی اس ذمہ داری سے گراں بار ہوکر تشریف لائے، پھر یہ سلسلہ ترقی کرتا ہوا خلاصۂ کائنات نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس تک پہنچ کر ابد الآباد تک کے لیے مکمل ہوگیا۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ۔۔

اب اگر یہ پوچھاجائے کہ اس تہذیب وتمدن اوراخلاقِ فاضلہ کے آخری علم بردار نے نفوس انسانی کی تہذیب میں کون سا کمال کردکھایا؟ تو جواباً صحابۂ کرام کی ان مقدس شخصیات کو پیش کردیا جائے گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق واعمال کے مظہراتم، آپ کی تعلیم و تربیت کی واضح مثال، آپ کے ارشاد وہدایت کے مخاطب اوّل اور آپ کے فیض صحبت سے شب وروز بہرہ اندوز تھے، یہ مقدس...
فروری
16
by ابن عثمان at ‏4:04 PM
(215 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
ماہنامہ بیّنات کراچی( ربیع الثانی 1440ھ - جنوری 2019ء) میں شائع شدہ ایک مضمون سے اقتباس۔
مکاتیب علامہ محمد زاہد کوثری ؒ
۔۔۔ بنام۔۔۔
مولانا سیدمحمد یوسف بنوری ؒ

(اُنیسویں قسط){ مکتوب :… ۳۴ }
(ترجمہ و ترتیب ، مولانا سیدسلیمان یوسف بنوری)

مولانا، استاذِ جلیل، سید محمد یوسف بنوری حفظہ اللّٰہ ورعاہ، وأدام انتفاع المسلمین بعلومہٖ ویمن مسعاہ (اللہ تعالیٰ آنجناب کی حفاظت فرمائے اور آپ کے علوم اور بابرکت مساعی سے مسلمانوں کو ہمیشہ مستفید فرمائے)
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

بعد سلام! آپ کا والا نامہ موصول ہوا، مولانا عثمانی کی وفات کا مجھے بے حد افسوس ہوا، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، تغمدہ اللّٰہ برضوانہٖ(اللہ تعالیٰ انہیں اپنے رضا کی چادر میں ڈھانپ لے)۔ میں نے ’’مجلۃ السلام‘‘ کو (مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق آپ کا لکھا) مرثیہ اور (تاثراتی) مضمون بھیج دیا تھا، مجلہ نے دو روز قبل دونوں شائع کردیے ہیں، (۱) لیکن مذکورہ شمارہ تاحال نہیں دیکھ...