الغزالی

جنوری
03
by احمدقاسمی at ‏10:23 AM
(72 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
السلام علیک یا جدی​
واقف اسرارِ طریقت ،حامل علومِ شریعت، مالک گنجینہ معارف ،غریق دریائے عوارف، ولی کامل عارف واصل شیخ المعظم حضرت محی الدین ابو العباس سید احمد کبیر رفاعی الحسینی الرفاعی قدس اللہ سرہ العزیز۔
آپ کا نام مبارک سید احمد کبیر تھا، ابو العباس کنیت اور محی الدین لقب تھا اور نسبا شہید کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں اس لیے حسینی کہلائے۔ آپ 15 رجب المرجب 512؁ھ کو مقام حسن میں پیدا ہوئے۔ جو ام عبیدہ کے قریب نواح واسطہ میں واقع ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب عرف باللہ علامہ ابو محمد ضیاء الدین احمد وتری موصلی نے اپنی کتاب :روضۃ الناظرین میں یوں بیان فرمایا ہے ۔سیدنا حضرت سید احمد کبیر ابن سید علی بن سید حسن الہاشمی المکی مقیم اشبیلی بن سید مہدی سید ابو القاسم محمد بن سید حسن ابوموسی بغدادی مقیم مکہ مکرمہ بن سید حسن رضی بن سید احمد اکبر صالح بن سید موسیٰ ثانی جن کی کنیت ابو سچا اور الہی بھی مشہور تھی، ابن سید ابراہیم مرتضی بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین شہید کربلا امیر المومنین سید علی...
جنوری
02
by احمدقاسمی at ‏5:15 PM
(49 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
تین آسان عبادتیں ​
کسی نے فرمایا ہے کہ عالم کے چہرے کو بیت اللہ کو اور قرآن پاک کو دیکھنا عبادت ہے اس قول کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بھی کی گئی ہے( اللہ علم )
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ جس نے کسی عالم کی زیارت کی اس نے گویا میری زیارت کی، ۔جس نے کسی عالم سے مصافحہ کیا ،اس نے گویا مجھ سے مصافحہ کیا اور جو کسی عالم کی مجلس میں بیٹھا ،وہ گویا میری مجلس میں بیٹھا اور جس نے میرے ساتھ یہ کام کیے وہ میرے ساتھ جنت میں جائے گا (او کما قال فقیہ)
ایک بزرگ کا قول ہے۔علماء کی مجلس دین کو درست کرتی ہے اور بدن کو زینت بخشتی ہے اور فساق و فجار کی مجلس دین کی بربادی اور جسم کی برائی کا سبب ہے۔ اس سے عالم باعمل مراد ہے علماءکی مثال ستاروں کی سی ہے نکلتے ہیں تو لوگ ان سے روشنی حاصل کرتے ہیں غروب ہو جاتے ہیں تو اندھیرے میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ ایسے عالم کی موت سے پیدا ہونے والا خلا پورا نہیں ہوتا ایسے ہی علماء کے لئے ارشاد نبوی ہے" موت العالم موت العالم" عالم کا مرنا پوری دنیا کا مرنا ہے۔ اور روضۃا لصالحین اردو
جنوری
01
by احمدقاسمی at ‏11:35 PM
(54 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
خالق کی پہچان​
ایک عارف سے کسی نے خالق کے متعلق سوال کیا (اور اللہ تعالی کے سب نام پاکیزہ ہیں) آپ نے سائل سے فرمایا کہ اگر تو خالق کی ذات کو پوچھنا چاہتا ہے تو اس کے اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ اور اگر اس کی صفات دریافت کرنا چاہتا ہے تو ایک ہے ،سب اسی کے محتاج ہیں، نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی سے جنا گیا اور اس کے برابر کوئی نہیں ہے ۔اور اگر اس کا نام پوچھنا چاہتا ہے تو وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ،غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے اور وہ بڑا مہر بان ہےنہایت رحم والا ہے۔ اگر اس کے کام کو پوچھنا چاہتا ہے تو ہر دن ایک خاص شان میں ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو مارتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلیل کرتا ہے (البنیان المشید ترجمہ البرہان المؤید)
جنوری
01
by احمدقاسمی at ‏5:41 PM
(137 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
سورش کاشمیری جنت البقیع میں​
میں باب جبرائیل سے نکل کر جنت البقیع میں چلا گیا اور سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی بارگاہ تک پہنچا قبر جاگ رہی تھی، مسافر سو رہے تھے، ما ں حسن سے کہہ رہی ہیں نور نظر مجھ ر کیا بیتی! وہ کہتے ہیں" ماں وہی ہوا جو اہل بیت کے دشمن طے کرچکے تھے۔میں نے نانا ابا کی امت میں خون خرابہ روکنے کے لئے خلافت چھوڑ دں، لیکن جن کے دلوں میں ہمارے لئے بغض تھا کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ میری بیوی جعدہ بنت اشعث نے مجھے زہر دے دیا جس سے قلب و جگر کٹ گئے میں نے روزے نبی میں دفن ہونا چاہا ،مروان تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اعلان کیا کہ نانا کے پہلو میں نواسہ دفن نہیں ہوگا اب ماں کا دامن ہے اور میں ہوں"
زین العابدین :دادی اماں سے کہہ رہے ہیں" نانا کی امت میں ہم پر سلام بھیجنے والے اتنے شقی القب نکلے کہ خاندان رسول مار ڈالا مجھے تین سو اشرفی کے لالچ میں باندھ کر ابن زیاد کے حوالے کردیا۔ اباجان کا سر کاٹنے سے پہلے اصرار کیا کہ حسین جلدی کرو نماز کا وقت ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہی قوم ہمارا کلمہ پڑھتی اور ہم پر درود بھیجتی ہے"۔
با قر: ابا سےکہہ رہے ہیں "دادا شہید ہوئے...
دسمبر
29
by احمدقاسمی at ‏12:50 PM
(114 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
چینی سے بہتر گڑ​
پرانے دور میں بیماریاں کا تناسب بہت ہی کم تھا لوگوں میں تعلیم کے باوجود بھی بیماریوں میں اس حد تک اضافہ نہ تھا اس کے برعکس آج کے انسان نے ترقی کے باوجود ان پر اپنی گرفت مضبوط نہیں کی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پرانے دور میں لوگ کیمیکل سے محفوظ تھے۔لیکن آج کے دور میں ہر چیز میں ملاوٹ موجود ہے جس کی وجہ سے بیماریوں کا تناسب دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ سب سے زیادہ آجکل کے دور میں بیماری پھیلانے والی چیز شوگر یعنی چینی ہے اس میں کیمیکل کا استعمال بہت زیادہ ہے حالاں کہ یہ بھی گڑ کی طرح گنے کی رس سے حاصل ہوتی ہے ۔
یہ ایک ایسی قدرتی مٹھاس ہے جو گنے کے رس کو پکانے سے حاصل ہوتی ہے۔گڑ میں کیر وٹین، نکوٹین۔ تیزاب، وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن ڈی، وٹامن سی، آئرن اور فاسفورس بھی موجود ہوتا ہے۔تازے کڑ کا مزاج گرم اور پرانے گڑ کا مزاج خشک ہوتا ہے۔ نئے گڑ سے دمہ ،کھانسی اور پیٹ کے کیڑے جیسے موذی مرض سے نجات ملتی ہے۔ گڑ کا اپنے روزمرہ استعمال کرنے سے قبض، گیس اور نظام انہضام کے افعال میں بہتری آتی ہے۔ جن عورتوں کا دودھ ان کے بچوں کے لیے ناکافی ہو وہ صبح شام گڑ اور سفید زیرے کا...