الغزالی

اگست
17
by Islamic Student at ‏4:02 PM
(0 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
اعتراض :
قربانی پر پیسے ضائع کرنے کے بجائے یہی اگر کسی غریب کو دے دیے جائیں تو کئی لوگوں کا بھلاہوجائے.

جواب :
گو کہ میں عبادات کے معاشی فوائد دیکھنے کا قائل نہیں کہ یہ عبادت کی روح ہی ختم کردیتی ہے مگر منكرين حديث , ومنكرين قربانى اور مذہب بيزار دہريہ مخالف ذہنیت کی تسلی کیلئے چند گذارشات پیش خدمت ہیں۔
اگر قربانی کی رسم کو خالصتا معاشی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو اس پر اعتراض صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس نے علم معاشیات کبھی نہ پڑھی ہو۔ مثلا’’

(1) اس کے نتیجے میں آپ کے ملک میں فارمنگ (farming) اور کیٹل انڈسٹری (cattle industry) نمو حاصل کرتی ہے جس سے بالعموم چھوٹا کسان یا غریب طبقہ ہی منسلک ہوتا ہے اور عید قربان پر اسے اپنی محنت کا اچھا مول مل جاتا ہے جو عام مارکیٹ میں نہیں مل پاتا یوں یہ رسم تقسیم دولت پر مثبت اثرات ڈالتی ہے

(2) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام رقم ویسے ہی غریبوں کو دے دی جائے وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ غربت کا علاج پیسے بانٹنا نہیں بلکہ غریب طبقے کیلئے معاشی ایکٹیویٹی (activity) کا پہیہ چلانا ہوتا ہے اور قربانی کا عمل اس کا بہترین ذریعہ ہے

(3) پھر ان جانوروں کا گوشت دنیا...
اگست
17
by Islamic Student at ‏3:55 PM
(1 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
بسم اللہ الرحمٰن الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ والسلام علیک یاسیدی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،کہ
أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ:یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، تم میں کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور بیٹے سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔
(رقم الحدیث13۔جزء1۔صفحہ23۔مکتبۃالشاملۃ)
مذکورہ حدیث کریمہ میں رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی ہے، قسم کھا کرفرمائی ہے تاکہ امت کے سامنے بات کی پختگی واضح ہو کر ان کے دل کی گہرائی میں اتر جائے۔
مذکورہ بالا حدیث میں دیگر باتوں کے علاوہ ایک انتہائی قابل توجہ بات یہ ہے کہ جناب رسول صادق و امین صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بیان فرمایا کہ ایمان کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کامومن کو اپنی جان سے زیادہ محبوب و عزیز ہونا ضروری ہے ،حالانکہ...
اگست
06
by احمدقاسمی at ‏11:46 AM
(27 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
تھوڑا سا دہی ذیابطیس سے محفوظ رکھ سکتا ہے: تحقیق​
صحت مند افراد کی میڈیکل ھسٹری اور طرز زندگی کے مطالعے سے سامنے آیا کہ دہی کا استعمال اور ذی بیطیس ٹائپ ۲ کے کم خطرے کے درمیان واضح تعلق ظاہر ہوا ہے۔
لندن: وسیع پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ہر روز دہی کا ایک چھوٹا سا حصہ کھانا ذیا بطیس سے بچاؤ میں مدد گار ثابت ہو تا ہے ۔ بار ورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک محقیقین نے بتا یا کہ ہرز ۲۸ گرام یعنی دن میں ایک بار دہی کے ایک چھو ٹے پیالے میں ایک چو تھائی مقدار دہی کھانا شوگر کی بیماری پیدا ہو نے کے خطرے کو تقریبا ۲۰ فیصد تک کم کر سکتا ہے ۔ جر نل بی ایم سی میڈیسن میں شائع ہو نے والے تحقیق میں ایک صحت مند غذا کے حصے کے طور پر دہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ یہ سائنسی شواہد ایک طویل دو رانئے کے طبی جا ئزے کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ہیں جس میں محقیقین نے مطالعے میں ۱۴۹۰۰۰ صحت مند افراد کی میڈیکل ہسٹری اور طرز زندگی کا مطالعہ کیا ہے اور انہی اعداد وشمارے اور معلومات کی بنیاد پر محقیقین کو دہی کا با قاعدگی سے استعمال اور ذیا طیس ٹائپ ۲ کے کم...
جولائی
31
by احمدقاسمی at ‏7:43 PM
(35 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
میں نے دعا مانگی​
امام ابو یعلی ؒ نے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک تھا کہ جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی تین دن تک مفقود رہتا ( یعنی آپ کی با رگاہ میں حاضر نہ ہو تا ) تو آپ ﷺ اس کے بارے میں دریافت فرماتے ۔ پس وہ غائب ہوتا تو اس کے لئے دعا فرماتے اور اگر وہ حاضر ہوتا تو اس سے ملا قات فرماتے اگر وہ مریض ہو تا تو اس کی عیادت فرماتے ۔انصار میں سے ایک آدمی تین تک حاضر نہ ہوا۔تو آپ ﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا تو صحابہ اکرام نے عرض کیا کہ ہم نے اسے اس حال میں چھوڑا ہے کہ چوزے کے مثل ہو گیا ہے وہ جو بھی شئے منہ کے راستہ سے کھاتا ہے وہ دبر کے راستے سے خارج ہو جاتی ہے تو آپ ﷺنے فرمایا کہ ! اپنے بھائی کی عیادت کے لئے چلو ۔ چنا نچہ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں اس کی عیادت کے لئے چلے ۔جب ہم اس کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے فرما یا تو اپنے آپ کو کیسے پا تا ہے؟ اس نے عرض کی: کہ میں جو بھی شئے منہ میں داخل کرتا ہوں وہ دبر سے نکل جاتی ہے ،آپ ﷺ نے پو چھا :ایسا کیوں ہوا؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کے پاس سے گزرا ۔آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے ۔ تو میں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ...
جولائی
25
by احمدقاسمی at ‏9:03 PM
(37 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
امہات المؤمنینؓ کے حجرات

مسجد نبوی ﷺ کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ نے ازواج مطھرات کے لئے حجرات بھی تیار کرائے۔تعمیرِ مسجد کے وقت آپ ﷺ کے نکاح میں صرف حضرت سودہؓ اور حضرت عائشہؓ تھیں۔ لہذا مسجد کی شرقی سمت صرف دو حجرے بنے جو نونو دس دس فٹ فٹ چوڑے اور پندرہ پندرہ فٹ لمبے تھے۔ کچی دیواریں اور کھجور کے چھپروں کی چھت جو اتنی اونچی تھی کہ آدمی ہاتھ اوپر اٹھاتا تو چھت کو جا لگتا اور دروازہ پر شروع میں کمبل پڑا رہتا تھا ، پھر ایک ایک کواڑ کے دروازے لگ گئے ، حجرے میں عموما رات میں چراغ نہیں جلتا تھا ۔

پھر جیسے جیسے ازواج آتی گئیں ،ان کے لئے الگ الگ حجرے بنتے گئے ۔مسجد کے شرقی جانب جگہ نہ رہی تو حجروں کا سلسلہ شمالی جانب شروع ہو گیا ،کچھ حجرے مسجد کی جنوبی جانب تھے ، مشرقی جانب غالبا حضرت عائشہؓ اور حضرت سودہؓ کے حجروں کے درمیان ایک حجرہ حضرت فا طمہؓ کا بھی تھا ،ان سب کی حالت فی الجملہ یکساں تھیں یا کھجور کی ٹٹیاں کھڑی کر کے ان پر مٹی لیپ دی گئی تھی۔حضرت ابو بکر صدیقؓ کا مکان مسجد کی مغربی جانب اس مقام پر تھا جہاں اب باب صدیق ہے۔


حفاظتِ الٰہیہ:اب حجروں...