الغزالی

فروری
16
by ابن عثمان at ‏9:34 PM
(13 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
ماہنامہ بیّنات کراچی( ربیع الثانی 1440ھ - جنوری 2019ء) میں شائع شدہ ایک مضمون سے اقتباس۔
مکاتیب علامہ محمد زاہد کوثری ؒ
۔۔۔ بنام۔۔۔
مولانا سیدمحمد یوسف بنوری ؒ

(اُنیسویں قسط){ مکتوب :… ۳۴ }
(ترجمہ و ترتیب ، مولانا سیدسلیمان یوسف بنوری)

مولانا، استاذِ جلیل، سید محمد یوسف بنوری حفظہ اللّٰہ ورعاہ، وأدام انتفاع المسلمین بعلومہٖ ویمن مسعاہ (اللہ تعالیٰ آنجناب کی حفاظت فرمائے اور آپ کے علوم اور بابرکت مساعی سے مسلمانوں کو ہمیشہ مستفید فرمائے)
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

بعد سلام! آپ کا والا نامہ موصول ہوا، مولانا عثمانی کی وفات کا مجھے بے حد افسوس ہوا، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، تغمدہ اللّٰہ برضوانہٖ(اللہ تعالیٰ انہیں اپنے رضا کی چادر میں ڈھانپ لے)۔ میں نے ’’مجلۃ السلام‘‘ کو (مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق آپ کا لکھا) مرثیہ اور (تاثراتی) مضمون بھیج دیا تھا، مجلہ نے دو روز قبل دونوں شائع کردیے ہیں، (۱) لیکن مذکورہ شمارہ تاحال نہیں دیکھ...
فروری
06
by مولانانورالحسن انور at ‏6:14 PM
(27 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
بابا جی سے کسی نے پوچھا اصلی کامیابی کیا ہے
باباجی نے فر مایا بیٹا عذاب خانے سے بچ کے اللہ کے مہمان خانے میں چلے جانا
جنوری
24
by محمدداؤدالرحمن علی at ‏1:54 PM
(52 مناظر / 2 پسند کردہ)
2 تبصرہ جات
اپنا ہاتھ جسم کے اس حصے پر رکھیں جہاں درد ہو رہا ہے۔3 دفعہ یہ پڑھیں:
بِسْم اللهِ
پھر سات مرتبہ یہ پڑھیں

أَعُوْذُبِاللهِ وَقُدْرَتِه مِنْ شَرِّمَاأَجِدُوَأُحَاذِرُ
پڑھ کر دم کردیں۔

مسلم ١٧٢٨/٤
شکریہ
جنوری
22
by احمدقاسمی at ‏5:22 PM
(49 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
مشاعرہ زنداں
پہلا مشاعرہ​

ماخذ۔ روزنامہ۔زمیندار لاہور
۲،فروری ۱۹۲۲ء؁
آگرہ جیل میں عظیم الشان مشاعرہ:
ادبی دنیا میں ایک نئی مثال​
شاید ادبی دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع اور مثال ہے کہ جیل کی چھار دیواری کے اندر اسیران بلا کا کوئی باقاعدہ عظیم الشان مشاعرہ ہوا ہو۔ یہ سچ ہے کہ جیل خانوں کا اندر ایسی کتابیں لکھی گئی ہے جو ہمیشہ یادگار رہے گی مثلا لوکمانیہ، بال گنگا دھر، تلک کی گیتار ہی۔ علامہ ابن تیمیہ کی نادر کتب وغیرہ ۔ مگر یہ شخصی اور انفرادی کوششیں تھیں لیکن جمعہ کے دن 20 جنوری 1922 آگرہ کے ضلع جیل میں عام مشاعرہ ہوا وہ اپنی نوعیت میں بالکل نیاواقعہ ہے۔اردو ادب کی جب کبھی مکمل تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں اس زندانی مشاعرہ کا ذکر جلی اور سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور ہر ایک تذکرہ نویس اپنی کتاب میں ان کا ذکر لازمی سمجھا کرے گا ۔
اگر جیل صرف پولیٹکل قیدیوں کے لیے خالی کردیا گیا ہے ،چنانچہ اس وقت تقریبا 300 سیاسی قیدی اس جیل میں موجود ہیں ۔اس زندہ مجمع میں جہاں بہت سے وکیل ،بیرسٹر، ایڈیٹر، پروفیسر، ڈاکٹر اور درجنوں ایم اے اور بی اے ہندی اردو...