الغزالی

جون
23
by احمدقاسمی at ‏1:19 AM
(3 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
درسِ عبرت​
انیسویں صدی کے انسائیکلو پیڈیا کا مصنف لکھتا ہے کہ جس وقت رومانیوں نے اس قانون کو منسوخ کرانے کے مقصد سے بغاوت اور سورش برپا کی ، جو عورتوں کے بناؤ سنگار کی حد سے مقرر کرنے کے واسطے پاس ہوا تھا ، تو روما کا مشہور عالم وحکیم جو دو سو سال قبل مسیح گزرا ہے اپنی قوم کے مجمع میں کھڑا ہو کر ان سے کہنے لگا:
''روما کے رہنے والو! کیا تم کو یہ وہم پیدا ہو گیا ہے کہ اگر تم عورتوں کو ان بندشوں کے توڑ پھینکنےکی قوت دو گے جو انہیں اس وقت پوری طرخ خود مختاری نہیں دیتی ہیں اور جو انہیں مجبوراً اپنے شوہر کے مطیع بنائے ہوئے ہیں تو ان کی ناز برداری اور ان کا راضی رکھنا ایک آسان کام ہوگا ۔ کیا آج با وجود ان بندشوں کے بھی ہم ان سے بمشکل ان فرائض اور واجبات کی پا بندی نہیں کرا سکتے جو ان کے ذمے رکھے گئے ہیں ۔ کیا تمہارے خیال میں یہ بات نہیں آتی کہ آگے چل کر عورتیں ہماری برابری کا دعویٰ کریں گی اور ہم کو اپنی اطاعت پر مجبور کر لیں گی ۔ تم ہی بتاؤ کہ عورتوں نے جو شورش بر پا کی ہے ۔ اور جیسا بغاوت انگیز اجتماع کیا ہے وہ اپنے تئیں اس جرم سے بری ثابت کر نے کے لئے کون سی...
جون
20
by محمد اجمل خان at ‏12:09 PM
(13 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
رمضان ختم ہونے کو ہے!
ہمارے رب نے کتنے پیار سے فرمایا ہے:
’’ أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ۔۔۔ گنتی کے چند دن ہی تو ہیں‘‘​
اور اب یہ گنتی کے چند دن بس ختم ہونے کو ہے۔
اس ماہ مبارک کی برکت ہے کہ ہر مسلمان ‘ چاہے کسی کا ایمان قوی ہو یا ضعیف ‘ ہر کسی نے روزہ رکھا۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف بندہ اور رب کے درمیان ہے۔ اگر کوئی چھپ کر کھا لے اور کسی کو نا بتائے تو لوگ اسے روزہ دار ہی سمجھیں گے۔ لیکن کوئ نہایت ہی کمزور ایمان کا مومن بندہ بھی ایسا نہیں کرتا کیوں کہ وہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اس نے روزہ صرف اور صرف اللہ کیلئے رکھا ہے اور اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
اسی طرح دستر خوان پر افطار کے انتظار میں بیٹھے کسی نہایت ہی کم ایمان والے بندے سے اگر کہا جائے کہ بھائی پندرہ سولہ گھنٹوں کے روزہ رکھ چکے ہو ‘ صرف دو تین منٹ پہلے افطار کرنے میں کیا حرج ہے۔ تو وہ جواب دے گا کہ: " یہ اللہ و...
جون
17
by احمدقاسمی at ‏10:54 PM
(2 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات

چار عظیم فا ئدے​
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرما یا کہ جو شخص روزآنہ سو مرتبہ"لَا اِ لٰہ اِلَۤا اللّہُ الْمَلِکُ الّحَقُّ الْمُبِیّنُ"پڑھے (تو یہ کلمات ) اس کے لئے فقر وفاقہ سے حفاظت کا ذریعہ اور قبر کی وحشت وتنہائی میں اُنسیت کا باعث ہوں گے اور ان کلمات ( کی برکت سے پڑھنے والا ) غناء ( ظاہری اور باطنی) حاصل کر لے گا اور (قیامت کے دن) ان کلمات کی برکت سے وہ جنت کے دروازہ پر دستک دے گا۔
تشریح:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ "لَا اِ لٰہ اِلَۤا اللّہُ الْمَلِکُ الّحَقُّ الْمُبِیّنُ" روزآنہ سوبار پڑھنے والے کو چار بڑے فائدے حاصل ہوں گے ۔ان میں سے ہر فا ئدہ ایسا ہے جس کا ہر شخس محتاج ہے ۔ لہذا ہر شخص کو ہر روز اس کی ایک تسبیح پڑھ لینی چاہئے ۔وہ فوائد یہ ہیں
(1) فقر وفاقہ اور معاشی تنگی دور ہونا۔
(2) قبر کی وحشت دور ہو کر راحت واُنسیت حاصل ہونا۔
(3) غناء ظاہری وباطنی نصیب ہونا ۔
(4) جنت کے دروازے پر دستک دینے اور جنت میں داخل ہو نے کی سعادت ملنا ۔ ـ(عمل مختصر )
جون
16
by محمدداؤدالرحمن علی at ‏12:09 PM
(19 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
صدقہ
محمدداؤدالرحمن علی
1. دوسرے کو نقصان پہونچانے سے بچنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
2. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
3. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
4. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
5. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]6. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
7. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
8. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
9. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
10. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
11. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
12. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
13. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
14. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
15. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
16. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
17. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری:...
جون
16
by احمدقاسمی at ‏1:50 AM
(13 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
حاکم مالا بار:سامری​
شیخ زین الدین بن عبد العزیز بن زین الدین بن علی بن احمد معبزی مالا باری اپنی کتاب ڃ تحفۃ المجا ہدین فی بعض أخبار البرتگالی ڃ میں جس کی تالیف سے ۹۹۳ھ میں فارغ ہوئے ، مالا بار کے اندر اسلام کی آمد پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کچھ یہودی اور عیسائی اپنے اہل وعیال سمیت مہاراجہ ڃملیبارڃکی جائے قیام قصبہ ڄکدنکلورڃ ۔کرن گنور۔آئے اور مہاراجہ سے زمینیں باغات اور رہائش کیلئے مکانات کی درخواست کی۔اس کی طرف سے عطا کئے جانے کے بعد یہ لوگ اسی قصبے میں بس گئے۔ اس کے کئی سال بعد ایک سن رسیدہ مسلمان کے ہمراہ چند غریب مسلمان ،حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدم مبارک کی زیارت کے ارادے سے اس شہر میں پہنچے۔جب مہاراجہ کو ان مسلمانوں کی آمد کی خبر ہوئی تو انھیں بلوایا ،خاطر مدارات کی اور ان کے حالات معلوم کئے ۔سن رسیدہ شخص نے حضور اکرمﷺ کے حالات،مذہب اسلام اور معجزہ شق القمر کی بابت اسے بتایا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں حضور ﷺ کی صداقت ونبوت کی بات ڈال دی ، چناں چہ وہ ایمان لے آیا اور اس کا دل حضور اکرم ﷺ کی محبت سے لبریز ہو گیا ۔اس نے سن رسیدہ بزرگ سے کہا...