الغزالی

ستمبر
26
by احمدقاسمی at ‏2:39 PM
(11 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
سوال وجواب​

(کتاب الوقف، باب المساجد)

سوال: لاک ڈاؤن میں مسجد کے ٹرسٹی مسجد کی اشیاء کا کرایہ معاف کر سکتے ہیں. (مفتی توصیف نوساری، گجرات)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق*

مسجد کی جو دوکانیں ہوتی ہیں وہ مسجد کی موقوفہ زمین پر بنائی جاتی ہیں اور وقف کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا! چنانچہ اس میں کمی کرنا یا ختم کرنا یا کوئی ایسا تصرف کرنا جو مصالح مسجد کے خلاف ہو درست نہیں ہے؛ اسی لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ وقف کو اجرت مثل سے کم میں دینا جائز نہیں ہے، یہاں تو سرے سے کرایہ نہ لینے کی بات ہے یہ کیوں کر درست ہوسکتا ہے،(١) چنانچہ فتاویٰ دار العلوم دیوبند کے ایک فتوے میں ہے:

"کسی شخص کا مسجد کی زمین کرایہ کے بغیر اپنے ذاتی استعمال میں لانا خواہ متولی کی اجازت سے ہو یا اجازت کے بغیر؛ اس کا حکم واضح ہے کہ ناجائز و حرام ہے"(٢)

ہاں موجودہ حالات میں اتنی گنجائش دی جاسکتی ہے کہ حسب وسعت وہ تھوڑا تھوڑا کرایہ ادا کرتے رہیں۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

والدليل على ما قلنا

(١) لا يصح ايجار الوقف بأقل من الاجر المثل إلا عن ضرورة. (رد المحتار على الدر المختار 608/6...
ستمبر
26
by احمدقاسمی at ‏2:34 PM
(8 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں
آج کل ایک بات برابر دیکھی جارہی ہے کہ اگر کسی کی شادی ہو تو اسکے گھر میں کوئی کوئی نہ عورت روزہ رکھتی ہے اور یہ روزہ اس دن رکھتی ہے جس دن بارات آنے یا جانے والی ہوتی ہے
تو یہ روزہ رکھنا درست ہے یا نہیں
مدلل انداز میں جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔والسلام شباب انور

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب وباللہ التوفیق :پانچ دن عید الفطر پہلی شوال اور چار دن ایامِ تشریق ۱۰/ ۱۱/ ۱۲/ ۱۳/ ذی الحجہ یعنی بقرعید (عیدالاضحی) کا اور اس کے بعد تین دن اور۔ ان میں روزہ رکھنا منع ہے۔باقی جب چاہے آدمی روزہ رکھ سکتا ہے. کسی مخصوص دن کو جس کا شریعت سے کوئی ثبوت نہ ہو روزہ کے لئے متعین کرنا اور روزہ رکھنے کو ضروری سمجھنا ناجائز ہے بدعت ہے. اگر سوال میں مذکور دن میں روزہ رکھنے کو ضروری سمجھا جارہا ہے تو پھر بدعت ہے ناجائز ہے ورنہ درست ہے
===============================
قال رسول اللہ ﷺ ویوم النحر وایام تشریق عیدنا اھل الاسلام وھی ایام اکل وشھرب۔ ( ترمذی )...
ستمبر
26
by احمدقاسمی at ‏2:29 PM
(11 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ 40 ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮬﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯿﮟ
ﺟﺰﺍكم ﺍﻟﻠّٰه

ﺍِﻧّﻤﺎ ﺍﻻَﻋْﻤَﺎﻝُ ﺑِﺎﻟﻨّﯿَّﺎﺕ
ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﮬﮯ

ﺍَﻟﺼّﻠٰﻮﺓ ﻧُﻮﺭُ ﺍﻟﻤُﻮﻣِﻦِ
ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮬﮯ

ﺍَﻟﺼّﯿَﺎﻡُ ﺟُﻨّﺔٌ
ﺭﻭﺯﮦ ﮈﮬﺎﻝ ﮬﮯ

ﺍِﻥّ ﺍﻟﺪِّﯾﻦَ ﯾُﺴْﺮ
ﺑﯿﺸﮏ ﺩﯾﻦ ﺁﺳﺎﻥ ﮬﮯ

ﺍَﻟﺪِّﯾﻦُ ﺍﻟﻨَّﺼِﻴﺤَﺔُ
ﺩﯾﻦ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮬﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ

ﺍَﻟﻌَﯿﻦُ ﺣَﻖٌّ
ﻧﻈﺮِ ﺑﺪ ﺣﻖ ﮬﮯ

ﻃَﻠَﺐُ ﺍﻟﻌِﻠﻢِ ﻓَﺮِﻳﻀَﺔٌ ﻋﻠﯽٰ ﮐُﻞِّ ﻣُﺴﻠِﻢٍ
ﻋﻠﻢ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮬﮯ

ﺧَﯿﺮُ ﺍﻟﺤَﺪِﯾﺚِ ﮐِﺘَﺎﺏُ ﺍﻟﻠّٰﮧِ
ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﺑﺎﺕ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮬﮯ

ﻭَ ﺧَﯿﺮُ ﺍﻟﮭَﺪﯼِ ﮬَﺪﯼُ ﻣُﺤَّﻤﺪٍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰه ﻋﻠﯿه ﻭﺳﻠﻢ
ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮬﮯ

ﺍَﻟﺤَﯿَﺎﺀُ ﻣِﻦَ ﺍﻻِﯾﻤﺎﻥِ
ﺣﯿﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮬﮯ

ﺍَﻟﻌَﺠﻠَﺔُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﻴﻄَﺎﻥ
ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮬﮯ

ﺍَﻟﺒِﺮُّ ﺣُﺴﻦُ ﺍﻟﺨُﻠﻖِ
ﻧﯿﮑﯽ ﺍﭼﮭّﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ

ﺍَﻟﻄّﮭﻮﺭ ﺷَﻄﺮُ ﺍﻻِﯾﻤَﺎﻥِ
ﭘﺎﮐﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﮬﮯ

ﻣَﻦ ﺻَﻤَﺖَ ﻧَﺠَﺎ
ﺟﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎﺉ

ﻻ ﺗَﺴُﺒُّﻮﺍ ﺍﻻﻣﻮَﺍﺕ
ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑُﺮﺍﺉ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ

ﻻَ ﺗَﺴﺌَﻠُﻮﻥَ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﺷَﯿﺌﺎً
ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ...
ستمبر
26
by احمدقاسمی at ‏2:25 PM
(8 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
انمول باتیں
» عبادت گزار عابد اور شیطان _!!​

ایک گاوں میں ایک نیک آدمی تھا ، وہ اللہ تعالی کی بہت عبادت کرتا تھا اور کفر و شرک کو ناپسند کرتا تھا ۔ اس گاوں میں ایک درخت تھا ، گاوں کے کچھ لوگ اس درخت کی پوجا کرتے تھے ، کچھ لوگوں نے اس کی خبر اس نیک آدمی کو دے دی ، وہ بہت غصہ ہوا اور اس درخت کو کاٹنے کے لیے نکل پڑا ۔ راستہ میں اس کی ملاقات ایک شیطان سے ہوئی ، وہ شیطان اس وقت انسان کی شکل میں تھا ، شیطان نے اس سے پوچھا : ارے میاں ! کہاں جارہے ہو ؟ اس نے جواب دیا : فلاں جگہ ایک درخت ہے ، لوگ اس کی پوجا کرتے ہیں ، اس کو کاٹنے کے لیے جارہا ہوں ۔ شیطان نے اس کو پٹی پڑھائی : بھائ ! تم تو اس کی پوجا نہیں کرتے ہو ، پھر تمہارا کیا بگڑ رہا ہے ؟ اس کو مت کاٹو ۔ اس آدمی نے جواب دیا : ضرور کاٹوں گا ۔ اس بات کو لے کر دونوں میں لڑائی ہو گئ ، اس نیک آدمی نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا ۔ شیطان نے کہا : تم مجھے چھوڑ دو ، میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں ؛ چنانچہ اس نے شیطان کو چھوڑ دیا ، پھر شیطان نے اس سے کہا : دیکھو ، سچی بات تو یہی ہے کہ درخت کاٹنے سے تم کو کوئ فائدہ نہیں ہوگا ؛ اس لیے...
ستمبر
26
by احمدقاسمی at ‏2:18 PM
(13 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کل بروز جمعرات 7 صفر المظفر 1442ھ کو
حضرت اقدس مولانا سید محمد طلحہ صاحب قاسمی نقشبندی دامت برکاتہم کا اصلاحی خطاب تھا ، اختتام پر حضرت نے جو بات بتائی وہ امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔

حضرت نے فرمایا (خلاصہ) ایک صاحب نے دوران مراقبہ یہ محسوس کیا کہ روضہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈانٹنے کی آواز آرہی تھی کہ یہاں (مدینہ منورہ میں) لوگوں کی حاظری بند ہوگئی ہے اور درود کی قلت (کمی) ہوگئی۔
یعنی درود کی کثرت کرو ۔

ہماری ذمہ داری
لہذا ساری امت (جس میں راقم بھی شامل ہے) درود کو جمعہ کے دن خاص کرنے کے بجائے ہفتہ کے تمام دنوں میں صبح و شام کثرت سے درود شریف پڑھنے کا معمول بنائے ۔

واضح ہو کہ محدثین نے 300 مرتبہ پڑھنے کو کثرت (زیادہ مقدار) کہا ہے ۔
اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)
کتبہ العبد:سید مصطفیٰ زبیر قاسمی
نوٹ:یہ واٹ شاپ کے حوالہ سے شئیر ہے ۔پیغام کہ نہ ہم تصدیق کرسکتے ہیں نہ تکذیب۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔البتہ درود شریف کی کثرت کا معمول ہمیں بنا لینا چاہئے ۔ناقل عفی عنہ