الغزالی

اگست
17
by محمد نبیل خان at ‏3:37 PM
(8 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
امام بخاری رح کے پاس کئی ہزار دینار تهے . وہ کشتی میں سفر پر جارہے تهے کہ اک ڈاکو نے وہ پیسے دیکهے تو اس نے امام بخاری پر دعویٰ کیا کہ اس نے میرے پیسے چرائے ہیں. حالانکہ وہ پیسے اس کے اپنے تهے. امام بخاری نے وہ تمام پیسے سمندر میں ڈال دئے. جب جہاز سے اترے تو اس ڈاکو نے امام بخاری سے کہا کہ آخر وہ پیسے کہا گئے انہوں نے فرمایا کہ وہ میں نے سمندر میں ڈال دئے. وہ حیران هوگیا تو امام بخاری نے فرمایا کہ اگر پیسے میرے پاس لوگوں نے دیکهے ہوتے تو لوگ مجھ پر چوری کا الزام لگاتے.اور چونکہ میں امام ہوں لوگوں کو احادیث پڑهاتا ہوں اس لیے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بدنام نہیں کرنا چاہتا تها.
اگست
16
by محمد نبیل خان at ‏5:19 PM
(7 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
"جب خشکی پر بحری جہاز چلے.."
22 اپریل 1453ء ایک ایسا تاریخی دن ہے جب دنیا نے اک ایسی جنگی حکمت عملی دیکھی جس پر وہ آج بھی انگشت بدنداں ہے جب محاصرۂ قسطنطنیہ کے دوران "سلطان محمد فاتح" نے بحری جہازوں کو خشکی پر چلوا دیا..
آبنائے باسفورس سے شہر قسطنطنیہ کے اندر جانے والی خلیج "شاخ زریں" کے دہانے پر بزنطینی افواج نے اک زنجیر لگا رکھی تھی جس کی وجہ سے عثمانی بحری جہاز شہر کی فصیل کے قریب نہ جا سکتے تھے.. سلطان نے شہر کے دوسری جانب غلطہ کے علاقے سے جہازوں کو خشکی پر سے گزار کر اس خلیج میں اتارنے کا عجیب و غریب منصوبہ پیش کیا اور 22 اپریل 1453ء کو عثمانیوں کے عظیم جہاز خشکی پر سفر کرتے ہوئے شاخ زریں میں داخل ہو گئے..
سلطان کے اس خیال کو حقیقت بنانے کے لیے عثمانی افواج نے خشکی پر راستہ بنایا اور درختوں کے بڑے تنوں پر چربی مل کر جہازوں کو ان پر چڑھا دیا گیا.. علاوہ ازیں موافق رخ سے ہوا کی وجہ سے جہازوں کے بادبان بھی کھول دیے گئے اور رات ہی رات میں عثمانی بحری بیڑے کا ایک قابل ذکر حصہ شاخ زریں میں منتقل کر دیا.. صبح قسطنطنیہ کی فصیل پر کھڑے بزنطینی فوجی آنکھیں ملتے رہ گئے کہ آیا یہ خواب ہے یا...
اگست
15
by مبصرالرحمن قاسمی at ‏7:48 PM
(12 مناظر / 1 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات

ٹیم ورک ۔ ہمارے اکابر علماء کرام کی خوبی ہے

اگر کوئی عالم دین تمام نیکی کے کام انجام دے اوراس میں ہر اچھی خوبیاں پائی جائیں تو بیشک ایسا عالم دین ایک ممتاز اور قابل قدر عالم ہے، لیکن علمی تحریک کی ترقی اور امت کی بیداری کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ علم اور امت؛ اجتماعی کوششوں اور سرگرم توانائی کا تقاضا کرتے ہیں، اور اس تقاضے کی تکمیل اُسی وقت ممکن ہے ، جب ایک عالم دین دیگر علماء کے ساتھ ہاتھ بٹائے اور علم میں اپنے ہم عصر علماء اور سابقین کی کوششوں پر سنجیدگی کے ساتھ نظر رکھے۔
ایک ٹیم کے ساتھ کام کرنے ، دوسروں کے ساتھ ہاتھ بٹانے اور کسی کے بقیہ کام کی تکمیل کو ٹیم ورک کہاجاتا ہے،ٹیم ورک سے کئی اہم مقاصد کی تکمیل میں آسانی ہوتی ہے، مثلا کام میں نکھار پیدا ہوتا ہے، کام تیزی کے ساتھ مکمل ہوتا ہے، کم وقت میں زیادہ کام ہوتا ہے ،کام میں پختہ مہارت حاصل ہوتی ہے اور اعلی صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے۔یہ ساری خوبیاں انفرادی کام میں مفقود ہوتی ہیں۔
ہمارے اکابر علماء کرام کے نزدیک ٹیم ورک کی اہمیت تھی، انھوں نےتمام...
اگست
14
by محمد نبیل خان at ‏9:43 AM
(18 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
حضرت امیر خسرو رحمته الله علیه نے ایک بار بہت خوبصورت نعتیه رباعی
لکھی اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمته الله علیه کی خدمت میں پیش
کی .
حضرت نے رباعی سن کر فرمایا " خسرو ! رباعی خوب هے لیکن
سعدی رحمة الله عليه کی جو رباعی هے بلغ العلے بکماله ، اسکا جواب نہیں "
اگلے دن حضرت امیر خسرو رحمة الله عليه نے پہلے سے زیادہ محنت سے مزید اچھی
رباعی لکھی اور پیرو مرشد کو سنائی تو انھوں نے سن کر پھر فرمایا که
خسرو رباعی خوب هے لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں . حضرت
امیر خسرو رحمة الله عليه نے کئی بار محنت کی لیکن پیرو مرشد هر بار یہی فرماتے.
که خسرو ! رباعی خوب هے لیکن سعدی رحمة الله عليه کی رباعی کا جواب نہیں . آخر
ایک دن حضرت امیر خسرو رحمة الله عليه نے عرض کی " سیدی ! سعدی رحمة الله عليه نے بھی نعتیه رباعی لکھی اور میں بھی کئی دن سے نعت لکھ کر پیش کر رها
هوں لیکن آپ هر بار یہی فرماتے هیں که سعدی رحمة الله عليه کی رباعی کا جواب
نہیں ، ایسا کیوں هے ؟
پیرو مرشد نے فرمایا ،
اچھا ، جاننا چاهتے هو تو آج آدھی رات کے وقت آنا .
چنانچہ امیر خسرو رحمة الله عليه آدھی رات کے وقت حاضر خدمت هوئے تو مرشد کو...
اگست
13
by محمد اجمل خان at ‏8:16 PM
(11 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
کب تک یاد رکھے گا یہ زمانہ

بہت دنوں بعد
ایک نماز جنازہ میں شرکت کا موقع ملا
پهر جو کچھ میں نے دیکها اس کے مطابق اپنے بارے میں سوچنے لگا
کہ
ایک دن میں بھی مر جاؤں گا
اور لوگ میری بھی نماز جنازہ پڑھیں گے
میری نماز جنازہ میں جتنے لوگ شامل ہونگے
۔۔۔۔۔۔ ان میں سے 50 فیصد لوگ صرف نماز جنازہ پرهنے تک مجھے یاد رکهیں گے ‘ پھر ہمیشہ کے لئے بهول جائیں گے!
۔۔۔۔۔۔ باقی 50 فیصد لوگ میری میت کے ساتھ قبرستان تک جائیں گے جن میں سے 40 فیصد لوگ مٹی دیتے ہی ہمیشہ کیلئے مٹی پواؤکہہ دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔ باقی 10 فیصدلوگ گهر تک واپس آئیں گے جن میں سے 5 فیصد لوگ گهر سے رخصت ہوتے ہی مجھے ہمیشہ کیلئے بھول کر اپنے کاموں میں لگ جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔بقیہ 5 فیصد میں سے 3 فیصد لوگ سوئم تک مجھے یاد رکهیں گے
اور
۔۔۔۔۔۔قریب ایک فیصد لوگ مزید چند دنوں یا چند ہفتوں یاچند مہینوں تک مجھے یاد رکهیں گے ، پهر ہمیشہ کیلئے اپنی دنیا میں مست ہو جائیں گے ۔
اور
۔۔۔۔۔۔ شاید صرف ایک فیصد یا اُس سے بھی کم لوگ اپنی موت تک مجھے یاد رکهیں گے جن کے مرنے کے بعد مجھے کوئی یاد کرنے والا نہیں ہوگا۔

یہ ہےفانی دنیا کی...