الغزالی

دسمبر
17
by مفتی ناصرمظاہری at ‏11:28 PM
(11 مناظر / 0 پسند کردہ)
0 تبصرہ جات
معززقارئین کرام سہ ماہی افکارقاسمی کے اگلے شمارہ کے لئے ہمیں آپ کی علمی دینی سیاسی سماجی اوراصلاحی ودعوتی مضامین مطلب ہیں تاکہ انکی اشاعت عمل میں لائی جاسکے۔
دسمبر
17
by مفتی ناصرمظاہری at ‏11:21 PM
(9 مناظر / 0 پسند کردہ)
6 تبصرہ جات
لکھنؤ کا عروج و زوال
نیر مسعود
۱۸۵۷ء سے پہلے کی جس تہذیب کو ہم اودھ کی تہذیب کا نام دیتے ہیں وہ دراصل بیت السّلطنت لکھنؤ کی تہذیب تھی۔ لکھنؤ کے قریب ترین شہر بھی اپنے تہذیبی خدوخال کے اعتبار سے لکھنؤ سے مختلف تھے۔ شجاع الدولہ کے عہد تک اودھ کے حکمرانوں کا مستقر فیض آباد تھا اور لکھنؤ فراموشی کی دھند میں صاف نظر نہ آتا تھا لیکن شجاع الدولہ کے فرزند آصف الدولہ نے فیض آباد کو چھوڑ کر لکھنؤ کو دارالحکومت بنا لیا۔(۱) اُس وقت سے لکھنؤ کی ترقی اور خوش حالی کا دور شروع ہوا۔ دہلی میں مغلیہ سلطنت تو دم توڑ رہی تھی اور اُس عظیم شہر کا مستقبل بہت تاریک اور پُر خطر نظر آ رہا تھا۔ لکھنؤ کو عروج کی طرف بڑھتے دیکھ کر دہلی اور دوسرے مقامات کے اہلِ کمال اور معزّزین نے لکھنؤ کا رخ کیا اور اس شہر کو مختلف حیثیتوں سے مالامال کیا۔
اسّی برس تک لکھنؤ کے چراغ کی لو تیز سے تیز تر ہوتی رہی۔ آخر واجد علی شاہ کے عہد میں انتزاعِ سلطنت (۱۸۵۶ء) کے بعد سے اس کی روشنی مدّھم پڑنے لگی۔ اربابِ کمال لکھنؤ چھوڑ کر دوسرے قدردانوں کی تلاش میں نکل گئے اور دیکھتے دیکھتے لکھنؤ پر زوال آ گیا۔ عروج و زوال...
دسمبر
11
by Islamic Student at ‏9:48 PM
(20 مناظر / 0 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
صبح سویرے ٹی۔وی چینلز پر خواتین اینکرز خوب سج سنور کر خوب رگڑ رگڑ میک اپ کرکے برجمان بیٹھی بڑی سنجیدگی اور جذباتی انداز میں اسلام کی تبلیغ کر رہی ہوتی ہیں۔ خود بے پرده ره کر دوسروں کو پرده کرنے کا درس دے رہی ہوتی ہیں۔ خود بے نمازی ہو کر دوسروں کو نماز پڑھنے کی تقلین کر رہی ہوتی ہیں۔
خود بےحس ہو کر دوسروں کو انسانیت کا احساس دلا رہیں ہوتیں ہیں۔ مگر جب پروگرام کا اینڈ آتا ہے تو یہ خواتین اینکرز اسلام کے سب اصولوں کو بلاۓ تاک رکھ کر مردوں کے ساتھ اٹھ کر ناچنا گانا شروع کر دیتی ہیں۔ تاکہ لوگوں کو اسلام کا ایک پراثر درس مل‎ ‎سکے۔
یہ منافقت نہیں تو کیا ہے۔ جب اسلام کے اصولوں پر خود عمل نہیں کرنا تو دین کا مذاق کیوں اڑاتے ہو۔۔لوگوں کو الو بنا کر‎)‎صرف اپنا بھرم رکھنے کیلۓ کہ ھم کتنے دین دار ہیں‎(‎ ان کے سامنے اسلام کا غلط چہره کس لیۓ پیش کرتے ہو۔‎ ‎اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کرکے اسلام کی پیٹھ پیچھے چھرا گھونپ کر معصوم کیوں بنتے ہو...؟
دہشت گرد تو انسانوں کو مار رہے ہیں مگر تم ان کےایمانوں کو مار رہے ہو۔ دہشت گردوں سے بھی زیاده خطرناک تم خود ہو۔۔ دہشت گرد موت ہیں مگر تم زہر وه خطرناک...
دسمبر
08
by احمدقاسمی at ‏9:19 PM
(29 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
سورہ اخلاص کے فضائل
امام ترمذی ابو یعلی محمد بن نصر ابن عدی اور بیہقی نے الشعب رحمھم اللہ کےالفاظ ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہر روز دو مرتبہ قل ہواللہ پڑھے اللہ تعالی اس کے لیے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس سے پچاس سال کے گناہ مٹا دیتا ہے بجز اس کے اس پر کوئی دین اور قرض ہو۔

ترمذی ابن عدی اور بیہقی نےالشعب میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی رات کے وقت اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے دائیں پہلو پر سوئے اور سو مرتبہ قل ہواللہ احد پڑھے اور جب قیامت کے دن قیامت کا دن ہو گا تو رب کریم سے فرمائے گا اے میرے بندے تو اپنے دائیں پہلو پر جنت میں داخل ہو جا۔

امام ابن سعد ،ابن ضریس، ابو یعلی اور بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ قول بیان کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام میں تھے کہ آپ پر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نازل ہو ئے اور کہااے محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاویہ بن...
دسمبر
08
by احمدقاسمی at ‏5:54 PM
(18 مناظر / 1 پسند کردہ)
1 تبصرہ جات
علم اور علماء کی اہمیت اور ان کا مقام​
حضرت مولانا محمد انعام الحسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ جو کہ خود ایک بڑی علمی درسگاہ یعنی جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے فارغ تھے اور پھر درس و تدریس میں بھی عمر کا ایک بڑا حصہ گزرا. اس لئے تمام عمر علماء طلبہ اور مدارس دینیہ سے آپکا بہت قریبی اور مظبوط رشتہ رہا۔ دین کی جو خدمت مدارس عربیہ کے ذریعہ ہو رہی ہے اس سے آپ نہ صرف واقف بلکہ اس کے معترف اور مداح تھے اور سمجھتے تھے کہ جیسے جیسے دین کے محنت اور دعوت بڑھے گی مدرسوں اور مکتبوں میں اضافہ ہوگا۔
جب اللہ کے مولا نا محمد یعقوب صاحب سہارنپوری آپ کا اسی سلسلہ میں ایک ملفوظ نقل کرتے ہیں کہ:
دین کی محنت ہوتی ہے تو اللہ دین کے تمام شعبوں کو وجود میں لاتا ہے ،مدرسے بڑھیں گے، مکتب بڑھیں گے حالانکہ ہم مدرسہ بنانے کی دعوت نہیں دے رہے ہیں لیکن اس عمل کے ذریعہ تمام شعبوں کو زندگی مل رہی ہے۔
اس قریبی رابطہ ورشتہ کی بنا پر آپ ہمیشہ کام کر نے والے احباب ورفقا کو کو اہل علم کے ادب و احترامکی تا کید اور اور ان کے ذریعہ ہو نے والی علمی ودینی خدمت کے احترام اور اس کے اعتراف کی تلقین فر ماتے تھے ۔ چنانچہ...