آدم علیہ السلام کا سو سال تک رونا

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏دسمبر 27, 2018۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,618
    موصول پسندیدگیاں:
    783
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    آدم علیہ السلام کا سو سال تک رونا
    فتلقی ٰادم من ربه فتاب علیہ​
    پھر آدم نے اپنے رب (کی طرف) سے (چند )کلمات پائے (جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی)۔
    سوال کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے آدم علیہ السلام کو ہند میں اتارا ،حوا کو جدہ میں اتارا، ابلیس کو میسان میں اتارا اور سانپ کو اصفہان میں۔ اس وقت سانپ کے اونٹ کی مانند چارپائے ہوتے تھے ۔آدم علیہ السلام ہند میں سو سال تک اپنے گناہ پر روتے رہے۔پھر اللہ تعالی نے ان کی طرف جبریل علیہ السلام کو بھیجا اور ارشاد فرمایا: کیا میں نے تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا؟ کیا میں نے خود سے تجھ میں روح نہیں پھو نکی؟کیامیں نے ملائکہ سے تجھے سجدہ کراکے عظمت نہیں بخشی ؟کیا اپنی امت میں سے حوا کے ساتھ تیری شادی نہیں کی؟ حضرت آدم علیہ سلام نے عرض کیا ضرور !کیوں نہیں ۔پھر فرمایا: یہ رونا کیسا ہے؟عرض کیا : میں کیوں نہ رؤں جبکہ مجھے رحمنٰ کے پڑوس سے نکال دیا گیا، فرمایا: تم ان کلمات کو لازم پکڑلو۔ اللہ پاک تمھاری توبہ قبول فرما لیں گے اور تمہارے گناہوں کو بخش دیں گے۔
    اللهم اني اسالك بحق محمد وال محمد سبحانك ،لا اله الا انت عملت سوءا او ظلمت نفسي فتب علي انك انت التواب الرحيم۔ اللهم اني اسالك بحق محمد وال محمد عملت سوءا او ظلمت نفسي و تب علي انك انت التواب الرحيم
    اے اللہ میں تجھ سے محمد اور آل محمد کے حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں تو پاک ذات ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے برا عمل ہوا اور اپنی جان پر ظلم ہو میری توبہ قبول فرما بے شک تو توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے پھر حضور پاک صلی اللہ وسلم نے فرمایا یہ کلمات آدم نے اپنے رب سےپائے تھے ۔رواہ البیھقی
    کلام: روایت موضوع ہے۔ اس کی سند بے کار ہے جس میں ایک راوی حماد بن عمرو النصی ہے جو عن السری عن خالد کے طریق سے روایت کرتا ہے یہ دونوں راوی بالکل واہی اور غیر معتبر ہیں ( کنزالعمال مترجم صفحہ 590)

اس صفحے کو مشتہر کریں