آہ! حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہ ۔ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏اگست 11, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    آہ! حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہ
    شیخ الاسلام فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ


    (1)
    [​IMG]
    (2)
    [​IMG]
    (3)
    [​IMG]
    (4)
    [​IMG]
    (5)
    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ماشاء اللہ بہت خوب
  3. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    آہ! حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہ
    حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

    حمدو ستائش اس ذات کے لیے ہے جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا
    اور
    درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا

    پچھلے مہینے نہ صرف پاکستان، بلکہ عالم اسلام کا سب سے بڑا سانحہ یہ ہوا کہ ہم حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہ کی حیاتِ طیبہ سے محروم ہوگئے۔ جن کے فیوض و معارف سے عرب و عجم کے بے شمار خطے سیراب ہورہے تھے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
    حضرت حکیم صاحب قدس سرہ کی ذاتِ گرامی اس وقت سالکانِ طریقت کے لیے ایک عظیم الشان چشمۂ فیض تھی جس کے آبِ حیات سے بے شمار انسانوں کو نئی زندگی ملی اور نہ جانے کتنے خاندانو میں وہ حسین انقلاب برپا ہوا جس سے ضمیر کو سکون، نظر کو آسودگی اور دل کو تعلق مع اللہ اور یقین و معرفت کا قرار حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تبارک و تعلیٰ نے انہیں اپنے عہد کے تین مشائخِ عظام کی طویل خدمت و صحبت کی وہ توفیق عطا فرمائی تھی جو خال خال کسی کے نصیب میں آتی ہے۔ حضرت مولانا محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی، حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھول پوری اور حضرت مولانا ابرار الحق صاحب (قدست اسرارهم) تینوں کے فیض نے انہیں ایسا کندن بنادیا تھا جس کے مَس سے مٹی بھی سونے کی خاصیات حاصل کرلیتی ہے۔
    مجھے سب سے پہلے ان کی زیارت اور ملاقات کا شرف 1960ء میں اس وقت حاصل ہوا جب حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کے خلیفۂ اجل حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ پاکستان تشریف لائے۔ ہمارے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ جب بھی اپنی مصروفیات سے کچھ وقت نکال سکتے ان کی خدمت میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور اپنے ساتھ ہم بھائیوں کو بھی لے جایا کرتے تھے۔ اس وقت حضرت پھولپوری قدس سرہ پر ایک استغراق کا سا عالم طاری رہتا تھا۔ اور اگر چہ ان کی مجلس میں شرکت کے لیے علماء اور دوسرے مسلمان دور دور سے آتے تھے، لیکن وہ مجلس سے خود خطاب نہیں فرماتے تھے، اس وقت عموماً حضرت پھولپوری قدس سرہ کی گزشتہ محفلوں کے بیانات اور ملفوظات ہی مجلس میں سنائے جاتے تھے۔ سنانے والے صاحب ایک نہایت وجیہ و شکیل اور فصیح و بلیغ جوان تھے، جنہوں نے حضرت کے بیانات نہایت مؤثر اور عام فہم انداز میں اپنے پاس ضبط کیے ہوئے تھے اور مجلس میں انہی کو بڑے واضح اور خوشگوار لہجے میں سناتے تھے۔ مجلس کے بعد پتہ چلا کہ یہ حضرت حکیم محمد اختر صاحب ہیں جو حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کے مصاحبِ خاص ہیں، اس طرح ان سے ملاقات اور تعارف کا شرف حاصل ہوا، بعد میں جب کبھی حاضری ہوتی، وہ ہمیشہ اپنے متبسم چہرے کے ساتھ ملتے اور ان کے ساتھ کبھی کبھی بے تکلف مجلسیں بھی ہوتیں، وہ بزرگوں کی باتیں سناتے، اور چونہ شعری ذوق انہیں حضرت مولانا محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی رحمہ اللہ سے ملا تھا، اس لیے ہمارے درمیان شعر و سخن کا تبادلہ بھی ہوتا تھا۔
    حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت پھولپوری قدس سرہ کے بیانات کو اس قابلیت کے ساتھ قلم بند کیا تھا کہ اس میں حضرت کے علوم و معارف اپنی بھر پور تاثیر کے ساتھ جمع ہوگئے تھے۔ بعد میں یہ بیانات ”معیّت الہیہ“ اور ”معرفتِ الہیہ“ کے نام سے شائع ہوئے، اور میرے بڑے بھائی جناب مولانا محمد زکی کیفی رحمۃ اللہ علیہ (جو خود حکیم الامت رحمہ اللہ سے بیعت اور بزرگوں کے صحبت یافتہ تھے) ان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ”ان میں آگ بھری ہوئی ہے۔‬“
    حضرت حکیم صاحب قدس سرہ نے ابتدائی تعلیم پرتاب گڑھ میں حاصل کی تھی، اور اسی زمانے سے وہ حضرت مولانا محمد احمد صاحب کی خدمت و صحبت سے سالہا سال مستفید ہوتے رہے، حضرت مولانا محمد احمد صاحب قدس سرہ حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی قدس سرہ کے سلسلے کے بزرگ تھے، اور عشق و محبت کے دریا میں غرق۔ حضرت حکیم صاحب نے ان سے خوب خوب استفادہ فرمایا، اور اس کے بعد حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب قدس سرہ سے بیعت کا تعلق قائم فرمایا اور عرصۂ دراز تک ان کی خدمت و صحبت میں رہے اور مجاہدے کی زندگی گزاری، اس سے پہلے انہوں نے اپنے والد ماجد کی خواہش کے مطابق عصری اسکولوں میں پڑھا تھا، اور بعد میں طیبہ کالج الٰہ آباد سے حکمت کی سند حاصل کی تھی۔ لیکن ان کی خواہش اصل میں علومِ دینیہ پڑھنے کی تھی، چنانچہ حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری صاحب قدس سرہ کے مدرسہ بیت العلوم میں چار سال کے اندر درس نظامی مکمل کیا، اور لوگوں کے اصرار کے باوجود دار العلوم دیوبند نہیں گئے، تاکہ حضرت پھولپوری کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہر کے ساتھ علوم باطن کی بھی تکمیل ہو۔ پھر انہی کے حکم کے مطابق ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے، جنہوں نے ان کو خلعتِ خلافت سے سرفراز فرمایا۔
    اپنے دوسرے شیخ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب قدس سرہ کی حیات ہی میں ان کے حکم کے مطابق انہوں ”خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ“ پہلے ناظم آباد پھر گلشن اقبال میں قائم کی جس میں سالکانِ طریقت کا اتنا زبردست رجوع ہوا کہ دنیا کے تقریباً ہر خطے سے لوگ اپنی اصلاح کے لیے آتے اور دل کی دنیا بدل کر جاتے۔ شروع میں حضرت حکیم صاحب قدس سرہ کا درس مثنوی خاص طور پر نہایت مقبول اور مؤثر ہوا جو بعد میں معارفِ مثنوی کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے خود مثنوی تصنیف فرمائی اور ان کی مجالس، مواعظ اور ملفوظات بفضلہٖ تعالیٰ بڑی تعداد میں قلم بند ہوکر شائع ہوئے جنہوں نے طالبانِ سلوک کی پیاس بجھائی۔ اس طرح ان کی تصانیف، مواعظ اور مجالس جو چھوٹی بڑی کتابی شکل میں شائع ہوئیں، ان کی تعداد 100 سے متجاوز ہے، اور ان میں بہت سی کتابوں کے تراجم عربی، فارسی، انگریزی، چینی اور روسی زبانوں کے علاوہ دنیا کی 23 مختلف زبانوں میں شائع ہوئے ہیں اور اس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں اپنے مشائخ کے فیض کو عالمگیر بنانے کی وہ توفیق عطا فرمائی جسے عصرِ حاضر میں منفرد کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔
    حضرت حکیم صاحب کو حضرت والد ماجد، حضرت عارفی اور حضرت بنوری رحمہم اللہ تعالیٰ سب کے ساتھ خصوصی تعلق تھا اور وہ ان سب بزرگوں کی خدمت میں نیازمندانہ حاضر ہوتے رہتے تھے، اس لیے اپنے خاص مشائخ کے علاوہ اپنے زمانے کے دوسرے بزرگوں سے بھی انہوں نے کسبِ فیض پایا۔ اسی نسبت سے دار العلوم اور اہل دار العلوم، بالخصوص ہم دونوں بھائیوں سے ان کا بڑی شفقت اور محبت کا تعلق تھا شروع میں کثرت سے دار العلوم تشریف لاتے اور اپنی شگفتہ مجلسوں سے ہمیں نہال فرماتے۔ میرا اس زمانے میں بکثرت عرب ممالک کا سفر ہوتا رہتا تھا، اور میری عربی تحریریں بھی ان کی نظر سے گزرتی تھیں، اس لیے وہ بندہ کی ہمت افزائی فرمایا کرتے تھے کہ ”آپ پاکستان کے علی میاں ہیں“ ان مجلسوں میں وہ اپنے اشعار بھی سناتے اور کبھی مجھ سے بھی میرے شعر سننے کی فرمائش کرتے، ایک مرتبہ میں نے ان کی فرمائش پر اپنی ایک غزل کا یہ مطلع انہیں سنایا:
    دردِ دل دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
    ہم اسی گھر میں رہیں گے جسے برباد کیا
    یہ شعر انہیں اتنا پسند آیا کہ مجھے ان کے اہلِ مجلس نے بتایا کہ وہ اپنی مجلس میں بندہ کا یہ شعر سناکر اس کی تشریح فرمایا کرتے تھے۔
    مجھے بھی گاہے گاہے ان کی خانقاہ میں حاضری کا موقع ملتا رہتا تھا اور ہمیشہ ان کی خدمت میں حاضری کا ایک سرور محسوس ہوتا تھا۔ لیکن 2000ء سے ایک طرف میرے مشاغل و اسفار بہت بڑھ گئے اور اُدھر حضرت حکیم صاحب پر فالج کا حملہ ہوا جس کی بنا پر ان کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔ اس لیے ملاقات اور زیارت کے مواقع کم ہوگئے، اس کے باوجود کبھی کبھی بندہ ان کی خانقاہ میں حاضر ہوتا تو وہ بستر پر ہوتے، لیکن چہرے پر وہی اطمینان و سکون، وہی پرتبسم انداز، اور وہی شفقت و محبت کا معاملہ۔ تقریباً تیرہ سال انہوں نے علالت کی حالت میں گزارے، لیکن رضا بالقضا کی تصویر بن کر۔ اور اس حالت مین بھی جب زبان ساتھ دینے لگی تو مجلسوں اور افادات کا سلسلہ پہلے کی طرح، بلکہ بعض اوقات پہلے سے بھی زیادہ جاری ہوگیا۔
    ان کی مجالس اور جذبِ دروں کا یہ اثر تھا کہ جو شخص ان کی صحبت میں کھ عرصہ گزار لیتا، اس پر شریعت و طریقت کا ایک مخصوص رنگ چڑھ جاتا تھا۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کے دورے کیے اور ہر دورے میں وہاں کے باشندوں کی ایک بڑی جماعت کو اپنے رنگ میں رنگ دیا۔
    بالآخر حضرت حکیم صاحب قدس سرہ کا وہ وقت آگیا جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ 22 رجب 1434ھ مطابق 2 جون 2013ء اتوار کے دن عصر کے ان کی حالت نازک ہوگئی، اور جب اتوار کا سورج غروب ہوکر پیر 23 رجب کی رات شروع ہوئی تو ان کی روح اپنے محبوب حقیقی کے حضور پہنچ گئی۔ میں اس وقت مدینہ طیبہ میں تھا، مغرب کی نماز کے بعد کچھ ہی دیر کے بعد مجھے پاکستان سعودی عرب مختلف حضرت کے پیغامات فون پر ملے جس سے اس جانگداز سانحے کی اطلاع ملی۔ جنازے میں شرکت ممکن نہیں تھی وہیں مسجدِ نبوی میں حسبِ استطاعت دعا و ایصال ثواب کی توفیق ہوئی۔
    چند روز بعد پاکستان واپسی ہوئی تو ان کی خانقاہ میں ان کے لائق فائق فرزند جناب مولانا مظہر صاحب اور ان کے دیگر خلفاء کی خدمت میں حاضری دی تو مولانا مظہر صاحب نے بتایا کہ حضرت حکیم صاحب نے یہ تمنا ظاہر فرمائی تھی کہ ان کا انتقال پیر کے دن ہو۔ (کیوں کہ سرور دوعالم ﷺ کی وفات بھی پیر کے دن ہوئی تھی) اس کے بعد علالت کے آخری دنوں میں جب ذرا ہوش آیا تو پوچھا کہ ”آج کونسا دن ہے؟“ جواب ملا کہ بدھ ہے، تو خاموش ہوگئے،، پھر دو دن بعد پوچھا تو بتایا گیا کہ ”جمعہ ہے“ تو خاموش ہوگئے۔ بظاہر وہ پیر کے انتظار میں تھے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی یہ تمنا اس طرح پوری فرمائی کہ سکرات موت اتوار کا دن گزرنے کے بعد پیر کی شب میں طاری ہوئے، اور اسی دن انہوں نے جان جاں آفرین کے سپرد کردی۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔
    آج حضرت حکیم صاحب قدس سرہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن انہوں نے اپنے بے شمار افادات کا جو ذخیرہ اور اپنی تربیت سے بنائے ہوئے جو انسان چھوڑے ہیں، ان کی بناء پر ان کا تذکرہ اور ان کے فیوض ان شاء اللہ زندہ و جاوید رہیں گے۔۔۔
    ہر گز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
    ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما

    اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے صاحبزادہ گرامی مولانا مظہر صاحب اور ان کے دیگر خلفاء کو ان کا کام جاری و ساری رکھنے کی توفیق کامل مرحمت فرمائیں۔ آمین
    اللہم اکرمہ نزلہ و وسّع مدخلہ و ابدله دارا خیرا من دارہ وأهلا خیرا من أهله و نقّه من الخطایا کما ینقی الثوب الأبیض من الدنس۔
  4. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    احسنت مولانا لک الاجرالکثیرولاخی ارمغان ایضاً

اس صفحے کو مشتہر کریں