آہ! ہدایت کے یہ روشن چراغ ۔۔۔ مولانا محمد یوسف مدنی :: ٹائپنگ مکمل

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 16, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    آہ! ہدایت کے یہ روشن چراغ
    مولانا محمد یوسف مدنی
    قحط الرجال کے اس دور میں صاحبِ نسبت اولیاء اللہ کا ایک ایک کر کے اُٹھتے چلے جانا مصیبتِ عظمیٰ سے کم نہیں۔ پہلے حضرت مولانا قای رفیق الخلیل شہید رحمہ اللہ تعالیٰ، پھر حضرت مفتی عبدالمجید دین پوری شہید (رحمہ اللہ تعالیٰ)، اس کے بعد حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اب عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی رحلت فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
    کراچی شہر کے عین وسط میں ایک مختصر رقبہ کے اندر سے ان چار عظیم شخصیات کا یکے بعد دیگرے اُٹھ جانا ہمارے لیے مقامِ فکر اور ایسا خلاء ہے جو شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔ حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ساری زندگی علم و معرفت کا درس دیتے گزر گئی۔ ان کا منفرد اندازِ تربیت عوام و خواص سب ہی کیلئے بیحد مفید و مؤثر تھا۔ حضرت والا سے بلا مبالغہ ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ فیضیاب ہوئے۔ حضرت کی تالیفات و مجموعہ ملفوظات کی تعداد و سو کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ ان کی تعلیمات کا خلاصہ یہ تھا کہ زندگی کے کسی لمحہ میں بھی اپنے خالق اور محسن و مربی کو ناراض نہ کیا جائے۔ عشقِ مجازی کی تباہ کاریوں اور اس کے طریقۂ علاج پر حضرت والا کو غیر معمولی دسترس حاصل تھی اور اس حوالے سے وہ دورِ حاضر کے بزرگانِ دین میں انفرادی شان کے حامل تھے۔ آہ! ہدایت کے یہ روشن چراغ اپنے پیچھے دنیا اندھیری چھوڑ گئے۔ ایسے موقع پر ایک تو استغفار کی کثرت ضروری ہے کہ ان حضراتِ اکابرین کی جو قدر اور ان سے جو استفادہ ہونا چاہیے تھا اس میں کوتاہی ہوتی رہی اور دوسرے دعاؤں کا خوب اہتمام کیا جائے کہ اللہ والوں کا وجود بہت سے فتن و مصائب کیئےا سدِّ سکندری ہوتا ہے ان کے جانے سے یہ خطرات ایک مرتبہ پھر منڈلانے لگتے ہیں اور ظاہر ہے کہ دعا کے سوا اور کون سی چیز ہے جو آفات و مصائب کو ٹال سکے، اس لیے بڑی الحاح و زاری کے ساتھ اللہ جل شانہ سے اس کے فضل و کرم اور عفو و رحم کو مانگا جائے۔
    (بشکریہ ماہنامہ سلوک و احسان، شعبان؍رمضان۱۴۳۴؁ھ)
  2. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    آہ! ہدایت کے یہ روشن چراغ
    مولانا محمد یوسف مدنی
    قحط الرجال کے اس دور میں صاحبِ نسبت اولیاء اللہ کا ایک ایک کر کے اُٹھتے چلے جانا مصیبتِ عظمیٰ سے کم نہیں۔ پہلے حضرت مولانا قای رفیق الخلیل شہید رحمہ اللہ تعالٰی، پھر حضرت مفتی عبدالمجید دین پوری شہید (رحمہ اللہ تعالٰی)، اس کے بعد حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اب عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی رحلت فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
    کراچی شہر کے عین وسط میں ایک مختصر رقبہ کے اندر سے ان چار عظیم شخصیات کا یکے بعد دیگرے اُٹھ جانا ہمارے لیے مقامِ فکر اور ایسا خلاء ہے جو شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔ حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ساری زندگی علم و معرفت کا درس دیتے گزر گئی۔ ان کا منفرد اندازِ تربیت عوام و خواص سب ہی کیلئے بیحد مفید و مؤثر تھا۔ حضرت والا سے بلا مبالغہ ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ فیضیاب ہوئے۔ حضرت کی تالیفات و مجموعہ ملفوظات کی تعداد و سو کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ ان کی تعلیمات کا خلاصہ یہ تھا کہ زندگی کے کسی لمحہ میں بھی اپنے خالق اور محسن و مربی کو ناراض نہ کیا جائے۔ عشقِ مجازی کی تباہ کاریوں اور اس کے طریقۂ علاج پر حضرت والا کو غیر معمولی دسترس حاصل تھی اور اس حوالے سے وہ دورِ حاضر کے بزرگانِ دین میں انفرادی شان کے حامل تھے۔ آہ! ہدایت کے یہ روشن چراغ اپنے پیچھے دنیا اندھیری چھوڑ گئے۔ ایسے موقع پر ایک تو استغفار کی کثرت ضروری ہے کہ ان حضراتِ اکابرین کی جو قدر اور ان سے جو استفادہ ہونا چاہیے تھا اس میں کوتاہی ہوتی رہی اور دوسرے دعاؤں کا خوب اہتمام کیا جائے کہ اللہ والوں کا وجود بہت سے فتن و مصائب کیلئےا سدِّ سکندری ہوتا ہے ان کے جانے سے یہ خطرات ایک مرتبہ پھر منڈلانے لگتے ہیں اور ظاہر ہے کہ دعا کے سوا اور کون سی چیز ہے جو آفات و مصائب کو ٹال سکے، اس لیے بڑی الحاح و زاری کے ساتھ اللہ جل شانہ سے اس کے فضل و کرم اور عفو و رحم کو مانگا جائے۔
    (بشکریہ ماہنامہ سلوک و احسان، شعبان؍رمضان۱۴۳۴؁ھ)

اس صفحے کو مشتہر کریں