ائمہ کی تنقیدی آراء اور حُسن ظن کا رویہ

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏اکتوبر 3, 2017۔

  1. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    تاریخ اسلام کے شروع کے دور میں جب بعض احادیث کے اختلاف کی وجہ سے مختلف علاقوں مکہ ، مدینہ ، کوفہ وغیرہ میں جب آراء کا اختلاف ہوا ، اس دور میں فقہاء اور محدثین احادیث کو مختلف انداز سے سمجھتے تھے ۔ ایک طبقہ اصحاب الحدیث کا تھا اور ایک اصحاب الفقہ و الرائ تھے ۔ ان کے درمیان آپس میں اختلاف تھا ۔
    امام ابوحنیفہؒ اصحاب الفقہ و الرائ کے طبقہ کے امام گنے جاتے ہیں ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صاحب حدیث نہیں تھے ۔ بس احادیث کے بارے میں استدلال کے ان کے اپنے اصول تھے ۔ امام مالک ؒ بھی اسی طرز کے تھے ۔
    اور دوسری طرز یعنی اصحاب الحدیث میں امام شافعیؒ اور امام احمدؒ تھے ۔

    کبھی اختلاف اچھے انداز سے بھی ہوتا ہے ۔ علماء آپس میں کھلے دل سے اختلا ف کو تسلیم کرتے ہوئے بھی اختلاف کرتے ہیں ۔ اور دوسرے پر طعن نہیں کرتے ۔
    لیکن کبھی اس اختلاف میں بے اعتدالی بھی ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ مزاج کی سختی بھی ہو سکتی ہے جس میں انسان اختلاف کو تسلیم ہی نہیں کرتااور دوسرے کو غلط سمجھتے ہوئے تنقید کرتا ہے ۔

    کبھی مخالف کے بارے میں معلومات کی کمی ہوتی ہے۔ یا غلط معلومات پہنچتی ہیں ۔ اس وجہ سے مخالف کے بارے میں سخت تنقید کردی جاتی ہے۔
    کبھی مخالف کی مقبولیت کی وجہ سے کچھ دل میں تنگی آجاتی ہے ۔ اور کچھ حسد کی بھی کیفیت ہو جاتی ہے۔
    کبھی بدعت اعتقادی کے حامل بعض فرقے بھی اپنا انتساب بڑے امام سے کرتے ہیں ۔ اور ناواقف یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اُن امام کا بھی یہی مسلک ہے ۔اس وجہ سے اُن سے بدظن ہو جاتے ہیں ۔

    اور بھی کئی وجوہات ہیں ۔ ابھی تفصیل کا موقع نہیں ۔

    امام ابوحنیفہؒ کا شروع وقت سے ہی اہل اسلام کا سب سے بڑا مسلک رہا ہے ۔ اس کا مطلب کوئی دوسرے مسلک کی تنقیص نہیں ۔ ظاہر ہے امام شافعیؒ کا مسلک مالکیہ سے زیادہ رہا ہے ۔ تو اس میں بھی کوئی ایک کی بڑائی یا دوسرے کی تنقیص نہیں ۔ بس ایک حقیقت کا اظہار ہے ۔ابھی اس کی وجوہات سے بحث نہیں ۔

    لیکن ان کے بارے میں بعض اہل علم کی کچھ تنقیدی آراء بھی رہی ہیں ۔جن کی وجوہات کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔
    یعنی سنت کو سمجھنے کا اختلاف ، غلط معلومات کا پہنچنا ، مزاج کی سختی کی وجہ سے تعصب یا کچھ حسد کی کیفیت ۔وغیرہ
    اور کچھ ایسی آراء رکھنے والے بھی ہمارے اپنے ہی ہیں ، کوئی غیر نہیں ۔یعنی محدثین کےطبقہ میں سے بعض حضرات ۔
    ۔ اس لئے ہمیں مشکل پیش آتی ہے کہ ایک اچھے آدمی نے دوسرے اچھے کے خلاف تنقید کی تو پھر ہم کیا کریں ۔

    یعنی اگر آپ کے چچا نے آپ کے ماموں کے خلاف کوئی سخت بات کر دی ۔ تو آپ کو ایک تو تکلیف ہو گی ۔ اور دل یہی کرے گا کہ یہ معاملہ حل ہوجائے ۔
    نہ یہ کہ آپ چچا کے خلاف ہو جائیں ۔ اور نہ یہ کہ چچا کی مان کر ماموں کے خلاف ہو جائیں ۔
    ان میں سے ایک غلط ہوسکتا ہے ۔ لیکن غلط کے ساتھ رویہ حسن ظن کا رکھنا چاہیے ۔ اور سب سے بہتر معانی کرنے چاہییں۔ تاکہ کسی تیسرے کو بھی یہ موقع نہ ملے کہ بھئی اس کے ماموں اور چچا میں لڑائی ہے ۔

    اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ ایسا اختلاف صحابہ رضی اللہ عنہم جیسی بڑی ہستیوں میں بھی موجود ہے ۔

    اہل بدعت ان میں سے اپنی شخصیات کو چُن لیتے ہیں اور دوسرے کے خلاف بولتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے ۔ اور اہل سنت و الجماعت دونوں سے حسن ظن رکھتے ہیں ۔اور دونوں فریق سے ادب کا معاملہ کرتے ہیں ۔

    اسی طرح بعد کے دور کے محدثین و فقہاء وغیرہ کے آپس کے معاملات کو حسن ظن سے دیکھنا چاہیے ۔

    ہمارے اس دور میں بھی اختلاف اصل میں فروعی ہوتا ہے ۔ لیکن اس کے ضمن میں شدت کی وجہ سے بعض حضرات اپنی دلیل ثابت کرنے کے لئے شخصیات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔مقصد وقتی بحث کو جیتنا ہوتا ہے ۔یا اور بھی کچھ مقاصد ہوسکتے ہیں ۔ نتیجتاََ فروعی اختلاف بھی فرقہ واریت کا موجب بن جاتا ہے ۔ ابھی اُن حضرات سے بحث نہیں ۔

    ابھی اُن حضرات اور عوام کے طبقات جو ان معاملات کو دیکھتے ہیں کہ ایک امام نے دوسرے امام پر تنقید کی ہے تو وہ کیا رویہ اپنائیں ۔۔ان حضرات کو مخاطب کیا گیا ہے کہ وہ ایسا حسن ظن رکھیں کہ کسی کی غلطی ثابت بھی ہو تو پھر بھی ان کے بارے میں بہترین رویہ اپنائیں ۔

    دو دوستوں میں صلح کی خاطر جھوٹ بولنے کی بھی گنجائش ہے ۔صحاح کی حدیث ہے ۔

    ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کو ئی بات کہہ دیتا ہے۔‘‘

    تو پھر دو اہل علم کی آپس کی عبارات کے درمیان اگر تاویل و حسن ظن کا رویہ اپنایا جائے تو امید ہے کہ بہتر ہی ہے ۔
    احمد پربھنوی اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    98
    موصول پسندیدگیاں:
    47
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اگر ہم آئمہ اربعہ کی بات کریں تو انکے درمیان آپس میں اختلاف کے باجود محبت تھی۔ باقی محدثین کا زیادہ اختلاف امام ابو حنیفہ کے مقابلے میں نظر آتا ہے امام بخاری کے استاد ابو بکر ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں مسقتل باب رد علی ابی حنیفہ باندھا ہے۔اس باب میں وہ پہلے حدیث کا ذکر کرتے ہیں بعد میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث کے باوجود امام ابو حنفیہ کا قول اسکے خلاف یہ ہے۔ یہ کوئی 125 مسائل ہیں۔ اس کا جواب بہت سے علمائے احناف دے چکے ہیں۔ جن میں حافظ محی الدین القرشئ کی الدر المنیفہ فی الرد علی ابن ابی شیبہ عن ابی حنیفہ اور علامہ کوثری کی النکت الطریفہ فی التحدث عن ردود ابن ابی شیبہ علی ابی حنیفہ قابل ذکر ہیں۔
    امام بخاری نے ابواب میں کئی جگہ اپنی صحیح بخاری میں بعض الناس کے الفاظ سے امام ابو حنفیہ کے قول پر رد کیا ہے۔ جس کے جواب علماء احناف نے بخاری شریف کی شروحات میں دیے ہیں۔ امام بہیقی نے بھی امام صاحب کے رد پر اپنی سنن میں کتنی ہی ضعیف احادیث لکھ ڈالیں۔ لیکن الماردینی حنفی نے الجوہر نقی فی رد علی البہیقی میں انکا خوب نقد کیا۔
    نعیم بن حماد نے احناف کے رد میں کئی کتابیں لکھیں جس میں جھوٹی حکایات درج تھیں۔ خطیب بغدادی نے جہاں امام صاحب کی تعریف پر پل باندھے وہاں امام صاحب کے خلاف کئی حکایات بھی لکھ دیں۔
    حافظ ابن حجر عسقلانی شروع میں احناف سے بہت محبت رکھتے تھے بعد میں ان کے خلاف ہوگئے اور فتح الباری میں ترک رفع یدین کو صرف عبداللہ بن مسعود کا عمل لکھ دیا۔
    امام نوووی شرح مسلم میں امام صاحب کے قول کو شاذ فرماتے ہیں۔
    امام ابو حنفیہ کی مخالفت کے علاوہ دوسرے مسائل میں بھی علماء کا آپس میں اختلاف ہوا ہے ان میں سے ایک مسئلہ خلق قرآن کا ہے۔ جس پر شدید اختلاف واقعہ ہوا۔
    غرض ایسے بہت سے اختلافات ہیں ان پر بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمارے لیے سارے اکابر اہل سنت والجماعت قابل احترام ہیں۔ اور ہم انکا ذکر خیر کے علاوہ نہیں کریں گے۔
    Last edited: ‏اکتوبر 3, 2017
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    شروع کے ادوار میں محدثین اور فقہاء کے درمیان بحث مباحثہ میں بعض حضرات کا شخصیات اور ائمہ پر تنقید سے ہی فروعی مسائل مین تشدد کا رویہ شروع ہوا ۔

    اور آج کل بھی اس میں شدت کی ایک بڑی وجہ یہی ہوتی ہے ۔ ہمارے حنفی نوجوان حضرات محدثین کے بارے میں کچھ بدگمانی کا شکار رہتے ہیں ۔ اب ہمارے دور کے مسلکی مناظروں اور متشدد ابحاث میں شخصیات کو بھی فرقوں میں اڈجسٹ جو کردیا جاتا ہے ۔ امام طحاویؒ ایک کے ہیں امام بخاریؒ دوسرے کے ہیں ، سبکیؒ ایک کے ہیں ابن تیمیہؒ دوسرے کے ، حتیٰ کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ پر بھی جو باتیں کی جاتی ہیں ۔ان کے پیچھے بھی فروعی مسئلہ ہے ۔

    یہ تمہید تو دراصل اُن کے بارے میں تھی جن ائمہ کی آپس میں تنقید موجود ہے ۔ اس بارے میں زندگی رہی تو کبھی بات ہوگی ۔ ابھی ہیثمیؒ کا ذکراس لئے کر دیا کہ جو ائمہ تنقید کرنے سے بری ہوتے ہوں ان کو بری کر دینا چاہیے ۔

    ہمارے نوجوان حنفی طلباء و عوام جو بعض دوسرے مسلک کے محدثین کے بارے میں صرف تنقید اور مخالفت کرنے کا ہی نظریہ رکھتے ہیں ۔ اور اسی وجہ سے ان سےکچھ بد ظن ہوتے ہیں ۔

    وہ حافظ ہیثمیؒ کا اُس لسٹ میں اضافہ نہ کردیں ۔
    جیسے میری تمہید کے فوراََ بعد ہی جودوسرے بھائی نے کچھ باتیں کی ہیں ، وہ ساری سوائے آخری دو لائن کے اسی مزاج کی لکھ دی ہیں جن کی وجہ سے میں نے یہ تمہید اور مضمون لکھا ہے ۔
    مسلکی تشدد کرنے والے۔۔۔۔۔۔ محدثین اور احناف کے درمیان تنقید و لڑائی پر مشتمل لٹریچر شائع کرتے رہیں گے ۔ لیکن ہمیں اب یہ کوشش کرنا چاہیے کہ اُن کا بالکل اثر نہ لیں اور مخالف مسلک کے محدثین کے بارے میں ایسا حُسن ظن رکھیں ،جس سے اُن کا دل میں بھی احترام قائم ہو ۔ اور سنجیدہ طبقہ اہلحدیث حضرات کو بھی چاہیے کہ اپنے مسلک کو پرزور ثابت کریں لیکن اس کے لئے مخالف ائمہ کی شخصیت پر طعن و تنقید کرنے سے صرف فرقہ واریت ہی پھیلے گی ۔

    ہمیں پورا دین ہی عزیز ہونا چاہیے ۔ تاکہ کسی غیر مسلم یا اسلام دشمن کو طعن کا موقع نہ ملے ۔ اور فرقہ واریت بھی نہ پنپ سکے۔
    ائمہ ثلاثہ احناف اور امام طحاوی ؒ کا عقیدہ اس وقت شرقاََ غرباََ سب سے زیادہ پڑھا پڑھایا جا رہا ہے ۔ اُس میں انہوں نے اس بات کو عقائد میں ہی بیان کر دیا ہے ۔

    وَعُلَمَاءُ السَّلَفِ مِنَ السَّابِقِينَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ - أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْأَثَرِ، وَأَهْلِ الْفِقْهِ وَالنَّظَرِ - لَا يُذْكَرُونَ إِلَّا بِالْجَمِيلِ، وَمَنْ ذَكَرَهُمْ بِسُوءٍ فَهُوَ عَلَى غَيْرِ السَّبِيلِ
    ’’اور علماء سلف صالحین جو پہلے گزرچکے ہیں اور اُن کا اتباع کرنے والے اور اُن کے بعد آنے والے بہتری اور نیکی والے لوگ اور حدیث نقل کرنے اور اہل فقہ (فقہ کے ماہر) اور نظر وقیاس والے بزرگ اُن سب کا ذکر سوائے نیکی کے درست نہیں اور جو شخص اُن کو برائی سےذکر کرے گا وہ راہِ راست پر نہیں ہوگا ۔‘‘

    (عقیدہ طحاوی )
    احمد پربھنوی اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    98
    موصول پسندیدگیاں:
    47
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ایسےحنفی لوگ میں نے تو نہیں دیکھے جو محدثین کے بارے میں مسلکی تنقید کرتے ہوں۔ شائد آپ کے علم میں ہو۔ ہمیں تو محدثین سے محبت ہے باوجود فروعی اختلاف کے۔
    اہلحدیث حضرات کو اپنے( اہلحدیث علماء کی اندھی تقلید میں) اپنے مسلک کو پرزور طریقے سے ثابت کرنے کے بجائے آئمہ کی تقلید کر لینی چاہیے۔
    کیونکہ اہلحدیث حضرات کچھ مسائل میں یہاں تک گڑ بڑ کر دیتے ہیں کہ پوری امت میں اس مسئلہ پر شائد ہی کبھی کسی نے عمل کیا ہو۔
    میں اس موضوع پر مستقل تھریڈ لکھوں گا جن مسائل میں اہلحدیث حضرات نے تمام امت سے اختلاف کرکے گمراہی سر لی ہے،ان شاء اللہ
    Last edited: ‏اکتوبر 11, 2017
    احمد پربھنوی نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    ویسے کچھ متشدد لوگ تو سب جگہہ ہوتے ہیں ۔ اور تنقید کرنے والے بھی ہیں ۔ جیسے ایک مثال دیتا ہوں کہ ہندوستان میں جب مناظرے اور بحثیں ہوتی تھیں تو متشدد غیرمقلد جہلاء کی طرف سے ایک کتاب جرح علی ابی حنیفہ شائع ہوئی ، تو دوسری طرف متشدد اور جاہل حنفی نے جرح علی بخاری شائع کی ۔ معلوم نہیں کس نے پہل کی لیکن ہم دونوں سے ہی متفق نہیں ۔یہ تو کافی پرانی بات ہے اس کو دفع کریں ۔

    ویسے یہ اوپر والا جملہ میں صحیح کہہ نہیں پایا ۔کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے نوجوان دوست یہ سمجھتے ہیں کہ ۔

    دوسرے مسلک کے محدثین ۔۔احناف پر صرف تنقید اور مخالفت ہی کرتے ہیں ۔
    اس وجہ سے نوجوان حنفی طلباء اور عوام کے دل میں اُن محدثین کا وہ احترام قائم نہیں رہتا ۔

    ’’اُن کو تقلید کر لینی چاہیے ‘‘ کرتے تو وہ ہیں ہی آپ کو کہنا چاہیے کہ بس اُن کو اقرار کرلینا چاہیے ۔ (مسکراہٹ)
    ویسے یہ اقرار انہوں نے کبھی نہیں کرنا ۔ اور اگر ائمہ اور مقلدین پر طعن وغیرہ نہ کریں اور غیرمقلد (بغیر اقرار کے مقلد)
    رہیں تو اس میں اتنا ہرج بھی نہیں ۔ ظاہری علماء شروع میں بھی رہے ہیں ۔ اور رفع یدین ، آمین ، قرااۃ ، اور دیگر مسائل مقلدین میں بھی مختلف فیہ رہے ہیں ۔
    ہاں کچھ اجماعی مسائل میں ضرور وہ الگ ہیں ۔ اُس پہ اُن کو جمہور کے مسلک پر ہی آجانا چاہیے ۔ جیسا کہ شروع کے کئی اکابر اہلحدیث علماء جرابوں پر مسح ،مرد و عورت کی نماز میں فرق کے مسئلہ میں ،جمہور کے ساتھ تھے ، جیسے عرب کے کئی سلفی ظاہری علماء طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں جمہور کے ساتھ ہیں ۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    98
    موصول پسندیدگیاں:
    47
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جاہل حنفی نہیں بلکہ ایک جاہل نے جرح علی بخاری شائع کی۔ جو لوگ اکابر علماء سے الگ ہوتے ہیں ان سے کسی بھی چیز کی توقع کی جا سکتی ہے۔
    البتہ مقدمہ جز قراة و رفع یدین امام بخاری مترجم مولانا صفدر امین اکاوڑی رحمہ نے امام بخاری سے متعلق کچھ باتیں لکھیں ہیں کہ وہ احناف سے بد ظن تھے اور انکے رد پر یہ رسالہ لکھا۔ اور اپنا موقف ثابت کرنے کے لیے وہ ضعیف احادیث بھی لے آئے۔

    میرے خیال میں برصغیر میں جوتحریک اہل حدیث کے نام سے شروع ہوئی اس نے علامہ البانی اور شوکانی جیسے عرب غیر مقلد پیدا کر دیے۔ جن سے آگے سلفی علماء کا سلسلہ چل پڑا۔ اس سے پہلے تو ظاہری لوگ موجود رہے ہیں۔ انکا تذکرہ تاریخ ابن خلدون متوفی 808ھ میں بھی ملتا ہے اور علامہ سیوطی رحمہ متوفی 911ھ کا تقلید کے بارے میں جو قول ہے اس میں بھی۔ کہ میں نے جاہل لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ حضور تو ایک شریعت لائے تھے یہ مذاہب اربعہ کہاں سے آگئے۔
    ظاہری علماء بعد میں سلفی علماء بن گئے ہیں۔ لیکن یہ رہے ہیں۔
    پہلے کے ظاہریوں اور اب کے غیر مقلدوں میں زمین آسمان کا فرق ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔
    ابن حزم ظاہری کو اکثر ہمارے علماء نے اپنی کتب میں غیر مقلد لکھا ہے لیکن آج کے غیر مقلد تو آثار صحابہ کو نہیں مانتے اور ابن حزم نے المحلی بالآثار لکھی ہے آثار صحابہ پر۔ تو انکو آج کے غیر مقلد جیسا سمجھنا تو انکو گالی دینے کے مترادف ہے۔
    البتہ اس عنوان پر لکھنے کی ضرورت ہے کہ ظاہریوں اور آج کے غیر مقلدوں میں کیا فرق ہیں ۔ ظاہریوں کے مسلک کی تفصیل اوجز المسالک میں بھی مل جائے گی کیونکہ حضرت شیخ رحمہ نے آئمہ اربعہ بمعہ ظاہریوں کے ہر حدیث پر مسالک لکھے ہیں۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    آپ کی بات بالکل صحیح ہے۔ میں نے اُس کو اس لئے حنفی لکھا کہ اُس نے اپنے خیال میں دفاع ابوحنیفہ ؒ اور دفاع فقہ حنفی میں یہ کام کیا تھا۔
    لیکن انہوں نے پہلے یہ بھی تو لکھا کہ یہ رسالے امام بخاریؒ سے ثابت نہیں ۔ اور اُن کی طرف منسوب ہیں ۔
    اور آگے ذکر کیا کہ یہ رسالہ تابعی ابراہیم نخئی ؒ کے رد میں لکھا ۔جن کی روایات صحیح بخاری میں بہت ہیں ۔
    سلفی تحریک اور ہے اور برصغیر کی تحریک اہل حدیث اور ہے ۔
    سلفی تحریک کی ابتداء شیخ محمد بن عبد الوہابؒ سے ہے جو حنبلی تھے ۔اور شاہ ولی اللہ ؒ کے معاصر ہیں ۔
    صفات متشابہات کے معاملے میں بعض ائمہ حنابلہ اور دوسرے ائمہ میں جو تعبیر کا فرق ہے ۔ اُس میں خصوصاََ شیخ ابن تیمیہؒ اور
    حافظ ابن قیمؒ اس مسئلہ کی جو تشریح کرتے ہیں (اور کچھ زیادہ ہی کرتے ہیں ) اُس پر اعتقاد اور اُس کا اظہار کرنے والے علماء سلفی علماء کہلاتے ہیں ۔

    اور ان میں کئی ظاہری یعنی غیرمقلد بھی ہوتے ہیں ۔لیکن اکثریت مقلد (خصوصاََ حنبلی) ہوتے ہیں ۔

    اور برصغیر کی تحریک صرف اختلافی فروعی مسائل کے اختلاف ہی کی بنیاد پر چلی ۔ جیسے شروع کے دور میں حنفی شافعی اختلاف ہوتا تھا ۔اس میں ایک مسئلہ تقلید کا اضافہ کرلیں ۔یا کچھ اجماعی مسائل کو بھی اختلافی مسائل میں ڈال دیا گیا ۔

    شیخ البانی تو ابھی کے ہیں ۔ شوکانیؒ تو اُن سے کافی پہلے کہ ہیں،شاہ اسمٰعیل شہیدؒ کے دور کے ۔
    علامہ شوکانیؒ اپنی کتب میں زیدی مذہب کے بھی اقوال نقل کرتے ہیں ۔
    ویسے ظاہری مذہب پر عمل کرنے والے آپس میں بھی متفق نہیں ہوتے ۔
    عرب کے سلفی اور برصغیر کے اہلحدیث کے آپس میں کافی فرق ہیں ۔
    برصغیر کی تحریک اہلحدیث کے ایک ستون نواب صدیق حسنؒ نے علامہ شوکانیؒ کی کافی کتب کو ہندوستان میں فروغ دیا ۔
    برصغیر کی تحریک والوں کو مسئلہ تقلید اور اختلافی مسائل میں زیادہ دلچسپی تھی ۔اور عرب کے سلفی علماء کو چونکہ خود اکثر حنبلی تھے ، ان کو اختلافی مسائل میں نہیں بلکہ مسئلہ صفات کی طرف زیادہ رجحان تھا ،بلکہ اب بھی ہے ۔

    البانی صاحب سعودی نہیں تھے ۔وہ کچھ نامعلوم وجوہات کی وجہ سے خاص فقہ حنفی سے بہت بدظن تھے ۔انہوں نے برصغیر کی تحریک کے ایک اور ستون صاحب تحفۃ الاحوذی کی کتب سے بہت اخذ کیا۔تو ترک تقلید میں اور رد حنفیت میں اُن کے اپنےمزاج کا مزید مواد حاصل ہوا۔

    بہرحال سلفی اور غیرمقلد میں فرق ہے ۔ لیکن ظاہری اور غیرمقلد میں زیادہ فرق نہیں ہے ۔
    اور ظاہری علماء بھی ظاہر ہے شروع سے ہی ہیں ۔ امام داود ظاہری ؒ ، امام شافعیؒ کے شاگرد تھے ۔پھر قیاس کے مسئلہ میں اختلاف ہوگیا۔اسی طرح مشہور محدث بقی بن مخلد ؒ جو کہ مصنف ابن ابی شیبہ کے راوی بھی ہیں ۔اور انہوں نے سب سے بڑی مسند لکھی تھی ۔ وہ بھی شاید ظاہری تھے ۔ لیکن یہ دونوں تو ایک قسم کے مجتہد بھی تھے۔
    اور اُن کے بعد ابن حزمؒ کی کتاب واحد ظاہری مذہب کی سمجھی جاتی ہے۔
    لیکن میرے خیال میں ظاہر مذہب کے کوئی قواعد خاص نہیں ہیں ۔ اس لئے ضروری نہیں کہ ایک ظاہری عالم کی رائے دوسرے سے ملتی ہو ۔

    علماء کے ایک طبقہ میں’’ اثر ‘‘ سے مراد صحابیؓ یا تابعی کا قول ہوتا ہے ۔ ورنہ متقدمین میں اثر ، خبر ، حدیث یہ تینوں الفاظ احادیث نبویﷺ کے لئے بھی بولے جاتے تھے ۔خصوصاََ ائمہ احناف کی تو کتب میں حدیث کو اثر بہت زیادہ کہا جاتا ہے ۔

    چناچہ محلی ابن حزم کی کتاب کا نام ۔۔۔آثار صحابہؓ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ۔ بلکہ احادیث و آثار سب کچھ پر مشتمل ہے ۔

    اور آپ نے محلی ابن حز م کو نہیں پڑھا ۔ اس لئے یہ رائے کا اظہار کردیا ۔ورنہ پڑھیں گے تو برصغیر والوں کو غنیمت جانیں گے ۔(مسکراہٹ)

    ابن حزمؒ تو بہت زور سے آثار صحابہؓ کے مخالف تھے ۔ (معاذاللہ کوئی صحابیؓ کی بے ادبی کی وجہ سے نہیں) بس اپنی تحقیق میں وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبیﷺ کی حدیث فلاں اثر کے خلاف ہے چناچہ و ہ حجت نہیں ۔ (حُسن ظن)

    اور ابن حزمؒ تو اتنے سخت تھے کے سارے علماء اس بات کا اقرار کرتے ہیں ۔ بلکہ وہ خود بھی ایک جگہہ کہتے ہیں کہ ایک بیماری کی وجہ سے ایسا مزاج ہوگیا۔

    ہاں آج کل کے اہل حدیث غیرمقلد حضرات میں اور ابن حزمؒ کے درمیان ایک بڑا فرق یہ ہے کہ ابن حزمؒ چاروں مسالک کو نہیں بخشتے ۔ اور برصغیر والوں کا ٹارگٹ صرف فقہ حنفی ہے ۔

    واللہ اعلم۔
  8. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    یہ موضوع چونکہ تنقید کرنے والے ائمہ سے حُسن ظن رکھنے کے بارے میں ہے ۔ اس لئے پہلی عبارت میں موجود ائمہ کے بارے میں بھی کچھ حُسن ظن سے تبصرہ ہوجائے۔
    ۔ حافظ ابن ابی شیبہ نے ایک تو ۳۹ ہزار کم و بیش احادیث و آثار پر مشتمل ضخیم کتاب لکھی ہے ۔ اس میں ۱۲۵ مسائل آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔ بلکہ یہ تو مدح ہے کہ ایک تو انہوں نے امام صاحب کے مسائل کو قابل توجہ سمجھا ، اور باقی ہزاروں مسائل میں سے صرف ۱۲۵ جگہہ اختلاف کیا ۔ اور ان میں بھی فاتحہ خلف الامام ، رفع یدین ،قہقہ فی الصلاۃ ،جہر بسم اللہ ،جیسے کئی جنگی مسائل نہیں ہیں ۔

    شیخ عوامہ (جو کہ مصنف کے محقق ہیں ، اور اس ضخیم کتاب کے ایک ایک لفظ سے گزرے ہیں ) فرماتے ہیں کہ ابن ابی شیبہؒ مختلف مقامات پر امام ابوحنیفہؒ کی روایات تقریباََ ۱۲ شیوخ کے ذریعے نقل کرتے ہیں جو کہ ۴۰ سے زیادہ مقامات ہیں جن میں بعض مرفوع روایات بھی ہیں ، اور ۳ مقامات پر مسائل میں اقوال ابی حنیفہ بھی نقل کئے

    (بلکہ اُن کی دوسری مختصر سی کتاب مسند ابن ابی شیبہ میں بھی امام صاحب کی روایت موجود ہے ۔)
    ایمان کے مسئلہ میں بعض محدثین امام صاحب کے مسلک سے ناواقفیت کی وجہ سے ان سے بدظن رہے ہیں ۔

    شیخ عوامہ فرماتے ہیں کہ ابن ابی شیبہ نے کتاب الایمان میں کسی جگہ امام ابوحنیفہ پر کوئی نقد نہیں کیا جو اس بات کی قوی دلیل ہے کہ وہ ان کے بارے میں صحیح عقیدہ کے حامل ہونے کا ہی نظریہ رکھتے تھے ۔ انہوں نے صرف بعض فروعی فقہی مسائل سے ہی تعرض کیا ۔
    اور ان میں بھی کئی مشہور اختلافی مسائل نہیں ہیں ۔

    یہ عربی کا لفظ رد کوئی اتنا سخت لفظ نہیں ہوتا جیسے اردو میں رد استعمال ہوتا ہے۔

    امام شافعی ؒ نے امام مالکؒ کی کتاب کو سب سے صحیح کتاب بھی کہا ۔ اور اس کے رد میں کتاب بھی لکھی ۔ جیسے امام لیث ؒ نے امام مالک ؒ سے اختلاف کیا اور کہا کہ آپ کے یہ یہ مسائل سنت کے خلاف ہیں ۔

    امام محمدؒ نے بھی اختلاف کے لئے ہی کتاب حجۃ لکھی ۔جس کو آپ رد علی فقہاء مدینہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔اس پر امام شافعیؒ نے بھی رد علی محمد بن حسن لکھی جو کتاب الام میں ہے ۔ حالانکہ امام مالک و امام محمد دونوں امام شافعی کے استاذ ہیں اور ان دونوں کی انتہائی تعریف بھی امام شافعی کرتے ہیں ۔
    کئی مسالک کے ائمہ نے رد علی شافعی پر کتب لکھیں ۔
    امام ابویوسف ؒ کی ایک کتاب کا نام بھی یہی ہے رد علی سیر الاوزاعی ۔

    یہ رد کے ذریعے اپنے اختلاف کا اظہار کرنا ہوتا ہے ۔
    اس لئے حافظ ابن ابی شیبہؒ نےبھی جو رد لکھا ہے ایسا ہی ہے ۔
    ہاں البتہ ساری مصنف ابن ابی شیبہ کو چھوڑ کر بیچ میں سے ایک باب رد علی ابی حنیفہ اٹھا کر الگ سے کوئی شائع کرے تو اس کے پیچھے منفی جزبہ ہی ہوگا ۔اور یہ اختلاف کا نہیں افتراق کا اظہار ہے ۔
    یہ ٹھیک ہے جب علمی بحث اُس کے مقام پر ہو تو کی جاسکتی ہے ۔ اور اپنے مقام پر ہر امام بخاریؒ سے بھی ادب سے اختلاف کیا جاتا ہے ۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ رد برا لفظ نہیں ہے ۔ ہاں مختلف مسلک میں اجتہاد کی وجہ سے رائے مختلف ہوتی ہے ۔ اور ہر مسلک والے اپنی رائے بیان کرتے ہیں ۔ بعض کچھ سختی کرتے ہیں بعض نرم انداز سے بیان کرتے ہیں ۔

    ویسے صحیح بخاری میں ایک جگہہ بقول علامہ عثمانیؒ قال بعضھم سے بڑے صحابی ؓ مراد ہیں ۔ اور اسی طرح امام شافعیؒ کو بھی بعض الناس سے مخاطب کیا ہے ۔بعض جگہہ بعض الناس پر رد نہیں بھی ہے ۔

    ہاں یہ سچ ہے کہ اختلاف کرنے میں سختی ہے ۔ کیونکہ اُن تک معلومات صحیح نہیں پہنچ سکیں ۔ اور بھی وجوہات ہیں ۔واللہ اعلم
    امام بیہقی نے کوئی امام صاحب کے رد پر نہیں سنن میں لکھیں ۔ بس یہ ہے کہ دو مختلف مسالک میں جب اختلاف ہے اور دونوں کے دلائل مختلف ہیں تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنے ہی بیان کرنے ہیں ۔ اُنہوں نے سنن پر تین کتب لکھی ہیں سنن کبیر ، سنن اوسط یعنی معرفۃ السنن ، اور سنن صغیر ۔۔۔اور سنن اوسط میں تو ایک جگہہ انہوں نے خود بھی یہی گلہ کیا ہے کہ امام طحاویؒ ایسا کرتے ہیں ویسا کرتے ہیں ۔ جب اختلاف ہے تو ظاہر ہے ہمارے نزدیک جو مضبوط ہے ہم وہی بیان کریں گے ۔حنفی ان کا رد کریں گے ، وہ حنفی کا۔

    اور انہوں نے امام صاحب کے رد میں یوں نہیں کیا ۔ بلکہ امام بیہقی جو شافعیہ کے میرے خیال میں سب سے وسیع العلم محدث ہیں ۔ اور امام صاحب ؒ کے بارے میں بھی اُن کا رویہ ادب کا ہے ۔ ۔ انہوں نے تو

    اپنی ایک کتاب کا نام ہی رکھا ہے ۔۔الخلافیا ت بین الامامین ۔۔۔یعنی دو اماموں یعنی ابو حنیفہ اور شافعی کے درمیان اختلاف ۔
    مدخل دلائل النبوۃ میں ائمہ جرح تعدیل میں امام صاحب کو بیان کیا ہے ۔
    کتاب القدر میں اُن کے عقیدہ کے لحاظ سے صحیح ہونے کا ذکر کیا ہے ۔
    اور مشہور روایت امام کی قراۃ مقتدی کی قراۃ میں بعض محدثین جو امام صاحب کا نام لے کر اعتراض کرتے ہیں ۔
    امام بیہقیؒ نے اور امام حاکمؒ دونوں نے یہاں بھی امام صاحب کو اعتراض سے بری قرار دیا ۔ اور بہت کچھ ہے ۔

    امام بیہقی ؒ کو ایساسمجھیں کے ایک امتحان میں کئی طالبعلم ہیں اور ان کا مقابلہ ہے اس میں طالبعلموں میں آپس میں کوئی دشمنی تو نہیں ہوتی ۔ بس مقابلہ ہوتا ہے ۔ امام بیہقیؒ کو ایسا مدمقابل سمجھیں جس سے مقابلہ میں واقعی مزا آئے ۔ (وہ بھی چند فروعی مسائل میں) جیسے دوسرے مسالک کے ائمہ امام طحاویؒ کو سمجھتے ہیں ۔

    اس مقابلہ میں کئی جگہہ انصاف کا دامن چھوٹ بھی جاتا ہے ۔ جیسے امام بیہقیؒ نے امام طحاویؒ کے بارے میں ریمارکس دئے ہیں ۔ اسی وجہ سے ابن ترکمانیؒ نے اِدھر سے پھر رد کیا ۔۔

    سخت ریمارکس امام مسلمؒ نے بھی امام بخاریؒ (یا اپنے اور امام بخاریؒ کے شیخ علی بن المدینیؒ ) کے بارے میں دئے ہیں ۔۔ یہ کوئی جرح تعدیل کے باب سے نہیں ہیں ۔ بس اپنے ہم پلہ مقابل سےاختلاف ہے ۔ ہاں ان دونوں ریمارکس میں ناانصافی اور سختی بے شک ہے ۔

    یہی دوستانہ مقابلہ حافظ ابن حجرؒ سے بھی ہے۔اور وہ نہ پہلے احناف سے محبت رکھتے تھے اور نہ بعد کو خلاف ہوگئے۔ بس وہ مد مقابل ہیں۔ اور خوب اختلاف اور رد کرتے ہیں ۔ اور کچھ منفی عصبیت کا بھی مظاہرہ کرجاتے ہیں ۔ان کی اور علامہ عینیؒ کی آپس کی باتیں مشہور ہیں ۔

    اورامام نوویؒ سے بھی مقابلہ ہے ۔ جو حافظ ابن حجرؒ کی طرح امام ابوحنیفہؒ کی بہت زیادہ تعریف کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ فقہ حنفی کے مسائل کے قائل ہو جائیں ۔ اسی لئے وہ اپنی کتب میں فقہ حنفی کے مسائل پر رد بھی کرتے ہیں ، اُن کو ضعیف بھی کرتے ہیں ، اور بعض جگہہ غیر محتاط الفاظ یعنی سنت کا مخالف بھی لکھ دیں گے۔اور سختی بھی کرتے ہیں ۔ اور ائمہ احناف کی کتب میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ شافعیہ وغیرہ کے مسائل کے بارے میں ۔ جیسے اگر حافظ نے رفع یدین کو ایسا ایسا لکھا ۔۔۔تو صاح ہدایہؒ نے ترک قراۃ خلف الامام پر اجماع صحابہؓ لکھا ہے ۔ صاحب بدائع الصنائع نے عشرہ مبشرہ سے ترک رفع نقل کیا ہے ۔

    ایسا تو پھرکبھی ہوہی جاتا ہے ۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام حاکمؒ نے دعوی کیا کہ رفع یدین عشرہ مبشرہ نے روایت کیا ہے اس پر حافظ ابن کثیرؒ جو خود بھی شافعی ہیں احکام الکبیر میں فرماتے ہیں کہ میں نے مسند احمد کی مسند عشرہ دیکھی ،معجم طبرانی ، بزار ، ابی یعلی ، صحاح ستہ ، ابن حبان، ابن خزیمہ وغیرہ دیکھیں۔مجھے تو کوئی نہیں ملیں عشرہ مبشرہ کی روایات ۔

    اختلافی مسائل میں ایسا ہوتا رہتا ہے ۔اس رویے میں بعض کتب میں سختی بھی آجاتی ہے ۔ ایک دلچسپ واقعہ ہے طبقات حنفیہ میں لکھا ہے ۔ شافعیہ اور حنفیہ کی نوک جھونک کے بارےمیں ۔

    ایک شافعی عالم نے اپنے درس میں ایک مسئلہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہؒ اور رسول اللہ ﷺ میں اختلاف ہے ۔حنفی عالم کو خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے درس میں بیان کیا کہ فلاں مسئلہ میں امام شافعیؒ اور اللہ تعالیٰ میں اختلاف ہے ۔
    معاذاللہ وہ دونوں نہیں سمجھتے ہوں گے ایسا واقعی ہے ۔ بس یہ ایک مناظرانہ غلط انداز ہے اجتہادی مسئلہ کو بیان کرنے کا۔

    لیکن ہمیں آج کل سارے معاملات کو حُسن ظن سے ہی دیکھنا چاہیے ۔ اور بالکل صحیح کہا آپ نے

اس صفحے کو مشتہر کریں