ابن محرز مجہول نہیں ، ابن محرز کی توثیق

'علوم الحدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از احمد پربھنوی, ‏ستمبر 15, 2017۔

  1. احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    23
    موصول پسندیدگیاں:
    7
    صنف:
    Male
    جگہ:
    مہاراشٹر، انڈیا
    ابن محرز کی توثیق

    ابو العباس احمد بن محمد بن القاسم بن محرز جس سے ابن معین رحمہ اللہ کے جرح و تعدیل میں اقوال اور سوالات وارد ہیں اور ان اقوال کو محدثین نے قبول کیا ہے چاہے وہ حافظ مزی ہو یا ابن حجر ہو یا امام ذہبی رحمہم اللہ ہو یا ان کے علاوہ سبھی نے ابن محرز سے ابن معین رحمہ اللہ کے اقوال کو اپنی کتابوں میں لیا ہے ان حضرات نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ابن محرز مجھول ہے لہذا ان کے اقوال قابل اعتبار نہیں بلکہ ان کے اقوال کو قبول کیا ہے امام ذہبی تو اپنی کتاب میزان الاعتدال میں اتنی احتیاط برتی ہے کہ کہیں جگہ تو انہیں یہ کہنا پڑا کہ میں فلاں کا تذکرہ اس کتاب میں نہیں کرتا صرف ابن عدی نے اپنی کتاب الکامل میں ان کا تذکرہ کیا اسلیے مجھے بھی کرنا پڑا ـ ایسی کتاب میں بھی امام ذہبی نے ابن محرز سے جرح و تعدیل میں اقوال نقل کیے ـ
    لیکن کچھ تعصب پسند حضرات کہتے ہیں کہ چونکہ ابن محرز کی توثیق منقول نہیں لہذا ان کے واسطہ سے ابن معین کے جرح وتعدیل کے اقوال غیرمعتبر ہیں، جب کہ آپ کتب جرح وتعدیل کاجائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ کسی بھی امام جرح وتعدیل نے محض اس بنیاد پر ابن محرز کی واسطہ سے نقل اقوال کو مسترد نہیں کیا کہ اس کی توثیق منقول نہیں ہے، ایسے میں ہمیں سوچنا اور غور کرنا چاہئے کہ جولوگ آج ابن محرز کو غیرمعتبر قراردے رہے ہیں، کیا ان کا یہ طرزعمل ائمہ جرح وتعدیل کے طرز عمل سے مطابقت رکھتا؟؟ جبکہ ائمہ جرح و تعدیل جانتے تھے ابن محرز کی توثیق ہوجاتی ہے
    چلیے ہم ابن محرز کی توثیق بتلاتے ہیں،
    نا عبد الرحمن حدثني أبي حدثنى أبوالعباس المحرزى قال سألت على بن المدينى عن ابى كعب صاحب الحرير فقال كان يحيى بن سعيد يوثقه (الجرح والتعديل 6/41)
    ترجمہ :عبدالرحمن ابن ابو حاتم کہتے ہیں مجھے میرے والد نے بیان کیا انہیں ابو العباس محرزی نے، کہتے ہیں علی بن مدینی سے میں نے ابو کعب کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا یحی بن سعید القطان ان کی توثیق کرتے تھے ـ

    ہم یہاں یہ نہیں بتلارہے ہیں کہ ابن محرز نے ابن المدینی سے کیا سوال کیا بلکہ یہ بتلارہے ہیں کہ ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے ابن محرز سے روایت کیا ـ

    اب دیکھیں حافظ ابن حجر کیا کہتے ہیں
    حافظ ابن حجر نے کئی جگہ اس بات کی صراحت کی ہے کہ ابو حاتم الرازی اور ابو زرعہ رازی وغیرہ رحمہم اللہ صرف ثقات سے روایت کرتے تھے

    حافظ ابن حجر کی کتاب تقریب پر بشار عواد اور شعیب الارناووط صالح بن سهيل پر حافظ کے فیصلہ کے تحت لکھتے ہیں

    فقد روى عنه جمع من الثقات منهم أبو داود في سننه وهو لا يروي فيها الا عن ثقة، وأبو زرعة وأبو حاتم الرازيان وهما من تعرف في شدة التحري، (تحریر التقریب التہذیب 2/129)
    ترجمہ :صالح بن سہیل سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے جن میں ابو داؤد، رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں اور وہ ثقہ کے علاوہ کسی سے روایت نہیں کرتے، اور ابو زرعہ اور ابو حاتم الرازی بھی اور یہ دونوں حضرات رایوں کے حال جاننے میں بڑے ہی سخت ہیں ـ

    اسی طرح دوسری جگہ احمد بن عبیداللہ پر حافظ ابن حجر کے قول کے تحت لکھتے ہیں
    ولو لم يكن ثقة عند أبي حاتم لما روى عنه (تحریر التقريب التهذيب 1/70)
    ترجمہ :اور کیوں وہ ابو حاتم کے نزدیک ثقہ نہیں ہوسکتے جبکہ انہوں نے ان سے روایت کیا ـ

    اسی طرح عرب علماؤں میں ایک ممتاز شخصیت ہے ابو اسحاق الحویني جو روایت حدیث و کتاب کے بارے میں بتلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ
    وكذلك ابن محرز وهو أبو العباس احمد بن محمد بن القاسم بن محرز راوي كتاب "معرفة الرجال" وهو سؤالاته لابن معين في "الجرح والتعديل" ولا اعرفه له بجرح ولا تعديل، ولم أجد له ترجمة فيما بين يدي من المراجع ومع ذلك فالعلماء ينسبون الكلام لابن معين بروايته وما علمت أحدا توقف في قبوله والأمثلة على ذلك تطول. ( نثل النبال بمعجم الرجال الذين ترجم لهم فضيلة الشيخ المحدث أبو إسحاق الحويني 1/176)

    ترجمہ :اسی طرح ابن محرز کا معاملہ ہے، جو ابو عباس احمد بن محمد بن قاسم بن محرز کتاب معرفۃ الرجال کا راوی ہے جس میں اُنھوں نے ابن معین سے جرح و تعدیل کی بابت (اقوال) کیے ہیں۔ مجھے اس کے بارے میں جرح یا تعدیل کا کوئی علم نہیں۔ میری دسترس میں موجود مراجع میں اس کا ترجمہ موجود نہیں۔ اس کے باوجود علماء اس کی وساطت سے ابن معین کی طرف قول کو منسوب کرتے ہیں۔ میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اسے قبول کرنے میں توقف کیا ہو۔ اس بارے میں مثالوں کا ذکر ہی تطویل کا باعث ہے۔

    ابو اسحاق حوینی کے قول سے بھی معلوم ہوتا ہے علماؤں نے ابن محرز کے اقوال کو قبول کیا ہے اور انہوں نے کہیں مضمون طویل نہ ہوجائے اس وجہ سے مثالوں کو تک ذکر نہیں کیا کیونکہ ایک دو مثالیں تھوڑی نہ تھیں جو بیان کی جائیں ـ

    اسی طرح کفایت اللہ سنابلی صاحب بھی ابن محرز کو مجھول کہتے نہیں تھکتے وہ خود لکھتے ہیں ابو حاتم صرف ثقات سے روایت کرتے ہیں ـ(انوار البدر ص 282)

    لہذا امام ابو حاتم الرازی صرف ثقات سے روایت کرتے تھے اس لیے ابن محرز بھی ثقہ ہیں ـ
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 9, 2017
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    23
    موصول پسندیدگیاں:
    7
    صنف:
    Male
    جگہ:
    مہاراشٹر، انڈیا
    السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ

    یہ کتاب( تحریر تقریب التہذیب ) حافظ ابن حجر کی نہیں ہے بلکہ حافظ ابن حجر کی کتاب تقریب التہذیب پر تحریر بشار عواد اور شعیب ارناووط رح نے کی ہے مجھ سے غلطی ہوگئ اگر انتظامیہ اس کی تصحیح کرلیں تو بہتر ہوگا ـ @انتظامیہ
  3. جمشید

    جمشید وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    118
    موصول پسندیدگیاں:
    42
    جگہ:
    Afghanistan
    آپ بھی ایک غلطی صحیح کرلیجئے، آپ نے متعدد بار علمائوں لکھاہے، براہ کرم علماء کی جمع الجمع مت بنایئے(ابتسامہ)
    اشماریہ اور احمد پربھنوی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    189
    موصول پسندیدگیاں:
    181
    صنف:
    Male
    (مسکراہٹ)
    یہ میرا خیال ہے جمع نہیں ہے یہ اُس وزن پر ہے کہ ۔
    مولویوں نے ،
    حکمرانوں نے،
    سیاستدانوں نے ،
    جاہلوں نے،
    نااہلوں نے ،
    فلانوں نے ،
    اشماریہ اور احمد پربھنوی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. جمشید

    جمشید وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    118
    موصول پسندیدگیاں:
    42
    جگہ:
    Afghanistan
    آپ نے جتنی بھی مثالیں دی ہیں، وہ واحد سے جمع کی ہیں،مولوی واحد مولویوں جمع ایسے ہی حکمراں،سیاستداں ،ناہل ،فلاں،جاہل وغیرذلک، عالم کی جمع علماء ہے،علماء کی بھی جمع علماؤں بنادینامحل نظراوراردو کے لحاظ سے غلط ہے،یہ ایسے ہی ہے جیسے ولد کی جمع اولاد اوراولاد کی جمع الجمع اولادوں بنادیں۔بعض مقامات پر جمع الجمع کااستعمال ہوتاہے لیکن وہ غلط العام ہے،یعنی عوام وخواص سبھی اسے استعمال کرتے ہیں، جیسے وجہ کی جمع وجوہ اور وجوہ کی جمع وجوہات ،عام طورپر اردولکھنے اورپڑھنے والے حضرات بولنے میں اورلکھنے میں وجوہات لکھتے ہیں اور اسے قبول عام حاصل ہوگیاہے لیکن ابھی علماؤں کو اس طرح کا قبول عام حاصل نہیں ہواہے ،یہ بھی غلط العوام کے درجہ میں ہے،لہذا اس کے لکھنے سے اوربولنے میں بھی احتیاط کرناچاہئے۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    189
    موصول پسندیدگیاں:
    181
    صنف:
    Male
    جی جی بالکل ۔علماؤں غلط ہی ہے ۔ میں نے تو ازراہ تفنن کہاہے ۔
    اشماریہ اور جمشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    23
    موصول پسندیدگیاں:
    7
    صنف:
    Male
    جگہ:
    مہاراشٹر، انڈیا
    السلام علیکم و رحمة الله و بركاته

    الساجی نے ایک سند میں احمد بن محمد کی سند سے ابن معین رحمہ اللہ کا قول حفص بن سلیمان اور ابو بکر بن عیاش کا موازنہ کرتے ہوئے روایت کیا

    أنا الساجي ثنا أحمد بن محمد البغدادي قال: سمعت يحيى بن معين يقول: كان حفص بن سليمان وأبو بكر بن عياش من أعلم الناس بقراءة عاصم وكان حفص أقرأ من أبي بكر، وكان أبو بكر صدوقا، وكان حفص كذابا(الکامل 3/268)

    الساجی رحمہ اللہ کے شیوخ میں احمد بن محمد نام سے کئ ہے تو ان کا تعین کرنے کے لیے ابن معین رحمہ اللہ سے اس طرح کس نے روایت کیا تو ہم نے پایا ابن محرز نے کیا

    سمعت يحيى يقول: قال لي أيوب بن المتوكل -وكان من القراء البصراء- قال: قراءة أبي عمر البزاز- يعني حفص بن سليمان- أثبت قراءة من أبي بكر بن عياش، وأبو بكر أصدق منه. قال يحيى: وأبو عمر هذا كذاب(تاریخ ابن معین بروایہ ابن محرز 1/113)

    تو کیا یہاں یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ احمد بن محمد جن سے امام الساجی نے روایت کیا وہ ابن محرز ہے؟؟؟

    @جمشید @ابن عثمان
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 17, 2017 at 10:35 PM

اس صفحے کو مشتہر کریں