اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر ۔۔۔ مفتی ابو لبابہ :: داود علی :: ٹائپ مکمل

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 15, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر
    مفتی ابو لبابہ شاہ منصور

    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر ۔۔۔ مفتی ابو لبابہ شاہ منصور

    اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر
    مفتی ابو لبابہ شاہ منصور

    کراچی کے قطب اور اہلیان کراچی کے محسن، تھانہ بھون کے سلسلہ اصلاح کی عظیم ہستی عارف باللہ حکیم شاہ محمد اختر رحمتہ اللہ علیہ طویل علالت کے بعد اپنے اس رب کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے، جس سے اس کی گناہ گار مخلوق کو جوڑنے کی محنت میں انہوں نے عمر بتادی۔ حضرت کا وہ وقت ہم نے نہیں پایا، جب ہمارے حضرت والا حضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی قدس سرہ کے پڑوس میں اپنے شیخ حضرت پھولپوری نوراللہ مرقدہ کی خدمت میں سکونت رکھتے تھے اور حضرات شیخین کے باہمی تعلقات و محبت کی مثال دی جاتی تھی ۔ البتہ جب وہ گلشن اقبال میں تشریف لائے تو الحمداللہ شروع ہی سی خانقاہ میں حاضری کی مسلسل اور بار بار سعادت نصیب ہوتی رہی ۔یہ ہمارے طالب علمی کے اختتام اور عملی زندگی کے آغاز کا زمانہ تھا۔حضرت کی دوسری مجالس اپنی جگہ ، جمعہ سے پہلے 11 تا 12 جو بیان ہوتا تھا، اس میں علماء و طلبہ بکثرت حاضر ہوتے تھے اور بعد ازاں کچھ نماز تک وہیں ذکرو تلاوت میں مصروف رہتے اور کچھ واپس جاکر اپنی اپنی مساجد میں جمعہ پڑھاتے۔جو وہیں رہ جاتے ہیں انہیں حضرت کے دریائے فیض سے چند جام پینے کے بعد ہفتہ بھر جس کیف سے گزرتا وہ ناقابل بیان ہے۔ دوسری طرف جو ائمہ حضرات حضرت کا بیان سن کر اپنی مساجد میں چلے جاتے، ان کے بیانات میں اصلاحی رنگ نمایاں ہوتاکہ نقد وصولی والی بات ہو جاتی۔
    حضرت کے اصلاحی بیان میں علامہ آلوسی کی “روح المعانی“ اور ملا علی قادری کی “مرقاۃ المفاتیح“ کے برجستہ عربی حوالے جو وہ مختلف آیات اور احادیث کی شرح میں بیان کرتے تھے۔ بڑے خاصے کی چیز ہوتے تھے۔سمجھدار ائمہ اور خطیب حضرات ان کو ضبط کرکے اپنا بیان تیار کر لیتے تھے۔دوسری چیز اعلی پائے کی اردو،فارسی محاورات، ضرب الامثال اور بر محل و بر موقع اشعار تھے۔ یہ ایک ایسی خصوصیت تھی جو روحانی سیرابی کے ساتھ ادبی ذوق کی تسکین بھی کرتی تھی۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات، حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کے ارشادات کے ساتھ جب حضرت اپنے یا دوسرے مشہور اُستاذوں کے کلام سے منتخب اشعار سناتے تو ایسا سماں بندھتا کہ حاضرین محسور ہوکر رہ جاتے۔ اسی دوران بیچ میں حضرت رقت انگیز آواز میں جب سچی توبہ کی ترغیب دیتے یا معرفت الٰہی کی باتیں کرتے تو سنگ دل سے سنگ دل شخص کے سینے میں پتھر سے بھی رجوع الی اللہ کا چشمہ پھوٹ نکلتا۔
    اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کراچی کے دنیا داروں میں ایسے ایسے صاحب ولایت و حامل مقامات لوگ تیار ہوئے جن کا مشاہدہ ہر وہ بیناو نا بینا شخص کر سکتاہے۔ جو اس چھوٹی سی خانقاہ میں تھوڑا سا وقت بھی گزارنے کی نعمت نصیب ہوئی ہو۔
    حضرت کراچی والوں کے لیے خاص رحمت تھے۔ اب تو وہ اُٹھ گئے۔ لیکن ان کے خلفاء اکرام ماشآءاللہ کراچی اور ملک بھر میں پھیل کر ان کی دعوت کو پھیلا رہے ہیں بلکہ دنیا بھر میں ان کے فیض کو پہنچا رہے ہیں۔ اللہ تعالٰی سب کا موں میں بہت بہت برکت عطا فرمائے اور حضرت جیسی مقبولیت و محبوبیت انہیں عطا فرمائے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں