اختلافات میں اعتدال کا رویہ

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏جون 21, 2018۔

  1. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    199
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    صنف:
    Male
    کسی بھی اختلافی مسئلہ میں بحث کرتے ہوئے اعتدال سے باہر ہونے والے اور متشدد حضرات خصوصاََ نوجوانوں کو تنبیہ صرف اُن کے اپنے مسلک کے حضرات ہی کریں تو ہی مفید ہوتی ہے ۔

    کوئی دوسرے مسلک کا کرے تو چاہے وہ کتنا بھی لہجہ نرم رکھے ۔ اس کو جواب دینے کی تیاری شروع ہوجاتی ہے ۔

    ہاں بس یہ ہے کہ تنبیہہ کی بھی جائے ۔

    اہلحدیث غیر مقلد بھائیوں کے ایک انتہائی سخت ، متشدد اور فرقہ وارانہ بحثوں سے لبریز فورم اردو مجلس پہ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کے خلاف بعض جزباتی حضرات نے باتیں کیں

    اس پر ایک اہل حدیث بھائی أبو عبدالله بلال سلفي

    نے کچھ تنبیہی الفاظ کہے

    جو شاید کوئی دوسرا مسلک کا کہتا تو بہت سخت جوابات سنتا ۔ لیکن اپنے مسلک کا تنبیہہ کرے تو فائدہ ہوتا ہے کہ آدمی دیہان سے سنتا ہے ۔

    ’’جماعت اہلحدیث کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اصلاح سے زیادہ فتووں کا بازار گرم رکھنے میں پیش پیش رہتے ہیں خصوصا پاک و ہند کے عوامی حلقے میں یہ وائرس عام پایا جاتا ہے !!!! تعجب ہے اللہ وحدہ لا شریک نے ہمیں جو دعوت کا اسلوب سمجھایا ہے اپنے کلام اقدس میں اس کے برعکس عمل کرتے ہوئے ہم ہر نئے ہونے اہلحدیث بھائی کو تبلیغی دیوبندی جماعت اسلامی کی کتابوں کی چھان بین پر لگا دیتے ہیں وہاں سے عقیدے دیکھتے جاؤ اور کفر و شرک کے فتوے لگاتے جاؤ حالانکہ یہ کام علماء راسخون فی العلم کا تھا لیکن یہ سارا کام اہلحدیث کے عامی طبقہ کے سپرد کر دیا گیا !!!!علماء اہلحدیث کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی مساجد اور مدارس میں قرآن فہمی کی تعلیم دیتے ہر نئے پرانے اہلحدیث کو ایجوکیٹ کرتے تاکہ اہلحدیث عوام کا قرآن و حدیث کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا لیکن بدقسمتی سے ہوتا کیا ہے اہلحدیث عام الناس کو دیوبندی تبلیغی کتابوں کے حوالے تو یاد رہتے ہیں لیکن قرآن مجید کے حقیقی علم سے بالکل نا آشنا ہوتے ہیں !!!یہ ساری زمہ داری علماء کرام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اہلحدیث عوام کی صحیح معنوں میں دینی تربیت کریں انہیں قرآن کا علم سکھائیں !!!! رہی بات ڈاکٹر اسرار احمد علیہ الرحمہ کی تو انہوں نے انجمن خدام القرآن کی بنیاد رکھی اور امت مسلمہ کے قرآن حکیم کے ساتھ تعلق کو زندہ کرنے کے لئے 1972ء میں مرکزی انجمن خد ام القرآن لاہور قائم کی اس انجمن کی اندرون ملک اور بیرون ملک کئی شاخیں قائم ہوئیں والحمدللہ جو ان شاءاللہ تا قیامت تک ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے !!! ہمارے علماء اہلحدیث کے لیے ایک عظیم ہستی علامہ عطاءالرحمن ثاقب شہید علیہ الرحمہ کی شخصیت مثال ہے جنہوں نے قرآن فہمی کے حوالے سے عامی پڑھے لکھے اور ان پڑھ کے لیے کورسز کا باقاعدہ طور پر آغاز کیا اور الحمد للہ کثیر تعداد میں لوگ شیخ رحمہ اللہ سے مستفید ہوئے

    شیخ رحمہ اللہ تعالی کے تاریخی الفاظ ”ہم نے جو پہلے زندگی گزاری، وہ اپنی عمر کا ایک قیمتی حصہ تھا جو ضائع کرلیا اب ہمیں قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنا چاہئے۔ لہذا علماء اہلحدیث کو بھی چاہئے کہ مزید عام الناس کو مسئلے مسائل فرقوں کی بحث میں الجھانے کی بجائے انہیں قرآن فہمی کی تعلیم سے روشناس کروائیں آخر میں شیخ عطاء الرحمن ثاقب علیہ الرحمہ کا ایک اور سنہری بیان قلمبند کیے دیتا ہوں


    روزنامہ ’جنگ‘ کے تحت ہونیوالے ایک پروگرام (روا داری اور مذہبی ہم آہنگی، تعلیمات ِنبوی کی روشنی میں) میں اظہارِ ِخیال کرتے ہوئے کہا تھا

    ان کے یہ خیالات ان کی قرآنِ مجید سے والہانہ محبت و شیفتگی، ملت ِاسلامیہ کے اتحاد کے لئے فکری جمود کو ختم کرنے کے شدید جذبہ کا اعلیٰ مظہر ہیں۔

    جہاں تک خود مسلمانوں کے درمیان مذہبی رواداری کے سلسلے میں میری تجویز ہے کہ جب تک دینی مدارس میں ایک مخصوص فقہ کی بجائے مذاہب ِاربعہ کی فقہ کا تقابلی مطالعہ نہیں کروایا جائے گا، اس وقت تک وسعت ِظرفی اور مذہبی رواداری کا جذبہ پروان نہیں چڑھے گا اور نہ ہی فکری جمود کا خاتمہ ہونا، ممکن ہوسکے گا۔ ہمارے مدارس میں تقابلی تعلیم کے اہتمام سے تعصب اور فکری جمود ختم نہیں ہورہا اسی طرح ائمہ اور خطباءِ مساجد کے لئے کوئی معیار مقرر کیا جانا ضروری ہے۔ کم از کم ان کے لئے یہ تو لازمی قرار دیا جائے کہ وہ قرآن کے ترجمہ سے آشنا ہوں جبکہ ان کی ۷۰ فیصد اکثریت قرآن مجید کے مکمل ترجمہ سے بھی واقف نہیں دین ہماری متاع ہے اور ہم نے اسے مذہبی پیشواؤں کے سپرد کررکھا ہے۔ اس کے سدباب کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوسکے

    وما علینا الا البلاغ ‘‘



    یہ مضمون مثال کے طور پر ہے کوئی طنز کے طور پر اس کو نہ لے اور یوں دوسرے کو طعنہ دینے لگےکہ ۔۔۔دیکھا اُن کے اپنے نے یہ کہا ۔۔۔ بلکہ تمام مسالک کے سنجیدہ حضرات کو اپنے مسلک کے جزباتی حضرات خصوصاََ عوام کو تنبیہہ کرتے رہنا چاہیے ۔ تاکہ فرقہ واریت کا خاتمہ ہو۔

    مفتی طارق مسعود صاحب جو انٹرنیٹ پر بہت مشہور ہیں جامعۃ الرشید کراچی کے عالم ہیں انہوں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کی کچھ تعریف کی تو ان پر بعض دیوبندی حضرات نے ان کو کافی باتیں سنائیں ۔انہوں نے خود فرمایا کہ ان پر تنقید کرنے والے بہت متشدد دیوبندی حضرات ہیں ۔ ان کو کچھ اپنے رویے میں نرمی کرنی چاہیے ۔کیونکہ کسی کی تعریف کا مطلب یہ تو نہیں کہ اس کی ہر بات کی تائیدکردی۔ لیکن جو مثبت باتیں ہیں ان کا تو انکار نہیں کرنا چاہیے ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں