اسلام قبول کرنے کی دلچسپ داستان

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اگست 12, 2016۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,947
    موصول پسندیدگیاں:
    986
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جن سوالوں کا جواب عیسائیت نہ دے سکی ،وہ مجھے اسلام نے دیئے اسلام کی اچھائیوں نے مجھے بنا دیا

    مسلمان
    ایک کیتھولک عیسائی نوجوان کے اسلام قبول کرنے کی دلچسپ داستان

    میں فلپین کا رہنے والا ہوں ،جہاں دور دور تک کوئی مسلمان دکھائی نہیں دیتا ، یہاں کی آبادی عیسائیت کو ماننے والی ہے ،میری پیدائش بھی ایک کیتھولک عیسائی گھرانے میں ہوئی ۔ میرے خاندان والے کٹر عیسائی ہیں میں خود ابتدائی برسوں میں چرچ کی خدمات انجام دیتا رہا ہوں ۔ بچپن سے لے کر جوانی تک چرچ میں سب کے ساتھ مل کرگاتا رہا ہوں ۔ اب جبکہ میں ۲۹ برس کا ہو چکا ہوں تو میں نے مذہب اسلام کو قبول کیا جبکہ میرے ساتھ کے دو ست پادری کے درجے پر پہنچ چکے ہیں ۔وہ اکثر مجھے دوبارہ عیسائیت قبول کرنے پر زور دیتے ہیں لیکن میں انہیں ہر ماہ ما یوس کر کے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ میں یو نہی مسلمان نہیں ہو گیا اس کے پیچھے بہت سے سوال تھے جس کا عیسائیت جواب نہیں دے پا رہی تھی ۔ میرے دوست اور دیگر عیسائی پادریوں کے پاس بھی جواب نہیں تھا ۔ یہ سوال مجھے بچپن سے کھائے جا رہا تھا میں اکثر یہ سوال اپنے دوست احباب اور دگر پادریوں سے پو چھتا تو مجھے ایک ہی جواب ملتا ۔یہ شیطانی خیالات مجھے راہ سے بے راہ کریں گے اس لئے ذہن سے جھٹک کر دل سے نکال دو ۔ میں خاموش ہو جاتا مگر یہ سوال جونک کی طرح میرے دل وماغ سے چپک کر رہ گئے تھے۔
    میرے سوال ہی کچھ ایسے تھے جنھیں آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتاتھا ۔ میرے سوالوں میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ "عیسائی مذہب میں ساری تو جہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ہی کیوں مرکوز ہے ۔اس خدا پر کیوں نہیں جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا ۔پوری کا ئنات کو رچا۔ چرچوں میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اور حضرت مر یم کی مورتیاں ہی کیوں؟ خدا تو سب سے بڑا ہے اس نے سب کو پیدا کیا، تو پہلا حق تو اسی کا ہے اور اسی کا ہونا چاہئے ۔ میرے دل میں یہ بات بھی اٹھتی کہ کوئی انسان خدا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے ذریعہ پو جا جا سکتا ہے" ۔
    میرے ان سوالوں سے اکثر میرے دوست بھاگتے تھے اور مجھے ان سوالوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے ۔میں تب بھی عیسائی تھا ۔ پو رے اہتمام سے چرچ کی خدمات انجام دے رہا تھا تبھی مجھے میرا ایک دوست ملا جو چرچ میں ہمارے ساتھ گایا کرتا تھا اور پھر اس نے مجھے بتایا کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے ۔اس نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ میں اس پر ہنس اتھ ۔ میں نے اس سے کہا کہ تم نے صرف اس لئے مذہب قبول کر لیا کہ تمہارا جیسس پر عقیدہ کمزور تھا ۔اگر میری طرح مضبوط ہو تا تو تم السلام ہر گز قبول نہ کرتے ۔مگر جب میں گھر آیا تب میں نے خود سے سوال کیا کہ میرا جیسسس ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام) پر عقیدہ مضبوط ہے کیا میرے دل میں ان کیلئے سوال پیدا نہیں ہو تے ۔ میرے ذہن میں سوال بھی آیا کہ آخر میرا دوست مجھ سے زیادہ مذہبی تھا بچپن سے چرچ کی خدمت کرتا آیا ہے آخر اس نے کیوں اسلام قبول کیا ۔اس کے بعد اس سے دوبارہ ملنےکا میں نےفیصلہ کیا ۔
    میں اس سے ملا ۔اس نے مجھ سے کہا کہ میں سوال کرنے یا مذاق اڑانے کے بجائے خود اسلام پڑھ کر اس پر کوئی الزام لگاؤں ۔اس نے مجھے اسلام پر کچھ کتابیں دیں ، جن کا میں نےتوجہ کے ساتھ مطالعہ کیا اور پھر میرے سامنے سے اندھیرے مٹنے لگے ۔ میرے آفس میں کام کر نے والی ایک مسلم خاتوں نے میری اسلام میں دلچسپی دیکھی تو اس نے بھی کچھ کتابیں مجھے دیں ۔
    جیسے جیسے میں مطالعہ کر رہاتھا ویسے ویسے وہ جواب مجھے ملتے جا رہے تھے جو مجھے بچپن سے پریشان کئے ہو ئے تھے ۔اسلام نے میری ہر اس بات کو جواب دیا جو عیسائیت میں بارہا کو شش کر کے بھی نہ مل پائے تھے اور پھر میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں وہ مذہب قبول کروں گا جس نے میرے تمام سوالوں کے جواب دے دیئے ہیں ،جس نے مجھے مطمئن کر دیا جس نے مجھے میرے حقیقی رب سے ملوایا ۔میں اپنے اسلام قبول کر نے کے فیصلے کو اپنے گھر والوں کے سامنے رکھا ۔میرے اس فیصلے کو سن کر سب دنگ رہ گئے ۔ میری بیوی اور بچے حیران تھے جبکہ میری والدہ رو پڑیں ۔ میرے چاچا غصے سے چلانے لگے مگر میں خاموش سے ان کا رد عمل دیکھتا رہا مجھے ان سے یہی تو قع تھی۔
    جلد ہی میرا فیصلہ پورے علاقہ میں پھیل گیا۔میں چرچ جانا بھی چھوڑ دیا ۔اس کے بعد میری کئی دوست کئی رشتے دار مجھے سمجھانے آئے ۔ کئی لوگوں سے بحث بھی ہو ئی ۔مگر میں ان کے سامنے اسلامی نقطہ نگاہ رکھتا رہا ، انہیں سمجھاتا بھی رہا کہ آخر میں اسلام کیوں قبول کیا ۔ کیوں مجھے لگا کہ وہ سچا دین ہے ۔ لیکن اب بھی وہ نہ مانے تو میں نے ان سے ایک سوال کیا اور کہا کہ اگر وہ میرے سوال صحیح جواب دیں گے تو میں اسلام قبول کر نے سے با ز آجاؤں گا اور عیسائی بنا رہوں گا۔
    میرا سوال یہ تھا کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی خود کہا تھا کہ وہ خدا ( نعوذ با اللہ ) ہیں کیا انہوں نے خود کبھی کہا تھا کہ لوگ مجھے پو جو ۔ میری عبادت کرو ۔یہ ایسا سوال تھا جس نے سب کے منہ پر تالے لگا دیئے ، مگر ان کے دل میری جانب سے مکروہ ہو گئے ، میری ماں اکثر روتے ہو ئے مجھے سمجھاتی کہ میں غلط کر ہا ہوں ۔ خدا مجھے جہنم میں ڈالے گا ۔ جو وہ برداشت نہیں کر پائیں گی ۔ان کی اس بات پر میں مسکرا دیتا اور کہتا کہ انشاء اللہ مجھے جنت ملے گی ۔ چند ماہ بعد مجھے میرا ایک دوست ملا۔ وہ سعودی عرب سے آیا تھا ۔اس سے بات کر کے مجھے احساس ہوا کہ وہ بھی مسلمان ہو چکا ہے ۔میں اس کی باتوں سے مطمئن تھا ۔بہت سی نئی باتیں مجھے سیکھنے کو ملیں اور میرا ارادہ اور مضبوط ہو گیا ۔میرے دل نے کہا کہ میرا فیصلہ غلط نہیں تھا ۔اب میں کلمہ طیبہ پڑھنے کیلئے پوری طرح تیارتھا ۔ مگر میرے قرب وجوار میں کوئی عالم ایسا نہیں تھا جس کےہا تھ پر میں بیعت کرتا ۔ایک امام صاحب دور رہتے تھے اور ان سے میرا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا تبھی میرے دوست کا فون آیا اس نے مجھے دوبئی بلایا میں دوبئی گیا اور وہاں ایک فلپین ہی کے امام صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر کے میں نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا اور اسلام میں داخل ہو گیا ۔دوبئی میں میں نے بہت کچھ سیکھا ۔ بہت سا مطالعہ کیا ۔ دوبئی سے لوٹ کر بہت سی اسلامی کتب کا میں لگا تار مطالعہ کر رہا ہوں۔ اپنے دوستوں کو اسلام کے بارے میں سمجھا رہا ہوں ۔انہیں سیدھے راستے پر لا نے کی کوشش کر رہا ہوں ۔اس بات پر اکثر میرا مذاق بنا یا جاتا ہوں۔ کبھی کبھی جھڑک بھی دیا جاتا ہے مگر میں نا امید نہیں ہوں ،مجھے افسوس تو ہے اس بات کا کہ میرے گھر والے اسلام کے بارے ایک لفظ سننے کو تیار نہیں ۔ میں ان کے ساتھ رہتاہوں ، کھاتا پیتا ہوں، مگر اپنے مذہب کو چاہ کے بھی ان کے ساتھ شیئر نہیں کر پا رہا ہوں ، مگر میں لگا تار کوشش کر رہا ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ اگر ان کے مسلمان ہو نے قبل میں مر گیا تو کوئی میری لاش کو ہاتھ تک نہیں لگائے گا ۔ میری لاش یو نہی گلنے سڑنے کیلئے پھینک دی جائے گی ، مگر "مجھے میرے رب پر یقین ہے کہ وہ میرے ساتھ برا نہیں ہو نے دےگا ۔اس جہاں میں نہ سہی وہ مجھے آخرت کی وہ تمام نعمتوں سے مالا مال کر ے گا جس کا اس نے وعدہ کیا ہے"
    ۔(نئی دنیا ویکلی ۱۴؍ اگست ۲۰۱۶)
    محمدشعیب اور محمدداؤدالرحمن علی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں