اسلام میں دولت کامقام

'آؤ باتیں کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 22, 2018۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,729
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    اسلام میں دولت کامقام
    مفتی ناصرالدین مظاہری
    علماء حق کی روح افزا مجلسیںعقل ودانش کی بندگرہوںکوکھولنے کیلئے ہمیشہ آزمودہ رہی ہیں،یہاں خاموشی کے ساتھ بیٹھنے والابھی جو دولت بے بہالے جاتاہے وہ دولت مدرسوںکی ٹوٹی چٹائیاں،کالجوں کی اونچی تپائیاں اوریونیورسٹیوں کی میزوکرسیاں بھی دینے سے عاجزوقاصر رہتی ہیں،شایدہمارے اکابرنے اسی لئے تعلیم سے زیادہ تربیت کواہمیت دی ہے، سالہاسال تعلیم حاصل کرنے والابھی بسااوقات اُس چیزسے محروم رہ جاتاہے جوچیزدینی وروحانی مجالس میں چندگھڑی بیٹھنے سے مل جاتی ہے ۔
    ۲۰؍ربیع الثانی ۱۴۳۸ھ پنجشنبہ کومجھے بھی ایسی ہی ایک علمی مجلس میں لکھنے کے لئے ’’عنوان‘‘ مل گیا،ہوایہ کہ راقم مظاہرعلوم( وقف) سہارنپورکے ناظم ومتولی مولانا محمدسعیدی کی خدمت میں اُن کے دولت خانہ پرحاضرتھا،کئی علماء بھی موجودتھے ،مشہورعالم دین مفتی محمدارشدفاروقی اعظمی بھی دیوبندسے تشریف لائے ہوئے تھے ۔ اِدھراُدھرکی مختلف باتوں کے درمیان مفتی صاحب حضرت ناظم صاحب سے کہنے لگے کہ میں ایک کتاب کاترجمہ کر رہاہوں ،اس میں حضرت سفیان ثوریؒکاایک ملفوظ پڑھا’’لولاہذہ الدنانیرلتمندل بناھوٰلاء الملوک‘‘ میں نے اس کاترجمہ کیاہے کہ’’اگرکرنسی نہ ہوتی توشاہان وقت ہمیں ٹشوپیپربنادیتے‘‘۔
    ٹشوپیپروالی بات پرمجھے بھی ایک صاحب کی تحریرکاایک جملہ یادآیاکہ:جولوگ دوسروں کی زندگیوں کو ٹشوپیپرکی طرح استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں، ان کی اپنی زندگیاں ’’ڈسٹ بین‘‘بن جاتی ہیں۔
    حضرت سفیان ثوریؒحدیث وتصوف کے امام ہیں آپ کی نظرکیمیااثراورآپ کے اقوال طیبات نہایت اہمیت کے حامل ہیں چنانچہ درج بالاملفوظ کے علاوہ ایک دوسرے موقع پرارشادفرمایا:
    ’’میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں ،اس سے بہترہے کہ دس ہزاردرہم چھوڑجاؤں ‘‘
    ایک اورموقع پرفرمایا:’’پہلے مال ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھاجاتاتھالیکن ہمارے دورمیں تومال مؤمن کی ڈھال ہے‘‘(ندائے تربیت بحوالہ سیراعلام النبلاء)
    دین کے ساتھ بقدرضرورت دنیابھی ضروری ہے۔اگرخدانخواستہ دولت کی موجودہ تقسیم نہ ہوتی توآج حکومت اورحکمرانوں کی نظرمیں عوام کی کوئی بھی قدرومنزلت نہ رہتی…کیاآپ نہیں دیکھتے کہ حکمراں اپناجانشین اپنی صلبی اولادکوبنانے کے لئے فکرمندنظرآتے ہیں…کیادنیااس حقیقت سے انکارکرسکتی ہے کہ دولت مندوں کی تجوریاں غرباء اورمزدوروں کے خون پسینہ کی جمع پونجی ہیں…کیایہ سچ نہیں ہے کہ مزدور ہی اصل میں حکمرانوں،رئیسوں،امیروں،شاہوں اورنوابوں کے محسن ہوتے ہیں ؟…یہ الٰہی تقسیم ہے جس پرہم خوش ہیں کیونکہ اللہ نے پانچوں انگلیاں برابرنہیں بنائیں…چنانچہ آپ اطراف واکناف پرنظرکریں تومعلوم ہوگاکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کوچوکیداربنایاتوکسی کوشاہ وقت …کوئی فریادکناں توکوئی ٹیکس خواہ…کسی کورنج ومشقت کاخوگربنایاتوکسی کوسکون واطمینان کی دولت بخشی…کسی کو تاج داربنایا توکسی کو باج دار…ایک کورات گزرانے کے لئے ٹوٹی چٹائی میسرہوئی ہے تودوسرے کوریشمی ومخملی کپڑوں سے مالامال کیا…کسی کوبے سازوسامان بنایاتوکسی کاگھربھردیا…کوئی نامرادہے توکوئی بامراد…کوئی خوش حال ہے توکوئی فارغ البال… ایک کومارتاہے توایک کواٹھاتاہے…ایک تندرست ہے توایک علالت سے دوچار…ایک جوان سال ہے توایک خوردسال…ایک مؤمن صادق ہے توایک کافرمطلق…ایک خوش اخلاق ہے توایک بداخلاق…ایک عشرت میں ہے توایک عُسر ت میں…ایک کے ہاتھوں میں نان وقورمہ ہے توایک کامنہ فقروفاقہ سے کھلاہوا…ایک سرداروزردارہے تودوسرابے نواعیال دار…ایک گلستان راحت کاباشندہ ہے توایک رنج ومحنت کاندیم …ایک کے پاس دولت رکھنے کے لئے جگہ نہیں توایک کے پاس خودکے رہنے کے لئے چھپرنہیں…ایک خوش وخرم ہے اورایک مکروب ومحزون…ایک گناہ گارہے توایک کارعبادت پرمامور…ایک کے ہاتھ میں شراب کی بوتل توایک کے ہاتھ میںتسبیح …ایک عبادت خانہ میں سجدہ ریزتوایک مسافرخانہ میں رسوا…ایک مسجدمیں شاغل توایک بت خانہ میں غافل …ایک کااقبال بلندتوایک کا رُوبہ زوال…ایک سعادت مندیوں پرکمندیں نصب کرنے والاتوایک راستوں میں ڈکیتی پرمامور…ایک ایمان داری کاپیکرمجسم توایک بے ایمانیوں کامعجون مرکب…
    اِن واضح صداقتوں کی روشنی میں یہ بات صاف اورواشگاف ہوکرسامنے آجاتی ہے کہ یہ دنیاایک چراگاہ ہے…اس کی رنگینی ورعنائی…حسن وخوبصورتی اور اس کی زیبائی ودلفریبی کی طرح انسانی طبائع کا میلان ورجحان بھی ایک فطری اور لابدی چیزہے۔
    جولوگ خواہشات نفسانی کا گلاگھونٹ کر،تعیشات زندگی کو خیرباد کہہ کر اور اپنی آرزؤں،امنگوں اور آس وامیدوں پر شرعی تقاضوں کو ترجیح دینے میں کامیاب ہوتے ہیں…جولوگ قرآنی مطالبات کی کسوٹی پر اپنے آپ کو ناپنے اور تولنے کا ہنرجان لیتے ہیں وہ دنیاوی لذات ،نفسانی خواہشات اورتمدنی تعیشات سے خائف نہیں ہوتے۔
    امام اعظم ابوحنیفہ ؒ اور شیخ جنیدبغدادی ؒجیسے خداجانے کتنے اکابرعلماء ہیں جن کے دَراور دربارپر دولت کے انبارنظرآتے ہیں… جہاں دولت کی ریل پیل کو دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں… لیکن ان کی دولت اور ثروت کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں سے نہ معلوم کتنے بھوکوں کو آسودگی میسرہوتی ہے…کتنے بے لباسوں کولباس ملتاہے…کتنے پیاسوں کی سیرابی ہوتی ہے…کتنے ضرورت مندوں کی ضروریات کا تکفل ہوتاہے…کتنے گھروں میں ان درباروں کی وجہ سے چولھے جلتے ہیں…کتنے آشیانوں میں اُن حضرات کی دریادلی کے باعث چراغاں ہوتاہے…اور کتنے ہی مرجھائے اور کمہلائے چہروں پر ہنسی ومسرت کے کنول کھلتے ہیں۔
    کاروباری نقطۂ نظرسے ان حضرات کی اقتصادی معیشت اور صنعت وحرفت ترقیات کے اعلیٰ مقا م پر نظرآتی ہے تو دوسری طرف زہدوتقویٰ ، تدین واخلاص کے بے پناہ سمندروں کو پئے ہوئے بھی نظرآتے ہیں۔
    ظاہرسی بات ہے انسان خطاؤں کا معجون مرکب ہے،غلطیوں کا صدورممکن ہے،بہکنا، پھسلنا اور پھسل کر گرجانے کا بھی خدشہ واندیشہ ہے اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام مسلمانوں کیلئے دنیااور دنیاوی خرافات کوناپسندکرکے ان سے دوررہنے کی ترغیب اور ترہیب دی ہے تو اسی کے ساتھ مال ومتاع اوراولادکو زندگیوں کی زینت قراردیاہے… جولوگ مال و اولادوالے ہیں… شریعت کا اتباع ،احکامات قرآنی کی تعمیل، فرمودات رسول کی تعمیر وتشکیل کو حرزجان بنائے رکھتے ہیں… ان کے لئے یہ چیزیں بہرحال زینت ہیں۔
    دولت وثروت ،رزق اور روپیہ بقدرکفاف نہ تو براہے اور نہ ہی اس پر وعیدہے بلکہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت کے بقدر ’’ذخیرہ اندوزی‘‘کی ترغیب بھی دی ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے اور انسان سوال کی ذلت سے بچارہے۔
    حضرت طلحہؓ اپنے بعد تین سو بہارچھوڑگئے(ہربہارمیں تین تین قنطار تھے،بہاربوجھ کو کہتے ہیں جو تین سو رطل کا ہوتاہے اور ایک قنطارایک ہزاردوسواوقیہ کا ہوتاہے)
    حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ امیرترین شخص تھے۔ایک بارایک غزوہ میں گھوڑوں کی ضرورت تھی آپ سے کہاگیاتوآپ نے پانچ سوگھوڑے دئے اورایک موقع پرپانچ سو اورایک اورموقع پرپندرہ سواونٹ مجاہدین اسلام کی خدمت میں پیش کئے۔دوبارتوآپ نے چالیس ہزاردرہم راہ خدامیںدئے۔
    ایک باررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ عبدالرحمن !میں نے دیکھاکہ تم جنت میں بہت دیرسے داخل ہوئے،میں نے تم سے پوچھاتوتم نے کہاکہ میں اپنے مال ودولت کاحساب دیتارہاکہ کہاں کمایااورکہاںخرچ کیا،یہ سنتے ہی حضرت عبدالرحمن روپڑے اورعرض کیایارسول اللہ !مصرکی تجارت سے میرے سواونٹ مال ودولت سے لدے آرہے ہیں وہ سب کے سب مدینہ کی بیوہ اوریتیم بچوں کے لئے صدقہ کرتاہوںتاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میراحساب آسان کردے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعدآپ نے ہی اعلان کیاتھاکہ تمام ازواج مطہرات کے مصارف کامیں ذمہ لیتاہوں۔
    حضرت زبیررضی اللہ عنہ کا مال پانچ کروڑکاتھااورحضرت ابن مسعودؓ نے نوے ہزارکامال چھوڑا۔
    حضرت امیرمعاویہ ؓنے حضرت موسیٰ بن طلحہ سے پوچھاکہ آپ کے والدماجدنے کیاترکہ چھوڑا؟عرض کیاکہ میرے والدنے تاحیات دادودہش،صدقہ وخیرات وغیرہ کے باوجود۲۲؍لاکھ درہم،دولاکھ دیناراوراس کے علاوہ کثیرسونااورچاندی جس کااندازہ نہیں کیاجاسکتا۔
    اسی طرح حضرت عثمان غنیؓ،حضرت ابوبکرصدیقؓ،حضرت عمرفاروقؓ،حضرت عبداللہ بن عمرؓ،حضرت انس بن مالکؓ،حضرت سعیدبن عاصؓ،حضرت عبداللہ بن مسعودؓ،حضرت عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ،حضرت ابوہریرۃؓ،حضرت حسن بن علیؓ،حضرت عدی بن حاتمؓ،حضرت حاطبؓ،حضرت مقدادبن عمروؓ،حضرت عبداللہ بن عامرؓ،حضرت عبداللہ بن جعفرؓ،حضرت سعدبن ابی وقاصؓ،حضرتابوموسیٰ اشعریؓ، حضرت خالدبن ولیدؓ،حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ،حضرت سعیدبن عامرؓ،حضرت سلمان فارسیؓ،حضرت حجا بن علاطؓ،حضرت ضراربن ازورؓ، حضرت حویطبؓ،حضرت عثمان ابوالعاصؓ،حضرت خبابؓ،حضرت سعدبن عبادہؓ،حضرت یعلیٰ بن سہیلؓ، حضرت صعصعہؓ، حضرت ارقم بن ابوارقمؓ،حضرت اسامہ بن زیدؓ،حضرت قیس بن عاصمؓ،حضرت حکیم بن حزامؓ، حضرت اسیدبن حضیرؓ،حضرت عکرمہؓ،حضرت عثمان بن ابی مظعونؓ،حضرت معاذبن جبلؓ وغیرہ وہ شخصیات ہیں جواپنے عہدکے امیرترین لوگوں میں شمارہوتے تھے۔
    ان کے علاوہ صحابیات نیزتابعین کرام میں بھی بے شمارشخصیات امیرترین ہستیاں تھیں۔جن کے اسماء گرامی ہی اگرلکھے جائیں توپوری فہرست بن جائے گی۔
    حضرت ابوعبداللہ مقریؒ کواپنے باپ کے ترکہ سے علاوہ اسباب وزمین کے پچاس ہزاردینارورثہ میں ملے تھے۔(تلبیس ابلیس)
    دنیااور اسباب دنیا بھی اسی زمرے میں ہیں اس کی طرف رغبت اور بھر پور توجہ جو دنیوی اور اخروی نقصانات کا باعث ہو وہ بہر حال غلط ہے البتہ اس سے اتنا لگاؤاور دلچسپی جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت اور ترغیب دی ہے قطعاً بری چیز نہیں ہے۔
    حضرت سعدبن عبادہؓدعامانگاکرتے تھے اور کہاکرتے تھے کہ خداوندا!مجھ کوفراخ دستی عطافرما۔
    حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں مرقوم ہے کہ جب شفاپاچکے تو سونے کی ٹڈیاں ان کے پاس سے گزریں،حضرت ایوبؑ اپنی چادرپھیلاکر ان ٹڈیوں کو پکڑنے لگے تواللہ تعالیٰ کا ارشادہوا کہ ایوب!کیاتیراپیٹ نہیں بھرا؟انہوں نے عرض کیااے پروردگارتیرے فضل سے کس کا پیٹ بھرتا ہے؟۔(تلبیس ابلیس)
    مقصد ان معروضات کا صرف یہ ہے کہ مال جمع کرناایک ایساامرہے جو انسانی طبائع میں ودیعت رکھاگیاہے اور پھرجب اس سے مقصودخیرہواوراس کے حقوق ادا ہوتے رہیں ،تووہ خیرمحض ہوگا۔
    اسلام نے رہبانیت سے لوگوں کو منع کیاہے ، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا رہبانیۃ فی الاسلام فرماکررہبانیت کی قباحت پرمہر ثبت فرمادی تاکہ جو لوگ زاہدانہ زندگی گزارناچاہتے ہیںوہ بھی ان حدوداور قیودکے اندررہ کر زندگی گزاریں جو شریعت نے متعین فرمائی ہیں۔
    اسلام نے افراط وتفریط سے بھی منع کیا ہے،اس نے ہر موقع،ہر موڑ اورہر زاوئے سے راہنمااصول متعین فرمادئے تاکہ آنے والی نسلیں ان ہی اصول وقوانین کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو سنواراور سدھار سکیں اور ان میں سرمو انحراف یا جادۂ اعتدال سے برگشتگی کو گلے لگاکر اپنی زندگی کو مصائب ومشکلات کی نئی ڈگرپر نہ ڈال سکیں۔
    جدیدوپرشکوہ تعمیرات کے سلسلے میںاسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ بقدر ضرورت سرچھپانے کے لئے اور اپنے بال بچوں کے تکفل کے لئے اپنا آشیانہ بہر حال ہوناچاہئے کیونکہ ہر انسان کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں ،اپنے بیوی ، بچوں کے حقوق اور جائزمطالبات ہوتے ہیں اگر آپ کا اپنا آشیانہ اور اپنا نشیمن نہیں ہے ،آپ کے پاس رہنے اور سرچھپانے کے لئے ذاتی مکان اور جھونپڑا نہیں ہے توآپ خودبھی پریشان رہیں گے اور اپنے بال بچوں کو بھی پریشان رکھیں گے۔
    بعض احادیث میں تین چیزوں کوانسان کی خوش نصیبی بتایاگیا ہے (۱)اچھاپڑوسی(۲)نیک بیوی (۳)کشادہ مکان،ایک دوسری روایت میں اچھی سواری کوبھی سعادت کی چوتھی علامت قراردیاگیاہے۔
    گلوبلائزیشن کے اس دورمیں جب کہ ہر شخص ،ہر قوم ، ہر ملک ترقیات اور اقتصادیات کے معاملے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دھن میں جائزوناجائز،حلال و حرام اور جاوبے جادولت کمانے میں مصروف ہے … ایسے وقت میں غربا ومساکین اور فقراء ومفلسین کی طرف توجہ دینے کی کسے توفیق ملتی ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ حکومتوں نے اپنی رعایاکو ماہانہ وظائف دینے بندکردیے… ضرورت مندوں کی خبرگیری اور دستگیری کے جذبات سردپڑگئے … دولت صرف محلات اور قلعوں میں قید ہوکر رہ گئی…اسلئے اسلام نے خود کو اور اپنے بچوں کو پالنے،سنبھالنے اور خاطرخواہ تعلیم وتربیت کیلئے ذریعۂ معاش کی بھی ترغیب دی ہے…جائزاوردرست کاروبار کرنے اور منافع کمانے کی شریعت نے نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ مختلف طریقے ، قاعدے ، ضابطے اور فارمولے بھی عطاکئے ہیں۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس مال اورکھیتیاں کافی مقدارمیں تھیں… حضرت شعیب علیہ السلام بھی کاشتکاری کرتے تھے…حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے…حضرت ادریس علیہ السلام کپڑے سیتے تھے… حضرت لوط علیہ السلام بھی کھیت بوتے تھے…حضرت صالح علیہ السلام سوداگر تھے…حضرت داؤد علیہ السلام زرہیں بناکربیچتے تھے…حضرت موسیٰ علیہ السلام بلکہ ہرنبی نے بکریاں چرائی ہیں اور حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو دنیاجانتی ہے کہ بچپن میں بکریاں چَرائی ہیںاورنوجوانی میں تجارت بھی کی ہے ۔
    یہ تو حضرات انبیاء کرام کی بات تھی،صحابۂ کرام اور تابعین کے بارے میں بھی تواترکی حد تک ثابت ہے کہ وہ اپنا مستقل کاروبارکرتے تھے،چنانچہ حضرت ابوبکرؓ،حضرت عثمانؓ،حضرت طلحہ ؓ کپڑے بیچاکرتے تھے…حضرت زبیرؓ،حضرت عمرو بن العاصؓ،حضرت عامر بن کریزؓ،محمد بن سیرینؒ،میمون بن مہرانؒ اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ نیزحضرت جنیدبغدادیؒ جیسے اساطین امت بھی کپڑے کا کاروبارکرتے تھے…حضرت سعدبن وقاصؓ تیربناتے تھے…حضرت عثمانؓ بن طلحہ درزی کاکام کرتے تھے…حضرت ابراہیمؒ بن ادہم کھیتی کرتے تھے…حضرت سلیمان خواصؒ خوشہ چین تھے اورحضرت حذیفہ مرعشیؒ اینٹیں بناتے تھے…یہ تو چندمثالیں ہیں ورنہ ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ اپناتجارتی،صنعتی،معاشی اور اقتصادی کام کیاہے۔
    ہمارے علماء واکابر نے بھی ہر معاملہ میں بقدرکفاف کے اصول کو حرزجان بنائے رکھا،افراط وتفریط سے بھی بچتے رہے…ضروریات زندگی پربھی اپنی توجہات مبذول کیں…بال بچوں کیلئے ذاتی مکان وآشیانہ کابھی بندوبست کیااس لئے کہ شریعت مطہرہ کا یہی تقاضاہے…رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان ہے اور سب سے بڑھ کرخالق کائنات کایہی منشاء ہے ۔
    حضرت قتادہؓکاارشادہے کہ
    ماکان للمؤ من ان یری الافی ثلثۃ مواطن مسجدیعمرہ وبیت یسترہ وحاجۃ لابأس بھا۔(تنبیہ الغافلین۲۴۰)
    مومن کیلئے مناسب نہیں ہے کہ تین چیزوں کے سوااورکی طرف نظرلگائے(۱)مسجد:جسے وہ آباد کرسکے(۲) گھر:جس میں سرچھپاسکے (۳) ضرورت کی چیز:کہ اس میںکوئی حرج نہیں۔
    حضرت امام اوزاعیؒ فرماتے ہیں کہ
    خمس کان علیہن ر سول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والتابعون باحسان لزوم الجماعۃ واتباع السنۃ وعمارۃ المسجد وتلاوۃ القرآن والجہاد فی سبیل اللّٰہ تعالیٰ۔ (تنبیہ الغافلین۲۴۰)
    پانچ چیزیں ہیں جن پرخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخلص پیروکارپابندی سے لگے ہوئے تھے۔
    (۱)جماعت کا اہتمام(۲)اتباع سنت(۳) مسجدکی تعمیر(۴)قرآن پاک کی تلاوت (۵)جہادفی سبیل اللہ۔
    حضرت حاجی امداداللہؒ جب ہندوستان سے ہجرت فرماکر ام القریٰ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو اپنے ذاتی مکان کیلئے نہ صرف فکر مند ر ہے بلکہ بارگاہ الہی میں دست بہ دعابھی ہوئے ،چنانچہ ایک عقیدتمند نے ایک مکان کا بندوبست کیاپھر آپ کی طبیعت کو سکون میسرآیا۔
    حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ کی بھی یہی رائے گرامی ہے کہ آدمی کااپناذاتی مکان ہوناہی چاہئے تاکہ وہ د وسروں کی نظروں میں ذلیل وخوار نہ ہوسکے۔
    حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ بھی انسان کے لئے ذاتی مکان اور بقدرضرورت اس کی تزئین کے قائل تھے۔
    یہی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہاں تک ارشادگرامی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں دولت دی ہے ، بقدرضرورت رزق عطافرمایاہے، وسعت اور کشادگی ہے تو اپنے رہن سہن،نشست وبرخاست اور لباس وغذا سے بھی اس کا اظہارشریعت کی متعین کردہ حدودوقیودکے اندرہونا چاہئے ۔
    چنانچہ ابوداؤدشریف میں ہے کہ
    عن أبی الاحوص عن ابیہ قال اتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی ثوب دون فقال ألک مال؟ قال نعم! قال من ای المال؟قال قداتانی اللّٰہ من الابل والغنم والخیل والرقیق،قال فاذاأتاک اللّٰہ مالافلیراثرنعمۃ اللّٰہ علیک وکرامتہ ۔ (ابوداؤد ۲/۵۶۲)
    حضرت ابوالاحوص اپنے والدسے نقل کرتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں گھٹیا کپڑے پہن کر حاضر ہواتو آپ ﷺنے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس مال نہیں ہے؟میں نے عرض کیا کہ مال تو ہے ،آپ ﷺ نے پوچھاکہ کس قسم کا مال ہے؟میں نے عرض کیا کہ مجھے اللہ نے اونٹ،گائے،بکریاں ، گھورے اورغلام ہر طرح کا مال عطا کیاہے!یہ سن کر آپ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ جب اللہ نے تم کو مال سے نوازاہے تولازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت وکرامت کا اثرتمہارے بدن پر ظاہر ہو۔
    اسی طرح ایک صحابی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس حال میں دیکھاکہ میرے جسم پر کم قیمت کے کپڑے تھے تو فرمایاکہ کیاتیرے پاس کچھ مال ہے؟میں نے عرض کیا کہ ہاں!اللہ نے مجھے ہر قسم کے مال ودولت سے نوزاہے ،پھر فرمایا خداکی قسم نعمت اور اس کی بخشش کو تمہارے جسم سے ظاہر چاہئے۔
    مطلب یہ ہے کہ تونگری اور مالداری کی حالت کے مناسب اورموافق کپڑے پہنواورخداکی نعمت کا شکراداکرو۔
    امام احمد بن حنبلؒ سے کسی نے حضرت سری سقطیؒ کے بارے میں سوال کیا،جواب دیاکہ وہ بزرگ طیب الطعم تھے،یعنی پاک اور حلال کھانے والے مشہورہیں۔
    علامہ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں: جو لباس صاحب لباس کیلئے عیب ناک ہے وہ جس میں زہداورافلاس کا اظہارپایاجائے ایسالباس گویاخداسے شکایت کرنے کی زبان اور پہننے والے کی حقارت کاسبب ہے اور یہ سب مکروہ ہے۔(تلبیس ابلیس)
    حضرت ابوالعباس بن عطاؒاپنے زمانہ میں بہت ہی اچھا کپڑاپہنتے تھے۔
    آج سلوک وتصوف کامطلب ہی غلط سمجھ لیاگیاہے یاغلط سمجھادیا گیاہے… سادگی وقناعت کاسبق پھرسے احادیث شریفہ کی روشنی میںپڑھنے کی ضرورت ہے۔
    بہت سے واعظین اپنے مواعظ میں ’’الفقرفخری‘‘جیسی موضوع روایات بیان کرکے مسلم امت کودولت وثروت سے دورکردیتے ہیں حالانکہ ہمارے نبی نے فقرومفلسی کواپنی امت کیلئے کبھی پسندنہیں فرمایا اور باربارفقروفاقہ سے حفاظت کی دعامانگی ہے۔
    کسب حلال اوررزق حلال کاطلب کرناہرفرض کے بعدایک فرض ہے،چنانچہ ارشادہوا:طلب کسب الحلال فریضہ بعدالفریضۃ ۔
    مسلمان پرضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کے تحفظ اوراسلام کی نشرواشاعت کے لئے دولت کمائے …دولت کودین کی حفاظت کاذریعہ بنائے…کیونکہ دین کی صحیح تعمیراورتکمیل بغیردولت کے ممکن نہیں ہے…نمازہی کولے لیں جوبغیردولت کے پڑھی جاسکتی ہے لیکن زکوٰۃ بغیردولت کے نہیں دی جاسکتی،قرآن کی تلاوت توآپ بغیردولت کے کرسکتے ہیں مگرحج بغیردولت کے نہیں کرسکتے…جس طرح نمازکے لئے وضوشرط ہے…بالکل اسی طرح زکوۃ کے لئے کمانااوردولت حاصل کرنابھی شرط ہے…نمازکے لئے پانی تلاش کرناہم ضروری سمجھتے ہیں توپھر زکوۃ دینے کے لئے کمانے کواہمیت کیوں نہیں دیتے ؟اگرغورکریں توقرآن کریم میں جہاں جہاں نمازکی اقامت کاحکم ہے وہاں زکوۃ کی ادائیگی کابھی حکم موجودہے…ایک پرہم عمل کرلیتے ہیں اوردوسری کے لئے اپنی ناداری،غربت،عسرت اورتنگدستی کوبہانہ بناکرزکوٰۃ کومالداروں کے خانے میں ڈال دیتے ہیں…یادرکھیں حج اورزکوۃ کی ادائیگی کے لئے کماناباعث ثواب اورپھران ارکان کواداکرنااخروی زندگی کی سرخروئی کے لئے باعث حصول رضاء رب ہے…بلکہ ہمارے نبی نے مال کی حفاظت میں مرنے والے مسلمان کومقام شہادت کی خوش خبری بھی دی ہے ارشادہوتاہے:ومن قتل دون مالہ فہوشہید۔اورجومال کی حفاظت میں ماراگیاتووہ شہیدہے۔
    ہماری پریشانی یہ ہے کہ ہم اگردولت کماتے ہیں تواپنے اوراپنے بچوں کے لئے ،حالانکہ ہمیں اس میں اسلام کی شان وشوکت اوردین کے غلبہ وحشمت کی خاطرکماناچاہئے کیونکہ بچوں کی زندگی ایک نہ ایک دن ختم ہوجانی ہے مگراسلام تاقیام قیامت باقی رہناہے۔
    اس موقع پرمیں دنیاکی سب سے ملعون قوم’’یہود‘‘کاحوالہ دوں گا،یہودی اپنی ذات کے لئے ایک پیسہ بھی نہیں کماتے کل کی کل پونجی وہ اپنے مذہب کی حفاظت اوراسرائیل کے ’’عظیم تر‘‘ ہونے کے خوابات کی ’’تعبیر‘‘پانے کے لئے کماتے ہیں،اسی لئے ہریہودی کارخانہ، فیکٹری، کمپنی، ملٹی نیشنل کاروبارسبھی میں ’’اسرائیل ‘‘ کے لئے شئیرزمختص رکھتے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ آج عیسائیوں،مسلمانوں اورہندؤں کوکسی بھی رفاہی یاخیراتی کاموں کے لئے چندہ کاسہارالیناپڑتاہے لیکن اسرائیل کوچندہ کی کبھی حاجت اورضرورت نہیں پڑتی۔
    اب دیکھئے!ایک طرف یہودی ہیں جن کانہ تومذہب محفوظ ہے ناہی مذہبی کتاب باقی رہی لیکن اسلام کل کی طرح آج بھی روشن ومنورہے اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بایں الفاظ ترغیب دیتے ہیں:
    تم میں سے جوشخص مال ودولت سے اپنے دین کی عزت وآبروکی حفاظت کرسکے وہ ضرورکرے۔(جامع الصغیر)
    آج کاہماراالمیہ یہ بھی ہے کہ اگرہماراکاروبارترقی پرہے توہم دوسرے مسلمان بھائیوں کی رہبری یا رہنمائی کرنے اورتجارت کے خدوخال بتانے سے دریغ کرتے ہیں اوربعض بدنصیب، بدقماش اورطبیعت کے خسیس وذلیل افراداپنے بھائیوں کے کاروبارکوختم کرنے کی سازش اورخواہش کرتے ہیں۔
    ہمارے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کامعاملہ دیکھئے:کسی شخص کورسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے بے کار وقت گزاری کرتے دیکھاتوفرمایا:ان اللّٰہ یحب أن یری العبد محترفا‘‘یقینااللہ تعالیٰ اپنے بندے کوصنعت وحرفت کی حالت میں دیکھتاہے توخوش ہوتاہے۔
    انصارمدینہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس زمینیں تھیں توان سے فرمایا:من کان لہ ارض فلیزرعہا‘‘جس کے پاس زمین ہووہ اس میں کاشت کاری کرے۔
    مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس تجارت کاتجربہ تھاتو فرمایا: التاجرالصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء‘‘سچادیانت دار،امانت دارتاجرکل قیامت کے دن انبیاء اورصدیقین کے ساتھ محشورہوگا۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پرانصارچلے تووہ اپنے وقت کے بڑے بڑے کسان بنے،مہاجرین نے تجارت کی توتاریخ میں اس وقت کی سپرپاورطاقتوں کوبھی پیچھے چھوڑدیا۔
    حضرت ابوذررضی اللہ عنہ دولت کوبہت براسمجھتے تھے لیکن لوگوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں یہ استغاثہ دائرکیاگیاتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شنوائی کے بعدیہ فیصلہ صادرفرمایا:اے ابوذر!دنیاکاجتناحصہ تم آخرت کی نیت سے حاصل کروگے اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔دنیاکاصرف وہ حصہ مضرہے جس سے صرف دنیاہی مقصودہو۔
    مولاناعارف نے کیاعارفانہ بات کی ہے:
    چیست دنیا؟ ازخدا غافل شدن؟
    نے قماش و نقرہ و فرزند وزن
    مولاناکے کہنے کامطلب یہ ہے کہ دنیادولت وثروت اوربیوی بچوں کانام نہیں بلکہ دنیاتواللہ تعالیٰ سے غافل ہوجانے کانام ہے۔
    کہتے ہیں کہ دوصحابی تھے جوآپس میں بھائی تھے ان میں ایک کماتاتھادوسراروزوشب عبادت کرتاتھا،صحابہ عابدکی تعریف میں رطب اللسان تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ معاملہ سناتوصحابہ سے پوچھاکہ بتاؤان دونوں میں افضل کون ہے؟صحابہ نے عرض کیاکہ اللہ اوراس کا رسول بہترجانتے ہیں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ شخص زیادہ افضل ہے جومال کماتاہے۔
    اچھے اورحلال مال کوخودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے لوگوں کے لئے بہتر قراردیا ہے: نِعَمَ المَالُ الصالحُ للرجل الصالحِ۔(جامع الصغیر)
    نہایت ہی تلخ اوربہت ہی کڑوی سچائی یہ ہے کہ آج واعظین کرام ہی امت کی تنگدستی اورمفلسی کاسب سے بڑاذریعہ ہیں کیونکہ وہ دن کے اجالوں اوررات کی تاریکیوں میں امت کوغربت کے فضائل توبتاتے ہیں مگرحلال رزق کمانے کے ذرائع ،واسطے،راستے اوردنیوی واخروی دولت فوائدنہیں بتاتے۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے فضائل توبتاتے ہیں مگراللہ کے لئے کمانے کے مسائل نہیں بتاتے…زکوٰۃ کی فضیلت اورخیرات کے موضوع پرزوروشورسے تقاریرتوکرتے ہیں مگرزکوٰۃ دینے کے لائق بن جائیں یہ راستہ نہیں سمجھاتے…مشکوک مال سے پرہیزکرناتوبتاتے ہیں مگروافرحلال مال کے ذرائع نہیں بتاتے…زہدوقناعت کاخوگرتوبناتے ہیں مگراسلامی رعب ودبدبہ،شوکت وحشمت،جاہ وجلال اورعظمت رفتہ کی واپسی کے طریقے نہیں بتاتے…
    مجھے ایک عالم دین کاواقعہ یادآرہاہے جو الجمعیۃ دہلی کے قدیم ترین شماروں میں پڑھاتھاوہ لکھتے ہیں کہ میں ایک عیسائی ملک (غالباًروم)گیاتووہاں کے علماء نے مجھے ایک کتاب دکھائی جودنیااوردولت کی قباحت وشناعت پرمشتمل تھی ،اس کتاب میں غربت اورغریبی کے فضائل پرخاصاموادجمع کردیاگیاتھا۔میں نے کہاکہ کتاب توبہت عمدہ ہے،وہ علماء کہنے لگے کہ اب سنئے یہ کتاب یہاں مفت میں تقسیم کی جاتی ہے اوراس کامصنف ایک یہودی شخص ہے۔
    مقصداس تحریرکاصرف یہ ہے کہ دنیاجس رفتارسے چل رہی ہے امت کودین پرکاربندرہتے ہوئے چلنے دو ورنہ آج موبائل اورانٹرنیٹ کے زمانہ میں سادہ ڈاک سے اگرکوئی چیزبھیجی جائے گی تو’’خبرہونے تک‘‘ بہت دیرہوچکی ہوگی۔کمپیوٹرسے کتابت کااگرسہارانہ لیاگیاتودستی کتابت کے لئے کتاب پہلے’’ مسودہ‘‘پھر’’مخطوطہ ‘‘ بن جانے کاخطرہ ہے۔اہم ترین کتابیں جولوگوں نے عوام کی فلاح وبہبودکے لئے انٹرنیٹ پررکھی ہیں اگروہ کتابیں بازارمیں خریدنے کی کوشش کی جائے تویاتوکتاب ہی نہیں ملے گی یاجیب ہی ہلکی ہوجائے گی۔
    پتھر،غلیل،تیر،تلوار،زرہ،خود،نیزہ وغیرہ سے بموں میزائلوں،توپوں اورجدیدترین ہتھیاروں کامقابلہ ممکن نہیں ہے،خشکی یادریائی راستے سے اگراب حج پرجانے کی سوچیں تویہ محض’’ خواب‘‘ ہوگا۔
    ضرورت ہے کہ ہم تازہ دم رہیں…دین کے ندیم اورایمان پرمستقیم رہیں…نبی کے شیدائی اوردین کے فدائی بنیں…امت کی زبوں حالی پرترس کھاکران راہنمااصولوں کواپنائیں …جن کواپنائے بغیرنہ تم بچ سکتے ہونہ ہم۔(اپریل ۲۰۱۷ء)

اس صفحے کو مشتہر کریں