اس آئینہ میں اپناچہرہ دیکھیں

'کالم اورادارئیے' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏مارچ 25, 2013۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ایک صاحب کافکرانگیزمضمون جواس ویب سائٹ سے حاصل کرکے افادۂ عام کی غرض سے شامل کیاجارہاہے اس آئنہ میں ہم سب اپناچہرہ دیکھ سکتے ہیں۔مضمون دیکھیں اورمضمون نگارکونہ دیکھیں ۔
    http://hazaranewspakistan.wordpress.com/2010/10/31/%D8%A2%D8%AC-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%AF%D9%84-%D8%AE%D9%88%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%A2%D9%86%D8%B3%D9%88-%D8%B1%D9%88-%D8%B1%DA%BE%D8%A7-%DA%BE%DB%92/

    آج میرا دل خون کے آنسو رو رھا ھے
    ابھی تھوڑی دیر پھلے علمدار روڈ سے چار جنازے اُٹھے۔
    کل شام کو مسجد روڈ کے تاجر علی اکبر کو اس کے جوانسال بیٹے اور ان کے دوستوں (کاریگر اور باڈی گارڈ) کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا گیا۔
    جونہی یہ خبر شھر میں پھیل گئی آسمان پر گردو غبار کے ساتھ بادل چھا گئے اور ھلکی ھلکی خاک آلود بوندھوں کے ساتھ آسمان رونے لگا۔
    راب بھر گرج چمک ھوتی رھی جیسے آسمان دھاڑے مار مار کر
    شہیدوں کے پسماندگان کے ساتھ رو رھا ھو۔
    کوئیٹہ شہر کے امن کا پرندہ زخمی، دلگیر اور سر بہ غمزہ اپنا لہو چاٹتا رھا۔
    خونخوار درندوں اور بے غیرت قاتلوں نے شھر میں پھر معصوم اور بیگناہ انسانوں کے خون سے ھولی کھیلی۔
    ماؤں اور بہنوں کے گریہ و ماتم نے غم زینب کو تازہ کر دیا۔
    شمر و یزید کی فطرت پانے والے اب بھی معصوم اور پر امن لوگوں کی گردنیں کاٹ کر اقتدار کی پرستش کرنے والوں کی اقتدار کو چند دن اور دوام دے رھے ھیں۔
    کوئیٹہ شہر کی مائیں بڑے ناز و نعم سے اپنے بچوں کو پال پوس کر جوان کرتیں ھیں تاکہ وہ ان جاھل غنڈوں کی گولیاں اپنے سینے میں اتارے اور زمین کو لہو کی بھینٹ دے کر امن کے بیج کی آبیاری کرے۔
    ایسے میں جب مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں عزیزوں کی لاش پر ماتم کرتیں ھیں تو آسمان مٹی کی چادر اوڑھ لیتا ھے اور سارا شہر سوگوار ھو جاتا ھے۔
    آج میرا دل خون کے آنسو رو رھا ھے۔ ایسے میں انتقام کی سلگتی ھوئی بے بس چنگاری میرے دل میں شعلہ ور ھورھی ھے کاش میں قانون ھوتا اور ان قاتلوں کی گردنیں میرے شکنجے میں ھوت
    کاش میں عدالت ھوتا اور ان بدمعاشوں کی موت کے پروانے پر دستخط کرکے قلم توڑ دیتا
    کاش میں وزیر ھوتا یا وزیر اعلٰی اور غیرت سے خودکشی کر لیتا۔
    مگر میں کچھ بھی نہیں کرسکتا
    شہیدوں کے بیکس و لاچار پسماندگان کے ساتھ آنسو بھی نہیں بہا سکتا
    شاید مجھے ان تلخ آنسوؤں کو بہانے میں نہیں بلکہ انہیں پینے سے صبر ملتا ھے
    شاید مجھے امید کا ٹمٹاتا ھوا دیا عزیز ھے اور تاریکی کے ختم ھونے اور سحر کا یقین ھے۔
    شاید نیا سورج انصاف و عدالت لے کر طلوع ھونے کو ھے اور اس سے پھلے جھالت کی تاریکی اپنی پوری زور لگا رھی ھے۔ یقینا” عدل و انصاف کا دن نکلنے والا ھے جسکی روشنی میں ھم قانون کی بالادستی کا نظارہ دیکھ سکیں گے اور ان درندے قاتلوں کی ناپاک لاشیں عبرت کے لئے شہر کے چوکوں پر آویزاں ھوں گے جو اس ملک میں قانون اور عدالت کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھتے ھیں اور کامیاب وارداتیں کرتے ھیں
    یقینا” اندھے قانون کو بینائی ملے گی اور وہ رشوت کی پیپ اور قے کو شہد سمجھ کر نہیں پئیں گے اور اندر کی گندگی کو جو ناسور بن چکا ھے کاٹ کر پھینک دیں گے۔
    یقینا” ھماری عدالت حوض انسانیت سے شراب غیرت کا گھونٹ پئیں گی اور ان کے قلوب سے قاتلوں، درندوں اور بدمعاشوں کا خوف نکل جائے گا اور اس کی جگہ انصاف کا نور لے گا۔ جی ھاں انصاف کا نور۔ اور پھر وہ اس قابل ھو جائیں گے کہ قاتلوں کی آنکھوں میں آنکھٰیں ڈال کر انہیں ملامت کر سکیں گے
    کیا یہ سب کچھ ممکن ھے
    کہیں ایسا تو نہیں ھوگا کہ حالات مزید خراب تر ھو تے جائیں گے، عدالتی نظام کو چلانے والے یونہی خوفزدہ رہیں گے، قتل و غارتگری پر اپنی آنکھیں بند کیئے خاموشی کے ساتھ بیوی بچوں کی پرستش کرتے رھیں گے!!! کیا شہیدوں کے پسماندگان کا گریہ و ماتم حکمرانوں کے ضمیر کو جگانے میں ناکام رھیں گے
    کیا شہیدوں کا لہو کبھی رنگ نہیں لائے گا۔
    کیا ھمارے معاشرے میں ان شہیدوں کے خون کی پکار کو امن کے فاختے میں سمونے والے سب روشن خیال لوگ ختم ھوگئے ھیں اور غنڈوں نے اس شہر اور ملک کے تمام وزیروں، وزیر اعلاؤں، آئی جی، خفیہ تنظیموں، چیف جسٹسوں اور حتا کہ وزیر اعظم اور صدر کو ھینڈز اپ کر چکے ھیں اور ھم سب ان کے نرغے میں آگئے ھیں
    کیا ھر ٹارگٹ کلنگ کے بعد ھمیشہ کی طرح نامعلوم قاتلوں کے خلاف پرچہ کاٹ دیا جائے گا اور مٹی چاٹتی سرکاری فائیلوں کے اوپر ایک اور فائل کا اضافہ ھو جائے گا۔ کوئی تفتیش، کوئی انصاف نہیں ملے گاآج مجھے یوں محسوس ھو رھا ھے جیسے کوئی عدالت نہیں کوئی قانون نہیں۔
    جیسے ھم کسی ایسی جنگل میں جی رھے ھیں جھاں پر درندوں کا راج ھے حکومت میں جو انسان نما لوگ نظر آرھے ھیں وہ صرف اقتدار کی باتیں کرتے ھیں، پیسے بٹورنے، جیت کی خوشی منانے اور ھار سے بچنے کی منصوبہ بندی اور بس۔
    شہر میں ھر طرف خونخوار ڈریکولا آزادانہ پھر رھے ھیں جس کے منہ کو انسانوں کا خون لگ چکا ھے اور وہ صرف معصوم انسانوں کے گرم لہو سے اپنی تشنگی بجھا لیتے ھیں اور دوسری طرف حکومت جمھوریت کا راگ الآپ رھی ھے
    عدلیہ انصاف کا سُر لگا رھا ھے۔
    منصب داروں نے بے حس بھگوان کا روپ دھار لیا ھے جو آئے دن اپنے ماتھے پر انسانی خون سے تلک لگارھے ھیں تاکہ ان کی کرسی اور اقتدار کو کسی کی نظر نہ لگ جائے
    یقینا” یہ تلک جلدی مٹنے والا ھے، سحر نزدیک ھے
    حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ھونے والا ھے
    شہیدوں کا خون رنگ لانے والا ھے
    تب ھم دیکھیں گے جب یہاں کے عوام لرزہ براندام خادم نہیں رھیں گے اور پیری مریدی کا جاھلانہ رسم ختم ھو جائےگا اور عوام مزید خادم اور مرید نہیں بلکہ انسان کہلائے گا اور یہ کرپٹ اور بدنام سیاست دان اور سیاسی پارٹیوں کے جدی پشتی گدی نشین چیئر مین بن کر آقائی نہیں کریں گے بلکہ حکومت اپنے پارلیمنٹ اور تمام اعلی عہدوں کے ساتھ عوام کے سامنے جوابدہ ھوں گے
    اعلٰی عہدے اور با صلاحیت عہدیدار عوام کی خدمت کو فرض کے طور پر نبھائیں گے
    آج میرا دل خون کے آنسو رو رھا ھے
    دوپہر کو ھزارہ قبرستان میں چار جنازوں کو دفنانے کے بعد جب لوگ واپس نچاری امام بارگاہ کیلئے روانہ ھوئے تو پھر سے بادل چھا گئے اور آسمان خوب رویا اور کوئیٹہ شہر کو آنسوؤں سے نہلا دیا۔
    بچے، معصوم بچے سیاسی فضاء کی غلیظ آلودگی اور شہر کے درندوں اور قاتلوں کے خون خرابے سے بے خبر نئے موسم کی پہلی بارش میں کھیلتے رھے اور ان کے شاداب چہروں پر بارش کی کھلکھلاتی بوندھیں گلیوں اور محلوں میں خوشیاں مناتی رھیں۔ آج زندگی میں پہلی بار میرے اندر کا معصوم بچہ بارش میں کھیلنے کے لئے مچلتا رھا مگر نجانے کیوں میں اس کا ساتھ نہ دے سکا بلکہ آسمان کے ساتھ روتا رھا۔​

اس صفحے کو مشتہر کریں