اشرف الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏اکتوبر 16, 2017۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کردارکی بلندی مذہب کی تبلیغ کاذریعہ ہے منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,675
    موصول پسندیدگیاں:
    160
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حضرت ہود علیہ السلام کا شرف
    اورنعیم نے فرمایا حضرت نوح علیہ السلام کو ہواکامعجزہ دیاگیا اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہواکے ذریعہ مددفرمائی گئی جیساکہ غزوۂ خندق کے بیان ہی میں گذرچکا ہے۔علامہ شیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہوا سے مدد غزوۂ بدرمیںبھی کئی گئی تھی۔​
    اونعیم نے فرمایاحضرت صالح علیہ السلام کو اونٹنی کا معجزہ دیاگیا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی مانند اونٹ کا کلام کرنا اوراونٹ کا آپ کی اطاعت کرنا عطا فرمایاگیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مثل حضوروالا کا شرف
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے نجات کا شرف عطاکیاگیا ی ۔اس کی نظیر بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوعطاہوئی جوآگ کے معجزات کے بارے میں پہلے گذر چکاہے اورمرتبہ خلت بھی عطا فرمایاگیا۔ چنانچہ ابن ماجہ وابونعیم نے عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے مجھے خلیل بنایا جس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تو میری منزل اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی منزل جنت میں آمنے سامنے ہے۔ اورحضرت عباس رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان اسے ہوں گے جیسے دوخلیلوں کے درمیان مومن ہوتاہے۔
    ابونعیم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے کہ آپ نے اپنی وفات سے پانچ دن پہلے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہارے آقا کوخلیل بنایا ہے۔
    ابونعیم نے حضرت بان مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو خلیل بناتاتو یقینا میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا لیکن تمہارا آقا اللہ کا خلیل ہے۔
    ابونعیم نے فرمایا اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کونمردو سے تین حجابوں میں پوشیدہ رکھا۔اسی طرح ہمار ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں سے جو آپ کے قتل کاارادہ رکھتے تھے حجابات میں پوشیدہ رکھا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے :’’اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِہِمْ اَغْلاَ لاً فَہِیَ اِلَی الْاَزْقَانِ فَہُمْ مُقْمَحُوْنَ -وَجَعَلْنَا مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ سَدّاً وَّمِنْ خَلْفِہِمْ سَدّاً فَاَغْشَیْنٰہُمْ فَہُمْ لاَیُبْصِرُوْنَ ۔(پ۲۲ ع ۱۸) ہم نے ان کی گردنوں میں طوق کردئیے ہیں جو ٹھوڑیوں تک ہیں تویہ اوپرکومنھ اٹھائے رہ گئے اور جب ان کے آگے دیوار بنادی اوران کے پیچھے ایک دیوار اور انہیں سے ڈھانپ دیاتو انہیں کچھ نہیں سوجھتا۔اوراللہ تعالی فرماتاہے ’’وَاِذَ ا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَاباً مَسْتُوْراً‘‘ اورجب آ پ نے قرآن پڑہا تو ہم نے آپ کے اوران لوگو ں کے درمیان جو ایمان نہیں لائے آخرت پر چھپانے والا حجاب کردیا۔
    علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت وحفاظت کے ضمن میں اورآپ کو مخفی رکھنے کے سلسے میں بکثرت احادیث پہلے بیان کی جاچکی ہیں۔
    ابونعیم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود سے مناظرہ کیا اور اسے برہان ومحبت سے مبہوت کردیا۔چنانچہ اللہ تعالی فرماتاہے’’ فبہت الذی کفر‘‘ اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے واقع ہوا چنانچہ حضورکے پاس ابی بن خلف آیا اور مرنے کے بعد اٹھنے کے انکارپر بوسیدہ ہڈی لایا اوراس نے اسے مسلتے ہوئے کہا ’’مَنْ یُّحْیِیَ الْعِظَام وِہِیَ رَمِیْم‘‘ (یٰسین :۷۸)کو ان ہڈیوں کو زندہ کریگا۔درآں حالیکہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہیں ۔اس پر اللہ تعالی نے نازل فرمایا ’’قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْ اَنْشَاہَا قَوْلٌ مَرَّۃٍ‘‘ (یٰسین :۷۹) اے نبی فرمائیں ان کو وہ زندہ کریگاجس نے ان کوپہلی مرتبہ پیدا فرمایا۔یہ برہان ساطع ہے۔
    علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معجزات میں بھیڑوں کاکلام کرنا ہے چنانچہ ابن ابی حاتم نے علباء بن احمر سے روایت ہے کہ حضرت ذوالقرنین مکہ مکرمہ آئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کو خانہ کعبہ تعمیرکرتے ہوئے پایا ۔حضرت ذوالقرنین نے کہا ہماری سرزمین میں آپ کو تصرف کرنے کا کیا حق ہے؟ انہوں نے فرمایا ہم دونوں اللہ تعالی کے ناموربندے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں اس خانہ کعبہ کی تعمیرکرنے کا حکم دیا ہے۔حضرت ذوالقرنین نے کہا آپ دونوں اپنے دعوے کے ثبوت میں دلیل لائیں تو پانچ بھیڑیں اٹھیں اور انہوں نے کہا ہم سب شہادت دیتے ہیں کہ حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام ماموربندے ہیں اوران دونوں کو اس کعبہ کی تعمیرکا حکم دیاگیا ہے۔یہ سن کر حضرت ذوالقرنین نے کہا میں اس سے راضی ہوں اورمیں نے اس امرکو تسلیم کیا۔اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں متعدد حیوانوں نے کلام کیا ہے اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے معجزات میںیہ ہے جسے ابن سعد نے روایت کیا کہ ہم سے ہشام بن محمد نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابوصالح سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کوثی سے ہجرت کی اورنارِنمرود سے باہر آئے تو اس زمانے میں ان کی زبان سریانی تھی لیکن جب آپ نے فرات کو عبو رکیاتو اللہ تعالی نے ان کی زبان بدل دی اوروہ عبرانی زبان میں گفتگو فرمانے لگے۔نمرود نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا اوراس نے حکم دیا کہ جوسریانی زبان میں گفتگو کرتاہے اسے نہ چھوڑاجائے۔ اوراسے میرے پاس لے آئو تو وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملے مگر انہوں نے ان سے عبرانی زبان میں گفتگو فرمائی۔ اوروہ لوگ آپ کو چھوڑکر چل دئے۔ کیونکہ وہ آپ کی لغت وزبان کو نہ پہچان سکے۔اس معجزے کی نظیرومثل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان قاصدوں کے ضمن میں گزرچکی ہے جن کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کی طرف بھیجا تھا۔وہ قاصد جب ان بادشاہوں کے ملک میں پہنچے تو وہ انہیں لوگوں کی زبان میں گفتگو کرنے لگے جن کی طرف انہیں بھیجا گیا تھا۔اورابراہیم علیہ السلام کے معجزات میں یہ ہے جسے ابن ابی شیبہ نے المصنف میں روایت کیا کہ ہم نے محمدابن عبیدہ بن معن سے حدیث کی انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی۔انہوں نے اعمش سے انہوںنے ابوصالح سے حدیث بیان کی ۔ابوصالح نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام غلہ لینے تشریف لے گئے مگرانہیں غلہ فراہم نہ ہوسکا تو انہوں نے تھیلے میں کچھ سرخ ریت بھری اوراسے اٹھاکر گھرلے آئے۔اہل خانہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا یہ سرخ گندم ہے۔جب انہوں نے تھیلا کھولا تو سرخ گندم پائی جب اس گندم کے دانے کو بویا جاتاتو اس دانہ سے ایسی بالیاں نکلتیں جوجڑسے شاخ تک مسلسل دانوں بھری ہوتیں۔
    بلاشبہ اس معجزے کی نظیرومثل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بھی واقع ہے۔جس کا تذکرہ اس مشکیز ے کے باب میں پہلے گذر چکا ہے جوآپ نے اپنے اصحاب کو زادراہ کے طور پرعطا فرمایاتھا اوراس مشکیزے کوپانی سے بھرکردیاتھا اور جب ان اصحاب نے اس مشکیزہ کوکھولا توانہوں نے دودھ اورمکھن پایا۔
    وہ شرف جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے مثل آپ کو عطاہوا
    حضرت اسماعیل علیہ السلام کوذبح پرصبر عطا فرمایاگیا ۔اس کی نظیر شق صدرکے باب میں پہلے گذرچکی ہے بلکہ یہ شرف اس سے ابلغ ہے ۔اسلئے کہ شق صدر توحقیقۃً واقع ہوا اورذبح کا وقوع نہ ہوا۔
    حضرت اسماعیل علیہ السلام کوذبح کے عوض فدیہ عطافرمایاگیا اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبداللہ کے ذبح کے عوض فدیہ دیاگیا۔
    حضرت اسماعیل علیہ السلام کوآب زمزم عطافرمایاگیا ۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داداعبد المطلب کو چاہ زمزم دیاگیا۔
    حضرت اسماعیل علیہ السلام کو عربیت عطا فرمائی گی۔چنانچہ حاکم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ یہ عربی زبان حضرت اسماعیل علیہ السلام کوبطریق الہام عطا ہوئی اوراس کی نظیر میں ابونعیم وغیرہ محدثین نے حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا وجہ ہے کہ آپ ہم سب میں سب سے زیادہ فصیح اللسان ہیں باوجود یکہ آپ ہمارے درمیان سے کہیں باہر بھی تشریف نہیں لے گئے ؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی زبان نابو د ہوچکی تھی، اس زبان کو جبریل علیہ السلام میرے پاس لائے اور اسے انہوں نے مجھے یادکرایا۔
    وہ شرف جو حضرت یعقوب ؑ کے مثل آپؐ کو عطاکیاگیا
    جرجانی نے مشہورکتاب امالی میں فرمایا کہ ہم سے ابوالحسن احمدبن محمدبن اسمٰعیل نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے نوح بن حبیب بذشی سے انہوں نے حامد بن محمود سے انہوں نے ابومسہرومشقی سے انہوں نے ابن عبد العزیز تنوخی سے انہوں نے ربیعہ سے حدیث بیان کی۔انہوں نے کہا کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام آئے تو آپ سے کہا گیا کہ یوسف علیہ السلام کوبھیڑئے نے کھالیا ہے توحضرت یعقوب علیہ السلام نے بھیڑئے کوبلایا اوراس سے فرمایا کیا تونے میرے قرۃ العین اورجگرگوشہ کوکھایاہے؟ بھیڑئے نے کہا میں سرزمین مصرسے آیاہوں اورجرجان جانے کا ارادہ رکھتاہوں۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا جرجان کس مقصد سے جاناچاہتاہے؟ بھیڑئے نے کہا میں نے آپ سے پہلے نبیوں سے سناہے وہ فرماتے تھے کہ جوکوئی دوست یا کسی رشتہ دار سے ملاقات کرنے جاتاہے اللہ تعالی اس کے ہرقدم کے بدلے ایک ہزارنیکیاں لکھتاہے اوراس سے ایک ہزاربدیاں محوفرماتاہے اوراس کے ایک ہزار درجے بلند کرتاہے۔یہ سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کوبلایا اورفرمایاکہ اس حدیث کولکھ لو۔اس پر بھیڑئے نے ان کو حدیث بیان کرنے سے انکارکیا۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ توان کو حدیث نہیں سناتا۔بھیڑئے نے کہا یہ سب نافرمان وگنہگار ہیں۔ اس کی نظیرومثل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی گئی کہ بھیڑئے نے کلام کیا جیسا کہ پہلے بیان ہوچکاہے۔
    ابونعیم نے فرمایا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو دئیے گئے معجزات میں سے یہ ہے کہ ان کو اپنے فرزند کی جدائی کے ساتھ آزمایا گیا۔ اور انہوں نے اس حدتک صبرکیا کہ قریب تھاکہ غم سے وہ ہلاک ہوجائیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرزندوں کا درددیا گیا اوربیٹوں میں سے کسی کوبچپن کے سوا زندہ نہ رکھاگیا مگرآپ نے رضا وتسلیم کواختیار کیا۔اس بناپر آپ کا صبر حضرت یعقوب علیہ السلام کے صبرسے فائق رہا ۔
    وہ شرف جوحضرت یوسف ؑ کی مانند آپؐ کوعطاہوا
    ابونعیم نے فرمایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو ایسا حسن دیاگیا جو تمام انبیاء ومرسلین پر بلکہ تمام مخلوقات پرفائق تھا اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا جمال عطافرمایا گیا کہ کسی فرد بشر کو آپ جیسا جمال نہ ملا۔ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن کا نصف حصہ دیا گیا اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام حسن عطاکیا گیا۔ اس کا تذکرہ اول کتاب میں گزرچکا ہے ۔ابونعیم نے فرمایاکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے والد ین کی جدائی اوران کی مسافرت اوروطن سے دوری کے ساتھ آزمایاگیا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل وکنبہ اوردوست واحباب اورطن کوچھوڑا اوراللہ تعالی کی طرف ہجرت فرمائی۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام کوپتھر سے پانی کے چشمے اُبلنے کا معجزہ دیاگیا۔ایسا ہی معجزہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقع ہوا جیسا کہ اول بعثت کے ضمن میں پہلے بیان کیاجاچکا ہے ۔مزید برآں یہ کہ آپ کی انگشتہائے مبارکہ کے درمیان سے پانی کے چشمے اُبلے تھے۔ابونعیم نے فرمایا انگشتہائے مبارک سے پانی کا جاری ہونا زیادہ عجیب ہے۔اس لئے کہ پتھرسے پانی کا نکلنا تو متعارف ومعبود ہے لیکن گوشت اورخون کے درمیان سے پانی جاری ہونا نہ متعارف ہے اورنہ معہود ہے۔
    اورحضرت موسی علیہ السلام کوبادل کے سایہ کرنے کا معجزہ دیاگیا اور یہ معجزہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی عطا ہواچنانچہ اس ضمن میں متعدد حدیثیں پہلے بیان ہوچکی ہیں۔
    اورحضرت موسیٰ علیہ السلام کو عصاکا معجزہ دیاگیا۔ ابونعیم نے فرمایا کہ اس کی نظیر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوایک توچوبی ستون کے رونے میں ہے اور دوسری نظیر جو اژدھے کی صورت میں ظاہر ہونے کی شکل میں ہے وہ اس اونٹ کے قصہ میں ہے جسے ابوجہل نے دیکھا تھا۔
    علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کویدبیضا کا معجزہ عطا ہوا اور اس کی نظیر وہ نورہے جوحضرت طفیل رضی اللہ عنہ کی پیشانی میں بطورنشانی ظاہرہوا۔ پھر حضرت طفیل رضی اللہ عنہ نے مثلہ ہونے کا خوف ظاہر کیا۔ تووہ فوراً ان کے کوڑے کی نوک پر منتقل کردیاگیا۔جیسا کہ حضرت طفیل رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے باب میں پہلے بیان کیاجاچکاہے۔
    اورحضرت موسیٰ علیہ السلام کودریا پھاڑکر راستہ بنانے کا معجزہ دیاگیا۔بلاشبہ اس کی نظیر اسرار کے با ب میں پہلے گزرچکی ہے کہ وہ دریا جوزمین سے حضورکیلئے پھاڑا گیا یہاں تک کہ آپ نے اسے عبورکیا اورآگے گئے۔ اور ابونعیم نے اس کی نظیر میں وہ روایت بیان کی ہے جواحیاء موتی کے باب میں علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے قصہ میں گزرچکی ہے اورآخر کتاب میں بھی آئے گی اور اس کی مانند بکثرت واقعات ہیں اورحضرت موسیٰ علیہ السلام کومن وسلویٰ عطافرمایا گیا۔ابونعیم نے فرمایا اس کی نظیر میں غنیمتوں کے حلال ہونے اورجم غفیر کا تھوڑے سے کھانے سے شکم سیر کردینے کے واقعات ہیں اورحضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم پرطوفان ’’ٹڈیاں،کھٹمل،منڈک اورخون کی بددعا کی۔ابونعیم نے فرمایا اس کی نظیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بددعائیں ہیں جواپنی قوم پرقحط سالی کے ضمن میں ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے دعاکی کہ’’وَعَجِلَتْ اِلَیْکَ رَبِّ لَتِرْضیٰ ‘‘اورحضوراکر م صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حق تعالی سے فرمایا ’’وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰ‘‘ اور ارشاد فرمایا’’ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہاً‘‘۔
    اوراللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام کیلئے فرمایا : وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِنِّیْ (طٰہ :۲۹) اوراللہ تعالی نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ۔(اٰل عمران:۳۱)
    وہ شرف جومثل حضرت یوشع ؑاور حضرت دائودؑکے آپ ؐ کو عطاہوا
    حضرت یوشع علیہ السلام جب قوم جبارین سے جنگ کررہے تھے توان کیلئے آفتاب کو غروب ہونے سے روک دیا گیا ۔جیسا کہ شب معراج کے واقعات میں گزرچکاہے اوراس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ جب حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی نماز عصرفوت ہوئی تو اس وقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعاسے ڈوبے ہوئے سورج کوواپس لایا گیا۔
    ابونعیم نے فرمایا کہ حضرت دائود علیہ السلام کوپہاڑوں کی تسبیح کا معجزہ دیاگیا اوراس کی نظیر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کنکریوں اور کھانوں کی تسبیح کا معجزہ دیاگیا جیسا کہ اس کے باب میں پہلے گزرچکاہے۔
    اورحضرت دائود علیہ السلام کوپرندوں کی تسخیر کا معجزہ دیاگیااورہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام حیوانات کی تسخیر کا معجزہ دیاگیا جیساکہ پہلے گزرچکا ہے۔
    اورحضرت دائود علیہ السلام کولوہے کے نرم ہونے کا معجزہ دیاگیا۔بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھروں اوربڑی بڑی چٹانوں کے نرم ہوجانے کا معجزہ دیاگیا۔ چنانچہ غزوۂ احد میں جب مشرکوں کی نظر وں سے پوشیدہ ہونے کیلئے پہاڑوں کی طرف اپنے سر مبارک کو جھکایا تاکہ آپ کا جسم اقدس مشرکوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوجائے ۔اللہ تعالی نے پہاڑکو آپ کیلئے نرم کردیایہاں تک کہ آپ کاسرمبارک پہاڑ میں داخل ہوگیااور یہ معجزہ اب تک ظاہر وباقی ہے۔لوگ اس مقام کی زیارت کرتے ہیں اسی طرح مکہ مکرمہ میں ایسی گھاٹیاں موجود ہیں جہاں سخت پتھرہیں اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز میں ان جگہوں پرآرام فرمایاتھا اورپتھر آپ کیلئے نرم ہوگئے تھے،یہاں تک کہ آپ کی پنڈلیوں اوربازوئوں کا نشان ان میں موجود ہے۔ اوریہ معجزہ مشہورہے ۔یہ معجزہ زیادہ عجیب ہے اسلئے کہ لوہے کوآگ نرم کردیتی ہے مگر اسی آگ کہیں نہیں کہ اس نے پتھرکو نرم کردیاہو۔ یہ تمام کلام ابونعیم کاہے۔
    اورحضرت دائود علیہ السلام کو غار پرمکڑی کاجالہ تننے کا معجزہ دیاگیا ۔یہ معجزہ بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقع ہواہے جیسا کہ ہجرت کے واقعہ میں غار ثور کے ضمن میں گزرچکاہے۔
    وہ شرف جوحضرت سلیمان ؑ کی مانند آپؐ کو عطا ہوا
    ابونعیم نے فرمایاکہ حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کوبچپن میں حکمت دی گئی اور وہ بعیر صدورمعصیت رویاکرتے تھے اور مسلسل روزے رکھاکرتے تھے ۔اورہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے افضل شرف عطافرمایا گیا اس لئے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام بت پرستی اورجاہلیت کے زمانے میں نہ تھے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اوثان اورجاہلیت کے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بت پرستوں اور شیطانی ٹولوں کے درمیان بچپن میں فہم وحکمت عطافرمائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی بتوں میں دلچسپی نہیں لی۔اورنہ ان بت پرستوں کے ساتھ ان کی خوشیوں میں شریک ہوئے اورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی جھوٹی بات مسموع ہوئی۔ نہ بچوں کی مانند کھیل کودکی طرف میلان طبع ہوا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم ہفتوں مسلسل روزے رکھاکرتے تھے (وصال کے دوران ) فرمایاکرتے میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتاہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم رویاکرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اقدس سے ہانڈی کے جوش مارنے کی مانند آوازسنائی دیاکرتی تھی۔
    ابونعیم نے فرمایاکہ اگرکوئی یہ کہے کہ حضرت یحییٰ تو حصور تھے اورحصور تو اسے کہاجاتاہے جو عورت کے پاس نہ گیا ہو تواسکا جواب یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ورسالت تمام مخلوق کی طرف سے ہے اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کرنے کا حکم فرمایاگیا تاکہ ساری مخلوق نکاح میں اقتداء کرے۔اسلئے کہ نفوس کی پیدائش خصلت ہی اس پر ہے کہ وہ شہوت کی حالت میں عورت کے پاس جائے ۔
    وہ شرف جو حضرت عیسیٰ ؑ کی نظیرمیں آپ ؐ وسلم کو عطاہوا
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حق تعالی نے فرمایا:
    رَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اِنِّیْ قَدْ جَنْتُکُمْ بِایَۃٍ مِنْ رَبِّکُمْ اِنِّیْ اَخْلُق لَکُمْ مِنَ الطِّیْنِ کَہَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفَخَ فِیْہٖ فَیَکُوْنُ طَیْراً بِإِذْنِ اللّٰہِ وَاُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِیِ الْمَوْتٰی بِإِذْنِ اللّٰہِ وَاُنَبِّئَکُمْ بِمَا تَاکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ۔(پ:۳،ع:۱۳)
    اوررسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف یہ فرماناہوا کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایاہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتاہوں تو وہ فوراً پرندہ ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتاہوں ماردزاد اندھے اورسفید داغ والے کو اورمیں مردے جلاتاہوں اللہ کے حکم سے اورتمہیں بتاتاہوں جوتم کھاتے اورجواپنے گھروں میں جمع کرکے رکھتے ہو۔
    ان امورکے نظائر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے احیاء الموتی کے باب میں اورمریضوں کو شفایاب اورصحت مند کرنے کے بارے میں اور غزوۂ بدراحد کے باب میں اور قتادہ کی آنکھ درست کرنے کے ضمن میں اورغزوۂ خیبر میں حضرت علی مرتضیٰ کی آشوب چشم لعاب دہن سے درست کرنے اورغیبی خبروں کے ابواب میں بیان ہوچکے ہیں۔
    اورابونعیم نے مٹی سے پرندہ پیداکرنے کے معجزے کی نظیر میں کھجورکی ٹہنی کو لوہے کی تلوار سے بدل دینے کے مثل قراردیاہے اوراللہ تعالی نے فرمایا:
    اِذْ قَالَ الْحَوَّارِیُّوْنَ یَاعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُنَزِّلَ عَلَیْنَا ماَئِدَۃً مِنَ السَّمَائِ الآیۃ (پ ع ۵)
    توہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اس کی نظیریہ ہے کہ متعدد حدیثوں میں گزر چکا ہے کہ آسمان سے آپ کیلئے طعام اتراہے اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کیلئے حق تعالی نے فرمایا ’’وَیْکَلِّمُ النَّاسَ فِیْ الْمَہْدِ‘‘(آل عمران :۴۶) اورآپ نے آغوش مادرمیں لوگوں سے کلام فرمایا۔تو اس کی نظیر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بعد ولادت ظہورمعجزات کے باب میں پہلے بیان ہوچکی ہے۔
    اورحاکم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا جب عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو روئے زمین پرکوئی بت ایسانہ رہا جو منہ کے بل نہ گر اہو۔اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اس کی نظیر باب ولادت میں پہلے گزرچکی ہے۔
    اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھایا جاناعطا ہواتواس کی نظیر میں ابونعیم نے کہا کہ یہ بات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بہت سے لوگوں کیلئے واقع ہوئی ہے۔چنانچہ ان میں سے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ اورحضرت العلاء ابن الحضرمی رضی اللہ عنہم ہیں۔ان کا تذکرہ گذشتہ ابواب میں کیا جاچکاہے۔
    وہ خصائص جن کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء علیہم السلام پرفضیلت دی کئی اور وہ خصائص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی نبی کو عطا نہ ہوئے۔
    ابوسعید نیشاپوری نے شرف المصطفیٰ میں ان فضائل کا ذکر کیا ہے جن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے۔ایسے مخصوص فضائل ساٹھ ہیں۔انتہی
    علامہ سیوطی علی الرحمۃ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتاکہ کسی اورنے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کو اس طرح شمارکیا ہو البتہ میں نے خود احادیث وآثار میں اس کی جستجو کی ہے اورمیں نے مذکورہ تعداد کوپایا ہے۔ اورتین فضیلتیں اس کی مانند اس کے ساتھ ہیں۔اوران فضائل کو میں نے چار قسموں میں دیکھا ہے ۔ایک قسم تو وہ ہے جوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں دنیاکے اندرفرمائے گئے ہیں اور دوسری قسم فضائل کی وہ ہے جو آخرت میں آپ کے ساتھ مخصوص ہیں اورتیسری قسم وہ ہے جوآپ کی ذات کے ساتھ دنیامیں مخصوص کئے گئے ہیں اورچوتھی قسم وہ ہے جوآپ کی امت کے ساتھ آخرت میں مخصوص کی گئی ہے اب میں ان چارقسموں کو تفصیل کے ساتھ ابواب میں بیان کرتا ہوں۔
    چنانچہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی نبی تھے جب کہ آدم علیہ السلام ابھی خمیر میں تھے۔جومیثاق اللہ تعالی نے انبیاء علیہم السلام سے لیا ان میں آپ مقدم تھے۔ اس کا ذکر پہلے آچکاہے اوریہ کہ جس دن اللہ تعالی نے فرمایا’’الست بربکم‘‘ کیا میں تمہارا ر ب نہیں ہوں؟توسب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے بلیٰ فرمایا تھا۔
    اوریہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اورتمام مخلوقات کی تخلیق آپ ہی کی وجہ سے ہوئی اوریہ کہ آپ کا اسم شریف عرش ،آسمانوں،جنتوں اور تمام ان چیزوں پرلکھا ہواتھا۔ جو ملکوت السموات میں ہیں۔ اوریہ کہ فرشتے ہرگھڑی آپ کا ذکر کرتے ہیں اوریہ کہ آپ کا اسم شریف حضرت آدم علیہ السلام کے عہد میں اذانوں میں لیا جاتارہاہے اورملکوت اعلی میں ذکرہوتارہا۔ اور یہ کہ اللہ تعالی نے تمام نبیوں اورحضرت آدم علیہ السلام سے یہ عہد لیا ہ جولوگ ان کے بعد ہوں وہ سب حضورصلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لائیں اور آپ کی نصرت کریں اوریہ کہ کتب سابقہ میں آپ کی تشریف آوری کی بشارتیں دی گئیں اوران کتابوں میں آپ کی نعت اورآپ کے اصحاب وخلفاء اورآپ کی امت کی نعت بیان کئی گئی۔اوریہ کہ ابلیس لعین کو آپ کی ولادت کی وجہ سے آسمانوں سے روک دیاگیا اور یہ کہ ایک قول کے بموجب(بوقت ولادت) آپ کا شق صدرہوا۔اوریہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک میںآپ کے قلب اطہرکے مقابل جہاں سے شیطان (انسانوں میں) داخل ہوتاہے مہرنبوت قائم کی گئی ہے اوریہ کہ آپ کے ایک ہزارنام ظاہر ہوئے۔ جوکہ اسماء الٰہی سے مشتق وماخوذہیںاوریہ کہ اسماء الٰہی میں سے تقریباً ستراسماء کیساتھ آپ کا اسم شریف رکھاگیا اوریہ کہ فرشتے سفرمیں آپ پرسایہ کرتے تھے اوریہ کہ عقل میں تمام انسانوں سے فائق تھے۔اوریہ کہ آپ کو تمام حسن وجمال دیاگیا اورحضرت یوسف علیہ السلام کو صرف نصف حسن دیاگیا تھا۔اوریہ کہ ابتدائے وحی میں آپ کوڈھانپ لیاجاتاتھا اور یہ کہ آپ نے جبرئیل علیہ السلام کوان کی اس صورت میں جس پران کو پیدا کیاگیاتھادیکھا۔ یہ تمام فضائل وہ ہیں جن کو بیہقی نے احادیث میں ذکر کیاہے۔
    اوریہ کہ آپ کی بعثت کے سبب کہا نت کا سلسلہ منقطع کردیاگیا اورشباب کی رمی کے ذریعہ خبریں سننے سے آسمانوں کی حفاظت کی گئی اور یہ وہ فضائل ہیں جن کوابن سبع نے احادیث میں ذکرکیا۔
    اوریہ کہ حضور کیلئے آپ کے والدین کو زندہ کیا گیا ۔یہاں تک کہ وہ آپ پرایمان لائے۔ اوریہ کہ (بعض) کافروں کیلئے تخفیف عذاب کے لئے آپ کی شفاعت قبول کی گئی جیسے کہ ابوطالب کے قصے میں اورقبروں کے قصے میں مذکور ہے اوریہ کہ لوگوں کو آپ پرغالب نہ آنے دینے کا وعدہ کیا گیا اورآپ کی عصمت وحفاظت فرمائی گئی۔ اوریہ کہ آپ کو معراج ہوئی۔ اور وہ خصوصیات جواس کے ضمن میں ہیں جیسے ساتوں آسمانوں کافرق اوراس بلندی تک جانا کہ آپ قاب قوسین تک پہنچے اورآپ کی رفعت اس مقام تک ہوئی جہاں نہ کوئی نبی ومرسل گیا اور نہ کوئی فرشتہ مقرب۔ اوریہ کہ آپ کیلئے انبیاء علیہم السلام کا احیاء فرمایاگیا اور یہ کہ آپ نے ان کے امام بن کر ان کو نمازپڑھائی اوریہ کہ آپ نے جنت کی سیرکی اوردوزخ کا معائنہ فرمایا۔وہ فضائل ہیں جن کو بیہقی نے ذکرکیا اورہ کہ آپ نے بڑی بڑی نشانیاں اپنے رب کی دیکھیں اورآپ ایسے محفوظ رہے کہ مازاع البصر وماطغی آپ کی شان رہی اورحق تعالی کی رویت سے آپ دومرتبہ مشرف ہوئے اوریہ کہ آپ کے ساتھ فرشتوں نے قال کیا۔(ناخوذ)

اس صفحے کو مشتہر کریں