اقول بزرگان دین

'بزرگانِ دین' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏ستمبر 23, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,955
    موصول پسندیدگیاں:
    988
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    اقول بزرگان دین​

    (1)حضرت سیدنا سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے کہا اے بیٹے ! علم حاصل نہ کر جب تک تو اس پر عمل کی نیت نہ کر لے ورنہ قیامت کے دن وہ علم تیرے لئے وبا ل ہو گا۔

    (2)حضرت ابو عبد اللہ انطاکی ؒ فرماتے ہیں کہ یوم قیامت اللہ تعالی" ریا کار "کو کہے گا کہ جا اپنے عمل کا ثواب ان لوگوں سے لے جن کو تو دکھا نے کے لئے عمل کرتا تھا۔

    (3)حضرت سیدنا عکرمہؓ فرماتے ہیں کہ اکثر نیک نیت کیا کرو کیونکہ "ریا "نیت میں داخل نہیں ہو تی ۔

    (4)حضرت سید نا داؤد طالسیؒ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کتاب لکھے تو اسے مناسب اس سے نصرت دین کا قصد کرے نہ کہ حسن تالیف کے سبب اپنے ہم عصروں میں تعریف کا طالب ہو ۔

    (5)حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیت کے معاملے میں دل پر اس لئے نظر فرماتا ہے کیونکہ دل ہی نیت کا مقام ہے اس لئے سید عالم ﷺ نے کاموں کا ثواب اور عمل کا دارومدار نیت سے فرما یا۔ ہر شخص کو عمل وعبادت کا ثواب اتنا ہی ملے گا جیسی اس کی نیت ہو گی۔ (کیمائے سعادت ، کشف القلوب)

    اب کسی کام میں ہماری نیت اہل دنیا کی خوشنودی حاصل کرنا ہے تو پھر اسے ریا کاری میں شمار ہو گا ، بندوں کو اگر چہ اس قیح نیت کی خبر نہیں مگر جو علیم بذات الصدور ہے ( اللہ دلوں کی بات جانتا ہے )وہ دلوں کی ہر دھڑکن جا نتا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ: جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب خوب جانتا ہے اگر تم نک ہو تو رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے ۔تورات شریف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جس عمل کو میں منظور کرلوں وہ اگر تھوڑا ہو بہت ہے اور جسے میں رد کردوں وہ اگرچہ کثیر ہو مگر بہت ہی کم یعنی اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ( تنبیہ المفترین ، کشف القلوب ،جلد ۴، صفحہ ۲۰) ترجمہ: اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔(القرآن)

اس صفحے کو مشتہر کریں