البلاغ المبین کا شاہ ولی اللہ کی جانب انتساب

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از جمشید, ‏نومبر 9, 2017۔

  1. جمشید

    جمشید وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    111
    موصول پسندیدگیاں:
    33
    جگہ:
    Afghanistan
    البلاغ المبین کا شاہ ولی اللہ کی جانب انتساب
    رحمانی


    حرفے چند

    آج سے دوتین سال قبل میں نے ایک کتابی سائٹ (کتاب وسنت ڈاٹ کام)سے حضرت شاہ ولی اللہ کا نام دیکھ کر البلاغ المبین ڈاؤنلوڈ کیا،جب اس کا تھوڑا مطالعہ کیا تو چونک گیا،کیونکہ اس کتاب میں حضرت شاہ ولی اللہ کی تصنیفی خصوصیات میں سے کچھ بھی نہیں پایاجاتا،نہ طرزبیان، نہ اسلوب تحریر،نہ علمی وفکری گہرائی، غرضیکہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی تصنیفی خصوصیات جس کی وجہ سے وہ اسلام کی علمی تاریخ میں ایک نمایاں مقام کے حامل ہیں، اس میں سے اس کتاب میں کچھ نہیں ملتا،اس وقت میں نے کوشش کی کہ اس کتاب کی تحقیق کی جائے ،شاہ ولی اللہ کے مستند سوانح نگاروں کی تحریر کا مطالعہ کیاتوپتہ چلاکہ البلاغ المبین کا انہوں نے ذکر نہیں کیاہے،اس سے ایک گونہ یقین پیداہوگیاکہ یہ کتاب ان کی نہیں ہے،،لیکن دیگر مشغولیات کی وجہ سے زیادہ توجہ نہیں دے پایا،اوربات آئی گئی ہوگئی، پچھلے دنوں الرحیم جون۱۹۶۴ء کے شمارہ میں محمد ایوب قادری کی ایک تحریر بنام ’’شاہ ولی اللہ سے منسوب تصنیفات‘‘ نگاہ سے گزری تو اس میں اس موضوع پر کافی کچھ مواد ملا،پہلے پہل تو سوچاکہ اس تحریر کو بعینہ شائع کردوں ،لیکن چونکہ ان کا موضوع ذرا وسیع ہے اورمیراموضوع صرف البلاغ المبین تک محدود ہے،لہذا میں نے سوچاکہ ان کی تحریر اسے استفادہ کیاجائے اور کچھ اضافہ کرتے ہوئے یہ تحریر شائع کی جائے اورآخر میں نوٹ کے عنوان سے ان کے استفادہ کاذکر کردیاجائے ،کیونکہ بقول ابن عبدالبر علم کی برکت میں سے یہ ہے کہ انسان قول کو اس کے قائل کی جانب منسوب کرے۔

    تمہید:

    بڑے لوگوں کے ساتھ ایک بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ ان سے کئی مختلف الخیال گروہ اورطبقات وابستہ ہوجاتے ہیں،اورہرطبقہ اورگروہ ان کو اسی رنگ میں دیکھناپسند کرتاہے،جس میں وہ خود رنگاہواہے،بقول مولانا روم ’’ہرکسے از ظن خود شد یارمن‘‘ والا معاملہ ہوتاہے،جب گروہی عصبیت بڑھ جاتی ہے تو پھر یہ ثابت کرنے کیلئے کہ فلاں بزرگ ہماری جماعت ہی سے وابستہ تھے، ان کی جانب غلط اقوال اور جعلی تصنیف کا انتساب شروع کردیاجاتاہے۔

    جعلی انتساب کا سلسلہ اسلام میں بہت قدیم ہے، ابتداء اسلام سے تقریباًایک ڈیڑھ صدی بعد ہی بلکہ اس سے بھی پہلے جعلی حدیثوں کا رواج شروع ہوگیا، جعلی حدیثیں رسول پاک کی جانب منسوب کرنے والے کئی گروہ تھے ،ایک گروہ تو زندیقوں کا تھاجواسلام کی شکل وصورت بگاڑناچاہتاتھا،دوسرا گروہ مالی مفاد اور دنیاوی فوائد کیلئے ایساکرتاہے کہ بادشاہ اورامراء کی پسند وناپسند پر حدیثیں گڑھاکرتاتھا،تیسرا گروہ سیاسی چپقلش کی پیداوارتھایعنی روافض حضرت معاویہ اور اہل شام کے خلاف حدیثیں گڑھتے اورنواصب وخوارج حضرت علی واہل بیت کے مثالب میں روایتیں بناتے،چوتھاگروہ وہ تھا جو نیک نیتی فضائل اور زہد وغیرہ کی حدیثیں گڑھتاتھاتاکہ لوگوں کو عبادات کی جانب مائل کیاجائے،پانچواں گروہ مسلکی عصبیت اورشدت میں ایک دوسرے کے خلاف حدیث گڑھتاتھا۔

    عموما ایسادیکھاگیاہے کہ جو شخصیت جس معاملہ میں مشہور ہوتی ہے،اسی بارے میں اس کی جانب غلط سلط نسبت کردی جاتی ہے، حاتم طائی سخاوت میں مشہور تھے؛لہذا سخاوت میں ایک پوری داستان ہی یارلوگوں نے تصنیف کرلی ،امیر حمزہ بہادری میں مشہور تھے تو یارلوگوں نےداستان امیر حمزہ تصنیف کرکے دم لیا،امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ پرلطف تدبیر سے لوگوں کی مشکل آسان کرتے تھے توکچھ لوگوں نے ان کی جانب کتاب الحیل ہی منسوب کردی ،(تفصیل کیلئے دیکھئے الامام ابوحنیفۃ ونسبتہ الی القول بخلق القرآن وکتاب الحیل المنسوب الیہ ،مصںفہ عمرو عبدالمنعم سلیم،مکتبہ دارالضیاء،مصر )

    امام شافعی کی جانب غلط سلط طورپروصیت منسوب کردی گئی( سیر اعلام النبلاء۱۰؍۷۹)امام احمد بن حنبل کی جانب اسی طرح جعلی تصنیفات منسوب کردی گئی ہیں،جیسے نہایت عظیم تفسیر قرآن کریم جس میں ایک لاکھ بیس ہزار حدیثیں تھیں(سیراعلام النبلاء۱۳؍۵۲۱)[1]اورجیسے رسالۃ الاصطخری [2](سیر اعلام النبلاء۱۱؍۲۸۶ )اورجیسے الرد علی الجھمیۃ[3](سیراعلام النبلاء۱۱؍۲۸۶)آخر الذکر کے بارے میں امام ذہبی لکھتے ہیں

    پھر جب تصنیف وتالیف کا دور آیاتواس میں بھی مکروزُور کا دور شروع ہوگیا،اورکتابیں گڑھ کر ایک دوسرے کی جانب تصنیف کی جانے لگیں اور اگر کتابیں گڑھنے کی فرصت اورموقع نہ ملتا توپھر کسی کتاب مین الحاق وغیرہ کردیاجاتا،امام غزالی کی جانب کئی کتابیں ایسی ہی لوگوں نے منسوب کردیں (جس کی تفصیل علامہ شبلی نعمانی نے ’’الغزالی‘‘ میں دی ہے)کسی نے امام ابوحنیفہ کے خلاف کتاب لکھ کر امام مجدالدین شیرازی صاحب قاموس کی جانب منسوب کردیا،جب ان سے اس بارے میں باز پرس ہوئی توانہوں نے لاعلمی کا اظہار کیااورصاف انکار کیا اور کہاکہ اگر اس طرح کی کوئی کتاب ہے تواسے پھاڑ کر جلادو،(الرفع والتکمیل،تحقیق شیخ عبدالفتاح ابوغدہ،382)[4]بقول شعرانی ابن عربی کی کتابوں میں بھی لوگوں نے جعل والحاق کیاہے،اورشعرانی نے توخود اپنی تصنیفات کے بارے میں لکھے ہیں کہ ان کے حین حیات فتنہ پردازوں نے الحاق وتدسیس کردی تھی(دیکھئے الرفع والتکمیل 382) پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے تاریخ تصوف پرلکھی اپنی ایک تصنیف میں بتایاہے کہ جعل والحاق یوں توتمام علوم وفنون میں ہواہے ؛لیکن بیشترحضرات صوفیاء کرام کے اس میں ہواہے ،کیونکہ یہاں حسن ظن کا زور زیادہے اور علمی تنقید ونکیر کا رواج کم ہے، اس سے زنادقہ کو شہ بھی ملی اوران کی اس کارستانی کا پردہ بھی فاش نہیں ہوا۔

    ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا جومقام ومرتبہ ہے،وہ کسی سے مخفی نہیں،ہرفرقہ اور گروہ اپنی نسبت ان کی جانب کرتاہے ؛لیکن شاہ صاحب ان گروہ بندیوں سے بالاتر ہوکر زبان حال سے کہتے ہیں۔

    وکل یدعی وصلابلیلی

    ولیلی لاتقرلھم بذلک​

    حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیفات سے ہندوستان میں علوم اسلامی کی ازسرنواحیاء کی اوراس کے تن مردہ میں جان ڈالی،حضرت شاہ صاحب ہمہ جہت اورہفت قلم شخصیت ہیں،لہذا بیشتر علوم اسلامی میں ان کی تصنیفات پائی جاتی ہیں،چاہے وہ قرآن ،ہویاتفسیر،فقہ ہویاتصوف،علم کلام کلام ہو یافلسفہ،ان کا قلم ہرمیدان میں رواں دواں ہے ۔

    شاہ صاحب بھی لوگوں کے اس کرم یاستم سے نہیں بچ سکے کہ ان کی جانب جعلی تصنیفات کی نسبت کردی گئی اوران تصنیفات کو یہ کہہ کر شہہ دیاگیاکہ یہ تصنیفات حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی ہیں، جب ہم غورکرتے ہیں توپاتے ہیں کہ اس نسبت میں مالی منفعت سے زیادہ گروہی اورمسلکی عصبیت کارفرماہے، اوریہ بھی عین ممکن ہے کہ جیساکہ ماضی میں کچھ لوگ نیک نیتی سے احادیث وضع کیاکرتے تھے کہ لوگوں کو قرآن وحدیث پر عمل کی ترغیب دلائیں، اسی طرح شاید کسی نے سوچاکہ ہو حضرت شاہ ولی اللہ کی دعوت بھی رجوع الی القرآن والسنت کی ہے ،لہذا اگراس پیغام کو ان کی جانب منسوب کرکے بیان کیاجائے توان کی شخصیت سے لوگوں کی توجہ ملے گی اورلوگ اس کو پڑھیں گے ۔

    حضرت شاہ صاحب کی طرف منسوب جعلی تصنیفات میں سے ایک کا نام البلاغ المبین فی احکام رب العالمین ہے،میرے سامنے اس کا اردو ترجمہ ہے جو کسی مولانا محمد علی مظفری نے کیاہے،اوریہ کتاب فاروقی کتاب خانہ ملتان سے ۱۹۷۸ء میں چھپی ہے اوریہ کتاب غیرمقلد حضرات کے معروف کتابی فورم کتاب وسنت ڈاٹ کام پر بھی موجود ہے، اس سائٹ کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہاں پر کتابوں کا انتخاب علماء کی ایک جماعت کرتی ہے اوریہ کمیٹی جس کتاب پر صاد کرتی ہے،اسی کو اپلوڈ کیاجاتاہے،اس کتاب کا مندرجہ ذیل الفاظ میں کسی راسخ نام کے شخص نے تعارف پیش کیاہے:

    حیرت کی بات یہ ہے کہ پورے کتاب میں نہ کوئی تقریظ ہے ،نہ کتاب کا تعارف پیش کیاگیاہے،نہ ہی یہ بتایاگیاہے کہ شاہ صاحب کی اس کتاب کی اہمیت کیاتھی اوراس سے پہلے کب کب شائع ہوچکی ہےوغیرذلک ،بس عرض مترجم ہے اور مترجم نے یہ بھی بتانے کی زحمت گوارانہیں کی کہ اس نے جس فارسی نسخہ سے یہ ترجمہ کیاہے،وہ ان کو کہاں سے دستیاب ہوا۔

    شاہ صاحب کی جانب غلط کتابوں کی نسبت لگتاہے کہ ان کے انتقال کے تھوڑے عرصہ بعد ہی شروع ہوگئی تھی،یہی وجہ ہے کہ اس پر قاری عبدالرحمن پانی پتی( متوفی ۱۳۱۴ھ،مطابق ۱۸۹۶ء)لکھتے ہیں:

    چنانچہ حضرت شاہ عبدالقادر فرزندگرامی قدر حضرت شا ہ ولی اللہ محدث دہلوی کی جانب بھی ایک جعلی تفسیر منسوب کردی گئی ہے،اس جعلی تفسیر کا نام تفسیر موضح القرآن ہے[5]،اورجس کی وضاحت شاہ رفیع الدین کے نبیرہ ظہیرالدین عرف سید احمد ولی اللہی جنہوں نے شاہ صاحب کی کتابیں بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہیں، انہوں نے ’’تفسیر موضح القرآن‘‘ کو شاہ عبدالقادر کی جانب منسوب جعلی تصانیف میں شمار کرایاہے اورعوام کو اس تفسیر کے بارے میں آگاہ کیاہےظہیرالدین عرف سید احمد ولی اللہی شاہ ولی اللہ کی جانب جعلی تصنیف سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    سید احمد شاہ اول کے اس بیان سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان کے زمانہ میں ہی شاہ ولی اللہ اوران کے اولاد واحفاد کی جانب جعلی تصانیف کی نسبت یاصحیح النسبت کتابوں میں الحاق وآمیزش کاعمل شروع ہوچکاتھا۔

    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی جانب کئی کتابیں صاحبان مکر وزور نے غلط طورپر منسوب کردی ہیں،ان میں سے ایک البلاغ المبین بھی ہے، البلاغ المبین پہلی مرتبہ مطبع محمدی لاہور سے ۱۳۰۷ھ میں طبع اورشائع ہوئی،اس کے طابع اورناشر ایک اہل حدیث عالم مولوی فقیراللہ ہیں، انہوں نے کہیں اس بات کاذکر نہیں کیاکہ ان کو یہ قلمی نسخہ کہاں سے دستیاب ہوا۔اس رسالہ کی جعلی ہونے پر ڈاکٹر محمد ایوب قادری لکھتے ہیں:

    ویسے یہ حقیقت ہے کہ کبھی کبھی مجرم اپنی جس چال کو سب سے زیادہ بے خطر سمجھتاہے،اسی کے ذریعہ وہ قانون کی گرفت میں آجاتاہے، حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کی جانب اس کتاب کو منسوب کرنے والے نے شاید یہ سوچ کر شیخ عبدالحق محدث دہلوی اورابن تیمیہ کی کتابوں کا زیادہ حوالہ دیا کہ وہ وہ ان کے معتقد ہیں،لیکن یہیں پر اس سے غلطی ہوگئی ،حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا طرز خاص یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب میں شاذ ونادر ہی کہیں شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے اقوال سے استدلال کرتے ہیں،مجھ کو تواب تک کہیں ایسااتفاق نہیں ہوا کہ ان کی تصانیف میں شیخ عبدالحق کانام دیکھاہو،اسی طرح ابن تیمیہ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ان کے رفعت مقام کا توتذکرہ کیاہے،لیکن وہ اپنی تصانیف میں ابن تیمیہ کے کلام سے استدلال نہیں کرتے ،اور ابن تیمیہ ہی کیا،وہ متقدمین ومتاخرین علماءمیں سے بہت کم کے تصنیفی اقتباس یاقول کو اپنی تصانیف میں جگہ دیتے ہیں،اورجن کو وہ اپنی تصانیف میں جگہ دیتے ہیں، ان میں شیخ عبدالحق اور ابن تیمیہ کا نام شاذونوادر میں شمار ہے،پھراسی خاص تصنیف میں جس کی نسبت جعلی کا شبہ ہے، وہ اس شبہ کو اوربڑھادیتاہے کہ یہ کام کسی نے اپنی ہوشیاری دکھانے کیلئے کیاہے،لیکن اس کی یہی ہوشیاری اسے گرفت میں لانے کا سبب بن گئی ہے۔

    تصنیف کے جعلی ہونے پر اس طرزعمل سے استدلال مشہور محقق وادیب شہیر مولانا شبلی نعمانی نے بھی کیاہے، چنانچہ وہ امام غزالی کی جانب جعلی تصانیف کے ذکر میں’’سرالعالمین ‘‘کے تعلق سے لکھتے ہیں:

    بعینہ اس کتاب میں بھی یہی چالاکی کی گئی ہے، اوریہی اس کی گرفت کا بھی باعث بن گئی ہے،کیونکہ حجۃ اللہ البالغہ،عقد الجید اوردیگر تصانیف میں کتنے ایسے موقعے اورمباحث ہیں، جہاں ابن تیمیہ یا حضرت شیخ عبدالحق کے کلام سے استدلال کیاجاسکتاتھالیکن انہوں نے ان کتابوں میں کہیں بھی ان کانام نہیں لیا۔

    البلاغ المبین کے جعلی ہونے کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ شاہ صاحب کے معتبر اورمستند تذکرہ نگاروں،ترجمہ نگاروں اور سوانح حیات لکھنے والوں نے ان کی تصنیفات کے ضمن میں البلاغ المبین کانام نہیں لیاہے،چنانچہ سب سے پہلے شاہ صاحب کی سوانح حیات لکھنے والے مولانا رحیم بخش دہلوی اوران کی تصنیف ’’حیات ولی‘‘ ہو،یامولوی رحمان علی کی ’’تذکرہ علمائے ہند‘‘،مولوی فقیر محمد جہلمی کی ’’حدائق الحنفیہ ‘‘ہو یاپھر نواب صدیق حسن خان کی’’ ابجد العلوم‘‘،مولاناعبدالحی لکھنوی سابق ناظم ندوہ العلماء کی ’’نزہۃ الخواطر ‘‘ہو،یامولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی کی ’’تاریخ اہل حدیث‘‘،ان میں سے کسی کے بھی یہاں البلاغ المبین کا ذکر نہیں ہے،اوریہ بجائے خود ایک بڑی دلیل ہے کہ البلاغ المبین جعلی تصنیف ہے۔

    دورحاضر میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ نے تاریخ دعوت وعزیمت کی سیریز میں حضرت شاہ ولی اللہ کی سوانح اوران کی تجدید ی خدمات کا تفصیل سےایک ضخیم جلد میں تذکرہ کیاہے،تصنیفات کے ضمن میں شاہ ولی اللہ کی انہوں نے تمام کتابوں کا ترتیب وار ذکر کیاہے،لیکن ان کے بھی یہاں البلاغ المبین کا تذکرہ نہیں ملتاہے،الفرقان کا شاہ ولی اللہ نمبر بڑی آب وتاب سے شائع ہوا، اورملک کے مقتدر علماءنے اس میں گراں قدر مضامین لکھے،کسی نے بھی شاہ صاحب کی تصنیفات کے ضمن میں البلاغ المبین کا ذکر نہیں کیا،اس کےعلاوہ جیساکہ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ شاہ صاحب کی تصانیف سے نقول واقتباس سے اہل علم اپنی کتابوں کو زینت بخشتے ہیں ،لیکن البلاغ المبین کے ساتھ یہ معاملہ قطعاًنہیں ہے، مجھے وسعت مطالعہ کا دعویٰ نہیں ،لیکن اب تک میں نے علماءاوراہل علم کی جن کتابوں کا مطالعہ کیاہے بالخصوص خود حلقہ اہل حدیث کے علماءحضرات کی کتابوں کا،ان میں ،میں نے کسی کے بھی یہاں البلاغ المبین کا حوالہ نہیں دیکھا۔

    اس کتاب کے جعلی ہونے کی تیسری دلیل یہ ہے کہ اساطین علم وفن حضرات نے اس کتاب کے جعلی ہونے کا اعتراف کیاہے اوراس بارے میں غالباسب سے وزنی شہادت نبیرہ شاہ رفیع الدین ظہیرالدین عرف سید احمد شاہ اول کاہے، وہ انفاس العارفین کے آخر میں لکھتے ہیں:

    نامور عالم مولانا وکیل احمد سکندر پوری البلاغ المبین کے تعلق سے لکھتے ہیں:

    مولانا سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کا علم وفن میں مقام اورحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے علوم وفنون میں ان کو جودسترس حاصل تھی،وہ بھی محتاج اظہار نہیں ہے،البلاغ المبین کے تعلق سے جب مولانا غلام محمد صاحب بی اے (آپ جامعہ عثمانیہ میں مولانا مناظراحسن گیلانی کے شاگرد تھے اور بعد میں آپ نے مولانا سید سلیمان ندوی سے بیعت کی اوران سے ہی خلافت حاصل کی )نے استفسار کیاکہ کیا یہ شاہ ولی اللہ کی تصنیف ہے،کیونکہ اس تصنیف میں شاہ ولی اللہ کا نہ کوئی رنگ دکھتاہے،نہ اسلوب جھلکتاہے اورنہ ہی ان کی فکری گہرائی اور علمی گیرائی کی کوئی علامت دکھائی پڑتی ہے تواس پر سید سلیمان ندوی صاحب نے بھی فرمایاکہ یہ کتاب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی نہیں ہے،ذیل میں غلام محمد صاحب بی اےکا سوال اور علامہ سید سلیمان ندوی کا جواب درج کیاجاتاہے۔

    بلاغ المبین کے نام سے ایک کتاب اہل حدیث حضرات کی طرف سے شائع ہوئی ہےاوراس کو مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی بتایاگیاہے،کیایہ کتاب واقعتاًشاہ صاحب کی ہے؟اور اگرہے تواس میں بعض مسائل ایسے ملتے ہیں جن میں شدت حد اعتدال سے زائد ہے۔

    غلام محمد صاحب اپنی تحقیق اور سید صاحب کا جواب اس طرح درج کرتے ہیں:

    البلاغ المبین شاہ صاحب کی تصنیف نہیں ہے ،اس کی تائید خود ایک بڑے اہل حدیث عالم واہل قلم مولانا غلام رسول مہر نے بھی کی ہے، چنانچہ وہ محمد ایوب قادری کے ایک استفسار کے جواب میں جو۲۸؍فروری ۱۹۶۴کو دیاگیاہے،فرماتے ہیں:

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ البلاغ المبین حضرت شاہ ولی اللہ کی کتاب نہیں ہے،اوراس کی دلیل اولاًخود اس کتاب کا اسلوب اور طرز تحریر ہےجو شاہ ولی اللہ کی کتابوں سے یکسر مختلف اورجداگانہ ہے ،دوسرے شاہ ولی اللہ کے معتبر اورمستند سوانح نگاروں نے ان کی تالیفات میں اس کتاب کا نام نہیں لیاہے، تیسرے شاہ عبدالقادر کے نبیرہ اور دیگر اہل علم جیسے علامہ سیدسلیمان ندوی اور مولانا غلام رسول مہر وغیرہ نے اس کتاب کی شاہ ولی اللہ کی جانب نسبت کی ہے اورچوتھے جن لوگوں نے اس کتاب کو شاہ ولی اللہ کی جانب منسوب کیاہے ،ان کے پاس اس کتاب کو شاہ ولی اللہ کی تصنیف باور کرانے کی کوئی دلیل نہیں ہے، محض کسی کا چھاپ دینا کوئی دلیل نہیں بنتاتاکہ وقتیکہ علمی اورمستند طریقہ پر یہ ثابت نہ کردیاجائے کہ یہ کتاب فلانے کی ہے،پانچویں اہل علم نے اس کتاب کو بالکل نظرانداز کیاہے اور قابل ذکر صاحبان فکر ونظر واہل علم نے اس کتاب کے نقول واقتباسات سے اپنی تحریروں کو مزین نہیں کیاہے۔

    نوٹ:یہ واضح رہے کہ یہ تحریر محمد ایوب قادری ایم اے کے ایک مقالہ ’’شاہ ولی اللہ دہلوی سے منسوب تصنیفات‘‘سے مستفاد ہے، قدیم کتابوں کے تمام حوالہ اسی مقالہ سے لیے گئے ہیں اوریہ مقالہ سندھ سے شائع ہونے والے ماہنامہ الرحیم جون۱۹۶۴ء میں شائع ہواہے۔

    [1]:مازلنا نسمع بهذا (التفسير) الكبير لأحمد على ألسنة الطلبة وعمدتهم حكاية ابن المنادي هذه، وهو كبير قد سمع من جده وعباس الدوري، ومن عبد الله بن أحمد، لكن ما رأينا أحدا أخبرنا عن وجود هذا (التفسير) ، ولا بعضه ولا كراسة منه، ولو كان له وجود، أو لشيء منه لنسخوه، ولاعتنى بذلك طلبة العلم، ولحصلوا ذلك، ولنقل إلينا، ولاشتهر، ولتنافس أعيان البغداديين في تحصيله، ولنقل منه ابن جرير فمن بعده في تفاسيرهم، ولا -والله- يقتضي أن يكون عند الإمام أحمد في التفسير مائة ألف وعشرون ألف حديث، فإن هذا يكون في قدر (مسنده) ، بل أكثر بالضعف، ثم الإمام أحمد لو جمع شيئا في ذلك، لكان يكون منقحا مهذبا عن المشاهير، فيصغر لذلك حجمه، ولكان يكون نحوا من عشرة آلاف حديث بالجهد، بل أقل.

    ثم الإمام أحمد كان لا يرى التصنيف، وهذا كتاب (المسند) له لم يصنفه هو، ولا رتبه، ولا اعتنى بتهذيبه، بل كان يرويه لولده نسخا وأجزاءا، ويأمره: أن ضع هذا في مسند فلان، وهذا في مسند فلان، وهذا (التفسير) لا وجود له، وأنا أعتقد أنه لم يكن

    [2]:فهذه الرسالة إسنادها كالشمس، فانظر إلى هذا النفس النوراني، لا كرسالة الإصطخري

    [3]:ولا كالرد على الجهمية الموضوع على أبي عبد الله (1) ، فإن الرجل كان تقيا ورعا، لا يتفوه بمثل ذلك.ولعله قاله

    الردعلی الجھمیۃ کے تعلق سے سیر اعلام النبلاء کے محقق شیخ بشارعواد معروف لکھتے ہیں:

    يرى الذهبي المؤلف أن كتاب " الرد على الجهمية " موضوع على الامام أحمد.

    وقد شكك أيضا في نسبة هذا الكتاب إلى الامام أحمد بعض المعاصرين في تعليقه على " الاختلاف في اللفظ، والرد على الجهمية " لابن قتيبة.ومستنده أن في السند إليه مجهولا، فقد رواه أبو بكرغلام الخلال، عن الخلال، عن الخضر بن المثنى، عن عبد الله بن أحمد، عن أبيه ... والحضر بن المثنى هذا مجهول، والرواية عن مجهول مقدوح فيها، مطعون في سندها.

    وفيه ما يخالف ماكان عليه السلف من معتقد، ولا يتسق مع ما جاء عن الامام في غيره مما صح عنه وهذا هو الذي دعا الذهبي هنا إلى نفي نسبته إلى الامام أحمد ومع ذلك فإن غير واحد من العلماء قد صححوا نسبة هذا الكتاب إليه، ونقلوا عنه، وأفادوا منه، منهم القاضي أبو يعلى، وأبو الوفاء بن عقيل، والامام البيهقي، وابن تيمية، وتلميذه ابن القيم، وتوجد من الكتاب نسخة خطية في ظاهرية دمشق، ضمن مجموع رقم (116) ، وهي تشتمل على نص " الرد على الجهمية " فقط، وهو نصف الكتاب، وعن هذا الأصل نشر الكتاب في الشام، بتحقيق الأستاذ محمد فهر الشقفة.

    ومما يؤكد أن هذا الكتاب ليس للامام أحمد أننا لانجد له ذكرا لدى أقرب الناس إلى الامام أحمد بن حنبل ممن عاصروه وجالسوه، أو أتوا بعده مباشرة وكتبوا في الموضوع ذاته كالامام البخاري ت 256 هـ، وعبد الله بن مسلم بن قتيبة ت 276 هـ، وأبي سعيد الدارمي ت 280.والامام أبو الحسن الأشعري قد ذكر عقيدة الامام أحمد في كتابه " مقالات الإسلاميين "، ولكنه لم يشر إلى هذا الكتاب مطلقا، ولم يستفد منه شيئا.

    یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ جن صاحب نے اس کتاب کو اپنی تحقیق سے شائع کیاہے یعنی استاد مہر الشفقہ ،انہوں نے مقدمہ میں سب سے بڑی دلیل اس کتاب کی صحت کی یہ مانی ہے کہ اس کتاب کےا قتباسات ابن تیمیہ وابن قیم نے نقل کئے ہیں،لیکن اس استدلال سے بالکل ہی منہ موڑ لیاہے کہ متقدمین اصحاب کیوں اس سے استدلا ل نہیں کرتے تھے؟جیساکہ دکتور بشارعواد نے کہاہے

    [4]:قد دس الزَّنَادِقَة تَحت وسَادَة الامام احْمَد بن حَنْبَل عقائد زائفة وَلَوْلَا ان اصحابه يعلمُونَ مِنْهُ صِحَة الِاعْتِقَاد لافتتنوا لما وجدوا وَكَذَلِكَ دسوا على شيخ الاسلام مجد الدّين الفيروز ابادي صَاحب الْقَامُوس كتابا فِي الرَّد على ابي حنيفَة وتكفيره ودفعوه الى ابْن الْخياط اليمني فارسل يلوم الشَّيْخ مجد الدّين على ذَلِك فَكتب اليه ان كَانَ هَذَا الْكتاب بكفك فاحرقه فانه افتراء من الاعداء وانا من اعظم المعتقدين فِي الامام ابي حنيفَة وَذكرت مناقبه فِي مُجَلد


    [5]:حضرت شاہ عبدالقادر نے ۱۷؍سال کی مدت میں ترجمہ قرآن مکمل کیا ،واضح رہے کہ بعض حضرات نے جیسے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب وغیرہ نے معارف القرآن کے مقدمہ میں لکھاہے کہ چالیس سال معتکف رہ کر ترجمہ قرآن مکمل کیا، یہ تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہے،اس ترجمہ میں کہیں کہیں حضرت شاہ صاحب نے کچھ تفسیری نکات اورحواشی تحریرفرمائے ہیں،ترجمہ کا تاریخی نام موضح قرآن ہے۔

    موضح القرآن نام کی ایک تفسیر جو حضرت شاہ عبدالقادر ؒ کی جانب منسوب ہے،ابو محمدثابت علی اعظم گڑھی اور غلام حسین مونگیری نے مطبع خادم الاسلام دہلی سے سات جلدوں میں طبع کراکے شائع کی، اس کی دوسری جلد پر میاں نذیر حسین دہلوی (۱۹۰۲)کے داماد مولوی سید شاہجہاں کی تقریظ ہے اور کتاب کے آخر میں اشتہار ہے کہ شہر دہلی پھاٹک حبش خان مدرسہ مولانا سید محمد نذیرحسین صاحب سے طلب فرمائیں،یہ تفسیر بھی جعلی تفسیر ہے،کیونکہ اگر واقعتاً شاہ عبدالقادر کوئی تفسیر لکھتے تو عوام وخواص میں اس کی بڑی شہرت ہوتی جیساکہ ان کے ترجمہ قرآن کو شہرت دوام حاصل ہے اوران کے حالات وسوانح میں تذکرہ نگار اس تفسیر کا خصوصی اہتمام کرتے،علماءاس تفسیر سے نقل واقتباس کرتے اوراس سے اپنی تصنیفات وتالیفات کو زینت بخشتے؛لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایساکچھ نہیں ہے اورجوتفسیر جعلی طورپر ان کی جانب منسوب کرکے شائع کی گئی،وہ کب کی اپنی موت آپ مرچکی ہے ،اللہ کا ارشاد کتناسچاہے، فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ(الرعد:۱۷)
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں