اللہ اگر تو فیق ن0 دے انسان کے بس کی بات نہیں

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 15, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,669
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں​
    تاریخ کے جھروکوں سے
    شیخ بدر الدین محمود بن اسرائیل (ابن قاضی سیماونہ)
    سلطان محمد کے زمانہ میں بدرا لدین نامی ایک شخص ظاہر ہوا جس نے مسلم علمائے دین کا روپ دھار رکھا تھا ۔وہ سلطان محمد کے بھائی موسیٰ کے لشکر میں تھا ،اور اس دور کے دولت عثمانیل کے سب سے بڑے منصب قاضی العسکری کے عہدے پر فائز ہوا ، موسیٰ بن یزید نے اسے اپنےا مقرب کاص بنا لیا اور یوں وہ لوگوں کی عقیدتوں کا مر کز بن گیا ۔
    االشقائق العثمانیہ کے مصنف کہتے ہیں ’’ شیخ بدر الدین محمودبن اسرائیل جو ابن قاضی سیماونہ کے نام سے مشہور تھا بلاد روم میں واقع سیماونہ قلعہ میں پیدا ہوا جو ایڈریا نو پل کاا ایک دیہات ہے اور ترکی کے اس خاص علاقہ میں واقع ہے جو یورپ میں آتا ہے ۔ اس کا باپ یہاں کا قاضی تھا ۔وہ یہاں پر مقیم مسلم فوج کا امیر تھا ۔اس قلعہ کی فتح کی سعادت بھی بدر الدین کے والد کو ھاصل ہو ئی تھی ۔ شیخ بد ر الدین کی ولادت سلطان گازی خدا وند کار (مراد اول ) کے دور حکومت میں ہو ئی ۔ بچپن میں اس نے اپنے والد سے اکتساب علم کیا ، قرآن کریم حفظ کیا ۔ پھر مو لانا زہدی کے نام سے معروف ایک عالم سے ابتدائی کتب پڑھیں ۔ صرف ونھو کی کچھ کتابیں مولانا یوسف سے پڑھیں ۔ پھر مصر چلا گیا اور سید شریف جرجانی کی معیت میں مولانا مبارک شاہ منطقی مدرس قاہرہ سے اکتساب کیا ، پھر مبارک شاہ کے ساتھ حج بیت اللہ کیا اور مکہ شریف میں شیخ زیلعی کے سامنے زانوئے تلمز تہہ کئے۔ مکہ مکرمہ سے دوبارہ قاہرہ آیا اور سید جر جانی کی معیت میں شیخ اکمل الدین ‘‘بایبوری‘‘ سے استافدہ کیا ۔ شیخ اکمل الدین مملوکی شاہ مصر سلطان فرج بن سلطان بر بوق کے استاد تھے۔
    ظاہری تعلیم سے فراغت پا کر شیخ بدر الدین کو تصوف کا شوق ہوا اور اس دور میں مصر کے عظیم روحانی پیشوا سیخ سعید اخلاطی کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ہا تھ پر بیعت کی ۔شیخ اخلاطی نے اسے تبریز بھیجا کہ وہ لو گوں کو اللہ اللہ کرنا سکھائیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب تیمور لنگ تبریز آیا تو اس نے بد رالدین کی بڑی عزت افزائی کی اور بے تحاشا دولت اس کے نذر کی یہ تمام دولت چھوڑ کر روانہ ہو گیا ۔ پہلے وہ بدلیس گیا ۔ پھر مصر کی طرف سفر کیا ۔ازیں بعد حلب اور کونیہ سے ہو تا ہوا بلاد روم میں تبرہ پہنچا ۔
    یہاں اسےجزیرہ ساقز کے رئیس جو مذہبا نصرانی تھا۔ کا دعوت نامہ پہنچا ۔بدر الدین اس کی دعوت پر ساقز گیا۔ نصرانی امیر نے اس کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی ۔ــــــــ اس کے بعد جب موسیٰ بن سلطان غازی کی عملداری ہوئی تو موسیٰ نے اسے قاضی عسکر کے منصب پر فائز کیا ۔ موسیٰ اپنے بھائی محمد کے ہاتھوں قتل ہوا تو بدر الدین اپنے اہل وعیال سمیت ازنیق کے شہر میں محبوس ہو کر رہ گیا۔ بدر الدین نے لوگوں کو اپنے غلط اور فاسد مذہب کی طرف دعوت دینا شروع کردی ۔وہ لوگوں کو مال ومتاع اور ادیان میں مساوات کی دعوت دیتا تھا ۔اور مسلم وغیر مسلم کے درمیا عقیدہ میں کسی تفریق کا قائل نہیں تھا ۔وہ کہا کرتا تھا سب انسان بھائی بھائی ہیں قطع نظر اس کے کہ ان نظریات اور ان کے دین کیا ہیں ۔ یہودی ماسونیت کی دعوت بھی یہی تھی ۔وحدت الادیان کی اس دعوت پر پہلے جاہلوں ، نا سمجھوں اور ابن الوقت لوگوں نے لبیک کہا اور بدر الدین کے بہت سے مرید اور شاگر اس دعوت کے پر چارک بن گئے ۔ جو لوگوں کو بدر الدین کے منہج اور مذہب کی دعوت دیتے تھے۔ ان مبلغین میں ایک شخص کا نام بہت مشہور ہوا جسے پیر قلیجہ مصطفی کہا جاتا ہے اس کے علاوہ ’’ طورہ کمال ‘‘ جو دراصل یہودی نسل سے تھا ۔کافی شہرت رکھتا تھا ۔ یہودی رسول اللہﷺ کے دور سے آج تک مسلمانوں کے خلاف شازیں کرتے آرہے ہیں ۔
    الغرض" وحدۃ الادیان" کا یہ باطل مذہب کا فی گیا اور اس کے پیرو بہت زیادہ ہوگئے حتی کہ اس باطل عقیدہ کی بازگشت سلطان محمد چلپی کے کانوں تک پہنچی۔ لہذا سلطان نے اپنے ایک قائد کو لشکر جرار کے ساتھ بدر الدین کے ساتھ جنگ کرنے کی غرض سے بھیجا لیکن صد افسوس کہ اس لشکر کا سپہ سالار سیسمان جس کو محمد چلپی نے بھیجا تھا " پیرقلیجہ" کے ہاتھوں قتل ہوا اور اس کے لشکر نے شکست کھائی- سلطان محمد چلپی نے اپنے وزیر خاص" بایزید پاشا" سرکردگی میں ایک اور لشکر روانہ کیا جس نے"پیر کلیجہ "سے جنگ کی اور اسے" قرۃ بورنو" کے مقام پر شکست دی اور" پیر کلیجہ مصطفی" پر جنگ کرنے کی حد لاگوکی یہ دراصل اللہ کریم کے اس حکم کی تابع داری تھی۔ انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا انیقتلوا او یصلبو الی آخرہ المائدہ۔" بلاشبہ سزا ان لوگوں کی جو جنگ کرتے ہیں اللہ سے اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد برپا کرنے کی یہ ہے کہ انہیں( چن چن کر) قتل کیا جائے یا سولی دیا جائے یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اوران کے پاؤں مختلف طرفوں سے یا جلا وطن کر دیے جائیں۔یہ تو ان کے لئے رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں( اس سےبھی بڑی) سزا ہے"- ‌۔ شیخ بدر الدین اپنی گمراہی پر قائم رہا۔ وہ گمان کرتا تھا کہ وہ اس علاقے پر غلبہ حاصل کر لے گا کیونکہ وہ علاقہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا اور ہر طرف سے حملوں کی وجہ سے اس میں لاقانونیت کی فضا چھائی تھی ۔بدرالدین کہا کرتا تھا "میں پوری دنیا کو زیرنگیں کرنے کے لیے تحریک چلاؤ گا" اور میرے عقائد جن کے بارے غیبی اشارے ملے ہیں۔ دنیا میں مقبول ہوں گے۔
    دنیا کو اپنے دومریدوں میں علم اور راز توحید کی طاقت سے تقسیم کروں گا۔ اہل تقلید کے قوانین اور اان کا مذہب عنقریب باطل کر دوں گا۔ اور اپنا وسیع المشربی کی بدولت بعض شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھراؤنگا"
    رومانیہ کے امیرالاخلاق نے اس بدعتی اور خارجی( جس نے اہل اسلام سے علیحدگی اختیار کرلی) کی مدد کی .سلطان محمد چلپی اس مادیت پرست اور دشمن اسلام زندیق اور اسکی باطل دعوت کی تاک میں تھا اس نے اس زندیق کا ناطقہ بند کر دیا حتی کہ بد ر الدین مجبورا دلی اور مان کے علاقے میں چلا گیا جو آج کل بلغاریہ میں ہے۔
    محمد شرف الدین شیخ بدرالدین کی دلی اور مان کی طرف جانے کے متعلق لکھتے ہیں۔ یہ اور اس کے اردگرد کے علاقے باطنی مذہب کا گڑہ تھے۔ یہی وہ علاقہ ہے جو بابا اسحاق کی تحریک کا مرکز رہا ہے جو ساتویں صدی ہجری کے نصف میں دولت عثمانیہ کے خلاف آمادہ بغاوت ہوا ۔
    شیخ بدرالدین کا اس علاقے کی طرف جانا اور اپنے لاکھوں مریدوں کے ساتھ وہاں پر غلبہ پانا اور ان علاقوں میں اس کی تحریک کا زور پکڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ شیخ نے اس علاقے کا انتخاب اپنی مرضی سے کیا تھا۔ دلی اور مان میں یورپی امداد شیخ کو برابر پہنچنے لگی ۔اور عثمانی فرمانروا محمد اول کے خلاف بغاوت کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا اور حقیقی اسلام کے دشمن ان باطنیوں کی تعداد ٧,٨ہزار جنگوں تک پہنچ گئی۔
    سلطان اول بڑا بیدار مغز اور محتاط شخص تھا۔ وہ ہر کام کو پوری احتیاط اور سوچ سمجھ کر سر انجام دیتا تھا تھا ۔اس کے کے گٹھ جوڑ سے غافل کیسے ہو سکتا تھا ۔ بدرالدین اور اُس کے حواریوں کی اس تحریک کو دبانے کے لیے اس نے کسی دوسرے قائد کا انتخاب نہ کیا ۔ خود ہتھیار سجا کر میدان میں اترا اور ایک لشکرجرار کی قیادت کرتا ہوا دلی اور مان میں جا پہنچا ۔
    سلطان محمد نے سی روز جو اب یونان میں ہے، کو اپنی قیادت کا مرکز بنایا اور اپنے فوجیوں کو باغیوں کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ دونوں طرف سے حملے ہونے لگے ۔ باغیوں کو شکست ہوئی اور ان کا سرغنہ بدرالدین دلی اور مان میں شکست کے بعد سلطان کے خوف سے روپوش ہوگیا۔
    سلطان کے مخبروں نے پوری کوشش کی باغیوں کی صفوں میں گھس گئے اور پوری ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے بالآخر باغیوں کا سرغنہ بدعتی، بدمذہب بدرالدین کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
    بدرالدین کو جب سلطان محمد کے سامنے پیش کیا گیا تو سلطان نے اس سے پوچھا کیا وجہ ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کا چہرہ زرد پڑ چکا ہے؟
    بدرالدین نے بادشاہ کو جواب دیا اور کہا :اے میرے آقا سورج جب غروب ہونے لگتا ہے تو اس کا رنگ زرد ہوجاتا ہے۔
    سلطنت کے علماء نے بدرالدین سے آزادانہ مناظرہ کیا پھر اس کو شرعی قانون کے مطابق سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔
    علماء اسلام نے حدیث ذیل کی روشنی میں یہ سزا تجویز کی۔
    من اتاکم وامرکم جمیعا علی رجل واحد یرید ان یشق عصا کم ویفرق جماعتکن فاقتلوہ
    " جو تمہارے پاس آئے اور تمہیں ایک ایسے شخص کو حاکم بنا نے کا حکم دےجو تمہارا عصا توڑنا چاہتا ہو اورتمہاری جمیعت کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہو تو اس کو قتل کردو "
    وہ باطل نظریہ جس کی بدرالدین دعوت دیا کرتا تھا وہ بعینہ ماسونیت یہودی نظریہ ہے جس کی 15ویں صدی ہجری ،بیسویں صدی میلادی میں پورے زور شور سے دعوت دی گئی۔ اور اس دعوت کا مقصد صحیح اسلامی عقیدہ رکھنے والوں اور باطل نظریات کے پجاریوں کے درمیان سے تمام پردوں کو ہٹا کر انہیں ایک ہی ملت بنانے کی سازش کرنا ہے۔ کیونکہ "وحدت ادیان "کا پرچار کرنے والے یہ یہودی مکار تمام انسانوں۔ مسلمانوں ۔ یہودیوں۔ عیسائیوں۔ گائے کی پوجا کرنے والوں اور کمیونسٹوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے کی خواہاں ہیں اور یہ بات اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔ کیونکہ اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ مسلمانوں اور باطل نظریات کے حامل افراد کے درمیان کوئی بھائی چارہ نہیں ۔کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں اور توحید کی آواز بلند کرنے والے اہل ایمان کے درمیان رشتہ اخوت کیسے قائم ہو سکتا ہے( دولت عثمانیہ)

اس صفحے کو مشتہر کریں