اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے ۔۔۔ ام ابی ہریرہ

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 15, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
    ام ابی ہریرہ


    (1)
    [​IMG]
    (2)
    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,651
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    [align=center]اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
    ام ابی ہریرہ​
    [/align]

    یہ خبر سن کر کہ ولی کامل پیر طریقت حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر اس دار فانی سے کوچ کر گئے ،ایسا لگا کہ دل کی دھڑ کن تھم گئی ہے ، سننے کے بعد یقین کرنے کو دل کسی بھی طرح سے راضی نہ ہوا ۔حضرت والا کی درازئ عمر کیلئے یہ زبان ہمیشہ دعا گو رہی ۔اس پُر فتن دور میں حضرت کا وجود ہمارے لئے باعث ِرحمت تھا ، مگر اللہ کی حکمت کو سمجھنا ہم جیسے نا سمجھوں کیلئے مشکل ہے ۔اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے ۔صبر اور ثواب کی امید باقی ہے ۔حضرت ہی کا ایک شعر کتنا بر محل ہے جو انہوں نے اپنی اہلیہ کی وفات پر کہا ؎
    کیف تسلیم ورضا سے ہے بہارِ بے خزاں۔ صدمہ وغم میں بھی اختر روح رنجیدہ نہیں۔
    حضرت والا کی ولادت با سعادت ہندوستان کے صوبہ یوپی کے ضلع پر تاب گڑھ کی ایک چھوٹی سی بستی اٹھیہ کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی ۔آپ کے والد ماجسد کا نام محمد حسین تھا جو ایک سر کاری ملازم تھے ،آپ اپنے والد کے اکلوتے فر زند تھے ۔آپ کی دو ہمشیرگان تھیں بچپن ہی سے حضرت والا پر آثار ِجذب کا ظہور ہو نے لگا تھا ۔ان کی عبادت کے شوق کو دیکھتے ہوئے ان کے والد صاحب ان کا نام لینے کے بجائے "مولای" کہا کرتے تھے ۔حضرت والا کے قرآن پاک کے استاد بڑی درد بھری آواز میں مولانا جلال الدین ؒ رومی کی مثنوی پڑھا کرتے تھے ۔ جس کی وجہ سے آپ کو مولانا رومیؒ سے بے پناہ محبت ہو گئی تھی اور مثنوی سمجھنے کے شوق میں فارسی تعلیم حاصل کر نی شروع کر دی ۔اکثر فر مایا کرتے تھے کی میرے اول تو شیخ مولانا رومیؒ ہیں جن سے مجھے اللہ کی محبت کا درد حاصل ہوا ۔والد صاحب کی خواہش پر الٰہ آباد سے طب کی تعلیم حاصل کی ۔اکثر فر مایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فر مائے میرے والد کو جنہوں نے مجھے طب پڑھائی جس سے مجھے اپنے احباب کو غیر معتدل ہونے سے بچانے میں مدد ملتی ہے ۔حضرت بچپن ہی سے آتش عشق الٰہی سے نوازے گئے تھے لہٰذا تلاشِ مرشد میں سر گرداں رہے اور ایک بزرگ حضرت مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڈھیؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے ۔حضرت مولانا محمد احمد مقام قطبیت پر فائز تھے ۔ نہایت درد سے اشعار پڑھا کرتے تھے ۔حضرت والا کا ذوق شعری حضرت مولانا محمد احمد پر تاب گڈھی ؒ کی صحبت سے ہے اور اس دوران آپ کا پہلا شعر ہوا جو یہ ہے ؎
    دردِ فرقت سے مرا دل اس قدر بے تاب ہے ۔۔۔۔جیسے تپتی ریت میں اک ماہی بے آب ہے ۔
    چونکہ اہل عشق اللہ کاا راستہ بہت جلد طئے کرتے ہیں تلاش مرشد پھولپور میں ختم ہوئی ۔ جہاں حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھولپوریؒ مقیم تھے ۔ان کو اپنا مرشد ومصلح منتخب کر نے کا فیصلہ کیا۔ حضرت مولانا عبد الغنی نے آپ کو قبول کیا اور ذکر واذکار کی تلقین فر مائی ۔ اپنے شیخ کے ساتھ ایسے جڑے کہ سترہ سال شاہ عبد الغنی ؒ کی خدمت میں گزاردیئے ۔حضرت اپنے شیخ کے لئے شدید گر میوں میں بھی روز آنہ ایک میل دور ندی سے پانی بھر لاتے ۔حضرت شاہ عبد الغنی پھول پوری ؒ فر ماتے تھے کہ اختر میرے پیچھے ایسا لگا رہتا ہے جیسے دودھ پیتا بچہ ماں کے پیچھے لگا رہتا ہے ۔حضرت شاہ عبد الغنی ؒ کے وہبی علوم حضرت والا کی کے ذریعہ منظر عام پر آئے ۔آپ نے اپنے شیخ کے مدرسہ بیت العلوم سے ہی دینی تعلیم حاصل کی ۔ حضرت والا نے اتنی محنت سے پڑھا کہ درس نظامی کے آٹھ سال کے نصاب کی چار سال میں تکمیل کی ۔ حضرت والا کی پوری زندگی بے تکلفی وساگی اور اللہ کی محبت وورافتگی اور رہ حق کے مجاہدات سے پُر تھی ۔حضرت والا کا نکاح اعظم گڈھ کے قریب ایک گاؤں کوٹلہ کی نہایت دین دار خاتون سے ہوا جو عمر میں حضرت والا سے دس بڑی تھیں ۔1960 میں جب حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوریؒ پاکستان تشریف لائے ،حضرت والا بھی ان کے ہمراہ تھے لیکن اپنی اہلیہ اور فر زند مولانا مظہر میاں صاحب کو ہندوستان ہی میں چھوڑ آئے ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے آخری خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحقؒ صاحب سے بیعت ہو نے کی اجازت حضرت مولانا عبد الغنی ؒ نے اپنی وصیت میں دی تھی ۔حضرت مولا شاہ ابرا لحق ؒ سے اصلاحی تعلق دو سال بعد ہی حضرت والا خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ حضرت والا کی ایک صد کے قریب تصانیف ومواعظ لاکھو کی تعداد میں اردو،انگریزی، فرانسیسی ،فارسی ، ترکی ، بنگالی ، برمی ، پشتو ، گجراتی ، سندھی ، بلوچی اور دیگر زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں ۔
    حضرت بروز بدھ 31 جولائی 200ء کو فالج کا حملہ ہوا لیکن حضرت کے چہرے پر جو اطمینان تھا وہ کسی صحت مند کو بھی حاصل نہ ہوا ہو گا ۔حضرت والا نے تر بیت السالکین میں کبھی اپنی بیماری کو آڑے نہیں آنے دیا ۔حضرت والا کراچی میں میں قیام پہلے ناظم آباد میں تھا ، پھر حضرت شاہ ابرار الحق ؒ کے حکم پر گلشن اقبال کراچی میں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کی بنیاد رکھی اور اسی خانقاہ میں مدرسہ اشرف المدارس اور مسجد اشرف کی تعمیر کی گئی ۔آج یہ خانقاہ پورے عالم کا مر کز ہے ،پوری دنیا سے لوگ اصلاح تزکیہ کے لئے حاضر ہوتے ہیں ۔حضرت کی وفات سے آج ایک جہان محروم ہو گیا ۔جس شخص کو ایمان کامل اور اعمال صالحہ کے ساتھ دنیا سےرحلت نصیب ہو جائے تو یہ ایسی عظیم دولت ہے جس کے مقابلے میں کائنات کی ہردولت ہیچ ہے ۔حضرت والا کی پوری زندگی اللہ سے محبت میں گزری ، فر ماتے تھے کہ جب تک اللہ کی محبت میں بے خودی نہیں ہوتی بندگی میں روح نہیں آتی ۔ حضرت کا یہ شعر تو زبان زد عام ہو گیا ہے کہ ؎
    نقش قدم بنی کے ہیں جنت کے راستے۔۔۔اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
    ام ابی ہریرہ

    یہ خبر سن کر کہ ولی کامل پیر طریقت حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر اس دار فانی سے کوچ کر گئے ،ایسا لگا کہ دل کی دھڑ کن تھم گئی ہے ، سننے کے بعد یقین کرنے کو دل کسی بھی طرح سے راضی نہ ہوا ۔حضرت والا کی درازئ عمر کیلئے یہ زبان ہمیشہ دعا گو رہی ۔اس پُر فتن دور میں حضرت کا وجود ہمارے لئے باعث ِرحمت تھا ، مگر اللہ کی حکمت کو سمجھنا ہم جیسے نا سمجھوں کیلئے مشکل ہے ۔اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے ۔صبر اور ثواب کی امید باقی ہے ۔حضرت ہی کا ایک شعر کتنا بر محل ہے جو انہوں نے اپنی اہلیہ کی وفات پر کہا ؎
    کیف تسلیم ورضا سے ہے بہارِ بے خزاں۔ صدمہ وغم میں بھی اختر روح رنجیدہ نہیں۔
    حضرت والا کی ولادت با سعادت ہندوستان کے صوبہ یوپی کے ضلع پر تاب گڑھ کی ایک چھوٹی سی بستی اٹھیہ کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی ۔آپ کے والد ماجد کا نام محمد حسین تھا جو ایک سر کاری ملازم تھے ،آپ اپنے والد کے اکلوتے فر زند تھے ۔آپ کی دو ہمشیرگان تھیں بچپن ہی سے حضرت والا پر آثار ِجذب کا ظہور ہو نے لگا تھا ۔ان کی عبادت کے شوق کو دیکھتے ہوئے ان کے والد صاحب ان کا نام لینے کے بجائے "مولوی" کہا کرتے تھے ۔حضرت والا کے قرآن پاک کے استاد بڑی درد بھری آواز میں مولانا جلال الدین ؒ رومی کی مثنوی پڑھا کرتے تھے ۔ جس کی وجہ سے آپ کو مولانا رومیؒ سے بے پناہ محبت ہو گئی تھی اور مثنوی سمجھنے کے شوق میں فارسی تعلیم حاصل کر نی شروع کر دی ۔اکثر فر مایا کرتے تھے کی میرے اول تو شیخ مولانا رومیؒ ہیں جن سے مجھے اللہ کی محبت کا درد حاصل ہوا ۔والد صاحب کی خواہش پر الٰہ آباد سے طب کی تعلیم حاصل کی ۔اکثر فر مایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فر مائے میرے والد کو جنہوں نے مجھے طب پڑھائی جس سے مجھے اپنے احباب کو غیر معتدل ہونے سے بچانے میں مدد ملتی ہے ۔حضرت بچپن ہی سے آتش عشق الٰہی سے نوازے گئے تھے لہٰذا تلاشِ مرشد میں سر گرداں رہے اور ایک بزرگ حضرت مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڈھیؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے ۔حضرت مولانا محمد احمد مقام قطبیت پر فائز تھے ۔ نہایت درد سے اشعار پڑھا کرتے تھے ۔حضرت والا کا ذوق شعری حضرت مولانا محمد احمد پر تاب گڈھی ؒ کی صحبت سے ہے اور اس دوران آپ کا پہلا شعر ہوا جو یہ ہے ؎
    دردِ فرقت سے مرا دل اس قدر بے تاب ہے ۔۔۔۔جیسے تپتی ریت میں اک ماہی بے آب ہے ۔
    چونکہ اہل عشق اللہ کا راستہ بہت جلد طے کرتے ہیں تلاش مرشد پھولپور میں ختم ہوئی ۔ جہاں حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھولپوریؒ مقیم تھے ۔ان کو اپنا مرشد ومصلح منتخب کر نے کا فیصلہ کیا۔ حضرت مولانا عبد الغنی نے آپ کو قبول کیا اور ذکر واذکار کی تلقین فر مائی ۔ اپنے شیخ کے ساتھ ایسے جڑے کہ سترہ سال شاہ عبد الغنی ؒ کی خدمت میں گزاردیئے ۔حضرت اپنے شیخ کے لئے شدید گر میوں میں بھی روز انہ ایک میل دور ندی سے پانی بھر لاتے ۔حضرت شاہ عبد الغنی پھول پوری ؒ فر ماتے تھے کہ اختر میرے پیچھے ایسا لگا رہتا ہے جیسے دودھ پیتا بچہ ماں کے پیچھے لگا رہتا ہے ۔حضرت شاہ عبد الغنی ؒ کے وہبی علوم حضرت والا کی کے ذریعہ منظر عام پر آئے ۔آپ نے اپنے شیخ کے مدرسہ بیت العلوم سے ہی دینی تعلیم حاصل کی ۔ حضرت والا نے اتنی محنت سے پڑھا کہ درس نظامی کے آٹھ سال کے نصاب کی چار سال میں تکمیل کی ۔ حضرت والا کی پوری زندگی بے تکلفی وسادگی اور اللہ کی محبت وورافتگی اور راہ حق کے مجاہدات سے پُر تھی ۔حضرت والا کا نکاح اعظم گڈھ کے قریب ایک گاؤں کوٹلہ کی نہایت دین دار خاتون سے ہوا جو عمر میں حضرت والا سے دس برس بڑی تھیں ۔1960 میں جب حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوریؒ پاکستان تشریف لائے ،حضرت والا بھی ان کے ہمراہ تھے لیکن اپنی اہلیہ اور فر زند مولانا مظہر میاں صاحب کو ہندوستان ہی میں چھوڑ آئے ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے آخری خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحقؒ صاحب سے بیعت ہو نے کی اجازت حضرت مولانا عبد الغنی ؒ نے اپنی وصیت میں دی تھی ۔حضرت مولا شاہ ابرا لحق ؒ سے اصلاحی تعلق دو سال بعد ہی حضرت والا خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ حضرت والا کی ایک صد کے قریب تصانیف ومواعظ لاکھوں کی تعداد میں اردو،انگریزی، فرانسیسی ،فارسی ، ترکی ، بنگالی ، برمی ، پشتو ، گجراتی ، سندھی ، بلوچی اور دیگر زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں ۔
    حضرت بروز بدھ 31 جولائی 2000ء کو فالج کا حملہ ہوا لیکن حضرت کے چہرے پر جو اطمینان تھا وہ کسی صحت مند کو بھی حاصل نہ ہوا ہو گا ۔حضرت والا نے تر بیت السالکین میں کبھی اپنی بیماری کو آڑے نہیں آنے دیا ۔حضرت والا کراچی میں قیام پہلے ناظم آباد میں تھا ، پھر حضرت شاہ ابرار الحق ؒ کے حکم پر گلشن اقبال کراچی میں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کی بنیاد رکھی اور اسی خانقاہ میں مدرسہ اشرف المدارس اور مسجد اشرف کی تعمیر کی گئی ۔آج یہ خانقاہ پورے عالم کا مر کز ہے ،پوری دنیا سے لوگ اصلاح تزکیہ کے لئے حاضر ہوتے ہیں ۔حضرت کی وفات سے آج ایک جہان محروم ہو گیا ۔جس شخص کو ایمان کامل اور اعمال صالحہ کے ساتھ دنیا سےرحلت نصیب ہو جائے تو یہ ایسی عظیم دولت ہے جس کے مقابلے میں کائنات کی ہردولت ہیچ ہے ۔حضرت والا کی پوری زندگی اللہ سے محبت میں گزری ، فر ماتے تھے کہ جب تک اللہ کی محبت میں بے خودی نہیں ہوتی بندگی میں روح نہیں آتی ۔ حضرت کا یہ شعر تو زبان زد عام ہو گیا ہے کہ ؎
    نقش قدم بنی کے ہیں جنت کے راستے۔۔۔اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

اس صفحے کو مشتہر کریں