امام بخاری اور اقتدا تقلید آئمہ

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از imani9009, ‏ستمبر 29, 2017۔

  1. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    غیر مقلدین ایڑی چوٹی کا زور لگا کر امام بخاری کو اپنے مسلک کا امام ثابت کرتے ہیں ۔ اور یہ سمجھتےہیں کہ امام بخاری بھی ہماری طرح صرف قرآن و حدیث کو ہی ماننے والے تھے۔ جبکہ اصلیت اس کے بر عکس ہے۔ میرے پاس صحیح بخاری سے امام صاحب کی ایسی دلیل ہے جو غیر مقلدیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

    صحیح بخاری ،کتاب الاعتصام بالکتاب وا لسنتہ،بَابُ الِاقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ
    وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا} [الفرقان: 74] قَالَ: أَيِمَّةً نَقْتَدِي بِمَنْ قَبْلَنَا، وَيَقْتَدِي بِنَا مَنْ بَعْدَنَا وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: ثَلاَثٌ أُحِبُّهُنَّ لِنَفْسِي وَلِإِخْوَانِي: هَذِهِ السُّنَّةُ أَنْ يَتَعَلَّمُوهَا وَيَسْأَلُوا عَنْهَا، وَالقُرْآنُ أَنْ يَتَفَهَّمُوهُ وَيَسْأَلُوا عَنْهُ، وَيَدَعُوا النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی اقتداء۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد اور ہمیں متقین کا امام بنادے اور آئمہ نے کہا کہ ہم اپنے سے پہلے بزرگوں کی اقتدا کرتے ہیں اور ہماری اقتدا ہمارے بعد آنے والے کریں گے اور ابن عون نے کہا کہ تین امور جنہیں میں اپنے لیے بھی پسند کرتا ہوں اور اپنے بھائیوں کے لیے بھی ۔یہ سنت کہ اسے سیکھیں اور اسکے متعلق سوال کریں۔ اور قرآن سمجھیں اور اس کے متعلق سوال کریں اور لوگوں سے قطع تعلق کر لیں سوا ئے خیر کے لیے۔

    حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ قَالَ جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ فِي مَجْلِسِكَ هَذَا فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ قَالَ لِمَ قُلْتُ لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ قَالَ هُمَا الْمَرْءَانِ يُقْتَدَى بِهِمَا

    ترجمہ: ہم سے عمر و بن عباس نے حدیث بیان کی ، ان سے عبدالرحمن نے حدیث بیان کی ، ان سے سفیان نے حدیث بیان کی، ان سے واصل نے ان سے ابو وائل نے بیان کیا کہ اس مسجد (خانہ کعبہ) میں میں شیبہ کے پاس بیٹھا تو انہوں نے کہا کہ جہاں تم بیٹھے تو وہیں عمر رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس بیٹھے تھے ۔ اور آپ نے فرمایا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ کعبہ میں کسی طرح کا سونا چاندی نہ چھوڑوں اور سب مسلمانوں میں تقسیم کر دوں ۔ میں نے کہاں کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہا کیوں۔ میں نے کہا کہ آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے ایسا نہیں کیا تھا اس پر انہوں نے فرمایا کہ وہ دونوں حضرات ایسے تھے جن کی اقتدا کی جاتی ہے

    تقلید بھی اقتدا ء (پیروی کرنے )کو ہی کہتے ہیں
    باب کے الفاظ میں آئمہ کی پیروی کے لیے قرآن کی آیت سے استدلال کیا گیا ہے اور یہ باب اپنے ترجمہ میں بہت واضح ہے کہ آئمہ پہلے والے کی اقتدا کرتے رہے اور ہم ان آئمہ کی اقتدا کریں گے۔ اور آگے اما م بخاری حدیث موقوف لائے ہیں یعنی وہ حدیث جس میں صحابی کے قول فعل و تقریر کا ذکر ہوتا ہے۔ جو اس بات کی واضح نشانی ہے کہ امام بخاری حدیث موقوف کو بھی حجت تسلیم کرتے ہیں اور پھر حدیث موقوف بھی وہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ صحابی رسول صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کا بھی حکم ہے۔
  2. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ایک اور دلیل
    [​IMG]
  3. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    439
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    اول رنگ زدہ الفاظ: مناسب ہے کہ الفاظ اچھے استعمال کریں. انما المؤمنون اخوۃ
    ثانی رنگ زدہ الفاظ: یا ترجمہ غلط ہے اور یا عبارت.
  4. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اشماریہ صاحب آپ ہی ترجمہ کر دیں میں نے کاپی کیا ہے یہاں سے
    [​IMG]
  5. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    439
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    اس کا ترجمہ یہ بنے گا:
    "کہا (یہ مجاہدؒ کا قول ہے۔۔۔ مترجم): (یعنی) ایسے امام (بنا) کہ ہم اپنے سے پہلے والوں کی اقتدا کریں اور ہمارے بعد والے ہماری اقتدا کریں۔"
  6. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    با ت تو پھر بھی ہمارے حق میں ہی ہے
    آپ کے ترجمے اور مولانا ظہور الباری کے ترجمہ میں فرق کیوں ہے۔ اور عربی عبارت میں مجاہد کا ذکر نہیں۔ البتہ آپ نے اور محدث والوں نے یہ اضاظہ کیا ہے
  7. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    439
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    بات تو آپ کے حق میں ہی ہے۔
    البتہ ترجمے میں فرق اس لیے ہے کہ مولانا نے "ائمۃ" کو مرفوع پڑھا ہے اور "قال" کا فاعل بنایا ہے۔ لیکن شارحین جیسے ابن حجر اور مصطفی البغا وغیرہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ قول مجاہدؒ کا ہے اور ان سے بسند صحیح ثابت ہے۔ اس صورت میں "ائمۃ" منصوب ہوگا اور آیت میں "اماماً" کی تفسیر ہوگا۔
    عربی کتب میں زبر زیر نہیں ہوتے اس لیے اس قسم کے چھوٹے موٹے فرق ہوتے رہتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں