امام زفر رحمۃ اللہ علیہ شاگر دامام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ

'فقہاء ومحدثین' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اکتوبر 16, 2011۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,627
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    امام زفر رحمۃ اللہ علیہ ( ولادت 110ھ وفات 158 ھ عمر 48 سال)​


    110ھ میں بمقام اصبہان میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد حاکم تھے اور شعبان 158ھ میں وفات پائی ،صیمری نے لکھا ہے کہ پہلے امام زفر نے حدیث میں زیادہ اشغال رکھاپھر رائے کی طرف متوجہ ہوئے .
    محمد بن وہب کا بیان ہے کہ امام زفر اصحاب حدیث میں سے تھے ایک دفعہ ایک مسئلہ پیش آیاکہ اسکے حل کرنے سے وہ خود اور ان کے دوسرے اصحاب حدیث عاجز ہوئے تو امام زفر امام ابو حنیفہ رحًۃ اللہ کی خدمت میں پہنچے امام صاحب نے جواب دیا ، پوچھا آپ نے یہ جواب کہاں سے دیا؟ فرمایا فلاں حدیث اور فلاں قیاس واستنباط کی وجہ سے ، پھر امام صاحب نے مسئلہ کی نوعیت بدل کر فرمایا کہ تم بتاؤ! اس میں کیا جواب ہوگا؟ امام زفر کہتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو اس کے جواب سے پہلے سے بھی زیادہ عاجز پایا ،امام صاحب نے ایک اور مسئلہ بیان کیا اور اس کا جواب مع دلیل بتایا، میں ان کے پاس سے اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے وہ مسائل پو چھے تو وہ بھی جواب سے عاجز ہوئے میں نے جوابات دیئے اور دلائل سنائے وہ سب کہنے لگے یہ جوابات ودلائل آپ کو کہاں سے حاصل ہوئے ِ میں نے کہا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ سے پھر تو میں ان تین مسائل کی بدولت اپنے حلقہ اصحاب کا سردار بن گیا .

    اس کے بعد مستقل طور سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے وابستہ ہو گئے اور ان دس اکابر میں سے ہو گئے جنہوں نے امام صاحب کے ساتھ تدوین کتب کی ہے،یہی واقعہ مسالک الابصار میں بھی امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعہ سے نقل ہوا ہے
    ( لمحات النظر فی سیرۃ الامام زفر الکوثری )

    صیمری کی روایت ہے کہ محمد عثمان بن ابی شیبہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد عثمان بن ابی شیبہ اور چچا ابو بکر بن ابی شیبہ ( صاحب مصنف مادحین امام زفر مشہور ) سے امام زفر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فر مایا کہ امام زفر اپنے زمانہ کے اکابر فقہا میں سے تھے اور والد صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ ابو نعیم (فضل بن وکین شیخ اصحاب ستہ ) امام زفر کو فقیہ نبیل کہتے تھے اور ان کی بڑائیاں بیان کرتے تھے ، عمروبن سلیمان عطار کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں تھا اور امام اعظم کی مجلس میں حاضر ہوا کرتا تھا ، امام زفر کی تقریب نکاح منعقد ہوئی تو امام صاحب بھی شریک ہوئے انہوں نے امام صاحب سے عرض کیا کہ آپ نکاح پڑھائیں ؟ امام صاحب نے خطبہ نکاح پڑھا اور اسی میں فر مایا کہ یہ زفر بن ہذیل ائمۃ المسلمین میں سے بڑے امام ہیں اور دین کے نشانوں میں سے ایک نشان ہیں ،اپنے حسب ونسب وشرف وعلم کے اعتبار سے ممتاز ہیں .

    امام زفر کے اساتذہ
    علم فقہ میں امام صاحب کے شاگرد ہیں خود فرماتے ہیں کہ میں بیس سال سے زیادہ امام صاحب کی خدمت میں رہا میں نے کسی کو ان سے زیادہ خیر خواہ ،ناصح ومشفق نہیں دیکھا وہ محض اللہ کیلئے اپنی جان کو صرف کرتے تھے، سارادن تو مسائل کے حل وتعلیم اور نئے حوادث کے جواب دینے میں صرف کرتے جس وقت مجلس سے اٹھتے تو کسی مریض کی عیادت کیلئے جاتے ، جنازہ کی تشبیّع کرتے ،کسی ضرورت مند کی حاجت روائی کرتے ، کسی فقیر کی امداد کرتے یا کسی بچھڑے ہوئے سے رشتہ اخوت تازہ کرتے تھے ،ارت ہوتی تھی تو خلوت میں تلاوت ، عبادت ونماز کا شغل رہتا وقتِ وفات تک یہی معمول رہا ،تفہ کے ساتھ امام صاحب سے روایت حدیث بھی بکثرت کرتے ہیں ،امام سمعانی وغیرہ نے امام زفر کی کتاب الآ ثار کا ذکر کیا ہے ،جس میں امام صاحب کے واسطہ سے احادیث کی روایات ہیں .
    امام صاحب کے علاوہ دوسرے شیوخ امام زفر کے یہ ہیں .حضرت اعمش رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت یحیی بن سعید الانصاری رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت محمد بن اسحٰق رحمۃ اللہ علیہ ( صاحب المغازی) حضرت زکریا بن ابی زائدہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت سعید بن ابی عروبہ رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ.
  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,318
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
  3. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    السلام عليكم و رحمة الله و بركاته
    أحسنت و جزاك الرحمن الجنه
  4. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,081
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan

اس صفحے کو مشتہر کریں