امیر المومنین فی الحدیث حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ

'فقہاء ومحدثین' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏نومبر 12, 2011۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,648
    موصول پسندیدگیاں:
    791
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    امیر المومنین فی الحدیث حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ( 181ھ​

    صحاح ستہ کے ائمہ رواۃ واجلہ شیوخ میں جلیل القدر امام حدیث ہیں ،ابن مہدی ( شیخ امام بخاری) نے چار کبار ائمہ حدیث میں سے ایک ان کو قرار دیا، ایک دفعہ ان سے ابن مبارک وسفیان ثوری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو کہا اگر سفیان پوری کو شش کرلیں کہ ان کا ایک دن بھی ابن مبارک جیسا ہو جائے تو یہ بھی نہیں کر سکتے ، یہ بھی فر مایا کہ جس حدیث کو ابن مبارک نہ جانتے ہوں اس کو ہم نہیں پہچانتے ،امام احمد نے فر مایا کہ اپنے زمانہ میں ان سے زیادہ علم کو جمع کر نے والا کو ئی نہیں ہوا ، بہت بڑا ذخیرہ علم کا جمع کیا ، کوئی بات ان سے کم ہی رہی ہو گی وہ صاحب حدیث حافظ تھے ،ان کی کتابوں میں بیس ہزار احادیث موجود ہیں اور ابن مہدی ان کو امام ثوری پر تر جیح دیتے تھے ،امام صاحب کے اخص اصحاب میں سے تھے ، بعض رواۃ نے ان کی طرف امام صاحب کے جو اقوال منسوب کئے ہیں انہوں نے ہر گز نہیں کہے جیسا کہ بہت سے دوسرے حضرات کی طرف بھی ایسی نسبتیں کی گئی ہیں (تقدمہ نصب الرایہ )
    حضرت سفیان بن عینیہ نے فر مایا کہ میں نے صحابہ کے حالات میں غور کیا اگر صحابہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت مبارکہ اور آپ کے ساتھ غزوات میں شرکت کی فضیلت حاصل نہ ہوتی تو ابن مبارک ان کے برا بر ہی ہوتے ، یہ بھی فر مایا کہ ابن مبارک فقیہ ، عابد ، زاہد، شیخ شجاع اور ادیب وشاعرتھے ، فضیل بن عیاض نے فر مایا کہ انہوں نے اپنا مثل نہیں چھوڑا ،ابن معین نے فر مایا ابن مبارک بہت سمجھدار ، پختہ کار ، ثقہ ، عالم صحیح الحدیث تھے ، چھوٹی بڑی سب کتابوں کی تےعداد جو انہوں نے جمع کی تھیں بیس اکیس ہزار تک بیان کی جاتی ہے ، یحییٰ اندلسی کا بیان ہےکہ امام مالک کو ہم نے کسی کے لئے اپنی جگہ سے تعظیما اٹھتے ہو ئے نہیں دیکھا لیکن ابن مبارک کیلئے انہوں نے ایسا کیا اور با لکل اپنے قریب بلا کر بٹھلایا ،قاری امام مالک کو پڑھ کر سنا تا رہا ، بعض جگہ امامالک روک کر پو چھتے کہ کیا تم لوگوں کے پاس بھی اس بارے میں کچھ ہے ؟ تو ابن مبارک جواب دیتے تھے اور بڑے ادب واہستگی سے بو لتے تھے ، جب مجلس ختم ہوئی تو امام مالک ان کے حسن وادب سے بھی متاثر تھے.اور ہم سے فر مایا کہ کہ ''یہ ابن مبارک فقیہ خرا سان ہیں '' خلیلی کا قول ہے کہ ابن مبارک کی امامت پر سب کا اتفاق ہے اور ان کی کرا مات شمار سے باہر ہیں ،اسود بن سالم نے فر مایا کہ جو شخص ابن مبارک کو مطعون کرے اس کے اسلام میں شک ہے ،امام نسائی کا قول ہے کہ ابن مبارک کے زمانے میں ان سے زیادہ جلیل القدر ، بلند مرتبہ اور تمام بہتر خصائل کا جامع ہمارے علم میں نہیں ہوا ، حسن بن عیسیٰ نے فر مایا کہ ایک مرتبہ اصحاب ابن مبارک نے جمع ہو کر ان کے فضائل شمار کئے تو سب نے طئے کیا کہ ان میں حسب ذیل کمالات مجتمع تھے فقہ ،ادب،نحو، لغت، شعر، فصاحت، زہد، ورع، انصاف ، قیام لیل ،عبادت، حض، غزوہ وجہاد،شہسواری،شجاعت، جسمانی قوت ،ترک لایعنی، کمی اختلاف اپنے اصحاب سے ،،عباس نے یہ امور بھی اضافہ کئے ،سخاوت، تجارت ،محبت باوجود مفارقت ان کے علاوہ بھی آپ کے مناقب وفضائل بہت ہیں ایک جہاد سے واپسی ہے 181ھ میں 63 سال کی عمر میں وفات پائی اور با وجود ان مناقب جلیلہ کے وہ امام ابو حنیفہ کے اصحاب تلامذہ میں سے تھے اور حسب تصریح تاریخ خطیب وبستان المحدثین وغیرہ امام صاحب کی وفات تک ان کی خدمت سے جدا نہ ہوئے ،امام صاحب کے تلمذ پر فخر کرتے اور ان کی مدح فر ماتے مخالفین کو امام صاحب کی طرف سے جواب دیتے تھے،وغیرہ ذالک .ابن مبارک سے کہا گیا کہ آخر کب تک حدیثین لکھتے رہیں گے ؟ فرمایا جس کلمہ سے مجھے نفع پہنچا شاید وہ اب تک نہ لکھااکثر اوقات تنہا بیٹھے رہتے، کسی نے کہا آپ کو وحشت نہیں ہوتی ؟ فر مایا وحشت کیسی ؟ جبکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا ہوں یعنی آپ کی حدیث میں مشغول ہو تا ہوں ،علوم نبوت سے انتہا ئی شغف رکھتے تھے .امام اعظم سے مسانید امام میں بہ کثرت روایات کی ہیں رحمۃ اللہ رحمۃ واسعہ . ( مناقب کردری جلد دوم وجامع المسانید)



  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
  3. ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    16
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اچھی معلومات فراہم شکریہ لیکن یہاں بھی انصاف سے کام نہیں لیا آئیں ایک مناظرہ پڑھیں
    مسئلہ رفع الیدین

    پر

    امام عبداللہ بن المبارک

    کی

    امام ابوحنیفہ

    سے گفتگو !




    ایک بار مسجد کوفہ میں امام ابن المبارک رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۔ ابن المبارک رحمہ اللہ رفع الیدین کرتے تھے ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے نماز سے فارغ ہو کر ابن المبارک رحمہ اللہ سے کہا :

    ترفع یدیک فی کل تکبیرۃ کانک ترید ان تطیر

    ” آپ نماز کی ہر تکبیر ( اس میں تسمیع بھی شامل ہے یعنی رکوع سے اٹھتے وقت ) میں رفع الیدین کرتے ہیں گویا اڑنا اور پرواز کرنا چاہتے ہیں ۔ “

    امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے جواب میں کہا :

    ان کنت انت تطیر فی الاولیٰ فانی اطیر فیما سواھا

    اگر آپ تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے ارادہ پرواز و اڑان رکھتے ہوں تو میں آپ ہی کی طرح باقی مواقع میں نماز میں پرواز کرنا چاہتا ہوں ۔



    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب سے اس طرح کی بات رفع الیدین کی بابت کہنے سے ہمیشہ کے لیے خاموش رہے ۔ امام وکیع نے امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب کی بڑی تحسین و تعریف کی ۔

    ( کتاب السنۃ لعبداللہ بن احمد بن حنبل ، ص : 59 ، تاویل مختلف الحدیث لابن قتیبی ، ص : 66 ، سنن بیہقی ، ج : 2 ، ص :82 ، ثقات ابن حبان ، ج : 4 ، ص : 17، تاریخ خطیب ، ج : 13 ، ص :406 ، تمھید لابن عبدالبرج :5 ، ص :66 ، جزءرفع الیدین للبخاری مع جلاءص : 125,123 )

    جس طرح ابن المبارک رحمہ اللہ کی طرف سے مسکت جواب پا کر امام ابوحنیفہ اس معاملہ میں خاموش و ساکت رہ گئے اسی طرح ان کی تقلید میں امام ابوحنیفہ کا دم بھرنے والوں کو بھی خاموش رہنا چاہئیے ۔ مگر مدعیان تقلید ابی حنیفہ اپنے دعوی تقلید ابی حنیفہ رحمہ اللہ میں سچے نہیں ہیں ۔ اسی بنا پر وہ آئے دن اس سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کتابیں لکھتے رہتے ہیں اور اس سنت نبویہ کے خلاف شدید جارحیت اختیار کرتے ہیں ۔

    الغزالی فورم کے انتظامیہ سے گزارش ہے کہ اپنے مطلب کی ذکر کرنا اور اپنے خلاف کو ذکر نہ کرنا انصاف نہیں
  4. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,648
    موصول پسندیدگیاں:
    791
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ابن بشیر صاحب
    السلام علیکم
    پوسٹ کہیں بھاگی نہیں جارہی ہے سکون کے ساتھ ایک بحث مکمل کرلیں اسکے بعد دوسری پر جرح کریں.
    ابن بشیر صاحب آپ کو دلائل کی روشنی میں لکھنے کو مکمل آزادی دی گئی ہے .اس فورم پر لکھنا ہے تو یہاں کے قوانین کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا . کہ جب تک ایک بحث مکمل نہیں ہو جاتی دوسری بحث شروع نہیں کر سکتے .

    پلیز انتظامیہ کو نصیحت کرنا چھوڑیں کانٹابونے والے کو گلاب اگنے کی تو قع کرنا عبث ہے .آپ اپنی پوسٹ کی طرف تو جہ دیں.
  5. ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    16
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    محترم بحث کریں
    ہر کوئی کہتا ہے مگر کرتے کوئی بھی نہیں آپ کو حق حاصل ھے کہ جو میر ی بات غلط ہو اس پر تبصرہ کویں اور مجھے بھی یہ حق دیں .محدث فورم اس کی مثاکیں بے شمار ملتی ہیں احناف ،دیوبند اور بریلوی علمائ جب چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں لکھتے ہیں آپ میری باتوں کا بادلائل توڑ کریں یہی بحث ہے
    میرا سوال ہے
    کہ جتنی میں نے پوسٹیں کی ہیں کس کا آپ نے جواب دیا ہے جواب دیتے نہیں بس باتیں کرتیں ہیں اور وہ باتیں جواب میرت اتراض سے خارج ہوتی ہیں
    امید ہے میری آپ کو میری درخواست سمجھ آگئی ہے .
    کیا آپ مجھ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک بات پر سارے بحث کریں جب مکمل ہو جائے تو دوسری بحث شروع کی جائے ؟
    یہ طریقہ بھی درست ہے لیکن عام بحچ کرنے میں زیادہ فوائد ہیں مثلا جو میں اعتراض کروں اس کا جواب دیں یہ کتنا اچھا ہے اور جو آپ میرا جواب لکھیں گے میں اس پر تبصرہ کروں گا .
  6. سارہ خان

    سارہ خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,567
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین ،،،،،،،،،،،،،،،،،

اس صفحے کو مشتہر کریں