انوکھی شادی کاعبرت ناک حشر

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 16, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    [/size] انوکھی شادی کاعبرت ناک حشر
    مفتی ناصر الدین مظاہری


    اترپردیش کے ایک شہرمیں ایک صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی ایک ترقی پذیرملک کے ترقی یافتہ خانوادے کے جنٹلمین سے کرنے میں فخرمحسوس کیا۔فضول خرچی کے جتنے ممکنہ طریقے ہوسکتے تھے سبھی کواستعمال کیا،بارات اورباراتی مہنگی ہوائی کمپنیوں سے کانپورپہنچے، باراتیوں کی شایان شان اسراف کیاگیا،کھانے کانظم بھی ان ہی کے معیارکاکیاگیا، جہیزجوبیٹی کودیا جاتا ہے لیکن یہاں معاملہ کچھ اورنرالاتھا،تمام باراتیوں کو ایک ایک خوبصورت کارسے نوازاگیا، کارگوجہازوں میں لادکربیٹی کوسامان سمیت رخصت کیاگیا۔

    شادی کے چنددنوں کے بعدخسرمحترم کودامادنے فون پرخوش خبری سنائی کہ ہم دونوں فلاں تاریخ کولکھنوہوائی اڈہ پہنچ رہے ہیں ،بیٹی اوردامادکے استقبال کے لیے خسرصاحب خودہی خوشی خوشی ہوائی اڈہ پہنچے ،ہوائی جہازآیاصرف بیٹی ایئرپورٹ سے باہرنکلتی نظرآئی ،باپ نے غایت اشتیاق سے دامادکے بارے میں پوچھا اوربیٹی نے غایت تحمل کے ساتھ باپ کے ہاتھوں میں طلاق نامہ تھمادیا۔

    وجہ یہ معلوم ہوئی کہ لڑکی والوں نے باراتیوں کانہ توشایان شان استقبال کیااورجہیزکے نام پرجوکچھ دیاگیاہے وہ دامادصاحب کی نظروں میں کباڑسے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔

    کیاآپ نے غورکیاکہ اس شادی میں کس چیزکی کمی تھی؟ سچی بات یہ ہے کہ سنت وشریعت کے سوا کسی چیزکی کمی نہیں تھی، کورچشموں کوہمیشہ ایسے مناظرنظرآتے رہے ہیں ،جب جب سنتوں کامذاق اڑایاگیاہے انسانیت نے اپنا سر پیٹاہے، جب کبھی حوا کی بیٹی کو کھلونا بنایا گیا ہے معاشرہ کا ناسور ظاہرہوگیاہے۔

    ہم لوگ اصلاح معاشرہ کی اسکیمیں بڑے کروفرکے ساتھ بناتے ہیں اورچندہی مہینوں میں وہ اسکیمیں کاغذی رہ جاتی ہیں۔

    مصلحین معاشرہ خوداس سلسلہ میں اصلاح کے پہلوکومدنظرنہیں رکھتے،اپنے بچوں کی شادیوں میں ہورہی فضول خرچیوں کویہ کہہ کرکہ ”یہ توموجودہ دورکے تقاضے ہیں“دل کھول کراسراف کرتے ہیں۔

    آج کل کی شادیاں کیاہیں ؟گویاکاروباری معاملہ ہے،بڑھ چڑھ کردولت کی نمائش کی جاتی ہے،فحاشی وبے حیائی کابول بالا ہوتاہے،بے پردگی اورشرم وحیاکوبالائے طاق رکھ دیاجاتاہے ،خوبصورتی اورملبوسات کی نمائش کی جاتی ہے،اپنے سے کم تر کو رُسوا اور ذلیل کیاجاتاہے۔

    شادی کے لیے لڑکی کودیکھنے کاچلن بھی عجیب سے عجیب تر ہو گیا ہے ،پہلے تولڑکی والوں کے یہاں جانے کی اطلاع پہنچائی جاتی ہے، لڑکی والے مہمانوں کی آوٴبھگت اورخاطرمدارات کے سوسوجتن کرتے ہیں،ادھرلڑکے والے لڑکی کو کھڑاکرکے چلاتے ہیں اوردیکھناچاہتے ہیں کہ لڑکی لنگڑی تونہیں ہے،ہاتھوں سے کام کرایاجاتاہے کہ لُولی تونہیں ہے،بال کھلوائے جاتے ہیں کہ بال چھوٹے یاسفیدتونہیں ہیں،کانوں میں اذانیں دی جاتی ہیں کہ سماعت متأثرتونہیں ہے،تحریرپڑھنے کوکہاجاتاہے، محض یہ دیکھنے کے لیے کہ آوازبھدی تونہیں ۔

    لڑکی کواس قسم کے تکلیف دہ راستوں سے گزارکرعصری تعلیم کے بارے میں پوچھاجاتاہے ،گھریلوکام کاج کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں ،امورخانہ داری کی بابت سوالات کیے جاتے ہیں، لیکن جوچیزدیکھنی چاہیے تھی اس پرکسی کی توجہ نہیں ہوتی،لڑکی کے کرداروسیرت سے آگاہی حاصل نہیں کی جاتی،لڑکی دین دار اورنمازی ہے یانہیں؟ اس سلسلہ میں کوئی سوال نہیں کیاجاتا،حتیٰ کہ حسب ونسب پربھی دھیان نہیں دیاجاتا۔

    شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی فضل خرچی کاسلسلہ شروع ہو جاتاہے، تاریخ لکھنے کے لیے سادے کاغذیاسستے کارڈکے بجائے سونے اورچاندی کی طشتریوں پرتاریخیں کندہ کرائی جاتی ہیں،تاریخ کے لیے مہنگے ہوٹلوں کی بکنگ ہوتی ہے،کھانے کے نام پرکھانے ہی کی توہین کی جاتی ہے،سنجیدگی ومتانت کوخیرباد،سادگی کوسلام اور نمود ونمائش کوگلے لگا لیا جاتاہے، ریا اوردکھاوے کے ہرممکن طریقے اختیارکرکے غربت ومفلسی کامذاق ا ڑایاجاتا ہے۔

    بعض ظلمت زدہ اوربدعت زدہ علاقوں میں لڑکے والے لڑکی والوں سے کچھ ایسی فرمائشیں کرتے ہیں کہ اگرلڑکی والے مطلوبہ چیزیں یامطلوبہ رقم پوری نہیں کرتے تورشتہ توڑدینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، برادری میں ذلیل ورسواکرنے کی بات کی جاتی ہے ،عرف عام میں اس ”بھیک“کوتلک وغیرہ کہاجاتاہے، جوغیراسلامی مشرکانہ رسم ہے۔

    شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی امیرگھرانوں میں لڑکے اورلڑکی کے درمیان حائل پردہ کونہ صرف ختم کرادیا جاتا ہے، بلکہ لڑکے سے کہاجاتاہے کہ اپنی ہونے والی بیوی کوکہیں سیروسیاحت کے لیے لے جاوٴ،تاکہ ایک دوسرے کامزاج سمجھ سکیں اورآنے والی زندگی کوخوش گواراندازمیں چلانے کالائحہ عمل طے کرسکیں۔

    کیسی شرم وحیا،کیسی عفت وعصمت،کہاں کی تہذیب اورکیسی اسلامی ومشرقی تہذیب!! سب چیزوں کاجنازہ نکال دیاگیاہے۔

    شریعت کی تعلیمات کو دقیانوسی کہہ دیا گیا،اسلامی احکامات کوفرسودہ خیالی سے تعبیرکیاگیا،قرآنی ہدایات کوگئے گزرے وقتوں کی کہانی بتایاگیا،لیکن آج ہم جس تمدن اورمعاشرت میں جی رہے ہیں وہاں نہ توعفت وعصمت محفوظ رہی، نہ ہی حیااورشرافت کانام ونشان باقی رہا،اگراسلام کہے کہ لڑکی بارہ سال کی ہوجائے تواس کے والدین کوچاہیے کہ شادی کردیں تواُسے ایک مدعابنا لیاجاتاہے اورمختلف اعتراضات شروع کردیے جاتے ہیں، لیکن جب نفس واقعہ اور اصل تصویر سامنے آتی ہے توپھراسلام اوراسلامی تعلیمات کی خوبیاں نظروں کے سامنے آجاتی ہیں۔

    شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی نے اپنی تمام بچیوں کے نکاح جس سادگی کے ساتھ کیے وہ سادگی ہمارے لیے قابل تقلیدہے ،کسی بھی بچی کے نکاح کے موقع پرنہ تودعوت نامے شائع ہوئے، نہ ہی بارات کی مروجہ رسوم کی نوبت آئی ،نہ ہی بھیڑبھاڑجمع کی گئی،مہمانوں کی ضیافت کے لیے دیگیں نہیں کھنکیں،سارے مراحل اس طرح انجام تک پہنچے کہ قرب وجوارکے مخصوصین کوبھی بعدمیں پتہ چلاکہ حضرت کی فلاں صاحب زادی فلاں صاحب کے ساتھ فلاں تاریخ کومنسوب ہوگئی۔

    حضرت شیخ الحدیث کے ایک خادم حضرت مولاناحبیب اللہ مظاہری چمپارنی مدظلہ مقیم مدینہ منورہ کی خدمت میں لندن کے دوبڑے تاجرحاضرہوئے اورعرض کیاکہ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کانکاح پڑھادیں؟مولانانے فرمایاسعودی حکومت کاقانون ہے کہ نکاح کامحکمہ شرعیہ میں اندراج ہوتاہے اوروہاں کاقاضی نکاح پڑھاکرسندنکاح دیتاہے !انہوں نے کہاکہ ہمیں سرکاری قاضی کی ضرورت ہے نہ ہی ہمیں ان سے سندنکاح حاصل کرنے کی حاجت ،ہم لوگ تویہ سوچ کراپنے بچوں کوساتھ لائے ہیں کہ کسی عالم دین سے سادگی کے ساتھ نکاح کرادیں گے اورلندن کے مہنگے ہوٹلوں میں شادی کے اندر جوفضول اخراجات ہوتے ہیں ان اخراجات سے ہم ہندوستان کی پچاس بچیوں کی شادیاں کرادیں گے،چناں چہ حضرت مولانانے نکاح پڑھادیا۔(دعوة الصدق)

    لیکن آج شادی کی تیاریاں،بے جارسوم،بارات اورباراتیوں کی عیاشیاں،کھانے پینے کے لوازمات اوران کی ناقدری،کثیرمہر،نام ونمودکاشاہ کارولیمہ، جس کے ساتھ ”مسنونہ“لکھ کر گویا سنت نبوی کا تمسخر اور مذاق اڑایاجاتاہے، جہیز اورتلک، غرض تقریباً سبھی چیزوں میں سنت نبوی اوراسوہٴ رسول کادوردورتک پتہ نہیں ہوتا۔

    آج لڑکے والوں کی حریصانہ نظریں دوسروں کے مال ودولت پرہیں،لڑکی کیسی ہی ہو،دین اوردین داری سے دوردورتک تعلق نہ ہو،اللہ اوررسول اللہ کے نام تک سے ناواقف ہو،لڑکی والے بھلے ہی اسلام اوراسلامی تعلیمات کامذاق اڑاتے پھریں، لیکن جہیزکی کثرت ،باراتیوں کی آوٴ بھگت اورخاطرتواضع ہی معیارشادی بن چکاہے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضول خرچی اورنام ونمودکی جو قباحتیں ارشادفرمائی ہیں اور شادی بیاہ کے سلسلہ میں جو راہ نما ہدایات ارشادفرمائی ہیں جب تک ہم ان پرعمل پیرارہیں گے قوم کاسرفخرسے بلندرہے گااورجب ہم سنت سے کنارہ کشی اختیارکرلیں گے توقدم قدم پرشرم وندامت اورخجلت وشرمندگی سے ہماراسرجھکتارہے گا۔
    درمیان قعر دریا تختہ بندم کردئی
    باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش


    
  2. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,470
    موصول پسندیدگیاں:
    409
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  3. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    اور لڑکی بغیرنکاح کے رخصت کردی گئی

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اورلڑکی بغیرنکاح کے رخصت کردی گئی
    ناصرالدین مظاہری
    وہ بھی ایک بچی کاباپ تھا،ہرباپ کی تمناوخواہش ہوتی ہے کہ اس کابچہ یابچی جب جوان ہوں گے تواچھاسارشتہتلاش کرکے دھوم سے شادی کروں گا۔
    اس دنیامیں باپوں کی کوالٹیزبالکل یہاں کے باشندوں کی طرح ہیں کسی کے پاس دولت وثروت کے انبار ہیں تواولادنہیں ہے،کسی کے پاس وسائل کی کثرت ہے توبڑھاپے کی لاٹھی نہیں،کوئی بے سہاراغریب اور ایک ایک روٹی کامحتاج ہے تواس کے درجنوں اولادموجودہے جس میں اکثریت بچیوں کی ہے۔
    بچی:جوبہرحال ہرگھرکے لئے رحمت ہوتی ہے،جواپنے بھائیوں کے لئے سراپااخلاص،اپنے والدین کیلئے مکمل خادم،اپنے شوہرکیلئے سراپاپیکرمہرومروت،اپنے بچوں کیلئے شفقت ومحبت کاسنگم لیکن جن غریب گھرانوں میں بچیاں جنم لیتی ہیں وہاں اس کی پیدائش پرخوشی کے باوجودوالدین خوش نہیں ہوپاتے کیونکہ ان کے سامنے آنے والے کل بچی کی جوانی ہوتی ہے،دامادکی فرمائشیں ہوتی ہیں،جہیزکے اخراجات ہوتے ہیں، ظالم باراتیوں کی ضیافت کالمباچوڑامیدان ہوتاہے،بچی کی شادی کے بعدبھی دامادکی حریص ولالچی طبیعت اوربات بات میں ہل من مزیدکاخطرہ ودھڑکاہوتاہے۔
    وہ لڑکی بھی اکلوتی،گھرانے کی لاڈلی،ہرآنکھ کاتارہ ،ماں باپ کی دلاری،نازونعم میں پلی بڑھی اورجب جوان ہوئی توباپ نے اس کی شادی کے سلسلہ میں وہ وہ تکلفات کئے کہ دوسرے امیربھی عش عش کر اٹھے، ہرجگہ اس باپ کی اعلی پیمانے کی تیاریاں موضوع بحث بنیں،ہرگھرمیں بچی کی سعادت اوردولہاکی خوش قسمتی پر باتیں ہونے لگیں۔
    شادی کے سلسلہ میں طرفین میں معاہدے ہوئے،لڑکے والوں نے کہاکہ بارات کسی گھر،گھیر،یاباغ وباغیچہ میں نہیں شہرکے عالیشان پانچ ستارہ ہوٹلوں میں قیام کرے گی،ہمارے باراتی کسی پنڈال میں کھانانہیں کھائیں گے کھانابھی ہوٹل میں کھلایاجائے،پھرجہیزکی بابت گفتگوہوئی ،لڑکی کے باپ نے کہاکہ میں ہرباراتی کواپنی طرف سے ایک ایک ہزارروپے کاہاربھی پہناؤں گا۔
    بہرحال آپ نے دیکھاکیاان معاہدوں میں کہیں بھی سنت کاخیال رکھاگیا،کہیں بھی سرکاردوعالم کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کوآئیڈیل بنایاگیا،کسی کی زبان پرسادگی یاکم خرچی پربات ہوئی ؟نہیں بالکل نہیں۔
    شادی کارڈبنے،صرف مالداروں کودعوت دی گئی ،شادی کی تاریخ آگئی،باراتیوں کوان کی شایان شان کھاناکھلایاگیا،جہیزدینے میں لڑکی والوں نے لڑکے کی فرمائشوں سے زیادہ دل کھول کرمظاہرہ کیا،اورپھرآن بان شان سے لڑکی کورخصت کردیاگیا۔
    قارئین کرام :اس پورے تذکرہ میں کہیں بھی آپ کو’’نکاح‘‘ہوتانظرآیا،ظاہرہے جواب نفی میں ہوگاکیونکہ نکاح ہواہی نہیں،اوراس کاپتہ اس طرح چلاکہ ایک عورت نے لڑکی کی ماں سے پوچھ لیاکہ مہرکتناہے؟
    لڑکی کی ماں ،مالدارگھرکی بہو،دولت اوردنیاداری کی تصویرمجسم اسے بھی پتہ نہیں تھاکہ مہرکتناہے،اس نے لڑکی کے باپ کوفون کیااورپوچھاکہ مہرکتنارکھاگیاہے؟
    اب باپ کوہوش آیااوراناللہ پڑھ کرکہنے لگاکہ اوہو!نکاح کاتوخیال ہی نہیں رہا،باپ نے فوراًبارات والوں کوفون کیااوران سے کہاکہ بارات جہاں کہیں پہنچی ہووہیں روک لو!
    بارات رُک گئی،لڑکی کاباپ ایک مولاناصاحب کوساتھ لے کروہاں پہنچااورسڑک پرکھڑے کھڑے نکاح پڑھواکربارات کورخصت کردیا۔
    یہ دنیاکس قدرعجیب ہے ،مالداربھی پریشان،غریب بھی حیران،اپنے بھی ناخوش،غیربھی نالاں،پڑھے لکھے بھی سراپاحیرت،ان پڑھ وجاہل بھی عاجزوسرگرداں،دولت ہے تواولادنہیں اولادہے تودولت نہیں، غربت ہے تواولادکی کثرت،فارغ البالی ہے توایک اولادبھی نہیں۔دولت کی تقسیم کی طرح اولادکی تقسیم بھی نرالی ہے،اس مشکل کوحل کرنااورلاینحل مسئلہ کوآسان تربناناانسانوں ہی کاکام ہے،دولت مندغریبوں کے لئے رحم کاجذبہ اپنے اندرپیداکرلیں تومشکلات دورہوسکتی ہیں۔
    جس طرح سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پاکیزہ زندگی کے پاکیزہ نقوش ہمارے لئے چھوڑے ہیں ہم ان کواختیارکرکے معاشرہ میں باعزت رہ سکتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جودنیاوآخرت میں سب سے عظیم ہیں لیکن دولت وثروت ندارد،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طرح سے عمل کرکے اپنی قوم کودکھادیاکہ انسان اگرچاہے تومشکلات کودورکرنے کاحل اسی کے پاس ہے۔آپ نے اپنی دوصاحب زادیاں یکے بعددیگرے حضرت عثمان غنیؓجیسے امیروکبیرصحابی کے عقدمیں دیں توحضرت فاطمہ کوحضرت علی سے منسوب فرمایاجن کے پاس دولت کاتصوربھی نہیںتھا،خودحضرت عمرؓجیسے صاحب ثروت کے بہنوئی بنے توحضرت ابوبکرصدیق ؓجونہایت غریب تھے ان کے دامادبنے،آپ کی نرینہ اولادزندہ نہیں رہی توآپ کبیدہ نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ کی منشاء اوررضاء کوپیش نظررکھااوریتیموں کی کفالت،دوسروں کی اولادکومتبنیٰ بنالیااس طرح خانگی مشکلات اورتفکرات بھی ختم ہوگئے اورامیروغریب کے امتزاج نے ہرگھرمیں خوشیاں بکھیردیں۔
  4. بےلگام

    بےلگام وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,559
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Spain
    جزاک اللہ









    .
  5. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,521
    موصول پسندیدگیاں:
    704
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت مفید تحریر ہے ناصر بھائی ۔ جزاک اللہ خیرا
    اگر یہاں سنت کو مقدم رکھا جاتا تو اتنا بڑا اور برا فعل نہ ہوتا ۔ یہ بھی میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس کریم مولا نے انہیں خلوت سے پہلے بتادیا کہ میرے نادان بندے میرے محبوب کی ایک سنت پہ ہی عمل کر لے تا کہ دنیا والوں کے سامنے تجھے ذلیل نہ ہونا پڑے ۔
    واہ میرے اللہ تو کتنا کریم ہے ۔
    سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
  6. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,622
    موصول پسندیدگیاں:
    237
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ہمارے لئے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے
    اسی کی روشنی میں ہم اپنا راستہ متعین کریں تو کبھی ناکامی کا سامنا نہیں ہو گا ۔۔

    بہت مفید تحریر ہے آپ کی جزاک اللہ
  7. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    تشکروامتنان

    میرے مضامین کوپسندکرنے کاشکریہ :میں اپنے احباب سے ایک اپیل کروں گاکہ میرے مضامین بہ نظرتحسین نہیں بلکہ بہ نظرتنقیدمطالعہ فرمائیں تاکہ مجھے کچھ مزیدمحنت اوراپنی تحریرمیں مزیدتاب وتوانی کی توفیق مل سکے۔ابھی تومیں طفل مکتب ہوں،میں نے اہنے بڑوں سے اجازت لی ہے پھرہجوم عاشقاں میں شرکت کی ہے آپ ہی حضرات سے سیکھنے کے ارادے سے اس بزم میں شامل ہواہوں ۔ویسے بھی ایک مومن دوسرے مومن بھائی کے لئے آئینہ ہوتاہے سوآپ بھی میرے لئے بمنزلۂ آئنہ ہیں۔ اللہ حق پررکھے،حق لکھوائے،حق بلوائے،حق پرچلوائے اورحق پراٹھائے۔
  8. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,956
    موصول پسندیدگیاں:
    994
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    RE: تشکروامتنان

    ہجوم عاشقاں میں خیر سے شامل ہو گئے۔صحرا بھی تلاش کر لیجئے گا ۔سہارنپور میں نہ ملے نہ سہی لکھیم پور کھیری میں ضرور مل جائیگا ۔شکریہ مظاہری صاحب ۔بڑوں تک الغزالی کا نام تو پہنچا۔

اس صفحے کو مشتہر کریں