اولاد کی تربیت کے رہنما اصول

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اگست 14, 2013۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,955
    موصول پسندیدگیاں:
    994
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بسم اللہ الر حمن الرحیم
    اولاد کی تربیت کے رہنما اصول​
    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَکَفیٰ وَسَلَامٌ عَلیٰ عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفیٰ ۔اما بعد
    قال اللّٰہ تعالیٰ ۔یَا اَیُّھَا لَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْااَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیُکُمْ نَارًا
    وقال رسول اللّٰہ ﷺ ۔علموا اولادکم واھلیکم الخیر وادبوہھم ۔صدق اللّٰہ العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم

    ترجمہـ:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے ایمان والوتم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔
    اور حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ اپنی اولاد اور اپنے گھر والوں کو خیر وبھلائی کی باتیں
    سکھاؤ اور ان کو ادب سکھاؤ

    ٭تربیتِ اولا کی اہمیت:
    مذکورہ بالا آیت اور حدیث شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اولاد کی تر بیت کو والدین کی اہم ذمہ داری قرار دیا ہے ۔ تو جب اللہ تعالیٰ انسان کو اوالا والی نعمت دے تو ماں باپ کو ان کی تر بیت کرنا چاہئے ،والدین بچے کے مربی ہوتے ہیں جسمانی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی ۔اس لئے جہاں والدین بچہ کی جسمانی ضروریات پوری کر نے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارا بیٹا جسمانی طور پر ۷تندرست وتوانا بنے وہاں اس کو علم وادب سکھانے کی بھی کوشش کرنا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ جب ماں باپ بچوں کی تر بیت اچھی کرتے ہیں تو پھر بچوں کے جسم ہی فقط نشو ونما نہیں پاتے ان کے دل ودماغ کی صلاحیتیں بھی کھلتی ہیں ۔اس لئے دانشوروں کا مقولہ ہے ۔ جو شخص اپنے بچوں کو ادب سکھاتا ہے وہ دشمن کو ذلیل وخوار کرتا ہے ۔ایک مقولہ یہ بھی ہے کہ جو شخص بچوں کو بچپن میں ادب سکھاتا ہے وہ بچہ بڑا ہو کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے ۔ اس لئے والدین کو بچوں کی تر بیت سے ذرا بھی غافل نہیں ہونا چاہئے ۔یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے وہ کسان جو اپنے کھیت پر محنت نہیں کرتا تو اس کے کھیت میں بہت سی خود رو جڑی بو ٹیاں اُگ آتی ہیں جو اسکی اصل فصل کو خراب کر دیتی ہیں اسی طرح جب والدین بچے کی تربیت کا خیال نہیں کرتے تو بچوں کے اندر بہت سے برے اخلاق پیدا ہو جاتے ہیں جو ان کی اصل شخصیت کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔ایک حدیث پاک میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ـ"ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجسوسی بناتے ہیں۔یعنی بنیادی طور پر بچے کی شخصیت پر تین چیزوں کے اثرات پڑتے ہیں ۔سب سے پہلے اس کے والدین اور گھر یا خاندان کا اثر ہوتا ہے پھراس کی گلی کے ماحول کا اثر ہوتا ہے جس مدرسے یا اسکول میں وہ پڑھنے جاتا ہے اس سے وہ متاثر ہوتا ہے ۔ لیکن بہرحال والدین کی بنیادی ذمہ داری نبتی ہے کہ وہ اسے یہ تینوں چیزیں کس قسم کی فراہم کرتے ہیں۔

    ٭ ماں کی گودبچے کی اولین(پہلی) درسگاہ ہے:
    بچے کی زندگی کا پہلا مسکن ماں کی ٹھنڈی ، میٹھی اور شفقت بھری گود ہوتی ہے ۔آغوش مادر کے ان سالوں میں ماں بچوں کیلئے مرشد کا کام کرتی ہے ۔ ماں اگر بچے پر محنت کرے تو یہ ماں کی گود سے مادر زاد ولی ثابت ہو سکتے ہیں اس لئے ماں کی تربیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے ماں کو اپنے بچے کی تربیت کا خیال اسی دن سے رکھنا چاہئے جس دن بچہ پیدا ہو۔ بلکہ یہ خیال ان کو حاملہ ہونے کے وقت سے ہونا چاہئے لیکن ہم بچے کہ پیدائش کے بعد ماں کی کیا ذمہ داری ہے اس کو بیان کرتے ہیں ۔

    ٭ نو مولد بچے کو ماں کا تحفہ:
    جب اللہ تعالیٰ بچے کی ولادت فر مادے تو ماں کیلئے یہ انتہائی خوشی کا موقع ہوتا ہے اور بچے کیلئے پہلا تحفہ جو ماں پیش کر سکتی ہے وہ ماں کا اپنا دودھ ہوتا ہے ماں کو چاہئے کہ وہ بچے کو اپنا دودھ ضرور پلائے ۔ ہاں اگر دودھ کم ہے یا میڈیکلی ٹھیک نہیں ہے اور بچے کیلئے نقصان دہ ہے تو یہ اور بات ہے لیکن اگر ماں کا دودھ بچے کیلئے ٹھیک ہے تو اس سے بہتر غذا بچے کو اور کوئی نہیں مل سکتی ہر ماں کو چاہئے کہ وہ ضرور دودھ پلائے تاکہ بچے کے اندر ماں کی محبت آجائے اگر ماںدودھ ہی نہیں پلائے گی تو ماں کی محبت بچے کے اندر کیسے آئے گی عام طور پر کئی بچیاں اپنی (Smartners)کو سامنے رکھتے ہوئے دودھ پلانے سے گھبراتی ہیں اور شروع ہی سے بچے کو ڈبوں کے دودھ پر لگا دیتی ہیں پھر جب ڈبے کا دودھ پی کر بچے بڑے ہوتے ہیں تو ماں کو ماں نہیں سمجھتے ۔ اسی لئے کسی شاعر نے کہا ؎
    طفل سے بوآئے کیا ماں باپ کے اطوار کی=دودھ ڈبے کا پیا تعلیم ہے سر کا رکی​
    جب نہ دین کی تعلیم پائی نہ ماں کا دودھ پیا تو پھر اس میں اچھے اخلاق کہاں سے آئیں گے ۔

    ٭بچے پر ماں کے دودھ کے اثرات:
    ایک ماں اپنے بیٹے سے ناراض ہوئی کہنے لگی بیٹے! تم نے میری بات نہ مانی تو میں کبھی بھی تمہیں اپنا دودھ معاف نہیں کرونگی ۔ اس نے مسکراکر کہا ، امی ! میں تو نیڈو کے ڈبے کا دودھ پی کر بڑا ہواہوں آپ نے تو مجھے اپنا دودھ پلایا ہی نہیں مجھے معاف کیا کریں گی۔ تو واقعی ایسا دیکھا گیا کہ، ڈبوں کے دودھ کے اثرات اور ہوتے ہیں اور ماں کے دودھ کے اثرات اور ہوتے ہیں ۔

    ٭ بچے کو دودھ پلانے کے اثرات :
    ماں کو چاہئے کہ بچے کو خود دودھ پلائے ،خود بسم اللہ پڑھ لے اور جتنی دیر بچہ دودھ پیتا رہے ماں اللہ کے ذکر میں مشغول رہے ماں اللہ رب العزت کی یاد میں مشغول رہے ماں دعائیں کرتی رہے کہ اللہ ! میرے دودھ کے ایک قطرے میں میرے بیٹے کو علم کا سمندر عطا فر ما تو ماں کی اس وقت کی دعائیںاللہ کے یہاں قبول ہوتی ہیں ہمارے مشائخ جو گزرے ان کی ماؤں نے تو ایسی تربیت کی کہ با وضو اپنے بچوں کو ددھ پلاتی تھیں اگر آج کوئی با وضو دودھ پلائے تو وہ بڑی خوش نصیب ہے اور اگر وضو نہیں کر سکتی تو کم از کم دودھ پلاتے وقت اللہ کا ذکر تو کر سکتی ہے ۔یہ نہ کرے کہ ادھر دودھ پلارہی ہیں ادھر بیٹھی ٹی وی پر ڈرامہ دیکھ رہی ہیں ادھر فلم کا منظر دیکھ رہی ہے اگر گناہ کی حالت میں دودھ پلائے گی تو یہ بچہ نا فر مان بنے گا اللہ کا بھی اور ماں باپ کا بھی ۔بعد میں رونے کا کیا فائدہ اس لئے بچپن سے ہی بچے کی تربیت ٹھیک رکھی جائے ۔

    ٭ پیدا ئش کے بعد تہنیک دینا:
    جب بچے کی پیدائش ہو تو بچے کی تہنیک کروانا سنت ہے ۔ تہنیک یہ ہے کہ کسی نیک بندے کے منہ میں دی ہوئی کوئی کھجور ہو ،چپائی ہوئی کھجور ہو یا شہد ہو تو ایسی کوئی چیز بچے کے منہ میں ڈالنا یہ اللہ کے نیک بندوں کا"سِلہ"جب بچے کے منہ میں جاتا ہے تو اس کی اپنی
    بر کات ہوتی ہیں چنانچہ یہ تہنیک کسی نیک بندے سے کر وانی چاہئے وہ مرد بھی ہو سکتا ہے عورت بھی ہو سکتی ہے اس کی بہت بر کات دیکھی گئی ہیں ۔

    ٭ تہنیک کے بعد اذان واقامت کا عمل :
    تہنیک کروانے کے بعد بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان کے اندر اقامت کہی جاتی ہے یہ اللہ رب العزت کا نام ہے جو بچے کے دونوں کانوں میں کہا جاتا ہے ۔ سبحان اللہ ! چھوٹی عمر میں بچہ ابھی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا مگر اس کے کانوں میں اللہ نے اپنی بلندی اور عظمتوں کے تذکرے کروادیئے گویا اللہ کی عظمت سکھا دی گئی اور یہ ایک Message(پیغام) بھی پہنچا دیا گیا کہ جس طرح دنیا کے اندر اذان ہوتی ہے پھر اقامت ہوتی ہے اور اقامت کے بعد نماز پڑھنے میں تھوڑی دیر ہوتی ہے بالکل اسی طرح اے بندے تیری زندگی کی اذان بھی کہی جا چکی ہے تیری زندگی کی اقامت بھی کہی جا چکی ہے ۔تیری زندگی نماز کے مانند ہے اور نماز تو ہمیشہ امام کے پیچھے پڑھی جاتی ہے ایک شرعی طریقے سے پڑھی جاتی ہے تو یہ ایک پیغام ہے کہ اگر تو اپنی زندگی کو بھی صحیح گزارنا چاہتا ہے تو شریعت کے طریقہ کو اپنا لینا اور نبی علیہ السلام کو زندگی کی نماز کا امام بنا لینا پھر تیری نماز قبول ہو جائیگی اور با لآخر تجھے قبر میں جانا ہی ہے ۔ تو یہ ابتدا میں اللہ رب العزت کا پیغام اس طرح اس بچے کے ذہن میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔

    ٭بچے کا نام ہمیشہ اچھا رکھیں :
    بچے کا اچھا نام رکھا جائے جیسے اللہ رب العزت کو عبد اللہ اور عبد الرحمن نام سب سے زیادہ پسند ہے اسی طرح عبد الرحیم نام پسند ہے تو ایسے نام رکھیں کہ قیامت کے دن جب پکارے جائیں تو اللہ رب العزت کو اس بندے کو جہنم میں ڈالتے ہوئے حیا محسوس ہو ۔ اللہ تعالیٰ محسوس فر مائیں یہ میرا بندہ میرے رحمت والے نام کے ساتھ پکارا جاتا رہا اب اس کو جہنم میں کیسے ڈالوں تو ایسا نام ہونا چاہئے آج کل ماں باپ نئے ناموں کی خوشی میں ایسے الٹے سیدھے نام رکھتے ہیں جو بے معنیٰ ہو جن کے معانی کا نہ ان کو پتا نہ کسی اور کو پتا، مہمل قسم کے نام رکھ دیتے ہیں یہ بچے کے ساتھ زیادتی ہے ۔ بچے کے حقوق میں سے ہے کہ اس کا نام اچھا رکھا جائے ماں باپ کو چاہئے کہ بچے کا ایسام نام رکھیں کہ جب بچہ بڑا ہو اور اس کا نام پکارا جائے تو اسے خوشی ہو۔ یہ بچے کا حق ہے ماں باپ پر انبیاء کرام کے ناموں میں سے یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ناموں میں سے یا اولیاء کرام کے ناموں سے نام دیں ۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جس گھر کے اندر کوئی بچہ محمد نام کا ہوتا ہے اللہ رب العزت اس نام کی برکت سے سب اہل خانہ کو جہنم سے بری فر مادیتے ہیں تو محمد کا نام احمد کا نام بہت پیارا ہے ہمارے مشائخ تو دس دس نسلوں تک باپ کا نام محمد پھر بیٹے کا نام محمد پھر اس کے بیٹے کا نام محمد پھر اس کے بیٹے کا نام محمد رکھتے تھے یہ نام اتنا پیارا تھا کہ دس دس نسلوں تک یہی نام چلا جاتا تھا لہذا اس بات کا بھی خیال رکھیں ۔

    ٭ساتویں دن عقیقہ سنت ہے:
    جب بچے کی ولادت ہو تو ساتویں دن عقیقہ کرناسنت ہے بیٹے کیلئے دو بکرے ،بیٹی کے لئے ایک بکرا یہ خوشی کا اظہار ہے پھر ان کو قربا نی کرکے خود ہی کھائیں رشتے داروں کو بھی کھلائیں اور غریبوں کو بھی دیں اس کے لئے ہر طرح کی اجازت ہے۔

    ٭بچوں کے سامنے بے شرمی والی باتوں سے اجتناب کریں:
    بچے کا دماغ کیمرے کی طرح ہوتا ہے وہ ہر چیز کا عکس محفوظ کر لیتا ہے ۔حکماء نے لکھا ہے کہ چھوٹے بچے کے سامنے بھی کوئی بے شرمی والی حرکت نہ کریں میاں بیوی کوئی ایسا معاملہ نہ کریں کہ یہ چھوٹا ہے اسے کیا پتہ اگر چہ وہ چھوٹا ہوتا ہے لیکن اس کے ذہن کے بیک گراونڈ کے اندر یہ سب مناظر نقش ہو جاتے ہیں اس لئے اس کا بڑا خیال رکھیں۔

    ٭بچے کوگود میں لے کر ذکر اذکار کا معمول بنائیں:
    ماں باپ گھر کے کام کاج بھی کرتے ہیں عبادت بھی کرتے ہیں تو جب بھی ماں باپ عبادت یا تلاوت کیلئے بیٹھیں تو اپنے بچے کو بھی گود میں لے کر بیٹھے پھر اللہ رب العزت کا کلام پڑھے آپ کے قرآن پڑھنے کی برکتیں آپ کے بچے کے اندر اس وقت اتر جائیں گی اسی طرح جب بھی عبادت کرنے تلاوت کرنے دعاء کرنے بیٹھیں تو بچے کو اپنی گود میں لے کر بیٹھنے کی کوشش کریں جب بچے کو کھلانا ہو سلانا ہو تو بچے کو لوری بھی اچھی دیں اور اللہ اللہ کا نام اس کے سامنے کہنے کی کوشش کریں۔

    ٭بچے کو سکون کی نیند دلانے کی دعا:
    جب بچے رات کو سوتے ہیںتو کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بچے رات کو جلد نہیں سوتے روتے رہتے ہیں ان کو نیند نہیں آتی بات یہ ہے کہ وہ بیچارے بول بھی نہیں سکتے اپنے جسم کی تکلیف بتا بھی نہیں سکتے ماںخود اندازہ لگالے تب اسے پتہ چلے گا کہ فلاں وجہ سے رورہا ہے ورنہ نہیں اب ماں کو خود بخود اس پر غصہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔روتاہے ۔۔۔۔سونہیں رہا ۔ایسے وقت میں ماں کو چاہئے کہ وہ صبر وہ تحمل سے کام لے اور ایک دعا بزرگوں نے بتائی ہے اس کو پڑھ کر دم کر لیا کرے۔اَلَّلھُمَّ غَارَتِ النُّجُوْمِ وَھَدَاتِ الْعُیُوْنِ اَنْتَ حَیٌّ قَیُوْمٌ لَا تَأْخُذُکَ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمٌ اِھْدِلَیْلِیْ وَاَنَمْ عَیْنِیْ ۔جب یہ دعا پڑھ کر بچے پر دم کر دیں گی تو اللہ رب العزت بچے کو سکون کی نیند عطا کریں گے اگر بچی ہے تو لَیْلَھَا وَاَنَمْ عَیْنَھَا کا صیغہ استعمال کرلیں یعنی مؤنث تانیث کیلئے ہوتا ہے تو اس طرح اس دعا کو پڑھ لینے اور دم کر دینے سے بچوں کو نیند جلد آجاتی ہے ۔
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,955
    موصول پسندیدگیاں:
    994
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    صفحہ۔۔۔۔۔۔ 2

    بچوں کی حفاظت کیلئے انمول وظیفہ:
    جب بچے سورہے ہوں تو ان پر حفاظت کا حصار ضرور بنا لیا کریں ہمارے مشائخ نے یہ حفاظت کا حصار بتایا ہے اور اس کی اتنی برکتیں ہیں کہ انہوں نے فر مایا کہ موت کے سوا کو ئی مصیبت نہیں آسکتی ۔وہ حصار یہ ہے کہ پہلے درود شریف پڑھ لیں پھر الحمد شریف پوری سورت پڑھیں پھر آیت الکرسی پڑھیں پھر چارو قل پڑھیں آخیر میں درود شریف پڑھ لیں اور یہ سب کچھ پڑھ کر اپنے بچوں کے گرد اور جہاں بزنس ،دکان ، دفتر وغیرہ ہو ان سب کا تصور کر کے ان کے گرد اپنے تصور کا دائرہ بنا لیں جس جس چیز کے گرد آپ دائرہ بنائیں گے وہ سب چیزیں اللہ رب العزت کی حفاظت میں آجائیں گی یہ حصار جس دن میں اور جس رات میں آپ بچوں کے گرد بنائیں گے آپ کے بچے فتنوں سے مصیبتوں سے محفوظ رہیں گے اور جس دن کوئی مصیبت آنی ہوگی آپ دیکھنا کہ آپ اس عمل کو بھول بیٹھیں گے تب کوئی مصیبت آئے گی ورنہ اللہ رب العزت کی حفاظت میں رہیں گے ۔
    ٭بچوں کو سب سے پہلے "اللہ"کا لفظ سکھائیں:
    حدیث پاک میں آیا ہے کہ جس ماں نے یا باپ نے بچے کی تربیت ایسی کی کہ اس نے بولنا شروع کیا اور اس نے سب سے پہلے اللہ کا نام زبان سے نکالا تو اللہ تعالیٰ اس کے ماں باپ کے سب پچھلے گناہوں کو معاف فر ما دیتے ہیں اب یہ کتنا آسان کام ہے لیکن آجکل کی مائیں اس طرف تو جہ نہیں دیتیں کئی عورتوں کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا ۔
    بچوں سے امی ابو نہ کہلوائیں ان کے سامنے پہلے اللہ کا لفظ کہیں اور بار بار کہیں جب بار بار اللہ کہیں گی تو بچہ بھی اللہ ہی بولے گا اور یہ لفظ اس کو نکالنا آسان بھی ہے اگر لوری بھی دیں تو ایسی جو پیار والی نیکی والی ہو پہلے وقت کی مائیں اپنے بچوں کو لوری دیتی تھیں "حَسْبِیْ رَبِّیْ جَلَّ اللّٰہُ مَافِیْ قَلْبِیْ غَیْرَ اللّٰہُ ۔نُوْرُ مُحَمَّدْ صَلَّی اللّٰہْ ۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ " یہ لا الٰہ کی ضربیں لگتی تھیں تو بچہ کے دل پر اس کے اثرات ہوتے تھے اس کے دو فائدے ہیں ایک تو ماں کا وقت اللہ کے ذکر میں گذرا دوسرے بچے کو اللہ کا نام سننے کا موقع ملا۔ ایک بزرگ فر ماتے ہیں کہ ماں کہتی تھی اللہ اللہ لوری دودھ بھری کٹوری ، ذلفی دودھ پئے گا نیک بن کر جئے گا =فر ماتے ہیں کہ شائد یہ ماں کی وہ دعائیں ہیں کہ اللہ نے نیکوں کے قدموں میں بیٹھنے کی جگہ عطا فر مادی۔ آج پچاس سال یعنی نصف صدی گز ر گئی مگر وہ نیک بن کر جئے گا کے الفاظ آج بھی ذہن کے اندر اپنے اثرات رکھتے ہیں تو اس لئے ماں کو چاہئے کہ لوری بھی دے تو ایسی ہو کہ جس میں نیکی کا پیغام بچے کو پہنچ رہا ہو ۔

    ٭ بچے کو خالق حقیقی کا تعارف :
    بچے کا ایمان مضبوط کر نے کیلئے ماں کو چاہئے کہ وہ کو شش کرتی رہے بچہ بڑ ا ہوگیا اب اس کو کوئی ڈرانے کی بات آئی تو کبھی بھی کتے بلی سے نہ ڈرائیں کبھی جن بھوتوں سے نہ ڈرائیں جب بھی کوئی بات ہو تو بچے کے ذہن میں اللہ کا تصور ڈالیں کہ بیٹا ! اگر تم ایسے کروگے تو اللہ میاں ناراض ہو جائیں گے ۔ اب جب آپ پیار سے سمجھائیں گی کہ اللہ میاں ناراض ہو جائیں گے تو بچہ پو چھے گا کہ اللہ میاں کون ہیں؟اب آپ کو اللہ رب العزت کا تعارف کروانے کا موقع مل جائیگا آپ تعارف کروائیں اللہ وہ ہے جس نے آپ کو دودھ عطا کیا اللہ وہ ہے جس نے آپ کو سماعت دی۔ دیکھنے کو بصارت دی جس نے آپ کو عقل عطا کی جس نے مجھے بھی پیدا کیا اور آپ کو بھی پیدا کیا ہم سب اللہ کے بندے ہیں جب آپ اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کریں گی اور اس کے انعامات کاتذکرہ کریں گی تو بچپن ہی سے بچے کے اندر اللہ تعالیٰ کی محبت اور جنت میں جانے کا شوق پید ہو جائیگا اس طرح اس کے دل میں ایمان مضبوط ہو گا ۔

    ٭ بچپن ہی سے تر بیت والدین کی اولین ذمہ داری:
    ماں باپ کو چاہئے کہ وہ اولاد کو دین سکھائیں تاکہ بچے بڑے ہو کر ماں باپ کے بھی فر ماں بردار بنیں اور اللہ تعالی کے بھی فرماں بردار بنیں شروع سے بچے کو نیکی سکھانا ماں باپ کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ماں بننا آسان ہے مگر ماں بن کر تر بیت کرنا بمشکل کام ہے آجکل کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ بچیاں جوان ہو جاتی ہیں اپنی شادی کے بعد مائیں بن جاتی ہیں مگر دین کا علم نہیں ہوتا اس لئے ان کو سمجھ
    نہیں ہوتی کہ بچوں کی تر بیت کیسے کرنی ہے اس لئے ایسی محفلوں میں آنا ضروری ہوتا ہے تا کہ بچیوں کو پتہ چل سکے کہ دینی نقطۂ نظر سے ہم نے اپنی اولادوں کی تر بیت کیسے کر نی ہے اور ایسی تقاریر ہوں کتابیں ہوں ان کو تحفہ کے طور پر دوسروں کو بھی پیش کر نا چاہئے تا کہ وہ بھی ان باتوں کو سن کر اپنی زندگی میں لاگو کر سکیں ۔

    ٭ اولاد کا حق ماں باپ پر :
    حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک باپ اپنے بیٹے کو لے کر آیا ۔ بیٹا جوانی کی عمر میں تھا مگر وہ ماں باپ کا نا فر مان تھا ۔اس نے آکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے مگر میری کوئی بات نہیں مانتا نا فر مان بن گیا ہے آپ اسے سزا دیں یا سمجھائیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب باپ کی بات سنی تو بیٹے کو بلا کر پوچھا کہ بیٹے بتاؤ تم اپنے باپ کی نافر مانی کیوں کرتے ہو اس بیٹے نے آگے سے پوچھا کہ امیر المؤمنین! کیا والدین کے ہی اولاد پر حقوق ہوتے ہیں یا کوئی اولا کا بھی ماں باپ پر حق ہوتا ہے اولاد کے حق بھی ماں باپ پر ہوتے ہیں ۔ اس نے کہا کہ میرے باپ نے میرا کوئی حق ادا نہیں کیا۔ سب سے پہلے اس نے جو ماں چنی وہ ایک باندی تھی جس کے پاس کوئی علم نہیں تھا۔ نہ اس کے اخلاق صحیح نہ علم ایسا اس نے اس کو اپنا یا اور اس کے ذریعہ سے میری ولادت ہو گئی دوسرے میرے باپ نے میرا نام جعل رکھا جعل کا لفظی مطلب گندگی کا کیڑا ہوتا ہے ۔ یہ بھی کوئی رکھنے والا نام تھا جو میرے باپ نے رکھا ۔ پھر ماں کے پاس دینی علم نہیں تھا اس نے مجھے کوئی دین کی بات نہیں سکھائی اور میں بڑا ہو کر جوان ہو گیا اب میں نا فر مانی نہیں کروں گا تو اورکیا کروں گا حضرت عمرؓ نے جب یہ سنا تو فر مایا کہ بیٹے سے زیادہ تو ماں باپ نے اس کے حقوق کو پامال کیا اس لئے اب یہ بیٹے سے کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے اور آپ نے مقدمے کو خارج کر دیا ۔

    ٭عظیم ماں! بچے کو کبھی بددعا نہ دینا :
    بعض مرتبہ بچے غلطی کر بیٹھتے ہیں اگر بچہ غلطی کرے آپ کو تکلیف پہنچائے ۔اور جتنا مرضی ستائے مگر کسی حال میں بھی بچے کو بد دعا نہ دینا ۔شیطان دھوکہ دیتا ہے ماں کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ میں دل سے بد دعا نہیں کر رہی ہوں اوپر اوپر سے کہہ رہی ہوں اور اس دھوکہ میں کئی مر تبہ مائیں آجاتی ہیں اور زبان سے برے الفاظ کہہ جاتی ہیں یاد رکھنا یہ اولاد اللہ کی نعمت ہے اس کو بد دعا دینا نعمت کی ناقدری ہے اور اللہ کتنا کریم ہے ہم جیسے نا قدری کریں تو بدلہ میں آپ دعائیں دیں ۔اور اپنی زبان سے بد دعا نہ دے بلکہ بچوں کیلئے خوب خوب دعائیں کیا کریں رات کو تنہائی میں بھی اللہ سے لو لگا کر بیٹھیں۔آج بچیوں کو تربیت کا پتہ نہیں ہوتا کئی تو بیچاری ایسی ہوتی ہیں کہ چھوٹے سے بچے سے اگر غلطی ہو ئی یا بچے نے بولنا شروع کردیا تو غصہ میں آکر اب اس کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا کہہ رہی ہیں۔ کبھی اپنے آپ کو کوسنا شروع کر دیتی ہیں ۔یاد رکھنا کبھی بچے کو بد دعائیں نہ دینا ۔زندگی میں کوئی ایسا وقت نہ آئے کہ غصہ میں آکر بددعائیںدینے لگ جائیں ایسا کبھی نہ کرنا ۔اللہ کے یہاں ماں کا جو مقام ہوتا ہے ۔ماں کے دل اور زبان سے جو دعا نکلتی ہے وہ سیدھی اوپر جاتی ہے ،عرش کے دروازے کھل جاتے ہیں تو اللہ کے یہاں پیش کر دی جاتی ہے اور قبول کرلی جاتی ہے ۔مگر شیطان بڑا مردود ہے وہ ماں کے ذہن میں یہ ڈالتا ہے کہ میں گالی تو دیتی ہوں مگر میرے دل میں نہیں ہوتی ۔ یہ شیطان کا بڑا پھندا ہے حقیقت میں تو بد دعا کے الفاظ کہلواتا ہے اور ماں کو تسلی دیتا ہے کہ تونے توکہا تھا کہ تم مرجاؤمگر تمہارے دل میں نہیں تھا ۔ کبھی بھی شیطان کے دھوکہ میں نہ آنا بچے کو بد دعا نہ دینا کئی مائیں بچے کو بددعا دے کر ان کی عاقبت خراب کر دیتی ہیںاور اپنی زندگی برباد کر دیتی ہیں۔

    ٭ماں کی بد دعا کا اثر:
    ایک عورت کو اللہ نے بیٹا دیا مگر وہ غصہ میں خود پر قابو نہیں پا سکتی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کو سنے لگ جاتی ایک مرتبہ بچے نے کوئی بات ایسی کر دی کہ ماں کو غصہ آیا اور کہنے لگی کہ تو مر جاتا تو اچھا تھا ،اب ماں نے جو الفاظ کہدیئے اللہ نے اس کی دعا کو قبول کر لیا مگر بچے کو اس وقت موت نہ دی ،بلکہ اس بچے کو اللہ نے نیک بنا یا اچھا اور لائق بنایا ۔ جب وہ بچہ جوان ہوا نیک بن گیا لوگوں میں عزت ہوئی لوگ نام لیتے کہ بیٹا ہو تو ایسا ہو جیسا کہ یہ بیٹا ہے اور اللہ نے اس کو کاروبار بھی اچھا دیا لوگوں میں اس کی عزت تھی خوب تذکرے اور چرچے تھے اب ماں نے اس کی شادی کا پروگرام بنایا ۔ خوبصورت لڑکی تلاش کی گئی شادی کی تیاریاں ہوئیں جب شادی میں صرف چند دن باقی رہ گئے اس وقت اللہ نے اس بیٹے کو موت عطا کر دی اب ماں رونے بیٹھ گئی کہ میرا تو جوان بیٹا رخصت ہو گیا رورو کر اس کا برا حال ہو گیا ۔ کسی اللہ والے کو اللہ نے خواب میں بتا یا کہ ہم نے اس کی دعا ہی کو قبول کیا تھا ۔جب اس نے بچپن میں کہا تھا کہ تو مر جاتا تو اچھا تھا ہم نے یہ نعمت اس وقت واپس نہیں لی ہم نے اس نعمت کو بھر پور بننے دیا ۔جب عین شباب کے عالم میں جوانی کے عالم میں پہنچا یہ نعمت پک کر تیار ہو گئی تو ہم نے اس وقت پھل کو توڑا تا کہ ماں کو سمجھ لگ جائے کہ اس نے کس نعمت کی ناقدری کی ۔ اب سوچئے اپنی بد دعائیں اپنے سامنے آتی ہیں یہ قصور کس کا ہوا ۔اولاد کا ہوا یا ماں باپ کا ہوا۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ بچے کو کبھی بد دعا نہ دیں ہر حال میں دعا ہی دیں ۔اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ آپ کی دعاؤں کے صدقے بچے کو قبولیت عطا فر مادے اور بچہ نیک بن جائے اور بچے کی زندگی آپ کیلئے صدقہ جاریہ بن جائے ۔

    ٭باپ کے توجہ کی اہمیت :
    جس طرح ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی تربیت کا خیال رکھے اسی طرح باپ کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کی فکر کرے۔ جو باپ گھر کے ماحول کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اولاد کی تربیت کی فکر نہیں کرتا اس کی اولاد بگڑ جاتی ہے جیسے بعض لوگوں کو اپنی بزنس سے فرصت نہیں ملتی ان کے بچوں کی تربیت صحیح نہیں ہوتی ۔اس لئے کسی نے کہا ہے ۔لیس الیتیم قد مات والدہ ۔بل الیتیم یتیم العلم والعمل۔ ( یتیم وہ نہیں ہوتا جس کے ماں باپ مر جاتے ہیں ، یتیم تو وہ ہوتا ہے جو علم اور عمل سے محروم کر دیا جاتا ہے ) یہ بات ذہن میں رکھنا کہ جس ماں کی بات بچے مانتے نہیں اور باپ کے پاس گھر میں وقت دینے کی فرصت نہیں وہ بچے زندہ ہوتے ہیں مگر کسی یتیم کے مانند ہوتے ہیں ان بیچاروں کی تربیت کبھی نہیں ہو سکے گی ۔ لہذا خاوند کو چاہئے کہ اپنے نظام الاوقات میں جہاں اور کام رکھے ہیں وہاں بچوں کیلئے بھی وقت ضرور رکھے ۔

    ٭ بچے کورے کاغذ کے مانند ہیں :
    یا د رکھئے کہ بچے کورے کاغذ کے مانند ہوتے ہیں ان پر خوبصورت پھول بوٹے بنا نا یا الٹی سیدھی لکیریں لگانا یہ سب والدین کا کام ہوتا ہے اگر ماں باپ نے اچھی پرورش کی تو سب پھول بوٹے بن گئے اور اگر اس کی تربیت کا پتہ ہی نہیں تو پھر اس نے الٹی سیدھی لکیریں لگادیں اور گویا ان بچوں کو بگاڑنے میں معاون بن گئے ۔ پرورش سے مراد یہی نہیں ہوتی کہ بچے کا جسم بڑا کرنا ہوتا ہے بلکہ پرورش سے مراد یہ ہے کہ جس طرح جسم بڑھے ساتھ ہی دل کی صفات بھی بڑھیں دماغی صلاحیتیں بھی کھل کر سامنے آئیں تو جو اچھے ماں باپ ہوتے ہیں وہ فقظ بچے کو بڑا نہیں کرتے اس کے دل کو بھی بڑا کرتے ہیں اور ان کے اندر ایسی سوچ ڈالتے ہیں کہ چھوٹی عمر ہی میں دماغی صلاحتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں یہ دل ودماغ کی صلاحیتوں کو کھولنا ماں باپ کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔

    ٭ با وضو کھانا پکایئے :
    تربیت کے سلسلے میں یہ بات بھی ذہن میں رکھیں اور کو شش کریں کہ جب بھی کھانا پکائیں تو با وضو کھانا پکائیں اگر وضو رکھنا مشکل ہو تو کم ازکم اذکار کرتی رہا کریں زبان سے سبحان اللہ پڑھ لیا کریں الحمد للہ پڑھ لیا کریں اللہ اکبر پڑھ لیا کریں لا الٰہ الا اللہ کا ورد کیا کریں یہ ورد ان الفاظ کا تو ہر عورت ہر حال میں کر سکتی ہے جسم پاک ہو پھر بھی کر سکتی ہے ۔نا پاکی کی حالت میں فقط قرآن مجید اور نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے باقی اس قسم کے اذکار زبان سے کئے جا سکتے ہیں ۔ تو کھانا پکاتے ہوئے اگر آپ اللہ کا ذکر کریں گی سبحان اللہ اس کی برکتیں ہونگی اور اگر پاکی کے ایام ہیں اور آپ کو کچھ سورتیں یاد ہیں تو ان صورتوں کو پڑھئے تا کہ قرآن پرھنے کی بر کتیں آپ کے کھانے میں آجائیں ۔

    ٭ با وضو کھانا پکانا صحابیاتؓ کا عمل:
    ایک صحابیہؓ نے تنور پر روٹیاں لگوائیں جب پک کر تیار ہو گئیں تو فر مانے لگیں بہن میرا تو کھانا بھی تیار ہو گیا اور میرے تین پارے کی تلاوت بھی مکمل ہو گئی معلوم ہوا کہ جتنی دیر روٹیاں لگاتی تھیں یہ زبان سے اللہ کا قرآن پڑھتی رہتی تھیں تو یہ صحابیات رضی اللہ عنھن کی سنت ہے آپ بھی اس کو ادا کریں ۔ایک بزرگ فر ماتے ہیں کہ متعلقین میں سے ایک شخص کے یہاں جانا ہوا انہوں نے کہا کہ حضرت یہ آپ کا کھانا گھر میں بنا تو اس کو پکانے کیلئے میری اہلیہ نے ۲۱ مرتبہ سوری یٓسن شریف مکمل پڑھی اس پر خوشی ہوئی کہ آج بھی نیک عورتیں ایسی ہیں کہ کھانا پکانے کے دوران اللہ کا قرآن ان کی زبان پر ہوتا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد ہوں تو پڑھتی رہیں سورہ اخلاص تو ہر مسلمان بندے کو یاد ہوتی ہے فقط یہی پڑھتی رہیں تو یہ بھی کافی ہے اگر سورتیں نہیں پڑھ سکتیں توچلو ذکر ہی کر لیں ۔سبحان اللہ الحمد للہ اللہ اکبر یہ کلمات پڑھنے میں تو آسان ہیں اللہ رب العزت کو بھی بڑے محبوب ہیں ۔
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,955
    موصول پسندیدگیاں:
    994
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    صفحہ ۔۔۔۔۔۔3

    ٭ با وضو پکے ہوئے کھانے کے اثرات
    آپ جب اس طرح قرآن پڑھ کر ذکر کر کے کھانا پکائیں گی تو یہ کھانا آپ کے میاں کھائیں گے تو ان کے دل میں نیکی کے اثرات آئیں گے نیکی کا شوق آئے گا ۔ بچے کھائیں گے تو ان کے دل میں نیکی کا شوق آئے گا ۔ جو کچھ ہم کھاتے ہیں وہی تو ہمارے جسم کا گوشت بنتا ہے اگر ذکر سے پکا ہوا ہے تو پھر اس سے جسم کے جو ٹشوز بنیں گے یقیناً ان میں اللہ رب العزت کی محبت سموئی ہوئی ہو گی ۔ اور اگر حرام کھائیں گے ناپاکی اور غفلت کی پکی ہوئی غذا کھائیں گے تو جو ٹشو جسم میں جاکر بنیں گے انسان کو وہ گناہ پر اکسائیں گے ۔ جس ماں نے اپنے بچوں کو غذا اچھی دیدی وہ سمجھ لے کہ میں نے بچوں کی آدھی سے زیادہ تر بیت کر دی اس کا اتنا اثر ہے بچوں کے نیک بننے میں ۔ لہذا ان کو ذکر والا کھانا کھلایئے اور با وضو کھانا کھلایئے تاکہ اللہ رب العزت ان کے اثرات بچوں پر وارد فر مائیں ۔

    ٭بچوں کو شروع سے صفائی کا عادی بنائیں:
    ایک کام یہ کریں کہ بچے کو بچپن سے ہی صفائی رکھنا سکھائیں ۔ ماں باپ کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ان کو یہ سمجھائیں کہ اللہ رب العزت پاکیزہ رہنے والوں سے محبت فر ماتے ہیں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے واللہ یحب المتطھرین ۔ترجمہ ۔اور اللہ تعالیٰ طہارت کرنے والوں سے محبت فر ماتے ہیں کہیں فر مایا الطھور شطر الایمان ۔ پاکیزگی تو آدھا ایمان ہے !اگر آپ بچے کو اچھی طرح سمجھائیں گے تو پھر بچہ صاف رہنا پسند کرے گا ۔ چنانچہ اچھے لوگ پیدا نہیں ہوتے اچھے لوگ تو بنائے جاتے ہیں ماں اپنی گودوں میں لوگوں کو اچھا بنا دیا کرتی ہیں گر می کے موسم میں بچے کو روزآنہ غسل کروائیں کپڑا گندہ دیکھیں تو فوراً بدل دیں بستر ناپاک ہر گز نہ رہنے دیں فوراً اسے پاک کریں بہر حال بچے کی یہ ڈیوٹی تو دینی ہی پڑتی ہے اور اسی پر ماں کو اس کا اجر وثواب ملتا ہے لہذا بچوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں ۔

    ٭ بچوں کو بولنے کا ادب سکھائیں :
    بعض بچے تو اور تم کہہ کر بات کرتے ہیں ان کو سمجھائیں کہ بیٹا آپ کہنے سے محبت بڑھتی ہے لہذا چھوٹوں کو بھی آپ کہو بڑوں کو بھی آپ کہو۔ بچہ ہاں کہے تو اس کو سمجھائیں کہ بیٹا جی ہاںکہنے میں زیادہ محبت ہے اس طرح چھوٹی چھوٹی باتیں بچہ گود میں سیکھتا ہے اور پھر وہ اسے یاد رہتی ہیں یاد رکھنا کہ بچپن کی باتیں انسان کو پچپن میں بھی نہیں بھولا کرتیں ساری زندگی یاد رہتی ہیں اس لئے بچوں کی تربیت اچھی کریں یہ تو طے شدہ بات ہے کہ جو گھاس جنگلوں میں پیدا ہو وہ باغ کی طرح نہیں ہوتی کہ جنگلوں کی گھاس میں کوئی خوبصورتی نہیں ہوتی تربیت نہیں ہوتی اور باغ کی گھاس کے اندر خوبصورتی اور جمال ہوتا ہے اسی طرح ان پڑھ ماں کے جو بچے پلے ہوں وہ جنگلوں کی گھاس کے مانند ہوتے ہیں اور جو پڑھی لکھی نیک ماں کے پلے ہوئے بچے ہوں وہ باغ کی گھاس کے مانند ہوتے ہیں تو ماں کو چاہئے کہ بچوں کی تربیت پر خوب تو جہ دے ۔

    ٭ پہلے خود نماز کی پابندی کرو:
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَأْمُرْاَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا (سورہ طٰہ ۱۳۳)ترجمہ۔اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کی پابندی کرو ۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عجیب ترتیب رکھی ہے بظاہر یہ ہونا چاہئے تھا کہ پہلے خود نماز قائم کرو اور پھر اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو ۔ لیکن یہاں تر تیب الٹ دی ہے کہ پہلے اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو او رپھر خود بھی اس کی پا بندی کرو اس تر تیب میں اس بات کی طرف اشارہ فرمادیا کہ تمہارا اپنے گھر والوں کو یا اولاد کو نماز کا حکم دینا اس وقت تک موثر اور فائدہ مند نہیں ہو سکتا جب تک تم ان سے زیادہ نماز کی پابندی نہیں کروگے اب زبان سے تو تم نے ان کو کہدیا کہ نماز پڑھو لیکن خود اپنے اندر نماز کا اہتمام نہیں ہے تو اس صورت میں ان کو نماز کیلئے کہنا بالکل بیکار جائے گا لہذا اپنے گھر والوں اور اپنی اولاد کو نماز کا حکم دینے کا ایک لازمی حصہ یہ ہے کہ ان سے زیادہ پابندی خود کرو اور ان کیلئے ایک مثال اور نمونہ بنو ۔اللہ کے نبی نے فر مایا کہ بچہ جب سات بر س کا ہو جائے تو نماز کا حکم کرو اور جب دس برس کا ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے پر اس پر سختی کرو اور اس کا بستر علیحدہ کردو ۔سات سال کے بچے پر نماز فرض نہیں ہے لیکن ابھی سے نماز کا حکم اس لئے دیا جارہا ہے کہ اس کو نماز کی عادت پڑ جائے جب ابھی سے نماز پڑھے گا تو بالغ ہو نے تک اس کی عادت ہو جائیگی اور پھر زندگی میں کبھی نماز نہ چھوڑے گاچونکہ نماز بڑی اہم عبادت اور اسلام کا اہم فر یضہ ہے ۔آج بچے بالغ اور بڑے ہو کر بھی نماز نہیں پڑھتے اس لئے کہ بچپن سے نہ تو نماز کی عادت ڈالی گئی نہ اسکی اہمیت بتائی گئی ۔ بچوں کو تو کیا بتاتے بڑے ہی نماز نہیں پڑھتے ۔اللہ سب کو نماز ی بنائے ۔آمین۔

    ٭بچوں کے ساتھ جھوٹ مت بولو:
    حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ کے سامنے ایک خاتون نے اپنے بچے کو گود میں لینے کیلئے بلایا بچہ آنے میں تردد کر رہا تھا ، تو اس خاتون نے کہا کہ ہمارے پاس آؤ ، ہم تمہیں کچھ چیز دیں گے اب وہ بچہ آگیا آنحضرت ﷺ نے اس خاتون سے پو چھا کہ تم نے بچے کو یہ جو کہا کہ تم ہمارے پاس آؤ ہم تمہیں کچھ دیں گے تو کیا تمہاری واقعی کچھ دینے کی نیت تھی ؟ اس خاتون نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس ایک کھجور تھی اور یہ کھجور اس کو دینے کی نیت تھی آپ نے فر مایا اگر دینے کی نیت نہ ہوتی تو یہ تمہاری طرف سے بڑا جھوٹ ہوتا اور گناہ ہوتا ۔اس لئے کہ تم بچے سے جھوٹا وعدہ کر رہی ہو گویا اس کے دل میں بچپن سے یہ بات ڈال رہی ہو کہ جھوٹ بولنا وعدہ خلافی کرنا کوئی ایسی بری بات نہیں ہوتی۔

    ٭بچوں کو تر بیت دینے کا انداز :
    حضرت ابو ہریرہ ؓ فر ماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے نواسے حضرت حسن ؓ جبکہ ابھی بچے ہی تھے ایک مرتبہ صدقہ کی کھجور اٹھا کر منہ میں رکھ لی جب حضور ﷺ نے دیکھا تو فوراً فر مایا کخ کخ عربی میں یہ لفظ ایسا ہے جیسے ہماری زبان میں تھو تھو کہتے ہیں یعنی اگر بچہ کو ئی چیز منہ میں ڈال لے تو اس کی برائی اور شناعت کے اظہار کے ساتھ وہ چیز اس کے منہ سے نکلوانا مقصود ہو تو یہ لفظ استعمال کیا جا تا ہے ۔ بہر حال حضور ﷺ نے فر ما یا کخ کخ یعنی اس کو منہ سے نکال کر پھینک دو کیا تمہیں معلوم نہیں ہم بنی ہاشم صدقے کا مال نہیں کھاتے ۔ایک طرح حضور ﷺ کو اپنے نواسے حضرت حسنؓ سے اتنی محبت ہے دوسری طرف جب انہوں نے نادانی میں ایک کھجور منہ میں رکھ لی تو آپ ﷺ کو یہ گوارہ نہ ہوا کہ وہ اس کھجور کو کھائیں ۔ چونکہ ان کو پہلے سے اس کی تربیت دینی تھی اس لئے فوراً وہ کھجور منہ سے نکلوائی اور فر مایا کہ یہ ہماری چیز نہیں۔

    ٭ بچوں سے محبت کی حد:
    اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ فر مادیا کہ بچے کی تربیت چھوٹی چھوٹی چیزوں سے شروع ہوتی ہے اس سے اس کا ذہن بنتا ہے اسی سے اسکی زندگی بنتی ہے اور یہ آپ ﷺ کی سنت ہے ۔ آج کل یہ عجیب منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ ماں باپ کے اندر بچوں کو غلط باتوں پرٹوکنے کا رواج ہی ختم ہو گیا ہے آج سے پہلے بھی ماں باپ بچوں سے محبت کرتے تھے لیکن وہ عقل اور تدبیر کے ساتھ محبت کرتے تھے ۔ لیکن آج کل یہ محبت اور لاڈ اس درجے تک پہنچ چکا ہے کہ بچے کتنے ہی غلط کام کرتے ر ہیں ، غلط حرکتیں کرتے رہیں ۔ لیکن ماں باپ ان غلطیوں پر ٹوکتے ہی نہیں ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نادان بچے ہیں ان کو ہر قسم کی چھوٹ ہے ان کو روک ٹوک کی ضرورت نہیں ارے بھائی یہ تو سوچو کہ اگر وہ بچے نادان ہیں مگر تم تو نادان نہیں ہو تمہارا فرض ہے کہ ان کو تربیت دو اگر کوئی بچہ ادب کے خلاف تمیز کے خلاف یا شریعت کے خلاف کوئی غلطکام کر رہا ہے تو اس کو بتانا ماں باپ کے ذمے فرض ہے ۔اسلئے کہ وہ بچہ اسی طرح بد تہذیب بن کر بڑا ہو گیا تو اس کا وبال تمہارے اوپر ہے کہ تم نے اس کو ابتدا سے اس کی عادت نہیں ڈالی بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں پر بھی نظر رکھو۔

    ٭بچوں کو برے دوستوں سے بچایئے:
    ایک بات اور ذہن میں رکھیں کہ بچوں کو برے دوستوں سے بچانے کا اہتمام کریں ۔یاد رکھنا کہ بچے اپنے دوستوں سے اتنی گندی باتیں سیکھتے ہیں کہ جن باتوں کا ماں باپ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔کلا س روم میں بچے کن کے پاس بیٹھتا ہے اس کا بھی ٹیچر س پتہ کرتے رہیں اور ٹیچر سے کہیں کہ وہ بھی بچہ پر نظر رکھے ۔ بچہ کے دوست اگر اچھے ہوں گے تو بچے کی کشتی کنارے لگ جائیگی اور اگر دوست برے ہوئے تو بچے کی کشتی کو ڈبو کر رکھ دیں گے ۔دوست ہی بناتے ہیں دوست ہی بگاڑتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فر مایا المرء علیٰ دین خلیلہ ۔انسان تو اپنے دوستوں کے دین پر ہوتا ہے اس لئے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔ پہلے وقت میں ہمارے مشائخ اپنے بچوں کو اس کی نصیحت کیا کرتے تھے دوستوں کے بارے میں۔

    ٭ امام باقرؒ کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں:
    حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ میرے والد امام باقرؒ نے پانچ نصیحتیں کیں کہ بیٹا پانچ لوگوں سے دوستی نہ کرنا ۔بلکہ اگر کہیں راستے میں چل رہے ہیں تو ان کے ساتھ ملکر بھی نہ چلنا وہ اتنے خطرناک ہوتے ہیں ۔ میں نے پو چھا وہ کون ہیں ؟ تو انہھوں نے فر مایا !
    ایک ۔۔۔ جھوٹے سے دوستی نہ کرنا ۔ میں نے پو چھا کیوں؟ وہ فر مانے لگے اس لئے کہ وہ دور کو قریب اور قریب کو دور دکھائے گا اور تمہیں دھوکہ میں رکھے گا میں نے کہا اچھا۔
    دوسرا۔۔۔۔ فر مانے لگے تم کسی بخیل سے دوستی نہ کرنا ۔ کنجوس مکھی چوس سے دوستی نہ کرنا ، میں نے کہا کیوں؟ فر مانے لگے ،وہ تمہیں اس وقت چھوڑ دے گا جب تمہیں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہو گی ، وہ دھوکہ دے جایئگا ۔
    تیسرا۔۔۔۔فر مانے لگے فاجر وفاسق سے دوستی نہ کرنا، جو اللہ کے حکموں کو توڑنے والا ہو۔ میں پوچھا کس لئے ؟ فر مایا اس لئے کہ وہ تمہیں ایک روٹی کے بدلے بیچ ڈالے گا بلکہ ایک روٹی سے کم کے بدلے میں بیچ دے گا میں نے پو چھا ابو! ایک روٹی کے بدلے بیچنے بیچنے کی بات سمجھ میں آتی ہے ایک روٹی سے کم میں کیسے بیچے گا ۔ فر مایا بیٹے وہ ایک روٹی کی صرف امید پر تمہارا سودا کر دے گا، اور تمہیں پتہ بھی نہ یں چلنے دے گا یعنی فاسق بندے کا کیا اعتبار ہے جو خدا کے ساتھ وفادار نہیں وہ بندوں کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے ۔
    چوتھا۔۔۔۔ فر مایا کہ بے وقوف سے دوستی نہ کرنا ، میں نے پو چھا کس لئے ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ تمہیں نفع پہنچانا چاہے گا اور نقصان پہنچا دے گا ۔
    پا نچواں ۔۔۔ فر مایا قطع رحمی کر نے والے رشتے توڑنے والے بے وفا انسان کے ساتھ دوستی نہ کرنا کہ بے وفا بالآخر بے وفا ہوتا ہے ۔ تو پہلے وقت میں والدین اپنے بچوں کو اس طرح کی نصیحتیں کیا کر تے تھے ۔
    ٭بچوں کو سلام اور شکریہ ادا کر نے کی عادت ڈالیں :
    چھوٹے بچوں کو سلام کر نے کی عادت ڈالیں ان کو بتائیں کہ بیٹے بڑوں کو دیکھیں تو سلام کرتے ہیں سلام کے الفاظ بچوں کو سکھائیں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم سلام کو عام کرو اور ایک دوسرے کے درمیان رواج دو۔ تو تمہیں چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ بچے کو سلام کہنے کی عادٹ دالیں اس سے بچے کے دل میں جھجک دور ہو جاتی ہے اور ڈپریشن میں نہیں جاتا دوسروں کو دیکھ کر خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ اس کو سلام کر نے کی عادت ہوتی ہے توماں کو چاہئے کہ بچے کو سلام کہنے کا طریقہ سکھائے تاکہ بچے کے دل سے مخلوق کا ڈر دور ہو جائے اور بچے کے اندر جرأت آجائے وہ بزدلی سے بچ جائے ۔
    اسی طرح بچے کو شکریہ کی عادت بچپن سے سکھائیں ۔ چھوٹی عمر کا ہے ذرا سمجھ بو جھ رکھنے والا ہوا تو اسے سمجھائیں کہ جب تم سے کوئی نیکی کرے بھلائی کرے تمہارے کام میں تعاون کرے تو بیٹے اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ اس طرح جب وہ انسانوں کا شکریہ ادا کرے گا تو پھر اس کو اللہ کا شکر ادا کرنے کا سق بھی مل جائیگا ۔آپ ﷺ کا ارشاد ہے من لم یشکر الناس ولم یشکر اللّٰہ ۔ جو انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکریہ ادا نہیں کر تا ۔تو یہ شکریہ کی عادت ہمیں ڈالنی چاہئے ۔ عجب بات ہے ہمیں اس بات کا اتنا زیادہ حکم دیا گیا مگر آج شائد ہی کوئی ماں ہو جو اپنے بیٹے کو شکریہ کے الفاظ سکھائے ۔ جزاکم اللّٰہ ، جزاک اللّٰہ خیراً یہ الفاظ اپنے بچوں کو سکھائیں تاکہ بچوں کو صحیح سنت کے مطابق شکریہ ادا کرنے کے الفاظ آتے ہوں ۔ آج یہ ہمارا عمل تھا لیکن غیر مسلموں نے اس کو اپنا لیا ۔

    ٭سب سے بڑی بیماری دل آزاری سے بچئے:
    ایک بات بچے کو یہ سکھائیں کہ بیٹے سب نیکیوں میں سے بڑی نیکی یہ ہے کہ تم کسی کو دکھ نہیں دینا، کسی کو تکلیف نہیں دینی بچے چھوٹے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جلد جھگڑ پڑتے ہیں ۔ لیکن جب آپ بچے کو سکھائیں گے کہ بچے تم کسی کو تکلیف نہ دینا کسی کا دل نہیں دکھانا تو ایسا کرنے سے بچے کے دل میں اہمیت آئے گی کہ دوسروں کا دل دکھانا اللہ کو بہت نا پسند ہے یاد رکھنا کہ بیماریوں میں سے سب سے بڑی بیماری دل کی بیماری ہے اور روحانیت میں سب سے بڑی بیماری دل آزاری ہے اور دوسرے کے دل کو دکھانا آج سب سے آسان کام بن گیا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ یہی ہے کہ کسی بندے کے دل کو دکھا دیا جائے ۔ کسی کہنے والے نے کہا کہ تو مندر گرادے ، مسجد گرادے ترے دل میں جو آتا ہے گرادے لیکن کسی کا دل نہ گرانا ۔اس لئے کہ دل میں تو اللہ بستے ہیں ، جب آپ بچے کو یوں سمجھائیں گی کہ دل اللہ کا گھر ہے کسی کا دل توڑنا تو بچے کو احساس ہو گا کہ مجھے اچھے اخلاق اپنانے ہیں دوسرے کے دل کو صدمہ اور تکلیف نہیں دینا ۔

    ٭بچے کو غلطی پر معافی مانگنے کا احساس دلائیں:
    اگر بچہ کبھی کسی سے لڑ پڑے تو آپ دیکھیں غلطی کس کی ہے اس کو پیار سے سمجھائیں کہ بیٹا ابھی غلطی کی معافی مانگ لو تو قیامت کے دن اللہ رب العزت کے سامنے تمہاری یہ غلطی پیش نہیں ہوگی ۔ بچے کو معافی مانگنے کی فضیلت سنائیں معافی مانگنے کا طریقہ بتائیں ۔اس کے ذہن سے شرم ختم کریں وہ بے جھجک ہو کر معافی ،مانگنے کا عادی ہو جائے ۔ غلطیاں چھوٹوں سے بھی ہوتی ہے اور بڑوں سے بھی ہوتی ہے بچے کو سمجھائیں کہ بیٹے جب بھی غلطی ہو جائے تو ایسے وقت معافی مانگ لینی چاہئے اپنے بہن بھائیوں سے اگر بد تمیزی کرے یا ان کو تکلیف دی یا جھگڑا کیا تو ان سے بھی معافی مانگے پھر اس سے کہیں اللہ سے بھی معافی مانگ لو تا کہ اللہ تعالیٰ آپ سے کہیں ناراض نہ ہوں ۔ہر وقت اللہ کی ناراضگی کی بات ڈالنا کہ نیک کام کرنے سے اللہ خوش ہو تے ہیں اور لڑائی جھگڑے اور برے کاموں سے اللہ ناراض ہوتے ہیں حتی کہ بچے کے دل میں یہ اتر جائے کہ اللہ کی ناراضگی سب سے بری چیز ہے یہ بچے کی تر بیت کیلئے سب سے زیادہ ضروری ہے آج تو یہ ہوتا ہے کہ اگر اپنا بچہ کسی دوسرے بچے سے جھگڑ پڑے تو اپنے بچے کی غلطی کے با وجود دوسرے کے بچے کو ڈانٹا جاتا ہے اور نا حق اپنے بچے کی غلطی سے چشم پو شی کی جا تی ہے جس سے یہ لڑائی چھوٹوں سے شروع ہو کر بڑوں تک پہنچ جاتی ہے جس سے بڑا نقصان ہوتا ہے ایسا موقع نہیں آنے دینا چاہئے ۔

    ٭ بچے میں اچھی عادت پیدا کرنے کا حیرت انگیز نسخہ :
    جب بچہ کئی گھنٹے با ہر گزار کرگھر واپس آئے تو اس بچے کو اس موقع پر ایسی محبت دینی ہے کہ بچے کے اندر اچھی عادتیں جم جائیں اور بری عادتیں اس سے دور ہو جائیں اس لئے جب بچے اسکول سے آتے ہیں اس وقت یہ چند منٹ کی ڈیوٹی جس عورت نے پکی ادا کر دی اس کے بچے ساری زندگی نیک بنیں گے مؤدب بنیں گے اور ماں کے ساتھ محبت کرنے والے بنیں گے بچے کبھی نہیں بھول سکتے کہ جب ہم اسکول سے آتے تھے امی ہمیں کتنا پیار دیتی تھیں ۔ جب آپ بوڑھی ہو جائینگی بچے جوان ہو جائیں گے تو پھر بچے ان کی خوشی کا خیال رکھیں گے جتنا آپ نے ان کا خیال رکھا ، لہذا یو ں سمجھ لیجئے کہ میں نے آپ کو ایک تحفہ دیدیا آپ اس پر عمل کر لیجئے اور پھر اس کے اثرات بچوں میں خود دیکھیں گی آپ کے دل سے دعائیں نکلیں گی کہ رب کریم بچوں کی اچھی تربیت فر مادے ۔
    ٭ حضور ﷺ کی سنت مطہرہ:

    حضور ﷺ تشریف فر ماء ہیں امام حسن ؓ تشریف لائے جو آپ ﷺ کے بڑے نواسے حضرت فاطمہ زہرا ؓ کے بیٹے ہیں بچے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کا بوسہ لیا پیار کیا جب آپ ﷺ نے پیار کیا تو اس وقت ایک صحابی ؓ بیٹھے تھے ان کا نام ہے اقرع ابن حابسؓ تمیمی بنو تمیم کے آدمی تھے وہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہنے لگے !اے اللہ کے نبی ﷺ میرے تو دس بچے ہیں اور میں نے کبھی کسی کو اس طرح پیار نہیں کیا آپ ﷺ نے فر مایا ( مَنْ لَایَرْحَمْ لَایُرْحَمْ) جو آدمی رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں فر ماتے ۔ایک اور مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک اعرابی نے دیکھا کہ آپ ﷺ بچوں کو پیار کر رہے ہیں تو کہنے لگا !اے اللہ کے بنی ﷺ میں تو بچوں کو ایسا پیار نہیں کرتا جیسے آپ کرتے ہیں نبی ﷺ نے فر مایا ،اگر تیرے دل سے اللہ نے رحمت کو نکال لیا اور تجھے اس سے محروم کر دیا تو کوئی کیا کرے تو معلوم ہوا کہ بچوں سے پیار کرنا انسانی فطرت ہے تو بچوں کو پیار دیا کریں ۔

    ٭ بچوں کی محبت پر جنت کی بشارت :
    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ دو بچے تھے ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تین کھجوریں کھانے کو دیں۔ ان بچوں کی ماں نے ایک کھجور ایک بچہ کو دی اور دوسری کھجور دوسرے بچے کو دی اور تیسری خود رکھ لی اور خود کھانے کے بجائے ہاتھ میں پکڑ لی جب دونوں بچوں نے اپنی اپنی کھجوریں کھالیں تو پھر تیسری کھجور کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگے تو اس ماں نے کھجور کے دو ٹکڑے کئے اور آدھا ایک بچے کو اور آدھا دودوسرے بچے کو دے دیا بچوں نے اس کو بھی کھالیا اور خوش ہو گئے ۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بڑی حیران ہوئیں جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو عائشہ صدیقہؓ نے یہ پورا واقعہ حضور ﷺ کو سنایا کہ ماں کی محبت دیکھئے کہ اس نے خود نہیں کھایا بلکہ اپنا حصہ بھی بچوں کو دیدیا اور تقسیم فر ما دیا ۔ تو نبی کریم ﷺ نے فر مایا کہ اللہ نے اس عورت پر جنت کو واجب کر دیا ۔ سبحان اللہ تو ماں جب بچوں کو اس طرح محبت دیتی ہے اس کے بدلے اللہ اس ماں کو جنت عطا فرمادیتے ہیں یا د رکھئے حدیث پاک میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نر می پر وہ رحمتیں نازل فر ما دیتے ہیں جو سختی پر نازل نہیں فر ماتے اس لئے بچے کی تر بیت کرتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھئے۔

    ٭ بچے کو تو حید سکھائیے:
    ایک اور بڑا اہم نقظہ یہ ہے کہ بچے کے دل میں بچپن سے ہی ایمان کو مضبوط کیجئے اور تو حید کا تصور مضبوط کیجئے بچے کے دل میں اللہ سے تو کل پیدا کر دیجئے ۔ یہ ماں کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ ایسی تر بیت کرے کہ بچے کے دل میں ڈر بھی اللہ رب العزت کا ہو ،امیدیں ہوں ، تو اللہ سے ہوں محبت ہو تو اللہ کی ہو توحید اس کے ذہن میں رچ بس جائے اور وہ انسان وہ بچہ اللہ سے والہانہ محبت کرنے والا بن جائے ہمارے پہلے وقت کی اچھی مائیں ان باتوں کا بہت زیادہ خیال رکھتی تھیں ۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کی والدہ نے ان کی تر بیت کی اور گنج شکرؒ کی والدہ نے اپنے بیٹے کی تر بیت کی اور خواجہ معین الدین چشتیؒ کی والدہ نے ان کی تر بیت کی۔ اگر آپ بھی اس طرح
    تر بیت کریں گی تو آپ کی آغوش میں پلنے والے بچے بھی اللہ کے ولی اور نیک بنیں گے اورتم کو بھی راحت پہنچائیں گے اور اللہ کی مخلوق کو بھی ۔ اللہ رب العزت ہم سب کو اپنی مر ضیات پر چلنے کی تو فیق عطا فر مائے ۔ اور ہماری اولاد کی اصلاح فرما ئے اور ان کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے ۔آمین
  4. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہترین اور مفید شئیرنگ ۔ ۔ ۔ جزاک اللہ
  5. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,521
    موصول پسندیدگیاں:
    704
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یہ تحریر والدین کے لئے مشعل راہ ہے

    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کو مشتہر کریں