آؤ کچھ سیکھیں !

'بزمِ طلبہ و طالبات' میں موضوعات آغاز کردہ از مظاہری, ‏اپریل 4, 2016۔

  1. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ناظم ای فتاوی ٹیم ممبر

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    آؤ کچھ سیکھیں !
    علم حاصل کرنے والے بیشتر طلبا ایک عجیب وغریب بیماری میں مبتلا ہیں ،خصوصاً دینی علوم حاصل کرنے والے لوگ اس مرض کا زیادہ شکار ہیں ،اور اس میں طالب علم اور معلم دونوں شامل ہیں ،اور دونوں ہی اپنے اس مرض سے غافل بھی ہیں ،اور وہ مرض ہے علم کا استعمال نہ کرنا ، غالبا ً آپ یہ سمجھیں کہ یہ تو وہی گھسی پٹی تقریر ہے کہ علم پر عمل کرنا چاہئے،ہر گز نہیں ،اس سے میری مراد یہ نہیں ہے ،بلکہ اس سے میری مراد ہے بوقت ضرورت علم کا مستحضر نہ ہونا ہے،علم پر عمل نہ کرنا اور چیز ہے،ممکن ہے کسی شخص کو کسی لالچ،لذت طلبی ،جاہ طلبی وغیرہ بشری کمزوریوں نے عمل سے روک دیا ہو،لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہاں توصرف یہ ہوتا ہے کہ علم نے بروقت رہنمائی نہیں کی ،یہاں میں ایک مثال دیکر اپنی اس بات کو واضح کرونگا،ایک مسجد میں جھگڑا ہو گیا ،جس کی بنا بالکل ذرا سی تھی ،نیم سردی کا موسم تھا بعض لوگوں کو پنکھے کی ضرورت تھی ،جبکہ بعض کو ٹھنڈ لگ رہی تھی ،وہ پنکھا چلانے پر بضد تھے،یہ بند رکھنے پر مصر ،ایک صاحب بصیرت نے کہا کہ کمزوروں کا خیال کرو، نہ کہ طاقت وروں کا ،معلوم ہوا کہ پنکھا چلانے کا موقف جوانوں اور قوی لوگوں کا تھا ،جبکہ ضعیف و کمزور بند رکھنا چاہتے تھے،ہماری زندگی میں بے شمار ایسے مواقع آتے ہیں جب علم کی رہنمائی ہمیں بڑے خسارے سے بچا سکتی ہے ،لیکن نہیں بچاتی ،کیونکہ ہمارا علم ایسے کسی موقع پر بروقت حاضر نہیں ہوتا ، یہ نہایت ہی خطرناک بیماری ہے، خطرناک اس لئے ہے کہ اس کینسر کا ہمیں احساس ہی نہیں ۔
    غور کرو اور سوچو کہ اس کا کوئی علاج بھی ہے؟
    ارشاد احمد غازی اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    341
    موصول پسندیدگیاں:
    216
    صنف:
    Male
    بالکل درست بات ہے۔ اصل میں ہم کتابوں میں پڑھتے تو ہیں لیکن اس کا اطلاق نہ تو عملی زندگی میں کہیں ہوتا ہے اور نہ ہی تصوراتی زندگی میں۔ عملی زندگی میں تو اکثر مسائل کے اطلاق کا موقع کم آتا ہے لیکن اگر ہر مسئلہ پڑھنے کے ساتھ ذہن میں اس کی صورت مسئلہ متصور کر لی جائے تو وہ مسئلہ کافی حد تک پختہ ہو جاتا ہے ار بوقت ضرورت مستحضر بھی ہوتا ہے۔
    دوسرا کام یہ کہ مسائل کو اگر اصول کے ساتھ اور اصول پر منطبق کر کے سیکھا جائے تو وہ بہت کم ذہن سے محو ہوتے ہیں۔
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. طاہر شیخ

    طاہر شیخ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    13
    موصول پسندیدگیاں:
    3
    صنف:
    Male
    عملی زندگی میں اطلاق تو جب ہو گا نہ جب اس پر گھر یا مدرسہ سکول میں تربیت کی گئی ہو گی ۔ عام طور پر دنیا کمانا ہی بتایا جاتا ہے دونوں جگہوں پر
    مظاہری نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ناظم ای فتاوی ٹیم ممبر

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    غالباً میں اپنی بات کو واضح نہیں کر پایا ،دراصل دنیا کمانے میں بھی بہت سے مواقع آتے ہیں جہاں ہمارا علم ہماری بہت بہتر رہنمائی کر سکتا تھا ،مگر وہ عین وقت پر خاموش ہو بیٹھا ،اور بعد میں جب مکافات شروع ہوئی تو ہاتھ ملتے ہیں ،اور کہتے ہیں کہ دیکھو! ہم بھی کیسے پاگل نکلے،حالانکہ ہم نے یہ بات فلاں جگہ پڑھ رکھی تھی ،فلاں استاذ سے سن رکھی تھی ،لیکن پھر بھی عقل پر پردہ پڑا رہا ،ہم نے بارہا پڑھا کہ بے وقوف کی دوستی سے بچو،کہ یہ عقل مند کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے،لیکن پھر بیوقوف سے معاملہ کر بیٹھے ،وغیرہ، اس کا ایک حل میں نے دریافت کر لیا ہے،آپ بھی غور فرمائیں
    ارشاد احمد غازی نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ناظم ای فتاوی ٹیم ممبر

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ہاں ،یہ بھی ایک حل ہے،اور خصوصاً ذہین لوگوں کے لئے تو بڑا ہی اچھا ہے،البتہ میرے تجربہ میں اس کا دوسرا حل ہے۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    341
    موصول پسندیدگیاں:
    216
    صنف:
    Male
    ارشاد فرمائیے۔ آپ کا تجربہ تو ہمارے لیے مشعل راہ ہوگا۔
  7. ارشاد احمد غازی

    ارشاد احمد غازی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    55
    موصول پسندیدگیاں:
    30
    صنف:
    Male
    ابہی تک انتطار ھے مظاہری صاحب
  8. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ناظم ای فتاوی ٹیم ممبر

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    میں خود اس مرض کا بیمار ہوں ،جب مجھے اپنی اس بیماری کا احساس ہوا تو بہت سوچا ،اللہ تعالیٰ نے اس کا جو حل سجھایا وہ بہت سادہ ہے ،میرا معمول گیارہ بجے سونے کا ہے،دس بجے کا ایک الارم میں نے سیٹ کیا ،اس کا نام ’’ آج کا عمل ‘‘رکھا ،جب یہ الارم مجھے ہوشیار کرتا ہے تو میں پچھلے چوبیس گھنٹوں پر نگاہ دوڑاتا ہوں کہ آج کہاں کہاں ایسا موقع آیا جہاں علم کی رہنمائی موجود ہونے کے باوجود جہالت کے ساتھ فیصلے لئے ،اس عمل سے مجھے اتنا فائدہ ہوا کہ بیان نہیں کر سکتا،چند ہی روز میں الحمد للہ ایسا استحضار شروع ہو گیا کہ کیا کہنے!
    ارشاد احمد غازی اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ناظم ای فتاوی ٹیم ممبر

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جلسوں کی آج کل بھر مار ہے،بعض جلسوں میں جانے کا مجھے بھی موقع مل جاتا ہے ،لہذا فرصت نہیں مل سکی ابھی ،کل سے آج تک کا سفر سات سو کلومیٹر کا کیا ،خود ہی ڈرائیونگ اتنی لمبی کی ،اب بمشکل فورم پر آیاکہ چند منٹ ہی سہی دوستوں سے مل تو لوں ،امید ہے در گذر فرمائیں گے۔
    ارشاد احمد غازی نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    341
    موصول پسندیدگیاں:
    216
    صنف:
    Male
    واہ بہت عمدہ حل ہے۔ ان شاء اللہ میں بھی اس کا اہتمام کرتا ہوں۔
  11. ارشاد احمد غازی

    ارشاد احمد غازی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    55
    موصول پسندیدگیاں:
    30
    صنف:
    Male
    ماشا ء اللہ احسن جزا ک اللہ خیر

اس صفحے کو مشتہر کریں