آپ پر سلام ہو ائے میرے نانا

'بزرگانِ دین' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 3, 2019۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,618
    موصول پسندیدگیاں:
    783
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    السلام علیک یا جدی​
    واقف اسرارِ طریقت ،حامل علومِ شریعت، مالک گنجینہ معارف ،غریق دریائے عوارف، ولی کامل عارف واصل شیخ المعظم حضرت محی الدین ابو العباس سید احمد کبیر رفاعی الحسینی الرفاعی قدس اللہ سرہ العزیز۔
    آپ کا نام مبارک سید احمد کبیر تھا، ابو العباس کنیت اور محی الدین لقب تھا اور نسبا شہید کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں اس لیے حسینی کہلائے۔ آپ 15 رجب المرجب 512؁ھ کو مقام حسن میں پیدا ہوئے۔ جو ام عبیدہ کے قریب نواح واسطہ میں واقع ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب عرف باللہ علامہ ابو محمد ضیاء الدین احمد وتری موصلی نے اپنی کتاب :روضۃ الناظرین میں یوں بیان فرمایا ہے ۔سیدنا حضرت سید احمد کبیر ابن سید علی بن سید حسن الہاشمی المکی مقیم اشبیلی بن سید مہدی سید ابو القاسم محمد بن سید حسن ابوموسی بغدادی مقیم مکہ مکرمہ بن سید حسن رضی بن سید احمد اکبر صالح بن سید موسیٰ ثانی جن کی کنیت ابو سچا اور الہی بھی مشہور تھی، ابن سید ابراہیم مرتضی بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین شہید کربلا امیر المومنین سید علی بن طالب رضی اللہ عنہم اجمعین۔
    ابتدائی آپ پر عالمانہ کیفیت کا غلبہ تھا اور تعلیم وتعلم ہیں آپ کا مشغلہ تھا مگر اس کے ساتھ آپ اپنے ماموں صاحب شیخ منصور بطائحی سے تصوف اور معرفت کی تحصیل بھی کرتے تھے تھوڑے ہی عرصہ میں عرفان و سلوک کے مدارج عا لیہ کو طے کرکے عارف کامل بن گئے۔ اور حضرت شیخ منصور بتا ئحی نے 539؁ھ میں اپنے انتقال سے ایک سال پہلے خلافت ادا کرکے خرقہ پہنا دیا اور خانقاہ عبیدہ میں آپ کو اپنا جانشین بنا دیا۔
    مشہور کرامت آپ کی یہ ہے کہ :
    جب آپ 555 میں زیارت بیت اللہ کو تشریف لے گئے تو سرکار رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مقدس کی زیارت کے لئے بھی حاضر ہوئے گنبد خضرا کے قریب پہنچ کر آپ نے با آواز بلند کہا !السلام علیک یا جدی (آپ پر سلام ہو ائے میری نانا)روضہ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم سے ندا آئی کی وعلیک السلام یا ولدی(میرے بیٹے تم پر بھی سلام ہو اس آواز مبارک کو سن کر آپ پر وجد طاری ہو گیا اور آپ کے علاوہ جتنے آدمی وہاں موجود تھے سب نے آواز کو سنا تھوڑی دیر کے بعد بحالت گریہ آپ نے یہ دو شعر پڑھے:

    فی حالۃ البعدروحی کنت ارسلھا۔۔۔۔۔ تقبل الارض عنی وھی نا ئبتی۔​
    جب میں دور تھا تو اپنی روح کو روضہ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیجتا تھا تاکہ میری طرف سے آپ کی آستانہ بوسی کا شرف حاصل کر لے۔
    وھذہ دولت الاشباح قد حضرت۔۔۔۔۔ فامدد یمینک تخطی بھا شفتی
    اور جب کی دولت دیدار مجھے اصالتہً حاصل ہے تو آپ اپنا مبارک ہا تھ دیجئے کہ میں اسے بوسہ دے کر عزت حاصل کروں۔
    اسی وقت قبر مطہر صلی اللہ وسلم سے دست مبارک نکلا اور اپنے اس کو بوسہ دیا اس وقت روزے مقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر تقریبا 90 ہزار عاشقان جمال محمدی صلی اللہ علیہ وسلم و مشتاقان روضہ نبوی صلی اللہ وسلم کامجمع تھا۔ جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا اور سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔انہیں میں حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور حضرت شیخ عدی بن موسی بن مسافر الامویئؒ اور حضرت شیخ عبدالرزاق ؒجیسے جلیل القدر بزرگ بھی تھے۔
    آپ نے 66 سال کی عمر تک اس دار فانی میں رہ کر خلق اللہ کی خدمت کی اور 578؁ھ میں آپ اس عالم فانی کو چھوڑ کر عالم بقا کا سفر اختیار کیا نور اللہ مرقدہ آپ کی وفات کی خبر فرشتے غیب نے اطراف و نواح ام عبیدہ میں مشہور کردی لوگ دور دور سے آپ کی آخری زیارت اور نماز جنازہ کی شرکت کے لئے ام عبیدہ میں جمع ہونے لگے بعض مورخین کابیان ہے کہ آپ کی نماز جنازہ کے وقت تقریبا نو لاکھ مرد عورت کا مجمع تھا ۔بعد نماز آپ کی میت کو ام عبیدہ کے اسی خانقاہ میں سپردخاک کیا جس میں آپ کے نانا صاحب کا مزار تھا ۔(بنیان المشید ترجمہ برھان المؤید )مترجم ظفر احمدتھانوی عثمانی رحمتہ اللہ علیہ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں