اپنے جگری دوست شفیع محمد (مرحوم) کے لیئے۔

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از رشید حسرت, ‏اگست 2, 2020۔

  1. رشید حسرت

    رشید حسرت وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2
    موصول پسندیدگیاں:
    3
    صنف:
    Male
    جگہ:
    کوئٹہ
    اپنے جگری دوست شفیع محمد ( مرحوم) کے لیئے۔

    ایسے بھی مِرے دوست بِچھڑتا ہے کوئی کیا؟
    اُس پار ہی بس جائے یُوں لڑتا ھے کوئی کیا؟

    او میرے شفیعؔ تُم تو بندھاتے تھے مِری آس
    پِھر کیسے مِری وحشتیں آئی ہیں تُمہیں راس
    بے وقت ہی پھل پیڑ سے جھڑتا ھے کوئی کیا؟
    اُس پار ہی بس جائے یُوں لڑتا ھے کوئی کیا؟

    ہیں بعد تِرے یار کے حالات دِگرگُوں
    دِن رات کٹِھن ھو گئے لمحات دِگرگُوں
    یُوں ضِد پہ پلٹ جانے کی اڑتا ھے کوئی کیا؟
    اُس پار ہی بس جائے یُوں لڑتا ھے کوئی کیا؟

    میں نے تو یہ سمجھا تھا سدا ساتھ رہو گے
    کِس کو تھی خبر آنکھوں سے اشکوں میں بہو گے
    راہوں میں ہی بُھونچال بھی پڑتا ھے کوئی کیا؟
    اُس پار ہی بس جائے یوں لڑتا ھے کوئی کیا؟

    وحشت ہے ہر اِک سمت کھڑی بال بکھیرے
    سو طرح کے دُکھ درد مُجھے رہتے ہیں گھیرے
    روگ ایسے کِسی دِل کو پکڑتا ھے کوئی کیا؟
    اُس پار ہی بس جائے یُوں لڑتا ھے کوئی کیا؟

    اِک روز تو ہم سب کو پلٹنا ھے یہ طے ھے
    اِس پردے سے تصوِیر کو ہٹنا ھے یہ طے ھے
    ہے ہستئِ بے بُود، اکڑتا ہے کوئی، کیا؟
    اُس پار ہی بس جائے یُوں لڑتا ھے کوئی کیا؟

    لوٹ آؤ ہر اِک بات تمہاری ہمیں منظُور
    کیوں رُوٹھ کے یاروں سے بسے جا کے کہِیں دُور
    اپنوں سے ہی بے وجہ جھگڑتا ھے کوئی کیا؟
    اُس پار ہی بس جائے یُوں لڑتا ہے کوئی کیا۔

    میں نے تو ہر اِک لمحہ مِرے دوست دُعا کی
    مرقد پہ تِری نُور ہو، رحمت ہو خُدا کی
    گڑتے ہیں سبھی خاک میں، گڑتا ھے کوئی کیا؟
    اُس پار ہی بس جائے یُوں لڑتا ھے کوئی کیا۔
    Last edited by a moderator: ‏اگست 20, 2020
    محمدداؤدالرحمن علی اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں