اکیلے سفر کرنا۔

'الحدیث الکریم و علومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏ستمبر 15, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    34
    صنف:
    Female
    كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ
    کتاب: جہاد کا بیان
    135۔ بَابُ السَّيْرِ وَحْدَهُ:
    135۔ باب: اکیلے سفر کرنا۔
    حدیث نمبر: 2998​

    حدثنا ابو الوليد، حدثنا عاصم بن محمد، قال: حدثني ابي، عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، حدثنا ابو نعيم، حدثنا عاصم بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" لو يعلم الناس ما في الوحدة، ما اعلم ما سار راكب بليل وحده"۔

    ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ (دوسری سند) ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جتنا میں جانتا ہوں، اگر لوگوں کو بھی اکیلے سفر (کی برائیوں) کے متعلق اتنا علم ہوتا تو کوئی سوار رات میں اکیلا سفر نہ کرتا۔“
    3584 - 2998

    ● صحيح البخاري 2998 عبد الله بن عمر لو يعلم الناس ما في الوحدة ما أعلم ما سار راكب بليل وحده
    ● جامع الترمذي 1673 عبد الله بن عمر لو أن الناس يعلمون ما أعلم من الوحدة ما سرى راكب بليل
    ● سنن ابن ماجه 3768 عبد الله بن عمر لو يعلم أحدكم ما في الوحدة ما سار أحد بليل وحده

اس صفحے کو مشتہر کریں