اہل اللہ کا رَمَضان

'ماہنامہ افکار قاسمی شمارہ نمبر 8، 2013 ماہ رمضان ن' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏جون 29, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    اہل اللہ کا رَمَضان
    </td>
    </tr>

    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    محمد ارمغان
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْم، اَمَّا بَعْدُ!
    اللہ تعالیٰ کا ہم سب پر بے حدکرم اور بڑا احسان ہے کہ ہمیں ایک بار پھر رمضان المبارک کی بہاریں اور بابرکت لمحات نصیب فرما رہا ہے، بقول حضرت قاری سیّد صدیق احمد باندوی رحمہ اللہ تعالیٰ؎
    مبارک ہو مسلمانوں کہ پھر ماہِ صیام آیا…………………خدا کی رحمتوں اور برکتوں کا اژدھام آیا
    خدا کا شکر ہےفصلِ بہار جانفزا آئی…………………خوشا قسمت کہ پھر موسمِ صوم و قیام آیا
    زمانہ آ گیا کہ لطفِ باری عام اب ہو گا…………………نصیب اپنے کہ پھر سے زندگی میں یہ مقام آیا
    رمضان المبارک نزولِ قرآن کا مہینہ، رحمتوں اور برکات و تجلیات کا مہینہ، طاعات و عبادات کی بہار کا زمانہ اور نیکیوں کا سیزن ہے۔ عارفین و عشّاق اور عالی ہمت خاصانِ خدا کا محبوب ترین مہینہ ہے۔اس ماہِ مبارک کے شروع ہوتے ہی مساجد، مدارس اور دینی و رُوحانی مرکزوں اور خانقاہوں کی فضا بدل جاتی ہے۔ حضورِ اقدس ﷺ، صحابہ کرام اور اولیاء اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے معمولات اس ماہِ مبارک میں کیا ہوتے تھے اور کیسے اس ماہِ مبارک کو گزارتے تھے؟ اس مناسبت سے یہ مختصر و مرتب مضمون پیشِ خدمت ہے، اللہ والوں کے معمولات ہمارے لیے اُسوہ ہیں، ہمیں اپنی ہمت کے موافق ان کا اتباع کرنا چاہیے۔ ان کے مطالعہ سے ہمارے اندر بھی عبادات کا شوق اور مولائے کریم کو پا لینے کی طلب پیدا ہو گی اور اپنے اوقات کو قیمتی بنا کر لغویات، فضولیات اور رُسومات سے بچتے ہوئے رضائے الٰہی میں صرف کرنے کا جذبہ پیدا ہو گا۔ صرف چند حضرات کے معمولات، واقعات اور ارشادات بطورِ نمونہ نقل کر رہا ہوں، ورنہ اس مضمون پر مستقل کتاب کئی جلدوں میں لکھی جا سکتی ہے۔
    لیکن یاد رکھیے! بزرگی کا معیار شب بیداری اور ذکر و تلاوت وغیرہ کی زیادہ مقدار نہیں ہے، کیونکہ بہت سے بزرگ خدماتِ دینیہ اور اصلاحِ خلق کے اہم فرضِ کفایہ کی خدمات میں مشغولی کی وجہ سے زیادہ عبادت کا موقع نہیں پاتے۔ اکابر کے مختلف معمولات اسی لیے جمع کیے جاتے ہیں کہ ہر صاحبِ ذوق اپنے ذوق کے موافق اور اپنے حالات کے موافق مشائخ میں سے جن کے معمول کو اپنے لیے آسان اور اپنے ذوق کے موافق سمجھے اس کے اتباع کی کوشش کرے۔گلدستہ کا کمال یہی ہے کہ اس میں ہر نوع کے پھول ہونے چاہئیں، ایک ہی نوع کے اگر سارے پھول ہوں تو وہ گلدستہ کا کمال نہیں؎
    گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن
    اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
    درحقیقت اہل اللہ کے افعال و اقوال حضورِ اقدس ﷺ ہی کے مختلف احوال کا پرتو ہیں۔ برکت کیلئے حضورِ اقدس ﷺ کے معمولات و ارشادات سے ابتداء کرتا ہوں۔
    سیّد الاوّلین و الآخرین و خاتم المرسلین حضور سرورِ عالم ﷺ:
    رحمتِ دو عالم ﷺ کا ماہِ رمضان آنے سے دو ماہ پہلے ہی انتظار اور اشتیاق اتنا بڑھ جاتا تھا کہ جب نبی کریم ﷺ رَجب کا چاند دیکھتے تو یوں دُعا فرمایا کرتے:
    اَللّٰہُمَّ بَارِكْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَ بَلِّغْنَا رَمَضَان (مجمع الزاوئد:۲؍۱۶۵)
    ’’اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دیجئے‘‘۔
    یعنی ہمیں رمضان المبارک تک زندہ رکھیے۔ یہ دُعا مانگنے والے کون ہیں؟ شافع محشر اور صاحبِ مقامِ محمود، وہ بھی اپنے آپ کو رمضان کی لیل و نہار کا محتاج سمجھتے تھے، اللہ اکبر! اس سے ماہِ رمضان کی اہمیت کا اندازہ لگا لیجیے۔
    جب رمضان آتا تھا تو نبی ﷺ کا رنگ بدل جاتا تھا اور نماز میں اضافہ ہو جاتا تھا اور دُعا میں بہت عاجزی فرماتے تھے اور خوف غالب ہو جاتاتھا۔ رمضان کے ختم تک بستر پر تشریف نہیں لاتے تھے، رات کو خود بھی جاگتے اور گھر کے لوگوں کو بھی جگانے کا اہتمام فرماتے تھے۔ تہجد میں رکعتیں بہت طویل اور خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھتے تھے، حتیٰ کہ قدم مبارک میں ورم آ جاتا تھا۔ اوّل تو سارے ہی رمضان میں عبادت کا بہت زیادہ اہتمام اور کثرت فرماتے تھے لیکن اخیر عشرہ میں کچھ حد ہی نہیں رہتی تھی۔ سحری میں تاخیر فرمانا یعنی سحری اور نماز میں اتنا وقفہ کہ آدمی نماز کیلئے تیاری کر لے، افطاری جلد کرنا اور کھجور یا پانی سے روزہ کھولنا آپ ﷺ کی سنت ہے۔
    حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان المبارک کے مہینہ میں ہر رات حضور ﷺ کے پاس تشریف لاتے تھے اور پورے قرآنِ کریم کا دَور کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی عادتِ شریفہ اعتکاف کی ہمیشہ رہی ہے، اس مہینہ میں تمام مہینہ کا اعتکاف فرمایا اور وفات والے سال تو بیس یوم اعتکاف فرمایا، لیکن اکثر عادتِ شریفہ ماہِ مبارک کے اخیر عشرہ میں اعتکاف کی رہی، اس لیے علماء کے نزدیک سنتِ مؤکدہ یہی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، مگر آپ ﷺ کی سخاوت رمضان المبارک میں اپنے انتہاء کو پہنچ جاتی تھی، جو آپ کے پاس آیا اس کو نواز دیا۔ چند ارشاداتِ رسولِ اکرم ﷺ ملاحظہ فرمائیے:
    ارشاد فرمایا: یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اوّل حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے۔……… چار چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رَبّ کو راضی کر دو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے، اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو۔ (مشکوٰۃ شریف:۱؍۱۷۴) ان چاروں چیزوں کے حصول کیلئے اسلاف نے ایک وظیفہ بیان فرمایا ہے، وہ یہ ہے:
    لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ نَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ نَسْئَلُكَ الْجَنَّۃَ وَ نَعُوْذُبِكَ مِنَ النَّارِ
    ارشاد فرمایا: ہمارے اوراہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے روزہ میں سحری کھانےسے فرق ہوتا ہے کہ وہ سحری نہیں کھاتے۔ ایک جگہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک برکت کی چیز ہے جو اللہ نے تم کو عطا فرمائی ہے، اس کو مت چھوڑنا۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ سحری کھا کر روزہ پر قوت حاصل کرو، اور دوپہر کو سو کر اَخیر شب کے اُٹھنے پر مدد چاہا کرو۔
    شرح احیاء میں عوارف سے نقل کیا ہے کہ سہل بن عبدا للہ تستری رحمہ اللہ تعالیٰ پندرہ روز میں ایک مرتبہ کھانا تناول فرماتے تھے اور رمضان المبارک میں ایک لقمہ البتہ روزانہ اتباعِ سنت کی وجہ سے محض پانی سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ لکھتے ہیں کہ اصل سحور و افطار میں تقلیل ہے مگر حسبِ ضرورت اس میں تغیر ہو جاتا ہے۔ افراط و تفریط ہر چیز میں مضر ہے، اس لیے نہ اتنا کم کھاوے کہ عبادت میں ضعف محسوس ہونے لگے اور نہ اتنا زیادہ کھاوے کہ دن بھر کھٹی ڈکاریں آتی رہیں۔
    ارشاد فرمایا: تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرو کہ یہ دُنیا میں نور ہے اور آخرت میں ذخیرہ ہے۔ (رواہ ابن حبان) اور ایک دوسری جگہ فرمایا کہ قرآن شریف والے اللہ کے اہل ہیں اور اس کے خواص ہیں۔ (سنن ابن ماجہ،ص:۱۹)
    ارشاد فرمایا: اگر تم لیلۃ القدر کو پاؤ تو دُعا کرو:
    اَللّٰہُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
    ’’اے اللہ! تو بیشک معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، ص:۳۷۴)
    اس رات کی برکتیں حاصل کرنے کیلئے حضورِ اقدس ﷺ اس کی تلاش کا خود بھی اہتمام فرماتے تھے اور دوسروں کو بھی حکم فرماتے تھے۔ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اس رات (شبِ قدر) میں دُعا کے ساتھ مشغول ہونا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت دوسری عبادت کے۔ ابن رجب رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ صرف دُعا نہیں بلکہ مختلف عبادات میں جمع کرنا افضل ہے مثلاً تلاوت، نماز، دُعا اور مراقبہ وغیرہ، اس لیے کہ نبی کریم ﷺ سے یہ سب امور منقول ہیں، یہی قول زیادہ اقرب ہے۔
    ارشاد فرمایا: ذلیل و رُسوا ہو جائے وہ شخص جس پر رمضان آیا اور چلا گیا، اس نے اپنی مغفرت نہ کرائی۔ (ترمذی:۳۵۴۵، مسند احمد بن حنبل:۲؍۲۵۴) یعنی رمضان کے دن اور رات گزر گئے لیکن اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا جس سے اس کی بخشش ہوتی۔
    صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین:
    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشاء کی نماز کے بعد گھر میں تشریف لے جاتے اور صبح تک نماز میں گزار دیتے تھے۔ ……… حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ دِن بھر روزہ رکھتے اور رات بھر نماز میں گزار دیتے، صرف رات کے اوّل حصہ میں تھوڑا سا سوتے تھے، رات کی ایک ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ لیتے تھے۔ ……… حضرت شدّاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو لیٹتے اور تمام رات کروٹیں بدل کر صبح کر دیتے اور کہتے یا اللہ! آگ کے ڈر نے میری نیند اُڑا دی۔ ……… حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام رمضان تو ہر تین رات میں ایک ختم فرماتے مگر عشرۂ اخیرہ میں ہر رات میں ایک قرآن شریف ختم کرتے۔
    اسلاف کرام و مشائخ عظام رحمہم اللہ تعالیٰ:
    اسود بن یزید رحمہ اللہ تعالیٰ رمضان میں مغرب عشاء کے درمیان تھوڑی دیر سوتے اور بس۔ ……… سعید بن المسیب رحمہ اللہ تعالیٰ کے متعلق منقول ہے کہ پچاس برس تک عشا کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی۔ ……… صلہ بن اثیم رحمہ اللہ تعالیٰ رات بھر نماز پڑھتے اور صبح کو یہ دُعا کرتے کہ یا اللہ! میں اس قابل تو نہیں ہوں کہ جنت مانگوں صرف اتنی درخواست ہے کہ آگ سے بچا دیجیو۔
    امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھنا اتنا مشہور و معروف ہے کہ اس سے انکار تاریخ کے اعتماد کو ہٹاتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو یہ قوت کس طرح حاصل ہوئی؟ تو انھوں نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے ناموں کے طفیل ایک مخصوص طریق پر دُعا کی تھی۔ صرف دوپہر کو تھوڑی د یر سوتے اور فرماتے کہ حدیث میں قیلولہ کا ارشاد ہے، گویا دوپہر کے سونے میں بھی اتباعِ سنت کا ارادہ ہوتا۔ قرآن شریف پڑھتے ہوئے اتنا روتے کہ پڑوسیوں کو ترس آنے لگتا تھا۔ ایک مرتبہ ساری رات اس آیت کو پڑھتے اور روتے گزار دی بل الساعۃ موعدھم الخ (سورہ قمر رکوع۳)۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں روزانہ ایک قرآنِ کریم دِن میں، ایک رات میں اور ایک قرآن کریم تراویح میں ختم فرماتے تھے، اس طرح پورے رمضان میں اکسٹھ قرآنِ کریم ختم کیا کرتے تھے……… ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں نہ تو دن کو سوتے نہ رات کو۔ ……… امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں دِن رات کو نمازوں میں ساٹھ قرآن مجید ختم کرتے۔ ……… علامہ شامی رحمہ اللہ تعالیٰ رمضان کے دن اور رات میں ایک قرآنِ کریم ختم کیا کرتے تھے۔
    حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سال ایک درخت کی مانند ہے اور رَجب اُس کے پتّے نکلنے کا زمانہ ہے اور شعبان اُس کے پھلنے کا اور رمضان پھل توڑنے کا۔ ……… حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ نصف شب کے بعد بیدار ہوتے، نمازِ تہجد میں قرأت لمبی فرماتے تھے۔ ماہِ رمضان میں صرف تراویح کی نماز میں تین سے کم مرتبہ قرآن شریف ختم نہ کرتے، نمازِ تراویح کے درمیان کئی بار مراقبہ کرتے، اَدعیہ ماثورہ اور درُود شریف پڑھتے، رمضان شریف کے آخری دس ایام میں آپ معتکف ہوتے۔
    یہ سلف کے واقعات ہیں اب بھی کرنے والے موجود ہیں، اس درجہ کا مجاہدہ نہ سہی مگر اپنے زمانہ کے موافق اپنی طاقت و قدرت کے موافق نمونۂ سلف اب بھی موجود ہیں، اور نبی کریم ﷺ کا سچا اقتدا کرنے والے اس دور فساد میں بھی موجود ہیں نہ راحت و آرام انہماک عبادت سے مانع ہوتا ہے نہ دُنیوی مشاغل سدِّ راہ ہوتے ہیں۔ اب اکابرینِ دیوبند کے کچھ حالات، واقعات اور ارشادات ملاحظہ فرمائیے:
    سیّد الطائفہ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی قدس سرہ العزیز
    حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ تمہاری تعلیم کے واسطے کہتا ہوں یہ فقیر عالمِ شباب میں اکثر راتوں کو نہیں سویا خصوصاً رمضان شریف میں۔ بعد مغرب دو لڑکے سوا سوا پارہ عشاءتک سناتے، بعد عشاءدو حافظ اور سناتے تھے، ان کے بعد ایک حافظ نصف شب تک، اس کے بعد تہجد کی نماز میں دو حافظ۔ غرض کہ تمام رات اسی میں گزر جاتی تھی۔
    قاسم العلوم و الخیرات حضرت مولانا قاسم نانوتوی قدس سرہ العزیز
    حضرت نے ماہِ مبارک میں قرآنِ پاک حفظ کیا تھا، پھر تو بہت کثرت سے پڑھتے تھے، ایک بار ستائیس پارے ایک رکعت میں پڑھے۔ اگر کوئی اقتداء کرتا ، رکعت کر کے یعنی سلام پھیر کر اس کو منع فرما دیتے اور تمام شب تنہاء پڑھتے رہتے۔
    فقیہ النفس حضرت مفتی رشید احمد گنگوہی قدس سرہ العزیز
    ماہِ رمضان المبارک میں آپ کی ہر عبادت میں بڑھوتری ہو جاتی تھی، ریاضت و مجاہدہ کی یہ حالت تھی کہ دیکھنے والوں کو رحم آتا اور ترس کھایا کرتے تھے۔ تلاوتِ کلام اللہ کا شغل خصوصیت کے ساتھ اس درجہ بڑھتا تھا کہ مکان تک آنے جانے میں کوئی بات نہ فرماتے تھے، نمازوں اور نمازوں کے بعد تخمیناً نصف قرآنِ مجید آپ کا یومیہ معمول قرار پایا تھا۔ سکوت و مراقبہ میں بہ نسبت دیگر ایام بہت زیادتی ہوتی لیکن سونا اور استراحت (آرام) نہایت قلیل اور کلام بہت کم کرتے تھے۔ نوافل طویل طویل ادا فرماتے تھے۔ پیرانہ سالی و نقاہت کے ساتھ وجع الورک کی تکلیف شدید کا یہ عالم تھا کہ استنجا گاہ سے حجرہ تک تشریف لانے میں حالانکہ پندرہ سولہ قدم کا فاصلہ ہے مگر راہ میں بیٹھنے کی نوبت آتی تھی، اس حالت پر فرائض تو فرائض نوافل بھی کبھی بیٹھ کر نہیں پڑھتےاور ان میں گھنٹوں کھڑے رہنا۔ بارہا خدام نے عرض کیا کہ آج تراویح بیٹھ کر ادا فرماویں تو مناسب ہے، مگر جب آپ کا جواب تھا یہی تھا ’’نہیں جی! یہ کم ہمتی کی بات ہے‘‘۔ اللہ رے ہمت آخر ’’افلا اکون عبداً شکوراً‘‘ کے قائل کی نیابت کوئی سہل نہ تھی جو اس ہمت کے بغیر حاصل ہو جاتی۔
    حضرت مولانا مظفر حسین کاندھلوی قدس سرہ العزیز
    رمضان المبارک میں تمام رات عبادت میں گزارتے اور ایک لمحہ کیلئے نہ سوتے تھے اور نہ بستر پر لیٹتے تھے۔ روزِ حشر کے خوف سے ہر وقت آنسو آنکھوں سے جاری رہتے تھے۔
    فخرالمحدثین حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری قدس سرہ العزیز
    حضرت کے ہاں رمضان اور غیر رمضان کے معمولات میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا تھا۔ افطار میں کھجور اور زمزم شریف کا بہت اہتمام ہوتا تھا۔ مغرب کے بعد نوافل میں سوا پارہ پڑھنے کا معمول تھا، جو پارہ تراویح میں حضرت سناتے وہی مغرب کے بعد پڑھتے۔ اوّابین کے بعد مکان تشریف لے جا کر کھانا نوش فرماتےتھے، کماً (تعداد کے اعتبار سے) اس وقت کی غذا میں بہت تقلیل ہوتی تھی۔ہمیشہ تراویح میں خود سنانے کا معمول رہا، حضرت قدس سرہ کے پیچھے تراویح پڑھنے کیلئے دُور دُور سے حفاظ آتے، آپ متوسط جہر کے ساتھ نہایت ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ ایک ایک حرف سمجھ میں آتا تھا۔ تراویح کے بعد ۱۵۔۲۰ منٹ حضرت قدس سرہ مدرسہ میں آرام فرماتے جس میں چن خدام پاؤں بھی دباتے اور قرآنِ پاک کے سلسلے میں کوئی گفتگو بھی رہتی۔تہجد میں عموماً دو پارے پڑھنے کا معمول تھا۔ آخری عشرے کا اعتکاف ضرور فرماتے تھے۔ ماہِ مبارک میں تلاوتِ قرآنِ پاک بہت کثرت سے فرماتے تھے۔
    حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائپوری قدس سرہ العزیز
    ماہِ رمضان میں مجاہدہ اس قدر بڑھ جاتا تھا کہ دیکھنے والوں کو ترس آتا تھا۔ حضرت کو تعلیم قرآنِ پاک سے شغف تھا، خود تلاوتِ کلام اللہ سے عشق تھا، آپ حافظِ قرآن تھے، ماہِ مبارک میں تمام رات اور تمام دن آپ کا مشغلہ تلاوت کلام اللہ رہتا تھا۔ رات دن میں چوبیس گھنٹوں میں شاید آپ گھنٹہ بھر سے زیادہ نہ سوتے ہوں اور اسی لیے آپ کو لوگوں سے وحشت ہوتی تھی معمول تلاوت میں حرج ہوتا تھا۔ عصر و مغرب کے درمیان کا وقت عام دربار اور سب کی ملاقات کیلئے مخصوص تھا اور اس کے علاوہ بغیر کسی خاص ضرورت کے آپ کسی سے نہ ملتے اور حجرہ شریف کا دروازہ بند فرما کر خلوت کے مزے لوٹتے اور اپنے مولائے کریم سے راز و نیاز میں مشغول رہا کرتے تھے۔ خوراک آپ کی بہت ہی کم تھی۔ اللہ جل جلالہ کا ذکر جس پیرایہ پر بھی ہو آپ کی اصل غذا تھی اور اسی سے آپ کو وہ قوت پہنچتی تھی جس کے سامنے دواء المسک اور جواہر مہرہ ہیچ تھا۔
    شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن قدس سرہ العزیز
    رمضان المبارک میں مولانا کی خاص حالت ہوتی تھی اور دن رات عبادتِ خداوندی کے سوا کوئی کام ہی نہ ہوتا، دن کو لیٹتے اور آرام فرماتے لیکن رات کا اکثر حصہ بلکہ تمام رات قرآن مجید سننے میں گزار دیتے (آپ خود حافظ نہیں تھے)۔ کئی کئی حافظوں کو سنانے پر مقرر رکھتے۔ تراویح سے فارغ ہو کر بہت دیر تک حاضرین کو مضامین علمیہ اور حکایاتِ اکابرسے محفوظ فرماتے اور پھر اگر موقع ملتا تو چند منٹ کیلئے لیٹ جاتے۔ اس کے بعد نوافل شروع ہوتیں، متعدد حفاظ باری باری کئی کئی پارے سناتے قاری بدلتے رہتے تھے مگر مولانا کبھی دوتین بجے تک اور کبھی بالکل سحر کے وقت تک اسی طرح کھڑے سنتے رہتے۔ اس قدر طویل قیام کے بعد جب پاؤں ورم کر جاتے تو خدام و مخلصین کو رنج ہوتا اور حضرت دل میں خوش ہوتے کہ حتی تورمت قدماہ میں سیّد الاوّلین و الآخرین ﷺ کا اتباع نصیب ہوا۔
    حکیم الامت مجدّدالملّت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ العزیز
    فرمایا کہ میرے معمولات تو رمضان اور غیر رمضان میں یکساں ہیں تمام اوقات گھرے ہوئے ہیں اس لیے رمضان میں کوئی نیا وقت نہیں ملتا جس سے زیادتی کی توفیق ہو، تمام وقت رمضان اور غیر رمضان میں ان ہی کاموں میں گھرا رہتا ہے۔
    رمضان میں روزہ عموماً مدرسہ میں مہمانوں کے ساتھ افطار فرماتے تھے۔ قرآن شریف سے طبعاً حضرت کو ایسی مناسبت تھی کہ گویا از اوّل تا آخر نظر کے سامنے ہے۔ رمضان میں حضرت اکثر خود قرآن شریف سناتے، اور بلا مانع قرآن سنانا کبھی نہیں چھوڑتے تھے، جو خوبیاں حضرت کے پڑھنے میں تھیں وہ سننے ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔ بمقام کانپور جماعتِ تراویح میں مجمع اس قدر ہوتا تھا کہ جو کوئی مغرب کے بعد پُھرتی (جلدی) کے ساتھ کھانا کھا کر پہنچ گیا تو جگہ ملی ورنہ محروم رہا۔ تراویح نہایت اطمینان کے ساتھ پڑھتے اور بین التراویحات اذکارِ مسنونہ ادا فرماتے تھے۔ آپ کے ایک متعلق لکھتے ہیں کہ ہر ترویحہ میں پچیس مرتبہ درُود شریف پڑھتے تھے جس میں خفیف سا جہر بھی ہوتا۔ میں نے حضرت سے دریافت کیا، تو فرمایا کہ ترویحہ میں کوئی ذکر شرعاً معین تو ہے نہیں، میں درُود شریف پڑھتا ہوں کہ مجھے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے، اور پچیس کی مقدار اس واسطے کہ اس عرصہ میں کسی کو پانی پینے یا کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ فارغ ہو سکتا ہے۔ کبھی اعتکاف کرتے تھے، پورے عشرۂ اخیرہ یا تین روز اعتکاف میں رہتے تھے اور اعتکاف میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ برابر جاری رہتا۔ حضرت اکثر نصف شب کے بعد تہجد کیلئے اُٹھتے تھے، قرأت کبھی سری اور کبھی جہری فرماتے، اکثر عادت آٹھ رکعت ادا کرنے کی تھی۔ ماہِ مبارک میں تہجد کی نماز میں ایک پارہ روزانہ پڑھتے اور بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ۔ جب حضرت تہجد کی نماز پڑھتے تو محسوس ہوتا تھا کہ ایک نور مثل صبح صادق اُوپر کو اُٹھتا اور سفید رنگ کے شعلے حضرت کے جسم سے بار بار اُوپر کو اُڑتے تھے۔
    شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدس سرہ العزیز
    حضرت نے اپنے مخصوص طالبین کی درخواست پر کسی ایک جگہ (سلہٹ، بنگال وغیرہ) قیام کر کے رمضان المبارک گزارنے کا معمول بنا لیا تھا جہاں پر زائرین و معتقدمین جمع ہوتے اور آپ کے مہمان ہوتے۔ چونکہ پورے ماہ کے قیام کی وجہ سے اقامت کی نیت ہوتی تھی اس لیے جملہ نمازوں میں حضرت خود ہی امامت فرماتے تھے۔ نمازِ ظہر کے بعد جن حضرات نے بوتلیں پانی کی دَم کرانے کیلئے رکھی ہوتی تھیں اُن پر دَم فرماتے اور صاحبِ درخواست کو بلا کر اس کی درخواست پوری فرماتے، تعویذ وغیرہ لکھتے اور جو حضرات بیعت ہونا چاہتے اُن کو بیعت فرمانے کے بعد کچھ ارشاد و نصیحت فرما کر دولت خانہ پر تشریف لے جاتے۔ کبھی ذرا لیٹ گئے ورنہ تلاوت میں مشغول ہو گئے، باقی رہ جانے والا ڈاک کا کام پورا کرتے اور اسی دوران میں خصوصی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔ نمازِ عصر کے بعد دَور فرماتے اور مغرب سے کچھ دیر پہلے مراقب رہتے اور رفقاء اپنے ذکر وشغل میں مشغول رہتے۔ حضرت کا افطار بہت ہی مختصر ہوتا اس وقت میں سارے دستر خوان پر چہل پہل اور فرحت و سرور کا دور ہوتا مگر حضرت نور اللہ مرقدہ نہایت استغراق میں ساکت رہتے، اس استغراقی کیفیت کی وجہ سے بعض مرتبہ اذان کی بھی اطلاع کرنی پڑتی تھی۔ حضرت مغرب کی نماز نہایت مختصر پڑھتے اور اس کے بعد دو رکعت نفل نہایت طویل تقریباً نصف گھنٹے تک پڑھتے، اس کے بعد حضرت طویل دُعامانگتے جس میں سارے اہلِ مجلس چاہے مشغول ہوں یا فارغ شرکت کرتے۔
    حضرت کا مخصوص لہجہ اور ان کی نماز کا خشوع نہ صرف ہندوستان بلکہ عرب اور حجاز میں بھی ممتاز و مسلّم تھا۔ تراویح کی امامت خود فرماتے، تراویح کی شرکت کیلئے دُور دراز سے روزانہ سینکڑوں آدمی آتے اذان کے بعد ہی مسجد پُر ہو جاتی تھی بعد میں آنے والوں کو جگہ بھی نہیں ملتی تھی،اور تراویح و تہجد کی شرکت فرما کر صبح کو سب اپنے گھر روانہ ہو جاتے۔ حضرت پر تراویح میں قرآنِ پاک پڑھتے ہوئے بعض وقت ایک جوش پیدا ہوتا کہ اس وقت کی لذت تو سننے والے ہی کو معلوم ہے۔ تراویح کے بعد بہت طویل دُعا ہوتی جس میں حاضرین پر گریہ و بکاء کا ایسا زور ہوتا کہ بسا اوقات ساری مسجد گونج جاتی۔ اور پھر چائے نوش کرنے کے بعد حضرت کا اصلاحی وعظ ہوتا جس میں لوگ اپنی اپنی مساجد سے تراویح پڑھنے کے بعد شرکت کیلئے مسجد میں آ جاتے، مجمع بہت زیادہ ہوتا تھا۔ رات بہت کم سوتے اور پھر تہجد کیلئے بیدار ہو جاتے، مسجد میں تہجد کیلئے تشریف لے جاتے۔ نفلوں کے بعد سحری کا وقت کم ہونے کی وجہ سے جلدی جلدی سحری کی جاتی تھی۔ اخیر عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔
    حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائپوری قدس سرہ العزیز
    رمضان المبارک میں خاص بہار ہوتی، لوگ بہت پہلے سے اس کے منتظر رہتے اور تیاریاں کرتے، ملازمین چھٹیاں لے کر آتے، مدارسِ دینیہ کے اساتذہ اور علماء و حفاظ کی خاصی تعداد جمع ہو جاتی۔ اہلِ رائپور اور اطراف کے اہل تعلق مہمانوں اور مقیمین خانقاہ کے افطار طعام اور سحر کا انتظام کرتے۔ حضرت افطار علالت سے پیشتر مجمع کے ساتھ کرتے جس میں کھجور اور زمزم کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔مغرب کے متصل کھانا علالت سے پہلے مجمع کے ساتھ، اس کے بعد چائے، اور عشاء کی اذان تک یہی وقت چوبیس گھنٹے میں مجلس کا تھا۔ مسجد و خانقاہ میں ترایح ہوتی۔ تراویح کے بعد حضرت کے تشریف رکھنے اور مجلس کا معمول تھا۔ متعدد حضرات رات بھر بیدار اور مشغول رہتے۔
    شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی قدس سرہ العزیز
    رمضان المبارک میں شیخ کا نظام الاوقات بہت بدل جاتا، ملاقات تو ملاقات بات کرنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی تھی۔ روزانہ ایک قرآن شریف ختم کرنے اور احتیاطاً کچھ زیادہ پڑھنے کا معمول تھا (تاکہ اگر ۲۹ کا چاند ہو جائے تو ۳۰ قرآن مجید ختم کرنے کے معمول میں فرق نہ آئے)۔ پورا ماہ اعتکاف فرماتے، شیخ کے ساتھ اعتکاف کرنے کیلئے دُور دراز سے مہمان بہت زیادہ تعداد میں آتے تھے۔ معتکفین و مقیمین کو شیخ بار بار فرماتے: جتنا جی چاہے ساتھی سوئیں اور کھائیں، لیکن باتیں نہ کریں کہ سب سے زیادہ مضر یہی ہے۔
    نوافل میں مشغول رہتے اور اخیر وقت میں سحری کھاتے، بعد نمازِ فجر آرام فرماتے۔بیدار ہونے کے بعد ضروریات سے فارغ ہو کر نوافل و تلاوتِ قرآنِ پاک میں مشغول ہو جاتے۔ ظہر سے عصر تک آپ تلاوت فرماتے رہتے اور مہمان ذکر میں مشغول رہتے اکثر ذکر جہری میں، بعض ذکر سرّی یا مراقبہ میں اور کچھ تلاوت میں۔ عصر کے بعد سلوک کی کتابیں سنائی جاتیں، افطاری سے پندرہ منٹ پہلے کتاب سنانی موقوف کر دیتے اور پردے میں مراقب ہو جاتے۔ مدنی کھجور اور زمزم سے افطاری فرماتے، کچھ کھانے کا معمول نہیں تھاپھر مراقب ہو جاتے۔ نمازِ مغرب کے بعد دیر تک نوافل میں مشغول رہتے، پھر دو انڈے کی زردی اور ایک چائے کی پیالی نوش فرماتے، اس کے بعد عام مجلس شروع ہو جاتی نئے آنے والوں سے مصافحہ فرماتے اور قیام کے متعلق سوال فرماتے، پھر بزرگوں کے واقعات بیان فرماتے اور اس درمیان بیعت بھی فرماتے۔ اذان ہوتے ہی نماز کی تیاری کو فرماتے اور خود ضروریات سے فارغ ہو کر نوافل شروع فرماتے۔ تراویح سے فراغت پر سورہ یٰسین کا ختم ہوتا اور دیر تک دُعا فرماتے رہتے، پھر کتاب سنانے کا سلسلہ جاری رہتا، کتاب وغیرہ سے فراغت کے بعد فرماتے: حضرات! جاؤ وقت کی قدر کرو، چنانچہ اکثر تلاوت یا نماز میں لگ جاتے اور حضرت بھی مشغول ہو جاتے، کچھ دیر کے بعد کچھ دیر کیلئے آرام فرماتے، مگر تنام عینی و لا نیام قلبی کی طرح کیفیت رہتی۔
    مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس سرہ العزیز
    فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کا استقبال اور اس کی تیاری یہ ہے کہ انسان پہلے سے یہ سوچے کہ میں اپنے روزمرہ کے کاموں میں سے مثلاً تجارت، ،ملازمت، زراعت وغیرہ کے کاموں میں سے کن کن کاموں کو مؤخر کر سکتا ہوں، ان کو مؤخر کر دے، اور پھر ان کاموں سے جو وقت فارغ ہو اس کو عبادت میں صرف کرے۔
    عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی قدس سرہ العزیز
    حضرت والا نظام الاوقات کی پابندی میں حضرت حکیم الامت کا بالکل نمونہ تھے۔ رمضان المبارک میں مجلس کا سلسلہ منقطع رہتا۔ روزانہ عصر کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد مسجد میں مغرب تک تشریف رکھتے، قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے یا اور کوئی وظیفہ پڑھتے۔ افطار سے قبل دُعا مانگتے جس میں وہاں موجود حضرات بھی شریک ہوتے۔ افطار مسجد میں احباب کے ساتھ کرتے، پھر نمازِ مغرب سے فارغ ہو کر مکان تشریف لاتے، کھانا تناول فرما کر تراویح سے قبل کچھ دیر آرام فرماتے۔
    ارشاد فرمایا: لغو اور فضول باتوں سے پرہیز کرو۔ لغو باتیں کرنے سے عبادت کا نور جاتا رہتا ہے۔ لغو باتیں کیا ہیں؟ جیسے فضول قصے، کسی کا بے فائدہ ذکر، سیاسی امور پر بحث، یا خاندان کی باتیں اگر شروع ہو جائیں تو اس میں غیبت ہونے کا امکان ضروری ہوتا ہے پھر اخبار بینی یا کوئی اور بے کار مشغلہ، ان سب سے بچتے رہو صرف تیس دن گنتی کے ہیں، اگر کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو کلام پاک پڑھو، سیرۃ النبی ﷺ پڑھو اور دینی کتب کا مطالعہ کرو۔
    محی السنہ حضرت مولانا الشاہ ابرار الحق ہردوئی قدس سرہ العزیز
    ارشاد فرمایا: جیسے کسی کا مکان ہو اور اسے وہاں جانا ہو اور عموماً مکان کی طرف جانے کیلئے کئی راستے ہوتے ہیں، بعض تو جلدی پہنچنے کے ہوتے ہیں یعنی ان سے فاصلہ مختصر ہوتا ہے بعض دیر میں پہنچنے کے ہوتے ہیں کہ فاصلہ اس سے طویل ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ کا ولی بننا یہ ہر مؤمن کی خواہش ہوتی ہے تو ایک تو ولی بننے کا راستہ ہے طویل وہ یہ کہ احکام کی پابندی یعنی مامورات پر عمل کرنا اور ہر گناہ سے بچتے رہنا اور ایک دوسرا راستہ جو کہ نہایت مختصر ہے وہ حج اور رمضان شریف ہے، حج تو ہر ایک کو میسر نہیں ہوتا، مگر رمضان شریف یہ ہر ایک کو میسر بھی ہے اور آسان بھی ہے مگر اس کے روزے قاعدے سے رکھے۔
    ارشاد فرمایا: جب بھی فرصت کا وقت ملے ذکر اللہ کا اہتمام کرے ……… گناہوں سے بچنا یہ ہمیشہ مطلوب ہے مگر خصوصیت کے ساتھ رمضان شریف میں اس سے بچنے کا اہتمام کرے ……… کم بولنا یہ بھی ہمیشہ مطلوب ہے، مگر خصوصیت کے ساتھ رمضان شریف میں اس کے اہتمام کی ضرورت ہے، کیونکہ زیادہ بولنے سے طاعت کا نور نکل جاتا ہے، ان شاء اللہ ایک مہینہ اس پر پابندی کرے تو ولی بن جائے گا۔
    شیخ العرب و العجم عارف باللہ مجدّد زمانہ سیّدی و مرشدی حضرتِ اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر قدس سرہ العزیز
    رمضان میں حضرت والا قدس سرہ کا کوئی خاص معمول نہیں ہوتا تھا، رمضان اور غیر رمضان میں معمولات یکساں رہتے، سیّدی و مُرشدی حضرت والا قدس سرہ اپنے دادا مُرشد حضرت حکیم الامت مجدد الملت قدس سرہ کا بالکل نمونہ تھے۔ خانقاہ میں دُنیا بھر سے متعلقین و متوسلین حضرت والا کی صحبت میں رمضان گزارنے آتے تھے، ان دنوں خانقاہ کا موحول بھی قابلِ دید ہوتا۔
    ارشاد فرمایا: رمضان کے مہینہ سے گھبرانا نہیں چاہیے کہ سارا دن بھوکا رہنا پڑے گا بلکہ خوش ہونا چاہیے کہ روزہ فرض کر کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا دوست بنانے کا انتظام فرمایا۔
    ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے کسی اللہ والے کے پاس رمضان گزار لو تو ڈبل انجن لگ جائے گا۔ جب ریل کوئٹہ (شہر) جاتی ہے تو چڑھائی بہت ہے اس لیے ایک انجن آگے لگتا ہے اور ایک انجن پیچھے لگتا ہے۔ ایک پیچھے سے دھکا دیتا ہے اور ایک آگے سے کھینچتا ہے۔ ……… اللہ والوں کی صحبت نعمتِ مکانی ہے اور رمضان شریف نعمتِ زمانی ہے۔ اللہ والوں کے ساتھ رہائش ہو اور رمضان کا مہینہ ہو تو جب زمان اور مکان کے دو دو انجن لگ جائیں گے تو اللہ کے قرب کا راستہ جلد طے ہو گا۔ اسی لیے اکثر بزرگوں نے مریدوں کو رمضان المبارک میں اپنے ہاں اکٹھا کیا۔
    ارشاد فرمایا: دو بیماریاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے انسان روزہ کی برکات سے محروم ہو جاتا ہے۔ ان میں سے ایک یہی بدنظری ہے۔ ……… دوسرا مرض جو رمضان میں بہت زیادہ مضر ہے غیبت ہے۔
    ارشاد فرمایا: ایک مہینہ کا معاہدہ کر لو اور ہر روز اللہ تعالیٰ سے کہو کہ اے اللہ! ہم یہ مہینہ تقویٰ سے گزار رہے ہیں آپ اس مہینہ کا تقویٰ قبول کر کے گیارہ مہینہ کیلئے بھی ہمیں متقی بنا دیجئے۔ محدثین نے لکھا ہے کہ جس کا رمضان جتنا بہتر گزرے گا، جتنا زیادہ تقویٰ سے گزرے گا تو اُس کے گیارہ مہینے بھی پھر ویسے ہی گزریں گے اور جو رمضان میں بھی گناہ کرے گا اُس ظالم کے گیارہ مہینے بھی تباہ ہو جائیں گے۔
    خلاصۂ کلام:
    ماہِ مبارک کو کلامِ الٰہی کے ساتھ بہت ہی خاص مناسبت ہے، اسی وجہ سے تلاوت کی کثرت اس مہینہ میں منقول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ اللہ جل شانہٗ کی طرف رُجوع اور اس کے یہاں تقرب اس چیز سے بڑھ کر کسی اور چیز سے حاصل نہیں کر سکتے جو خود حق سبحانہ سے نکلی ہے یعنی کلامِ پاک۔ (ترمذی:۲؍۵۸۴)
    بزرگوں کی کثرتِ عبادت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو شخص قربِ الٰہی میں جس قدر ترقی کرتا جاتا ہے عبادت میں انہماک زیادہ ہوتا رہتا ہے۔۔۔؎
    اُلفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو
    ہر چیز میں لذّت ہے اگر دِل میں مزا ہو
    نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ جلّ جلالہٗ کا ارشاد ہے: اے ابن آدم! تو میری عبادت کیلئے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غنا سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو بند کر دوں گا، ورنہ تیرے سینہ کو مشاغل سے بھر دوں گا اور فقر زائل نہیں ہو گا، روز مرہ کے مشاہدات اس سچے ارشاد کے شاہد عدل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے اور اہل اللہ کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے، آمین۔
    وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
    ....٭....
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں