اہل سنت والجماعت کون

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از imani9009, ‏ستمبر 16, 2017۔

  1. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یہ مضمون میں نے 2012 میں ایک ویب سائٹ پر لکھے تھے ۔ اور اس مضمون سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ لیکن یہ مضمون امیج فارمیٹ میں تھے میں یونیکوڈ میں تبدیل کرکے کہ یہاں نشر کر کررہا ہوں۔

    اہل سنت وا لجماعت
    اہل سنت والجماعت کون۱۔سورۃ آل عمران کی آیت ۱۰۶
    یوم تبیض وجوہ و تسودو وجوہ
    کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے
    یوم القیمۃ حین تبیض وجوہ اھل سنۃ و الجماعۃ و تسودوجوہ اھل البدعۃ و الفرقۃ قالہ ابن عباسؓ
    یعنی قیامت کے دن اہل سنت و الجماعت کے چہرے روشن ہونگے اور اہل بدعت و فرقہ کے چہرے سیاہ ہونگے۔ یہ قول حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ہے
    تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ صاحب ؒ پانی پتی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں
    عن سعید بن جبیر عن ابن عباسؓ انہ قر أ ھذہ الایۃ قال تبیض وجوہ اھل سنتہ و تسودوجوہ ہ واھل البدعۃ۲۔حضرت سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ اہل سنت کے چہرے سفید اور روشن ہونگے اوراہل بدعت کے چہرے سیاہ ہونگے ۔
    تفسیر درمنثور میں بھی علامہ سیوطی ؒ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے جس میں اہل سنت والجماعت کے الفاظ ہیں۳۔تفسیر درمنثور کی ایک دوسری روایت میں نبی کریم ؐ کی زبان مبارک سے اہل سنت کے الفاظ ثابت ہیں
    عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی قو لہ تعالیٰ یو م تبیض وجوہ و تسودوجوہ قال تبیض وجوہ اھل سنتہ و تسودہ وجوہ اھل البدع
    حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت یو م تبیض وجوہ و تسودوجوہ کے تحت فرمایا کہ اہل سنت کے چہرے قیامت کے دن روشن ہونگے اور اہل بدعت کے چہرے سیا ہ ہونگے۔۴۔تاریخ کامل بن اثیر جلد چہارم مطبوعہ بیروت ص۶۲میں ہے کہ حضرت امام حسینؓ نے میدان کربلامیں اپنے مخالفین سے خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا کہ
    ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لی ولاخی انتما سیدا شباب اھل الجنتہ و قرۃ عین
    اھل السنۃ
    تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میر ے بھائی (حضرت امام حسنؓ )سے فرمایا تھا کہ تم دونوں اہل جنت کے نوجوانو ں کے سردار اور اہل سنت کہ آنکھوں کہ ٹھنڈک ہو۔

    آیات قرانی اوراجماع امت
    اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالفت کرے اور مومنوں کے رستے کے سواکسی اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلا دیں گے اور قیامت کے دن اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے۔
    (سورۃ النساء ۔۱۱۵)
    حدیث نبویؐ اور اجماع۱۔حضرت جابرؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناآپؐ فرما رہے تھے کہ ہمیشہ میری امت میں سے ایک گروہ حق پر قیامت تک لڑتا رہے گا اور قائم رہے گا۔
    (صحیح مسلم جلد سوم کتاب الامارۃ)۲۔نبی کریم ؐ نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا (اس میں علمی اور دینی غلبہ بھی داخل ہے)یہاں تک قیامت آجائے اور وہ غالب ہی رہیں گے۔
    نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا فرمادیتے ہیں اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے ۔اور اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا آپ نے فرمایا کہ یہانتک کے اللہ کا حکم آ پہنچے۔
    (تفہیم البخاری جلد سوم کتاب الاعتصام بالکتاب والسنتہ با ب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق یقاتلون وھم اھل العلم)
    ۳۔حضرت معاذؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایاجس طرح بکریوں کے لئے بھیڑیا ہوتاہے ،اسی طرح انسان کے لئے شیطان بھیڑیا ہے ،جو اکیلی رہ جانے والی اور سب سے الگ تھلگ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے ،اس لئے تم گھاٹیوں میں تنہا رہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ ،اور جماعت مسلمین کو،عوام کو اور مسجد کو اپنے اوپر لازم کر لو۔
    (مسند امام احمد بن حنبل ؒ مسند الانصار حدیث ۲۲۳۷۹)
    ۴۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے جابیہ کے مقام پر ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
    اے لوگو میں تم لوگوں کے درمیان رسول اللہ ﷺکا قائم مقام ہوں اور آپ ﷺ نے فرمایا میں تم لوگوں کو اپنے صحابہؓ کی اطاعت کی وصیت کرتا ہوں ،پھر ان کے بعد آنے والوں کی اور پھر ان سے متصل آنے والوں کی ۔یعنی (تابعین اور تبع تابعین کی)اس کے بعد جھوٹ رواج پکڑ جائے گا ۔یہاں تک کہ قسم لئے بغیر لوگ قسمیں کھائیں گے اور بغیر گواہی طلب کیے لوگ گواہی دیں گے ۔خبردار کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت نہ کرے ۔اس لیے کہ ان میں تیسر ا شیطان ہوتا ہے۔جماعت کو لازم پکڑو اور علیحدگی سے بچو کیونکہ شیطان ایک کے ساتھ جبکہ دو آدمیوں سے دور ہو تا ہے۔جو شخص جنت کا وسط چاہتا ہے اس کے لئے جماعت سے وابستگی لازمی ہے جس کو نیکی سے خوشی ہو اور برائی کا ارتکاب بر امحسوس ہو وہی مومن ہے۔یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
    (جامع ترمذی جلد دوم ابواب الفتن باب فی لزوم الجماعۃ)
    ۵۔حضرت عر فجہ بن تشریح سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا آپ منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔آپ ؐ نے فرمایا میرے بعد نئی نئی باتیں ہوں گی (یا فتہ فساد کا زمانہ آئے گا)تو تم لوگ جس کو دیکھو کہ اس نے جماعت کو چھوڑ دیا یعنی مسلمانوں کے گروہ سے وہ شخص علیحدہ ہوگیا اس نے رسول کریم ؐ کی امت میں پھوٹ ڈالی اور تفرقہ پیدا کیا تو جو شخص ہو توتم لوگ اس کو قتل کر ڈالو کیونکہ اللہ کا ہا تھ جماعت پر ہے(یعنی جو جماعت اتفاق واتحاد پر قائم ہے تو وہ اللہ عزوجل کی حفاظت میں ہے)اور شیطان اس کے ساتھ ہے جو کہ جماعت سے علیحدہ ہو وہ اس کو لات مار کر ہنکاتا ہے۔
    حضرت عرفجہ بن تشریحؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:میرے بعد (فتنہ و)فساد ہونگے اور پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا :جس کو تم لوگ دیکھو کہ وہ امت محمدیہ میں تفریق پید کرنا چاہ رہا ہے تو جب وہ تفریق ڈالے اس کو قتل کر ڈالو،چاہے وہ کوئی ہو۔
    (سنن نسائی جلد سوم کتاب المحاربۃباب قتل من فارق الجماعۃ و ذکر الاختلاف علی زیاد بن علاقۃ عن عرفجۃ فیہ )
    ۶۔حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ میر ی امت کو یا فرمایا امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے جبکہ جو شخص جماعت سے جداہو ا وہ آگ میں ڈال دیا گیا۔
    (جامع ترمذی جلد دوم ابواب الفتن باب فی لزوم الجماعۃ)۷۔آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا میر امت کے بہترین لوگ اس زمانہ کے ہونگے جو مجھ سے متصل آئیں گے ،پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے ،پھر وہ لو گ جو ان کے بعد آئیں گے ،پھر ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے پہلے اور قسم گواہی سے پہلے ہوگی ۔
    (سب سے پہلا قرن صحابہؓ کا ۱۲۰ھ تک رہا،تابعین کا زمانہ ۱۷۰ھ پر پورا ہوا اور تبع تابعین کا زمانہ ۲۲۰ھ تک رہا۔)
    (صحیح مسلم جلد سوکتاب فضائل الصحابہؓ )
    ۸۔حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں،میں کتنا عرصہ تمہارے درمیان رہوں گا۔پس تم میر ے بعد دو شخصوں کی اقتداء کرنا ،ایک ابوبکرؓ،دوسرے عمرؓ
    (مرقاۃ المفاتیح،باب مناقب ابی بکر و عمر)
    ۹۔حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز کے بعد ہمیں نہایت بلیغ وعظ فرمایا جس سے آنکھوں سے آنسوں جاری اور دل کانپنے لگے۔ایک شخص نے کہا یہ تو رخصت ہونے والے شخص کے وعظ جیسا ہے۔یا رسول اللہ ﷺ آپؐ ہمیں کیا وصیت کرتے ہیں۔
    فرمایا میں تم لوگوں کو تقویٰ اور سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں خواہ تمہارا حاکم حبشی غلام ہی کیوں نہ
    ہو۔اس لیے کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔خبردار (شریعت کے خلاف)نئی باتوں سے بچنا کیونکہ یہ گمراہی کا راستہ ہے۔لہٰذا تم میں سے جو شخص یہ زمانہ پائے گا اسے چاہیے کہ میرے اور خلفاء راشدین مہدیین (ہدایت یافتہ )کی سنت کو لازم پکڑ لو۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
    (جامع ترمذی جلد دوم ابواب العلم باب الاخذ بالسنۃ و اجتناب البدعۃ)

    تقلید اور اجماع امت
    اہل سنت و الجماعت وہ موتیوں کا ہا ر ہے جس میں اولین صحابہؓ ہیں اور بعد میں تابعین اور تبع تابعین اور اسکے بعد بارہ سوسال سے حنفی ،مالکی،شافعی،حنبلی ہیں۔

    صحابہؓ میں بھی دو اقسام ہیں ایک مجتہدین اور دوسر ے مقلدین ۔
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں
    صحابہؓ دوگروہ تھے۔مجتہد اور مقلد
    (قرۃ العینین)
    امام غزالی ؒ شافعی فرماتے ہیں
    تقلید پر سب صحابہؓ کا اجماع ہے کیونکہ صحابہؓ میں مفتی فتویٰ دیتا تھا اور ہر آدمی کو مجتہد بننے کے لئے نہیں کہتا تھا اور یہی تقلید ہے اور یہ عہد صحابہؓ میں تواتر کے ساتھ ثابت ہے
    (المستصفی ج۲ ص۳۸۵)

    چونکہ ان صحابہؓ کی مرتب کی ہوئی کوئی کتاب آج موجو د نہیں ہے ہا ں ان کے مذاہب کو ائمہ اربعہ نے مرتب کرادیا تو اب ان کے واسطہ سے ان کی تقلید ہو رہی ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے صحابہؓ و تابعین ؒ بھی یہی قرآن تلاوت کرتے تھے مگر اس وقت اس کا نام قرأۃ حمزہ نہ تھا۔صحابہؓ و تابعینؒ بھی یہی احادیث مانتے تھے مگر رواہ بخاری اور رواہ مسلم نہیں کہتے تھے۔

    حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ فرماتے ہیں
    کہ صحابہؓ متفرق شہروں میں پھیل گئے اور ہر علاقہ میں ایک ہی صحابی کی تقلید ہوتی تھی ۔
    (الانصاف ص ۳)
    مثلاً مکہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی۔
    مدینہ میں حضرت زید بن ثابتؓ کی
    کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓکی
    یمن میں معاذبن جبلؓ کی
    بصرہ میں حضرت انسؓ کی
    پھر ان کے بعد تابعین کا دور آیا تو شاہ ولی اللہ صاحب ؒ فرماتے ہیں
    ہر تابعی عالم کا ایک مذہب قرار پایا اور ہر شہر میں ایک ایک امام ہو گیا لوگ اس کی تقلید کر تے
    (الانصاف ص ۶)
    صدر الائمہ مکی فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء خلیفہ ہشام بن عبدا لملک کے ہا ں تشریف لے گئے تو خلیفہ نے پوچھا کہ آپ شہروں کے علما ء کو جانتے ہیں انھوں نے فرمایا ہاں تو خلیفہ نے پوچھا اہل مدینہ کے فقیہ کون ہیں ؟
    فرمایا نافعؒ
    مکہ میں عطاءؒ
    یمن میں طاؤسؒ
    یمامہ میں یحیی بن کثیرؒ
    شام میں مکحولؒ
    عراق میں میمونؒ
    خراسان میں ضحاک بن مزاحمؒ
    بصرہ میں حسن بصریؒ
    کوفہ میں ابراہیم نخعیؒ
    (مناقب موفق جلد ۱ص ۷)

    حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا بلاشبہ میر ی امت گمراہی پر مجتمع (متفق )نہ ہوگی جب تم اختلاف دیکھو تو سواداعظم کا ساتھ دو۔
    (سنن ابن ماجہ جلد سوم کتاب الفتن باب السواد الاعظم)
    حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
    اور جب ان مذاہب کے علاوہ باقی مذاہب معدوم ہو گئے تو انہیں چاروں کا اتباع سواداعظم کا اتباع ٹھہرا اور ان سے نکلنا سواداعظم سے نکلنا ہوا۔
    (عقد الجید ص ۲۸)
    علامہ ابن خلدون اور تقلید آئمہ اربعہ
    چوتھی صدی کے بعد اس با ت کا اجماع ہو گیا کہ کسی ایک معین امام کی تقلید قرآن و سنت پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہے
    علامہ ابن خلدون (۸۰۸ھ)تحریر فرماتے ہیں :امام احمد بن حنبل ؒ (۲۴۱ھ)کے بعد تمام شہروں میں تقلید کا دائرہ انہی چار مزاہب میں محصور و محدود ہو گیا اور دوسرے مذاہب کے مقلدین مٹ گئے اور یہیں سے اختلاف طرق و مذہب کا دروازہ بند ہوگیا اور اجتہاد کی راہ بھی مسدود ہوگئی کیونکہ اگر اجتہاد کا دروازہ پھر بھی کھلا رہتا تو سخت خطرہ تھا کہ نااہل بھی مجتہد کا دعویٰ کر بیٹھیں اور مجتہد ہونے کا دم بھریں ،اس لئے لوگوں نے انہی مجتہدین میں سے کسی ایک کی تقلید کو جائز رکھا ،بلکہ یہاں تک روا نہ رکھا کہ ایک کی تقلید اختیار کر کے پھر کسی دوسرے امام کی تقلید کی جائے اور یوں دین کو ایک کھیل بنایا جائے ۔اب فقہ کا ما حصل یہی ہے کہ بیان کر نے کو تو سب آئمہ کے مذاہب بیا ن کئے جائیں لیکن ہر مقلد اقتداء صرف ایک ہی امام کی کرے اور تصیح اصول اور اتصال سند کا پورا پورا لحاظ رکھے اور اب اجتہاد کی راہ ایسی بند ہوئی کہ اگر آج کوئی اجتہاد کا دعویٰ لے کر اٹھے تو اس کے دعویٰ کو اس کے منہ پر ماردیا جائے اور کوئی اس کی تقلید کی طرف رخ نہ کرے ل۔یہی وجہ ہے کہ سارے ممالک اسلامیہ میں اب انہی مذاہب اربعہ کا چلن ہے ۔امام ابو حنیفہ ؒ کے مقلدین آج عراق ،ہند،چین،ماوراء النہر اور بلاد عجم میں
    بکثرت پھیلے ہوئے ہیں ،ان کی کثرت کی وجہ دراصل یہ ہوئی کہ اول تو اس مذہب حنفی نے داراسلام عراق میں جنم لیا جس کو قدرتاًمقبولیت عامہ نصیب ہونی چاہیے تھی ،پھر ان کے شاگردوں نے خلفائے عباسیہ کی صحبت میں رہ کر تالیفات کے تودے لگا دیئے اور شافعیوں کے ساتھ ان کے زبر دست مناظرے رہے اور اختلافی مسائل میں اچھی اچھی بحثیں ان کے قلم سے نکلیں اور وہ علم میں منجھ گئے اور عمیق النظربن گئے اور جو کچھ ان کی فضیلت اور برتر ی تھی وہ منظر عام پر آگئی۔
    (مقدمہ ابن خلدون ص ۴۶۹)
    امام شعرانیؒ اور آئمہ اربعہ
    امام شعرانیؒ ۸۹۹ھ میں پیدا ہوئے اور سید نا علی بن ابی طالبؓ کی اولا د سے ہیں ان کی ایک اہم ترین کتاب مذاہب اربعہ کی حقانیت پر ہے المیزان الکبریٰ
    امام شعرانی ؒ فرماتے ہیں
    جب باری تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا کی مجھ کو شریعت کے سر چشمہ پر آگاہ کر دیا تو میں نے تمام مذاہب کو دیکھا کہ وہ سب اسی چشمہ سے متصل ہیں اور ان تمام میں سے آئمہ ابعہ کے مذاہب کی نہریں خوب جاری ہیں ۔اور جو مذاہب ختم ہو چکے وہ خشک ہو پتھر بن گئے ہیں ۔اور ائمہ اربعہ میں سب سے زیادہ لمبی نہر حضرت امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کی دیکھی ۔پھر اسے قریب قریب احمد بن حنبل ؒ کی اور سب سے چھوٹی نہر اما م داؤد ؒ کے مذہب کی پائی ۔جو پانچویں قرن میں ختم ہوچکا ۔تواس کی وجہ میں یہ سوچی کہ ائمہ اربعہ کے مذہب پر عمل کرنے کا زمانہ طویل ہے ۔اورامام داؤد کے مذہب پر تھوڑے دن عمل رہا پس جس طرح امام اعظم ؒ کے مذہب کی بنیا د تمام مذاہب مدونہ سے پہلے قائم ہوئی ہے اس طرح وہ سب سے آخر میں ختم ہوگا۔اور اہل کشف کا بھی یہی قول ہے۔
    (مواہب رحمانی ترجمہ اردو میزان شعرانی ص ۱۰۷ج۱)
    پھر آپ کے کشف میں مذاہب مجتہدین اور سر چشمہ شریعت محمدیہ کا اتصال درخت کی شکل میں دیکھا کہ آئمہ مجتہدین کے مذاہب کے درخت کی جڑیں سر چشمہ شریعت محمدیہ ہیں ۔پھر ہر مجتہد کے مذہب کی بڑی شاخیں ہیں ۔پھر آگے شاخیں ،پتے پھول اور پھل ہیں ۔اس درخت کی ایک ایک شاخ پھل پھول پتے کا اتصال شریعت محمدیہ سے ہے ۔ایک پتہ بھی ایسا نہیں جس کی خوراک شریعت سے نہ ہو۔
    (مواہب رحمانی ترجمہ اردو میزان شعرانی ص ۱۴۴ج۱)

    یہاں ایک سوال یہ بھی پید ا ہوتا ہے کہ عیسیٰ ؑ جب نازل ہونگے تو وہ کس کے مقلد ہونگے تو اس کا جواب صا ف ہے کہ وہ خود مجتہد ہونگے۔
    چوتھی صدی کے بعد وا لے ا ولیاء امت مقلدین آئمہ اربعہ
    جتنے بھی بڑے اللہ والے ،مجاہدین اہل علم لوگ چوتھی صدی سے لے کر اب تک گزرے ہیں وہ کسی نہ کسی ایک معین امام کے مقلد گزرے ہیں
    محدثین نے محدثین کے حالات پر جتنی کتابیں لکھیں ہیں وہ چار قسم کی ہی ہیں
    طبقات حنفیہ،طبقات الشافعیہ،طبقات مالکیہ،طبقات حنابلہ
    امام محمد بن اسحق بن خزیمہ السلمی نیشاپوری ؒ شافعی (متوفی ۳۱۱ھ)
    شیخ ابوعوانہ یعقوب بن اسحق ؒ شافعی (متوفی۳۱۶ھ)
    امام طحاویؒ حنفی (متوفی ۳۲۱ھ)
    امام ابو منصورماتریدی ؒ حنفی (متوفی ۳۳۳ھ)
    سلطان محمود غزنویؒ حنفی ہیں(متوفی۴۲۲ھ)
    خطیب بغدادی ؒ شافعی ہیں(متوفی ۴۶۳ھ)
    علامہ ابن عبدالبرؒ مالکی ہیں(متوفی ۴۶۳ھ)
    امام غزالی ؒ شافعی ہیں(متوفی ۵۰۵ھ)
    شیخ عبدا لقادر جیلانی ؒ حنبلی ہیں(متوفی ۵۶۱ھ)
    ابن عساکر ؒ شافعی ہیں(متوفی ۵۷۱ھ)
    صلاح الدین ایوبی ؒ شافعی ہیں(متوفی ۵۸۹ھ)
    علامہ ابن جوزیؒ حنبلی ہیں(متوفی ۵۹۷ھ)
    سلطان شہاب الدین غوری ؒ حنفی ہیں(متوفی ۶۰۲ھ)
    امام رازی ؒ شافعی ہیں(متوفی۶۰۶ھ)
    علامہ محمد بن احمد القرطبی ؒ مالکی ہیں(متوفی۶۷۱ھ)
    علامہ جلا ل الدین رومی ؒ حنفی ہیں(متوفی ۶۷۲ھ)
    امام نوووی ؒ شافعی ہیں(متوفی ۶۷۶ھ)
    خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ حنفی ہیں(متوفی ۷۲۵ھ)
    امام ابن تیمیہ ؒ حنبلی ہیں(متوفی ۷۲۸ھ)
    علامہ شمس الدین ذہبی ؒ شافعی ہیں(متوفی ۷۴۸ھ)
    علامہ بدرالدین عینیؒ حنفی ہیں(متوفی ۷۵۵ھ)
    امام ابن کثیر ؒ ؒ شافعی ہیں(متوفی ۷۷۴ھ)
    علامہ ابن خلدون ؒ مالکی ہیں(متوفی۸۰۸ھ)
    حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ شافعی ہیں(متوفی ۸۵۲ھ)
    امام جلال الدین السیوطی ؒ شافعی ہیں(متوفی۹۱۱ھ)
    سلطان شیر شاہ سوری ؒ حنفی ہیں(متوفی ۹۵۲ھ)
    امام شعرانیؒ شافعی ہیں(متوفی۹۷۳ھ)
    خواجہ باقی باللہ ؒ حنفی ہیں(متوفی۱۰۱۲ھ)
    ملا علی القاری ؒ حنفی ہیں(متوفی ۱۰۱۴ھ)
    مجدد الف ثانی ؒ ؒ حنفی ہیں(متوفی۱۰۳۴ھ)
    شیخ احمد صدیقی امیٹھوی المعروف ملا جیون ؒ حنفی ہیں(متوفی ۱۱۳۰ھ)
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ حنفی ہیں(متوفی ۱۱۵۶ھ)
    مرزا مظہر جان جانا ں شہید ؒ حنفی ہیں(متوفی ۱۱۹۵ھ)

    یہ ہی ہیں ہمارے سلف صالحین اور سارے ہی مقلد گزرے ہیں
    مذاہب اربعہ کے مسائل قرآن و سنت سے کیسے نکالے گئے ہیں ان کے لئے درج ذیل کتب ملاحظہ کریں
    1۔بدا یۃالمجتہد و نھایۃ المقتصد (ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن رشد القرطبی)
    2۔کتاب الفقہ علی المذاہب اربعۃ(علامہ عبدا لرحمن بن محمدعوض الجزیری)
    3-رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ(علامہ محمد بن عبدالرحمن بن الحسین القرشی الشافعی الدمشقی
    4- المیزان (امام الشعرانی)

اس صفحے کو مشتہر کریں