ایسی 17 قسم کی عورتیں جن سے نکاح اور پیغام نکاح جائز نہیں

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏ستمبر 4, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,888
    موصول پسندیدگیاں:
    932
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ایسی 17 قسم کی عورتیں جن سے نکاح اور پیغام نکاح جائز نہیں.​
    منگنی سے قبل رشتہ جوڑنے، پیغام دینے اور نکاح کرنے سے پہلے دو پہلو پیش نظر رکھنا بہت ہی ضروری ہے۔ اول یہ کہ زوجیت اور رشتہ ازواج میں لائی جانے والی لڑکی یا عورت سے ازروے شرع نکاح جائز ہے یا نہیں ،اور دوسرے یہ کہ اس عورت یا لڑکی سے ازدواجی زندگی خوشگوار گزر سکتی ہے یا نہیں ؟ ذیل میں ایسی تمام عورتوں کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جن سے نکاح کرنا ،شادی کی نسبت ومنگنی کرنا ،ان کے پاس پیغام بھیجنا کسی بھی طرح جائز نہیں ہے ۔
    1__________عورت شوہر والی ہو یعنی کسی شخص کے نکاح میں ہو۔ خواہ وہ شوہر کے ہاں ہو یا اس کا شوہر اسے اس کے میکے میں چھوڑ ے رکھاہو۔ نہ لاتا ہوں نہ ہی اس سے کوئی واسطہ رکھتا ہو ۔ مگر یہاں یہ بات اچھی طرح یاد رہے کہ نکاح کے بعد میکہ میں عورت کو چھوڑ دینا اور اس سے کوئی واسطہ نہ رکھنا سخت گناہ ہے۔ لہذا اگر نباہ مشکل اور نہ رکھنا ہو تو اسے طلاق دے دینا چاہیے کیونکہ یہ سخت غلطی ہے کہ ایسی صورت میں نہ طلاق دیا جائے اور جب طلاق کا مطالبہ کیا جائے تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ ہم اسکوسڑاسڑا کر ماریں گے اس کو یوں ہی چھوڑی رکھءں گے۔ وہ بھی سمجھے کہ ہاں کسی سے اچھا واسطہ پڑا ہے۔ حالانکہ قرآن مین اس طریقہ کار پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ" تو ان کے ساتھ اچھی طرح نباہ کرو یاشریف آدمیوں کی طرح انہیں چھوڑ دو، طلاق دے دو". القرآن
    2________ ایسی عورت کے جو کسی مرد کی عدت میں ہو یا خود اپنی مطلقہ بطو تین طلاق یعنی طلاق مغلظہ کی صورت میں ہو اور اس کا حلالہ نہ ہوا ہو ۔معارف القرآن
    ٣-------ایسی عورت جو شبہ سے وطی ہو جانے کی وجہ سے استبراء رحم کے لیے وقت گزار رہی ہو یہی حکم اس باندی کا ہے جو کسی کی ملک میں ہو اور آقا کے حمل سے اس کی برأت منظور ہو۔ احیاءالعلو.
    ٤--------- ایسی عورت جو ان عزیزوں میں سے ہو کہ جن سے نکاح حرام ہے مثلا ماں، نانی ،دادی، بیٹی ،پوتی، نواسی، بھتیجی ،بھانجی، اور ان سب کی اولادیں، پھوپھی اور خالائیں، ہاں مؤخر الذکر پھوپھی اور خالہ کی لڑکیوں سے نکاح جائز ہے۔ شامی
    ٥------ ایسی عورت یا لڑکی کہ جس سے رضاعت ( دودھ ) کا رشتہ ہو، رضاعی ماں یا رضاعی بہن وغیرہ ہوتی ہو،یاد رہے کہ جب بچے یا بچی کے منہ میں دودہ چلا گیا تو رضاعت یعنی دود ھ کا رشتہ ثابت ہوگیا۔ خواہ تھوڑا گیا ہو یا زیادہ۔ اسی طرح اگر انہوں نے چھاتی سے دودھ پیا ہو یا چھاتی سے نکال کر اس کے حلق میں ڈال دیاگیا تب بھی رضاعت دودھ کا رشتہ ثابت ہو جائے گا ۔عالمگیری ۔
    ٦--------ایسی ہے عورت جس کی بیٹی، پوتی، یا نواسی وغیرہ سے نکاح کر چکا ہو یاشبہ عقدمیں ان سے وطی سے چکا ہو۔ یاد رہے کہ صرف عقد کر لینے سے اس عورت کی ماں اور اولاد حرام ہوجاتی ہے۔ مختار
    ٧------- ایسی عورت کہ اس سے باپ یا بیٹے نے اس سے پہلے نکاح کرکے چھوڑ دیا ہو۔ ترغیب و ترہیب
    ٨-------نکاح کرنے والے کے عقد میں پہلے سے چار عورتیں برقرار ہوں۔ فتاوی دارالعلوم دیوبند۔
    ٩------- ایسی عورت جونکاح میں پہلے سے ہو اور اس کی موجودگی میں اس کی حقیقی بہن سے منگنی اور ازدواجی رشتہ نکاح کرنے جا رہا ہو۔ نیز اس عورت کی موجودگی میں عورت کی پھوپھی یا خالہ پہلے سے نہ ہو۔ کیو نکہ ایسی تمام عورتوں کے سے ایک ساتھ نکاح کرنا حرام ہے کہ جن میں اس طرح کی قرابت ہوکہ میں سے ایک کو مرد فرض کریں تو دوسرے سے نکاح درست نہ ہوگا ۔مسلم
    ١٠------------ لونڈی ہو،یاد رہے کہ آزاد مرد غیر کی لونڈی یعنی باندی سے نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن آزاد عورت پر لونڈی لانا جائزنہیں ہے۔ ہاں اس کے برعکس جائز ہے۔ہدایہ
    ١١--------- ایسی عورت ہو کہ جس کا شوہر لاپتہ ہو اور قاضی نےاس کے نکاح کو فسخ نہ کیا ہو۔ رد المحتار
    ١٢---------- ایسی لعان شدہ عورت کہ جس کی تفریق قاضی نے کردی ہو مگر ان دونوں میں لعان کی اہلیت باقی ہو۔ نیز لعان شدہ عورت پر شوہر پر ہمیشہ ہمیش کے لئے حرام ہو جاتی ہے ۔احیاء العلوم
    ١٣--------- ایسی عورت کہ جس کی ماں یا نا نی یا اس کی بیٹی کو شہوت سے چھوا ہو ا زنا کیا ہو۔ مبسوط
    ١٤---------- ایسی عورت کہ جس نے اس لڑکے یا مرد کے باپ دادا کو اور یا اس کے بیٹے کو شہوت سے چھوا ہو ،ان کے ساتھ زنا کی مرتکب ہوئی ہو، یا زنا کی وجہ سے اس مرد یا اس لڑکے کی بھتیجی اور بھانجی لگ رہی ہو۔مبسوط
    ١٥-----------غیر مسلم ہو ,کافرہو, کفر بکتی ہو، خدا یا رسول اللہ یا کسی بھی آسمانی کتاب،یا کسی بھی پیغمبر اور یا اسلام کے کسی بھی رکن کا انکار کرتی ہو،اسی میں وہ عورتیں بھی داخل ہیں جو اباحت پسند ہیں ،حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتی ہیں ایسی عورت جو مجوسی ہو ،قادیانی ہو ،رافضی ہو، زندیقی اور مرتدہ ہو ۔اسی میں وہ عورتیں بھی داخل ہیں جو مشرکانہ عقائد پر ایمان رکھتی ہیں اور اسلامی نظریہ اعتقاد کے خلاف رہتی ہیں۔ احیاءالعلوم
    ١٦----------اہل کتاب نہ ہو , یاد رہے کہ اہل کتاب یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح جائز ہے بشرطیکہ وہ اپنے مذہب پر قائم ہوں ۔ لیکن اگر وہ عورت کتابیہ ہونے سے پہلے پہلے مسلمان تھی تو اس سے نکاح اس کے مرتد ہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا لیکن اگر عورت کتابیہ ہونے سے پہلے غیر مسلمہ تھی تو اس سے نکاح جائز ہوگا لیکن نہ کیا جائے تو بہتر ہے ۔مگر یہاں یہ بات اچھی طرح یاد رہے کہ مسلمان عورت کسی یہودی یا عیسائی یعنی اہل کتاب شخص سے اپنا نکاح نہیں کر سکتی خواہ اہل کتاب عیسائی اور یہودی اپنے مذہب پر اچھی طرح قائم کیوں نہ ہو ۔ یہاں صرف مسلمان مردوں کو اجازت ہے کہ وہ اہل کتاب عورتوں سے جو اپنے مذہب پر اچھی طرح اور بدستور قائم ہو شادیاں کر سکتا ہے مگر مسلمان مرد سے اپنی شادی نہ کرے تو بہتر ہے۔ھدایہ
    ١٧-------ایسی عورت جو اپنے پھلے شوہر سے حاملہ ہو ,ہاں حاملہ عن الزنا کے ساتھ نکاح درست ہے خواہ اسی سے ہو جس سے حمل قرارپایا ہو، یا کسی دوسرے شخص سے ۔ اگر دوسرے شخص ہے ہوگا تو نکاح توجائز ہوگا مگر جب تک وضع حمل نہ ہو گا صحبت وجماعت جائزنہ ہوگا۔
    شادی اور شریعت۔

اس صفحے کو مشتہر کریں