ایک دلچسپ اور نصیحت آموز واقعہ

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نبیل خان, ‏اگست 9, 2012۔

  1. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,697
    موصول پسندیدگیاں:
    775
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    قرطبی نے اپنی اسناد متصل کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے والد نے میرا سب مال لے لیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے والد کو بلا کر لاؤ ۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب اس لڑکے کا والد آجائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پوچھیں کہ وہ کلمات کیا ہیں جو اس نے دل میں کہے ہیں ۔ اس کے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا ۔ جب وہ نوجوان اپنے والد کو لے کر آیا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کا بیٹا آپ کی شکایت کرتا ہے کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کا مال چھین لیں ؟ والد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی علیہ وسلم اسی سے پوچھ لیں کہ میں اس کی پھوپھی ، خالہ یا اپنے نفس کے سوا کہیں خرچ کرتا ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پس حقیقت معلوم ہو گئی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد سے دریافت فرمایا وہ کلمات کیا ہیں جو تم نے دل میں کہے اور تمہارے کانوں نے بھی نہیں سنا ؟
    اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی جو بات کانوں نے سنی اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہو گئی پھر اس نے کہا کہ میں نے چند اشعار دل میں پڑھے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اشعار ہمیں بھی بتاو ۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نےعرض کیا جو درج ذیل اشعار پڑھے ۔
    میں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد تمہاری ہر ذمہ داری اٹھائی تمہارا سب کچھ میری کمائی سے تھا ۔ جب کسی رات تمہیں کوئی بیماری پیش آگئی تو میں نے رات نہ گزاری مگر سخت بیداری اور بیقراری کے عالم میں ۔ مگر ایسے جیسے کہ بیماری تمیں نہیں مجھے لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے تمام شب روتے ہوئے گزار دیتا ۔ میرادل تمہارے ہلاکت سے ڈرتا رہا اور بیشک میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے ۔ جب تو اس عمر کو اور اس حد تک پنچ گے کہ جس عمر کی میں تمنا کیا کرتا تھا ۔ پھر تم نے میرا بدلہ سخت روئی اور سخت گوئی بنالیا گویا کہ تم ہی مجھ پر احسان و انعام کر رہے ہو ۔ کاش تگر تم سے میرے ہونے کا حق ادا نہیں ہو سکتا تو کم از کم اتنا ہی کر لیتے جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے ۔ تو نے کم از کم پڑوسی کا ھق دیا ہوتا میرے ہی مال میں مجھ سے بخل سے کام نہ لیا ہوتا ۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سنا تو بیٹے کا گریبان پکڑ کے فرمایاانت و مالک لا بیک :کہ تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے ۔
    معارف القرآن بحوالہ تفسیر قرطبی
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,705
    موصول پسندیدگیاں:
    809
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ترجمہ کے ساتھ عربی عبارت بھی ہوتی لطف آجاتا۔شکریہ بہترین شیئرنگ ہے
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    459
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا ۔ ۔ مفید شئیرنگ کا شکریہ
  4. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ Staff Member منتظم اعلی رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,351
    موصول پسندیدگیاں:
    1,734
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ احسن الجزا
  5. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ احسن الجزا

اس صفحے کو مشتہر کریں