ایک روٹی اور سات راتیں

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏مئی 10, 2017۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,013
    موصول پسندیدگیاں:
    1,589
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام بیٹوں کو اپنے پاس بلاکر فرمایا: میں تمہیں صاحب الرغیف (یعنی روٹی والے) کا قصہ سناتاہوں،اُسے ہمیشہ یاد رکھنا،پھر فرمایا:
    ایک عابد شخص اپنی جھونپڑی میںلوگوں سے الگ تھلگ عبادت کیا کرتا تھاوہ ستر سال تک اُسی جھونپڑی میں رہا،اس عرصہ میں کبھی بھی اس نے عبادت کو ترک نہ کیا اور نہ ہی کبھی اپنی جھونپڑی سے باہر آیا۔پھر ایک دن وہ جھونپڑی سے باہر آیا تو اسے شیطان نے ایک عورت کے فتنے میں مبتلا کردیا اور وہ سات دن یا سات راتیں اسی عورت کے ساتھ رہا،سات دن کے بعد جب آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹاتو وہ اپنی اس حرکت پر بہت نادم ہوا،اور اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں توبہ کی،اور وہاں سے رخصت ہوگیا وہ اپنے اس فعل پر بہت نادم تھا، اب اس کی یہ حالت تھی کہ ہرہرقدم پر نماز پڑھتا اور توبہ کرتاپھر ایک رات وہ ایسی جگہ پہنچا جہاں بارہ مسکین رہتے تھے،وہ بہت زیادہ تھکا ہوا تھا،تھکاوٹ کی وجہ سے وہ ان مسکینوں کے قریب گر پڑا۔ ایک راہب ان بارہ مسکینوں کو روزانہ ایک ایک روٹی دیتا تھا۔جب وہ راہب آیا تو اس نے روٹی دینا شروع کی اور اس عابد کو بھی مسکین سمجھ کر روٹی دے دی،اور ان بارہ مسکینوں میں سے ایک کو روٹی نہ ملی تو اس نے راہب سے کہا کہ آج آپ نے مجھے روٹی کیوںنہیں دی؟راہب نے جب یہ سنا تو کہا:میں تو بارہ کی بارہ روٹیاں تقسیم کرچکاہوں۔پھر اس نے مسکینوں کو مخاطب ہوکر کہا:کیا تم میں سے کسی کو دو روٹیاں ملی ہیں؟سب نے کہا: نہیں ہمیں تو صرف ایک ایک ہی ملی ہے۔یہ سن کر راہب نے اس شخص سے کہا:شاید تم دوبارہ روٹی لینا چاہتے ہو،جاؤآج کے بعد تمہیں روٹی نہیں ملے گی۔ جب اُس عابد نے یہ سناتو اسے مسکین پر بڑا ترس آیاچناں چہ اس نے وہ روٹی مسکین کو دے دی اور خود بھوکا رہااور اسی بھوک کی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا۔جب اس کی ستر سالہ عبادت اور غفلت میں گزری ہوئی سات راتوں کا وزن کیا گیا،تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں گزاری ہوئیںراتیں اس کی ستر سالہ عبادت پر غالب آگئیں۔پھر جب ان سات راتوں کا موازنہ اس روٹی سے کیا گیاجو اس نے مسکین کو دی تھی تو وہ روٹی اُن راتوں پر غالب آگئی اور اس کی مغفرت کردی گئی۔
    معلوم ہوا صدقہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بڑی قدر والی چیز ہے اور حق والوں کو ان کا حق دینا کتنا کمال رکھتا ہے اللہ پاک ہمیں بھی ہر قسم کے حقوق ادا کرنے اور صدقہ خیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین

    بشکریہ روزنامہ اسلام 10 مئی 2017

اس صفحے کو مشتہر کریں