ایک نحوی کاواقعہ۔بالفاظ حضرت قاری طیب صاحب رحمۃ اللہ

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اکتوبر 11, 2012۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,626
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ایک نحوی کا واقعہ۔“بالفاظ حضرت قاری طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ“​


    ایک نحوی ( ماہر علم نحو) انتہائی سیاہ رو اور بد شکل تھے ، رات کی تاریکی اُن پر رشک کرتی تھی جب کہ ان کی بیوی انتہائی گوری اوربے نظیر حسینہ تھی ،وہ چاند کا ٹکڑا لگتی اور ماہ تمام سے تراشیدہ معلوم ہوتی تھی ۔ جب کہ دونوں میاں بیوی اکھٹا ہوتے ،تو دیکھنے والوں کو محسوس ہوتا کہ ایک آفتاب اور دوسرا سایا ہے ، بلکہ دونوں شب وروز کی طرح ممتاز ہوتے اور ایک دوسرے کی یُقیض ،یا آگ پانی کی طرح ضددین محسوس ہوتے ۔
    ایک دن بیٹھے دونوں اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہے تھے کہ میاں نے بیوی سے کہا کہ “ ہم دونوں با لیقین جنتی ہیں ۔اہلیہ نے کہا تمہارے منہ میں گھی شکر ،خدا کرے ہم دونوں جنت نصیب ہو ں، لیکن تم نبی ہونے سے رہے ، جس کو خدا بہ وقتِ ضرورت ، بہ طور حکمت ومصلحت ، غیب کی بعض باتیں بتا دیا کرتا ہے ، تو تمہں کیسے معلوم کہ ہم ان شاء اللہ جنتی ہیں ؟ میاں نے کہا کہ ہم دونوں کے تعلق سے جنتی ہونے کی بات معلوم کر نے کے لئے نبی اور ولی ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ، اس لئے کہ تمہیں یہ بات معلوم ہی ہے کہ تم اس وقت لاثانی حسینہ عالم ہو ، اس کے با وجود تم نہ اتراتی ہو ، نہ بد مستی دکھاتی ہو ، نہ غرور بے جا میں مبتلا ہو ، بل کہ اک سوئی سے ذکرِ الٰہی ،عبادتِ خداوندی اور شوہر کی طاعت اور فر ماں برداری میں لگی رہتی ہو ، حسن کی نمائش ،عشوہ وادا کو عالم آشکارا کر نے کی کوئی خواہش ، تمہیں کسی لمحہ بھی نہیں ستاتی ،اس لئے میں شکر وامتنان کے ایسے مرتبے پر فائز ہو چکا ہوں ، جو شائد آج دنیا کے کسی انسان کو بھی نصیب نہیں ۔ میں ہمہ وقت تیری ایسی چودھویں کے چاند اور آفتاب عالم تاب بیوی کی شکل میں ملی ہوئی ، بے نظیر دولت عظمیٰ کے استحضار سے ، مست رہتا ہوں اور میرے ہر بُنِ مو سے شکر وعرفان کے جذبات اُبلتے رہتے ہیں ۔
    اس کے بر عکس میں آج روئے زمین کا شاید سب سے بد صورت انسان ہوں ، دنیا کے کسی گوشے میں میری نظیر تلاش بسیار کے با وجود بھی مشکل سے ملے گی ، چمڑے میرے سیاہ ، ہونٹ میرے موٹے ، گردن میری فربہ ، جسم میرا بے ڈھنگا ، غرض میری کوئی کل سیدھی نہ لائقِ تو جہ ، بلکہ خدا کی مصلحت سے نہ صرف تیرے لئے بلکہ ہر دیکھنے والے کے لئے باعثِ حیرت ، بلکہ باعثِ اذیت ہوں کہ اتنی بری شکل کا آدمی بھی اُن لوگوں کو خواہی نہ خواہی ادیکھنے کو مل جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب دنیا کے غیر متعلق انسانوں کے لئے میں اپنی مکروہ سے باعثِ تنفر وتکدر ہوں ، تو تیرے ایسی مہ پارےکے لئے میں کتنے تحمل ، صبر اور خدا کے فیصلے پر راضی رہنے کے ہمہ وقت امتحان کا باعث بنا رہتا ہوں ،اس کو کچھ میں ہی جانتا ہوں اور میرے خدا کو تو ہر چھپے کھلے کا بہ خوبی علم ہے ،اس کے باوجود تم میرے اوپر نہ صرف صبر کرتی ہو ، بلکہ خدائی تقسیم اور رب کا فیصلہ سمجھتے ہوئے ،اس صورت حال کو بھی ( جیسا کہ تمہارے سارے رویوں سے عیاں ہے)نعمت الٰہی باور کرتی ہو ، لہذا تمہیں صبر کا ایسا اعلیٰ ارفع درجہ ملا ہوا ہے ، جو شاید آج کرہ ارض پر کسی کو نصیب نہ ہوگا ،اس طرح تیرا خاکسار شوہر شکر وامتنان کی انتہائی اونچی منزل کا باسی ہے ،اور تم صبر وتحمل کی چوٹی پر متمکن ہو،اس لئے میں راہ شکر کا راہی ہوں اور تم راہِ صبر کی مسافر ہو۔ راستے تو ہم دونوں کے مختلف ہیں لیکن منزل ہم دونوں کی ایک ہے۔
  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,318
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    لہذا تمہیں صبر کا ایسا اعلیٰ ارفع درجہ ملا ہوا ہے ، جو شاید آج کرہ ارض پر کسی کو نصیب نہ ہوگا ،اس طرح تیرا خاکسار شوہر شکر وامتنان کی انتہائی اونچی منزل کا باسی ہے ،اور تم صبر وتحمل کی چوٹی پر متمکن ہو،اس لئے میں راہ شکر کا راہی ہوں اور تم راہِ صبر کی مسافر ہو۔ راستے تو ہم دونوں کے مختلف ہیں لیکن منزل ہم دونوں کی ایک ہے۔
  3. سارہ خان

    سارہ خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,568
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    صبر وشکر بہت بڑی دو نعمتیں ہیں جسے نصیب ہو جائیں

اس صفحے کو مشتہر کریں