ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی ۔۔۔ بدرالحسن القاسمی (کویت) داود علی :: مکمل

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 14, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
    حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ تعالٰی کے انتقال کا سانحہ
    بدرالحسن القاسمی (کویت)

    (1)
    [​IMG]
    (2)
    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی ۔۔۔ بدرالحسن القاسمی (کویت)

    یہ مضمون میں ٹائپ کررہا ہوں۔
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی ۔۔۔ بدرالحسن القاسمی (کویت)

    ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
    حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ تعالٰی کے انتقال کا سانحہ
    بدرالحسن القاسمی (کویت)

    اللہ تعالٰی غریق رحمت کرے بانی دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد مولانا رضوان القاسمی رحمہ اللہ کو جنہوں نے حکیم محمد اختر صاحب خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمہ اللہ کے ارشادات و ملفوطات کو نہایت مؤثر اور اچھے انداز پر مرتب کرکے “ باتیں ان کی یاد رہیں گی“ کئی سال پہلے شائع کیا تھا۔

    اُردو زبان میں بزرگوں کے ملفوظات جمع کرنے کا رواج تو قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ جنمیں ملفوظات شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمہ اللہ، ملفوظات حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ، ملفوظات مولانا الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ اور ملفوظات شاہ محمد یعقوب مججدی رحمہ اللہ قابل ذکر ہیں۔
    انہیں سے مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی مرتب کردہ شاہ محمد یعقوب مججدی رحمہ اللہ کے ملفوطات“ صحبتے بااہل دل“ اور مولانا رضوان القاسمی مرحوم کی مرتب کردہ حکیم محمد اختر صاحب کے ملفوظات کا مجموعہ :“باتیں ان کی یاد رہیں گی“ خاص طور پر بڑا امتیاز رکھتے ہیں کہ جسمیں ہر ملفوظ کو مرتب نے اپنی شگفتگی تحریر سے ایک مسقتل مفید و مؤثر مضمون بنا کے رکھ دیا ہے۔

    مولانا محمد رضوان القاسمی رحمہ اللہ کو اللہ تعالٰٰی نے قلم کی روانگی اور اسلوب کی بختگی کے ساتھ شعر کے بر محل استعمال اور مضامین کیلئے عنوان بندی کا خاص سلیقہ عطا فرمایا تھا۔ بلکہ بعض اوقات اشعار کی کثرت ہونے لگتی تھی ۔
    جہاں تک حکیم محمد اختر صاحب کی بات ہے تو وہ خود پیرومرشد اور واعظ و مبلغ ہونے کے ساتھ بہت اچھے شاعر بھی تھے۔
    حیدرآباد آمد کے موقع پر مولانا محمد رضوان صاحب رحمہ اللہ نے انکے ملفوظات کو نہ صرف وقتی طور پر اپنے صحافتی کالم میں محفوظ کرنے کی کوشش کی بلکہ ایک مستقل تعمیری و اصلاحی کتاب میں تبدیل کرڈالا۔
    جدہ سے محترم قاری محمد رفیق صاحب کے ٹیلفون سے اطلاع ملی کہ کراچی میں حکیم صاحب طویل علالت کے بعد تقریبًا 90 سال کی عمر میں کل گزشتہ انتقال ہوگیا۔ انااللہ وانا الیہ راجعون۔
    انکے مرشد اور حضرت حیکم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے آخری خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب کا انتقال چند سال پہلے ہی ہوگیا تھا۔
    حیدرآباد میں وہ کئی بار آئے، اور حیدرآباد میں ان کی آمد سے بڑی رونق بڑھ جایا کرتی تھی ۔اور پورے شہر پر ایک طرح کی روحانی چادر تن جایا کرتی تھی ، لوگ جوق در جوق ان کی محفلوں میں شرکت کرتے اور اہل حیدرآباد اپنے ذوق و مزاج کے مطابق بزرگوں کی نیاز مندی و عقیدت کا بھر پور ثبوت ہمیشہ ہی دیتے رہے ہیں۔
    حضرت حکیم صاحب سے میری ملاقات مولانا محمد رضوان القاسمی رحمہ اللہ کی معیت میں ہی ہوئی اور ان کی باتیں سننے کا موقع ملا، حیکم صاحب بہت ہی باغ و بہار آدمی تھے ہر موقع کے متعلق سینکڑوں اشعار انکی زبان پر ہوا کرتے تھے اور بہت ہی لطف لیکر اسے پڑھا کرتے۔
    حکیم صاحب کی با قیات میں انکے ادارے اور متوسلین کے علاوہ متعدد اخلاقی رسائل بھی ہیں جو سب کے سب مفیدو مؤثر اور از دل خیزد بر دل ریزد کا مصداق ہیں۔
    حکیم صاحب کا آبائی علاقہ پرتاب گڑھ یو پی تھا گوکہ وہ بعد میں کراچی میں مقیم ہو گئے تھے۔ حکمت پڑھنے کے بعد باقاعدہ عربی درسیات کا علم مولانا عبدالغنی پھولپوری رحمہ اللہ کے مدر سہ بیت العلم میں حاصل کیا۔ پھر اُنہیں سے بیعت ہوئے تھے ان کے انتقال کے بعد مولانا ابرارالحق سے رجوع ہوئے اور 1387ھ میں اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے،مولانا پھولپوری رحمہ اللہ کی صحبت میں وہ 16 سال رہے۔
    حکیم صاحب کو مولانا رومی کی مثنوی سے خاص مناسبت تھی چنانچہ اس کی شرح بھی انہوں نے ہی لکھی ہے اور مثنوی کے انداز کے شعر بھی کہے ہیں اور ان کی اصلاحی افادات کو مختلف رسالوں میں مرتب کرکے شائع بھی کئے ہیں۔
    خود انہوں نے مجالس ابرار کے نام سے مولانا ابرارالحق کے ملفوظات کا ایک ضخیم مجموعہ مرتب کرکے شائع کیا ہے۔
    حکیم صاحب 1397ھ میں حیدر اباد آئے اور اسی وقت مولانامحمد رضوان القاسمی صاحب کو ان سے “دید اور شنید“ کا موقع ملا اور باہم تعلقات قائم ہوئے اور جس کا نتیجہ انکے گرانقدر ملفوظات“باتیں ان کی یاد رہیں گی“ کی شکل میں سامنے آئے۔
    مولانا محمد رضوان صاحب نے ان ملفوظات کی جس طرح عنوان بندی کی ہے اس سے تمام ملفوظات بڑے ہی جاذب اور موثر بن گئے ہیں۔
    موت تو ہرزندہ وجود کا خاصہ ہے جس سے کسی کو مفر نہیں لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ ایک طرف نامور علماء کی صفیں خالی ہوگئی ہیں اور ان کی شبیہوں کا ملنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
    تو دوسری طرف اہل حق کی خانقاہیں بھی ویران ہوتی چلی جا رہی ہیں اور ہر طرف ھُو کا عالم اور مکمل سناٹا نظر آتا ہے، اور ہر طرف سے آواز آ رہی ہے کہ ع

    وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے​
    حکیم صاحب نہیں رہے لیکن باتیں ان کی یاد رہیں گی۔ دعا ہے اللہ تعالٰی اُنہیں جنت نصیب فرمائے آمین​

اس صفحے کو مشتہر کریں