اے خدا

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از abusufiyan, ‏اکتوبر 21, 2017۔

  1. abusufiyan

    abusufiyan وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    52
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    صنف:
    Male
    جگہ:
    سرونج،(ایم پی )انڈیا
    اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے

    یا چھلکتی ہوئی آنکھوں کو بھی پتھر کر دے

    تجھ کو دیکھا نہیں محسوس کیا ہے میں نے

    آ کسی دن مرے احساس کو پیکر کر دے

    قید ہونے سے رہیں نیند کی چنچل پریاں

    چاہے جتنا بھی غلافوں کو معطر کر دے

    دل لبھاتے ہوئے خوابوں سے کہیں بہتر ہے

    ایک آنسو کہ جو آنکھوں کو منور کر دے

    اور کچھ بھی مجھے درکار نہیں ہے لیکن

    میری چادر مرے پیروں کے برابر کر دے

    شاہد میؔر
    بنت عبد الحميد نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں