بانی درس نظامی۔ملانظام الدین سہالوی (بارہ بنکی یوپی)

'فقہاء ومحدثین' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 11, 2012۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,626
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    خانوادہ علماء فرنگی محل غالبا دنیا کا تنہا خاندان ہے جس میں کم از کم ایک ہزار سال ہے نہ صرف پڑھے لکھے لوگ بلکہ نا بغہ دوز گار علماء پیدا ہوتے رہے جنہوں نے مختلف زمانوں میں اہم علمی خدمات انجام دیں اس خاندان کا سلسلہ نسب مشہور صحابی اور میز بان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب خزرجی انصاری تک پہنچتا ہے۔
    فرنگی محل کی خاندانی روایت کے مطابق اس خاندان کے اجداد موضع بر ناوا ضلع میرٹھ سے سہالی ضلع بارہ بنکی سے ہوتے ہوئے لکھنؤ آئے ۔ اس خاندان کے ایک بزرگ قطب عالم خواجہ علاء الدین الانصاری الہروی ہندوستان آنے کے بعد اپنے ہم نام مخدوم علاء الدین برناوی کے آکری زمانے میں یا اس کے کچھ بعد اپنے ہم جد عزیزوں کے پاس بر ناوا میں مقیم ہوئے اور وہیں انتقال ہوا ۔
    ان کے بیٹے شیخ نطام لدین انصاری بر ناوا سے مو جودہ ضلع بارہ بنکی کے قصبہ سہا لی آگئے اور وہیں انتقال ہوا اور سہالی کے قریب ایک مقام ‘‘ روضہ‘‘ میں مدفون ہو ئے ۔

    شیخ نظام لدین کے بعد دہالی علم وفن کا مر کز بن گیا اور ان کی آٹھویں پشت میں مشہور زمانہ عالم ملا قطب الدین شہید ہو ئے ۔جن کے متعلق علامہ غلام علی آزاد بلگرامی فر ماتے ہیں۔

    ملا قطب الدین شہید امام اساتذہ ومقتدیٰ جہاندیدہ است ، معدن عقلیات ومخزن تعلیمات ۔۔۔۔۔ملا قطب الدین عمرہا انجمن درس آراست وجہان جہاں ارباب تحصیل را بپایہ تکمیل رساند ،امروز سلسلہ استفادہ الثر علما ء کشور ہندوستان بہ او منتہی می شود‘‘ ۔
    یہی ملا قطب الدین شہید خانوادہ علماء فر نگی محل کے جد امجد ہیں اور انہیں کے چاروں بیٹے یا ان کی اولادوں نے مشعل علم کو اس طرح روشن کیا کہ آٹھ پشتوں تک سارے ہندوستان میں اس کی پھیلتی رہی اور ہر نسل میں ایک سے زیادہ ایسے عالم پیدا ہوتے رہے جنہیں بجا طور پر نابغہ روز گار کہا جا سکتا ہے اور جن کے علم کی روشنی نے نہ صرف ہندوستان کو بلکہ اسلامی دنیا کے دوسرے حصوں کو بھی منور کیا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے اگر چہ علم کی نوعیت بہت حد تک بدل چکی ہے ۔
    ملا قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے ( 19 رجب1104ھ مطابق مارچ 1692ء کے بعد شہنشاہ عالمگیر کے حکم سے ملا شہید کی اولاد کے قیام کیلئے ان کے دونوں بڑے بیٹوں ملا اسعد کو لکھنؤ میں احاطہ چراغ بیگ میں ایک تیل اور گھوڑوں کے یورپین تاجر کی چھوڑی ہوئی خالی عمارت جو فرنگی محل کے نام سے مشہور تھی۔

اس صفحے کو مشتہر کریں