بعض اوقات کسی خاص راوی کو ضعیف کہنے سے مراد صرف کسی خاص حدیث میں ہی ضعیف مراد ہوتا ہے ۔؟

'الحدیث الکریم و علومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏مئی 1, 2016۔

  1. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    103
    موصول پسندیدگیاں:
    87
    صنف:
    Male
    بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ علم جرح و تعدیل میں کوئی جارح کسی راوی پر جرح کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔تو لگتا ہے کہ شاید اسی خاص حدیث میں یہ ضعیف ہے ۔
    اگرچہ جارح نے تصریح نہ بھی کی ہو۔۔۔
    اس کی مثال اور نظائر اگر آپ بھائیوں کی نظر سے گزرے ہوں تو ضرور شیئر کریں ۔

    مثال کے طور پر ایک نظیر تو ہے لیکن ۔۔۔اس میں کچھ کھٹک بھی ہے ۔
    امام بخاریؒ نے ایسا جز القرااۃ ۳۸میں ابن اسحاق پر امام مالکؒ کی جرح سے متعلق فرمایا ہے ۔
    وَلَوْ صَحَّ عَنْ مَالِكٍ تَنَاوُلُهُ مِنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فَلَرُبَّمَا تَكَلَّمَ الْإِنْسَانُ فَيَرْمِي صَاحِبَهُ بِشَيْءٍ وَاحِدٍ وَلَا يَتَّهِمُهُ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا

    یہ مثال تو بڑی اچھی ہے لیکن جز القرااۃ کے امام بخاریؒ کے انتساب میں کچھ کھٹک ہے ۔بہرحال قابل قبول ہوسکتی ہے ۔
    لیکن اگر کوئی اور نظائر بھی ملیں تو کیا ہی بات ہو ۔ اشماریہ بھائی ۔۔۔۔؟
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    343
    موصول پسندیدگیاں:
    218
    صنف:
    Male
    کچھ روز سے کام بہت زیادہ اور طبیعت اتنی مضمحل ہے کہ کسی علمی کام پر طبیعت مائل نہیں ہو رہی۔ ان شاء اللہ جلد عرض کرتا ہوں۔
    ابن عثمان نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    343
    موصول پسندیدگیاں:
    218
    صنف:
    Male
    بسم اللہ الرحمان الرحیم
    محترم بھائی امام بخاری کی جو بات آپ نے نقل فرمائی یہ بات امام بخاری کے ہی حوالے سے علامہ مزی نے یوں نقل فرمائی ہے:
    قال : و قال لى إبراهيم بن حمزة : كان عند إبراهيم بن سعد عن محمد بن إسحاق نحو من سبعة عشر ألف حديث فى الأحكام سوى المغازى ، و إبراهيم بن سعد من أكثر أهل المدينة حديثا فى زمانه ، و لو صح عن مالك تناوله من ابن إسحاق فلربما تكلم الإنسان فيرمى صاحبه بشىء واحد و لا يتهمه فى الأمور كلها
    لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محمد بن اسحاق کسی خاص حدیث میں ضعیف ہیں اور کسی حدیث میں نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات کسی شخص پر جرح کسی خاص معاملہ میں مثلا کلام، تفسیر، مغازی، انساب وغیرہ میں ہوتی ہے، حدیث میں نہیں ہوتی۔ امام بخاری کے اس قول کی وجہ غالبا یہ ہے کہ محمد بن اسحاق انساب اور مغازی کے امام تھے۔ اور صاحب تہذیب الکمال کی صراحت کے مطابق امام مالک کے بارے میں بہت سخت تھے، تو عین ممکن ہے کہ انہوں نے امام مالک کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دی ہو جس پر امام نے انہیں دجال من دجاجلہ کا لقب عنایت فرما دیا۔ (اس کی تفصیل غالبا الرفع و التکمیل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مجھے فی الحال مستحضر نہیں ہے۔)
    یہ چیز کہ فلاں شخص پر حدیث کے بجائے کسی اور معاملہ میں جرح ہے یہ دیگر ائمہ کے کلام، تمسک اور کلام کی قوت کو دیکھ کر معلوم کی جاتی ہے اور یہ خود کسی "رجل جلیل" کا کام ہے۔ ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔

    باقی جزء کا اگرچہ راوی مجہول ہے لیکن محدثین کا قاعدہ ہے کہ جس کتاب کا انتساب کسی مصنف کی جانب مشہور ہو تو اس کے راوی کی جہالت قطعا مضر نہیں ہوتی۔
    ابن عثمان نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    103
    موصول پسندیدگیاں:
    87
    صنف:
    Male
    جی بالکل صحیح فرمایا آپ نے ۔میں نے اسی لئے یہ کہا کہ یہ روایت قابل قبول ہو سکتی ہے ۔
    بعض جملے خود بتا دیتے ہیں کہ وزنی شخصیت کے منہ سے نکلے ہیں ۔ جیسے میں نے مولانا انور شاہ صاحب ؒ کا آج کل کے اصول حدیث میں ایک قول نقل کیا تھا ۔ آپ نے بھی اس کا حوالہ نہیں پوچھا ۔ مجھے بھی شاید ڈھونڈنا پڑے کہاں پڑھا تھا۔۔لیکن وہ جملہ خود ہی اتنا وزنی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کسی جبل علم کے منہ سے ہی نکلا ہے ۔
    جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہیں کہا تھا کہ ۔۔۔کتاب کی سند ، سماعات وغیرہ ایک اضافی فضیلت کی چیز ہے ۔۔۔اس سے کوئی مشہور کتاب کی صحت پر اثر نہیں پڑتا ۔۔۔ہاں اگر کتاب مشہور نہیں تو پھر اور بات ہے ۔۔۔
    لیکن میں نے جو جزء القرااة ،كے انتساب میں کھٹک کا کہا ہے وہ اس لئے کہا ہے کہ اس کا راوی کتاب کے اندر ہر سند میں موجود ہے ۔
    اور اتفاق سے وہ بھی بخاری ہے ۔۔۔یعنی محمود بن اسحاق بخاری۔۔۔
    اور آپ کے علم میں ہو گا کہ بعض باتیں اس میں امام بخاریؒ کے مقام سے بہت نیچے کی لگتی ہیں ۔
    اور غالباََ نور الصباح میں مولانا حبیب اللہ ؒ نے اس کی غلطیاں امام بخاریؒ کی دوسری تصانیف سے موازنہ کر کے نکالی ہیں ۔۔۔
    جیسے کتاب الآثار کی بروایت محمد ؒ میں سند امام محمد سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔
    اور انہوں نے کئی جگہہ اس میں اضافات کئے ہیں ۔۔۔
    اسی طرح سنن شافعیؒ۔۔۔میں امام طحاویؒ نے کچھ اپنی باتیں نقل کی ہیں ۔۔
    یا ابن ابی العوامؒ کی مناقب۔۔۔وغیرہ
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    343
    موصول پسندیدگیاں:
    218
    صنف:
    Male
    امام بخاریؒ کی تمام تصنیفات صحیح بخاری کے پائے کی نہیں ہیں۔ بہت سی تصانیف میں کئی چیزیں ان کے مقام سے کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ممکن ہے کہ ہو سکتا ہے امام بخاریؒ نے یہ کتب پہلے لکھی ہوں۔ بعد میں وقت کے ساتھ انسان کا علم اور فکر دونوں بڑھتے رہتے ہیں۔ دوسرا الجامع الصحیح امامؒ نے کافی طویل عرصے میں لکھی ہے جب کہ ان کتب کے بارے میں قرین قیاس یہی ہے کہ عام کتب کی طرح کم وقت میں لکھی گئی ہیں۔ جب کسی کتاب کی تحریر میں مکمل غور و فکر کر کے طویل وقت میں لکھا جائے تو وہ بہت مضبوط ہو جاتی ہے بنسبت اس کتاب کے جسے مختصر وقت میں لکھا گیا ہو۔
    نیز بعض اوقات جب کوئی کتاب املاء کرائی جا رہی ہو تو لکھنے والے کی فہم یا رفتار کی وجہ سے بھی کچھ خامیاں رہ جاتی ہیں جیسے عرف الشذی (علامہ انور شاہ کشمیریؒ) میں رہ گئی ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
  6. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    103
    موصول پسندیدگیاں:
    87
    صنف:
    Male
    اس كے تذکرے سے عرف الشذی کی طبع عرب۔۔۔یاد آگئی ۔۔۔
    اس میں انہوں نے بغیر ذکر کئے تحفۃ الاحوذی کا کچھ مقدمہ ۔۔۔عرف الشذی کے شروع میں لگا دیا ہے ۔۔۔
    گویا دودھ کی رکھوالی پہ۔۔۔۔۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    343
    موصول پسندیدگیاں:
    218
    صنف:
    Male
    ما شاء اللہ آپ کی کتب پر کافی نظر ہے۔
    مجھے اس کا بالکل علم نہیں ہے۔
  8. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    103
    موصول پسندیدگیاں:
    87
    صنف:
    Male
    موضوع سے متعلق ایک جبل علم کی عبارت نظر سے گزری ہے ۔

    حافظ ابن حجر عسقلانیؒ ۔۔۔۔۔۔فتح الباری ۱۔۱۸۹۔ط دار المعرفۃ

    عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى مِمَّنْ تَفَرَّدَ الْبُخَارِيُّ بِإِخْرَاجِ حَدِيثِهِ دُونَ مُسْلِمٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ صَالح وَقَالَ بن أبي خَيْثَمَة عَن بن مَعِينٍ لَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَالَ النَّسَائِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ

    قُلْتُ لَعَلَّهُ أَرَادَ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِ

    وَقَدْ تَقَرَّرَ أَنَّ الْبُخَارِيَّ حَيْثُ يُخَرِّجُ لِبَعْضِ مَنْ فِيهِ مَقَالٌ لَا يُخَرِّجُ شَيْئًا مِمَّا أُنْكِرَ عَلَيْهِ

    وَقَول بن مَعِينٍ لَيْسَ بِشَيْءٍ أَرَادَ بِهِ فِي حَدِيثٍ بِعَيْنِهِ سُئِلَ عَنْهُ وَقَدْ قَوَّاهُ فِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْهُ

    وَفِي الْجُمْلَةِ فَالرَّجُلُ إِذَا ثَبَتَتْ عَدَالَتُهُ لَمْ يُقْبَلْ فِيهِ الْجَرْحُ إِلَّا إِذَا كَانَ مُفَسَّرًا بِأَمْرٍ قَادِحٍ وَذَلِكَ غَيْرُ مَوْجُودٍ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى
    اشماریہ اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    343
    موصول پسندیدگیاں:
    218
    صنف:
    Male
    عموماً جن رواۃ پر جرح ہوتی ہے وہ مطلقاً جرح ہوتی ہے یعنی ان کی عام کیفیت کے بارے میں یہ جرح ہوتی ہے۔ اگر کسی راوی کی عام کیفیت تو ثقاہت کی ہو لیکن کسی ایک آدھ حدیث میں اسے وہم ہو تو اس سے اس کی ذات پر جرح نہیں ہوتی۔ البتہ بعض سندوں میں یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ راوی ثقہ ہوتا ہے لیکن اس کی کسی اور خاص راوی سے روایت صحیح نہیں ہوتی۔ اس کی مختلف وجوہات ممکن ہیں مثلاً ملاقات کم ہونا یا مزاج کا اختلاف وغیرہ۔
  10. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    103
    موصول پسندیدگیاں:
    87
    صنف:
    Male
    یہ ٹھیک ہے ابھی اس بارے میں بات نہیں کر رہا ۔
    ابھی نارمل سے ہٹ کر جو صورت کم پیش آتی ہے اس کے بارے میں بات ہے ۔

    جب کسی راوی کی خارج میں ثقاہت یا عدم ضعف ثابت ہو۔۔۔۔۔۔۔ اس کے پہلے مصداق مشہور ائمہ مجتہدین و مشہور محدثین وغیرہ ہیں ۔

    مثلاََ ائمہ اربعہ جو جرح والے پل کو پار کر چکے ہیں ۔ان میں بھی ثقاہت سب سے زیادہ امام مالکؒ کی بیان کی جاتی ہے ۔

    اور امام مالکؒ کے بعض وہم کا ذکر ان کے سب سے بڑے محدث ابن عبد البرؒ بھی کر جاتے ہیں ۔

    ظاہر ہے اس سے امام مالکؒ کی امامت اور جلالت قدر پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

    اسی طرح کوئی مسلکی جنگ میں (جس کا آج کل ہم بہت شکار ہیں) خطیب کی موضح اوہام اور ابن ابی حاتم کی بیان خطا فی تاریخ کو لے کر ایک امام المحدثین کو کثیر الخطا اور کثیر الاوہام کہہ دے تو یہ سراسر زیادتی اور تعصب ہے ۔

    يامشہور روایت من کان لہ امام۔۔کے بارے میں یحیی بن معین ؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث متصل روایت ۔۔لیس ھو بشئی ۔۔ہے بلکہ یہ روایت مرسل ہے ۔ اور ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں کہ جنہوں نے اسے متصل روایت کیا ہے وہ سیئ الحفظ عند اہل الحدیث ہیں ۔

    اور یہ جرح ایک ایسے امام کے بارے میں ہے ۔جو خود یحیی بن معین ؒ کے مطابق وہ ہیں ۔۔۔کہ جن کے بارے میں تضعیف انہوں نے کسی سے بھی نہیں سنی ۔ ما سمعت احدا ضعف۔

    اور ابن عبد البرؒ نے ان امام کی تعدیل میں پوری کتاب لکھی ہوئی ہے ۔۔اسی طرح دوسری کتاب میں ان ائمہ کا ذکر کر کے ایک شعر کے ذریعے فرماتے ہیں کہ ان پر کلام کرنا ایسے ہے ۔۔۔جیسے ۔۔۔کوئی بکرا پہاڑ سے سر ٹکرائے ۔۔تو پہاڑ کا تو کچھ نہیں بگڑے گا ۔۔بکرا زخمی ہو جائے گا۔۔

    پھر ظاہر ہے تشریح یوں ہوگی ۔۔۔۔کہ ۔۔صرف اس حدیث میں وہم ہے ۔

    ابھی یہ حدیث کوئی زیر بحث نہیں ورنہ ۔۔وہم غلطی کوئی نہیں ہے ۔ بلکہ امام یحیی ؒ اور ابن عبد البرؒ غلطی پر ہیں ۔

    ابھی صرف یہ بتانا ہے ۔۔۔ان کی اصطلاح ۔۔لیس ھو بشئی اور سیئ الحفظ۔۔۔صرف اس ایک حدیث پر ہے ۔ باقیوں میں ہر گز نہیں۔ اسی طرح امام مالکؒ کو تراویح والی روایت میں وہم ہونے کا کہنے پر بھی ابن عبد البرؒ سے اختلاف کیا گیا ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہیں اس بارے میں کچھ لاعلمی سے زیادتی ہو جاتی ہے ۔

    مثلاََ تقریب پر بھروسہ کرنے والے حضرات جب تقریب میں حافظ ابن حجرؒ کا امام حماد بن ابی سلیمانؒ کے بارے میں صدوق لہ اوہام پڑھتے ہیں تو ان کی ہزاروں روایات پر اوہام کا اثر ڈال دیتے ہیں ۔ اور اکثر جگہہ ان کی روایت کو ضعیف ہی کہہ دیتے ہیں ۔ کوئی بہت احسان کرے تو حسن کہہ دیتا ہے ۔ حالانکہ حافظ نے شاید ہی ان کی روایت کو ضعیف کہا ہو۔

    ابھی جو بات زیر بحث ہے وہ ایسے راوی کے بارے میں ہے جو ائمہ ہیں جن میں حمادؒ جیسے ہیں ان کا ۔۔۔لہ اوہام ۔۔۔بہت کم روایات میں ہوگا ۔

    یا مختلف فیہ راوی کے بارے میں زیادہ غور کرنا پڑے گا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    زور اس نکتہ پر ہے کہ کسی امام نے جرح کی ہو اور وضاحت ، تشریح ، یا تصریح نہ کی ہو ۔

    تو پھر بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ راوی بعض روایات میں ضعیف ہے ۔ یعنی فلاں ضعیف ہے تو اس کا مطلب فلاں روایت میں ضعیف ہے ۔یعنی اس کی فلاں روایت صحیح نہیں۔ فلاں سیئ الحفظ ہے تو یعنی فلاں روایت میں اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔

    اس کے نظائر پیش کرنے پیش نظر ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یحیی بن معینؒ کی جرح لیس بشیئ۔۔۔۔۔کے بارے میں ۲ تشریحات تو مشہور ہیں ۔۔اور دونوں بظاہر متعارض بھی ہیں ۔۔۔ایک یہ کہ اس سے مراد راوی کا قلیل الحدیث ہونا ہے ۔ یہ حاکمؒ ، ابن قطانؒ ، ابن حجرؒ نے نقل کی ہے ۔

    الرفع والتکمیل میں بھی نقل کی گئی ہے ۔

    دوسری تشریح ۔۔۔۔یہ کہ اس سے مراد جرح شدید ہے ۔ جو کہ ان کے اقوال کا تتبع کر کے شیخ ابوغدہؒ وغیرہ نے نکالا ہے ۔

    اور یہ اوپر کی عبارت حافظؒ کی ۔۔۔۔۔سے ایک تیسری تشریح ثابت ہو گئی کہ (شاید) راوی بعض روایات میں مجروح ہے ۔

    اوپر ایک بڑے امام کی مثال سے واضح بھی ہے ۔

    فلاں شیخ سے روایت میں ضعیف ہے اور فلاں سے نہیں ۔۔۔کا اظہار ابن معینؒ وغیرہ کی ہر عبارت میں نہیں ہے ۔

    حالانکہ کئی جگہہ وہ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ اور اسی بات کے اظہار کے لئے یہ موضوع شروع کیا تھا کہ جب محدث تصریح نہ بھی کرے تو کیا ہوتاہے ۔

    حتی کے بعض اوقات تصریح کر بھی دیں تو یہ اظہار بھی مطلق نہیں ہوتا ۔۔

    مثلاََ علی الصدر والی روایت میں مؤمل بن اسمعيل کے بارے میں ۔۔۔
    ۔ سفيان ثورىؒ سے اس کی روایت یحییؒ کے نزدیک کیسی ہے ۔

    ایک روایت میں ابن معینؒ سے اس کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا۔

    أي شيء حال المُؤَمَّل في سُفيان؟ فقال: هو ثِقَةٌ
    بغیر کسی قید کے ثقہ کہا۔

    لیکن کسی اور جگہہ ایک روایت میں انہوں نے فرمایا۔

    سمعت يحيى يقول قبيصة ليس بحجة فى سفيان ولا ابو حذيفة ولا يحيى بن آدم ولا مؤمل

    اب دونوں کو مان لیا جائے تو نتیجہ کیا نکالا جائے ۔؟

    مومل ۔۔۔سفیان سے روایت میں ثقہ ہے لیکن حجت نہیں ہے ۔یعنی متابعت ، سیر ، فضائل میں ؟

    ۲۔ مومل کی سفیان سے بعض روایات صحیح بھی ہیں ۔۔۔لیکن مومل ویسے مجموعی حوالے سے سفیان سے روایت میں حجت نہیں۔؟

    ۳۔ یا کوئی ایک رائے بعد کی ثابت ہو جائے ۔؟

    ۳۔ حافظ ابن حجرؒ تو اس کے حامی ہیں کہ مومل کی روایت سفیان سے میں خطا ہوتی ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیس بالقوی اور لیس بقوی۔

    آج کل اکثر کتب میں آپ نے یہ بحث پڑھی ہو گی کہ لیس بالقوی سے مراد درجہ کاملہ کی نفی ہے ۔ اور یہ لیس بقوی کے علاوہ ہے ۔ یعنی القوی ۔اور ۔قوی

    ذہبیؒ نے امام نسائیؒ سے اتنا نقل کیا ہے کہ ان کا لیس بالقوی کہنا جرح مفسد نہیں ۔۔

    اور انہوں نے کئی ایسے راویوں سے سنن میں روایت اور احتجاج بھی کیا ہے ۔

    اور کئی جگہہ یہ صحیح بھی ہے ۔

    لیکن یہاں بھی کوئی پکا قاعدہ کوئی نہیں ۔۔۔بلکہ ایک بھائی کی تحریر میں نے پڑھی انہوں نے تتبع کیا تو معلوم ہوا کہ یہ فرق امام نسائی اور دوسرے بعد کے ناقلین کے سامنے نہیں ہے ۔ بلکہ امام نسائیؒ جن کو لیس بالقوی کہتے جاتے ہیں ۔۔۔ذہبیؒ وغیرہ اس کو لیس بقوی نقل کرتے جاتے ہیں ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل میں یہ مسئلہ ۔۔۔میرے شروع کئے ہوئے دوسرے موضوع سے کچھ ملا ہوا ہے ۔ ۔۔جس میں آج کل اصول حدیث ، مصطلح الحدیث کا استعمال ہوتا ہے ۔۔۔

    آج کل ہر مسلک کے ہر طبقے کے حضرات ۔۔۔۔۔۔خصوصاََ

    نوجوان طلباء

    اور ۔۔۔خود متعلقہ مقام پڑھنے سے زیادہ انٹرنیٹ ، ای بک شاملہ ، سرچ وغیرہ پر بھروسہ کرنے والوں میں دیکھا ہے ۔

    اگر چہ میرے جیسے جاہل بھی یہ دوسری کیٹیگری کے ہی ہیں کہ اس میں جہلاء کے لئے آسانی ہے ۔ لیکن حقیقت جو ہو اس کا اظہار بھی تو ضروری ہے ۔

    آج کل محدثین کے جملوں سے قواعد اور کلیہ بنا لیا جاتا ہے ۔اور احادیث پر حکم لگانے میں اس پر اعتماد کیا جاتا ہے ۔

    اس کے لئے پی ایچ ڈی ، ماجیستر وغیرہ کے ضمن میں اقوال اکٹھے کر کے رسائل لکھے جاچکے ہیں ۔

    اسی ضمن میں مناہج المحدثین پر مشتمل کتب وجود میں آئیں ۔ اگرچہ ان میں بہت فوائد بھی مل جاتے ہیں ۔ لیکن اس پر اس طرح کا اعتماد کر کے محدثین کے اقوال کو اصول بنا دیا گیا ہے ۔ حالانکہ قواعد اتنے اٹل نہیں ہوتے بلکہ اس فلاں محدث کا اجتہاد بھی ہوتا ہے ۔ اور یہ بالکل صحیح ہے ۔ کیونکہ یہ کوئی روبوٹ یا کمپیوٹر تو نہیں کہ ایک بات کہہ دی تو وہ ہر جگہہ مطلق نافذ ہو گی۔

    واللہ اعلم۔

    بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔۔۔کچھ بے ترتیب خیالات آتے گئے اس لئے بیان کرتا گیا۔۔کوئی اصول کے خلاف بات ہو اور غلطی ہو تو ضرور بتائیے گا۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    103
    موصول پسندیدگیاں:
    87
    صنف:
    Male
    امام احمد ؒ سے بڑے ائمہ کے آپس میں تقابل کے سلسلے میں ایک روایت بہت مشہور ہے ۔
    اگرچہ مجھے کوئی اتنی قوی نہیں لگتی ۔ اس کا متن عجیب سا منکر ساہے ۔ بہرحال ابھی اس کو ایک طرف رکھتے ہوئے ۔۔۔
    اس میں امام اوزاعیؒ جیسے بڑے امام کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا۔۔
    فَالأَوْزَاعِيُّ؟
    قَالَ: حَدِيْثٌ ضَعِيْفٌ، وَرَأْيٌ ضَعِيْفٌ.

    امام ذہبیؒ نے سیر اعلام۷۔۱۱۳۔۱۱۴ پہ اس کو امام اوزاعیؒ کے ترجمہ میں نقل کرکے فرمایا ہے ۔
    قُلْتُ: يُرِيْدُ: أَنَّ الأَوْزَاعِيَّ حَدِيْثُه ضَعِيْفٌ مِنْ كَوْنِهِ يَحتَجُّ بِالمَقَاطِيْعِ، وَبِمَرَاسِيْلِ أَهْلِ الشَّامِ،
    وَفِي ذَلِكَ ضَعفٌ، لاَ أَنَّ الإِمَامَ فِي نَفْسِهِ ضَعِيْفٌ.
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں