بعض لوگ 12 ربیع الاول کو یوم وفات مانتے ہیں تو و

'دیگر ادیان، مذاہب و مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از نورانی, ‏فروری 6, 2013۔

  1. نورانی

    نورانی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    24
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Iran
    سوال: جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ بعض لوگ 12 ربیع الاول کو یوم وفات مانتے ہیں تو احتیاط تو اس میں ہے کہ ہم اس دن خوشیاں نہ منائیں کیونکہ اگر وہ بات بالفرض درست ہے تو وفات نبی کے دن خوشی منانا تو بہت بری بات ہے ؟
    جواب: پیارے اسلامی بھائیو! دینی مسائل کے حل کیلئے اپنی عقل استعمال کرنے سے پہلے اللہ تعالٰی اور اس کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں رجوع کرنا بےحد ضروری ہے کیونکہ کثیر مسائل ایسے ہیں کہ جن میں عقل کا فیصلہ کچھ اور ہوتا ہے جب کہ شریعت کا تقاضا اس کے مخالف نظر آتا ہے، ایسے موقع پر سعادت مندی یہی ہے کہ ہم اللہ تعالٰی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالیشان پر “عقل کی آنکھیں بند کرکے“ عمل کریں اور اگر شیطان کسی قسم کا وسوسہ ڈالے تو اس سے فوراً یہ سوال کریں کہ بتا ہماری “عقل بڑی ہے یا اللہ تعالٰی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا حکم ؟“ انشاءاللہ عزوجل شیطان فوراً بھاگ جائے گا اب اس مسئلے کے بارے میں عرض ہے کہ اگر بالفرض یہ یوم وفات نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بھی ہوتا، تب بھی ہمارے لئے شرعی لحاظ سے اس میں خوشی منانا جائز اور غم منانا ناجائز ہے کیونکہ شرعی قاعدہ قانون یہ ہے کہ شوہر کی وفات کے علاوہ کسی اور کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں صرف شوہر کی موت پر بیوی کو چار مہینے دس دن سوگ منانے کا حکم ہے چنانچہ بخاری و مسلم میں ام المومنین ام حبیبہ اور ام المومنین زینب بنت حجش رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “جو عورت اللہ تعالٰی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے تو اسے یہ حلال نہیں کہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے کہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔“ معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ کسی کی بھی وفات پر تین دن سے زائد غم منانا جائز نہیں چنانچہ مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد، آپ کی وفات پر بھی غم منانا یا سوگ کی علامت اختیار کرنا جائز نہیں ہونا چاہئیے اس کے برعکس چونکہ نعمت کے اظہار اور اس پر خوشی منانے والی آیات میں وقت کی کوئی قید نہیں چنانچہ ان کی رو سے اس دن خوشی منانا بالکل جائز ہے۔
    احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہاں ایک نکتہ بیان کر دینا بھی نفع سے خالی نہ ہو گا کہ اگر کسی ایک ہی دن پیدائش نبی بھی ہو اور وصال نبی بھی تو ہمیں انعام کے حصول پر خوشی منانے کی اجازت تو ملتی ہے، لیکن غم منانے کا حکم کہیں نظر نہیں آتا۔ مثلاً سیدکونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “بہترین دن کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں (دنیا میں) اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی اسی میں آپ نے وفات پائی اور اسی میں قیامت قائم ہوگی۔ (ابوداؤد و ترمذی) اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا کہ “جمعہ عید کا دن ہے اسے اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کے لئے عید کا دن بنایا ہے۔“ (ابن ماجہ)
    اب آپ غور فرمائیں کہ جمعہ حالانکہ یوم وفات بھی ہے لیکن اس کے باوجود مدنی مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے حکم سے اس دن کو ہمارے لئے عید کا دن قرار دیا ہے اور یقیناً عید کے دن خوشیاں منائی جاتی ہیں اور اس کے برعکس غم منانے کے بارے میں کوئی حکم موجود نہیں، نتیجہ یہ نکلا کہ “ہمارے لئے اس دن خوشی منانی جائز اور غم منانے کا عقلی طور پر بھی کوئی جواز نہیں کیونکہ شہہ دوسرا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “اللہ تعالٰی نے زمین پر انبیاء علیہم السلام کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے لٰہذا اللہ عزوجل کے نبی (علیہم السلام) زندہ ہیں، روزی دیتے ہیں۔ (ابن ماجہ) اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کل نفس ذائقۃ الموت ( ہرجان کو موت چکھنی ہے) ( پارہ 4 سورہ آل عمران آیت185 ) کے ضابطے کے تحت انبیاء علیہم السلام کچھ دیر کیلئے وفات پاتے ہیں اور پھر اللہ تعالٰی کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جاتے ہیں اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں،
    انبیاء کو بھی اجل آنی ہے
    مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
    پھر اسی آن کے بعد ان کی حیات
    مثل سابق وہی جسمانی ہے (حدائق بخشش)
    اور جب تمام انبیاء علیہم السلام سمیت ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ بھی ثابت ہو گئی تو بارھویں پر غم منانے کی کون سی علت باقی رہ جاتی ہے ؟
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,671
    موصول پسندیدگیاں:
    793
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حکایت :275 فرمایا سیوہارا میں ایک جماعت نے جن میں مسئلہ مولود میں نزاع ہو رہا تھا مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کہ اس وقت وہاں تشریف رکھتے تھے ، مولود کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ بھائی نہ اتنا برا ہے جتنا لوگ سمجھتے ہیں اور نہ ہی اتنا اچھا ہے جتنا لوگ سمجھتےہیں ۔ نوٹ: مولف کتاب “ارواح ثلٰثہ “ فر ماتے ہیں یہ حکایت مولوی محمد یحییٰ سیوہاروی سے سنی ہے۔
  3. فکری

    فکری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    85
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

    یہ باتیں سب بادلیل لکھیں جمعہ کے دن کو عید فر مایا گیا سوگ کی دلیل بھی آپ نے حدیث سے دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر میلاد کی خوشی اور جلوس اور اس دن کو عید کہنا بھی کسی دیل ہی سے ثابت کرئیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا ای عدد فر مان لکھ دیں کہ میری پیدائش 12 کو ہوئی ہے لھذا اسے عید میلاد النبی صل اللہ علیہوسلم منایا کرو جناب نورانی میاں
    آپ نے یہ لکھا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کر نا چاھے
    تو آپ اس عید میلاد کی دلیل رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے ثابت کرئیں آپ نے حکمم دیا ہو میلاد کے دن کو عید بنانے کا جلوس نکالنے کا ذرا ایک حدیث صحیح پیش فر مادیں ان شاء اللہ اگلے سال ہم بھی آپ کیساتھ اسی طرح عید منائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محض اپنے عقل نہ دوڑائیں

اس صفحے کو مشتہر کریں