بھیک جتنی ،دروازہ بھی اتنا

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏ستمبر 28, 2016۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,513
    موصول پسندیدگیاں:
    718
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بھیک جتنی ،دروازہ بھی اتنا
    ایک فقیر بھیک مانگتے مانگتے ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پہنچتا رہا ،یہاں تک کہ ایک بہت بڑے دروازےپر پہنچا،اسے خیال ہوا کہ شایدیہ کسی رئیس یا حاکم کا محل ہو گا،اس لئے یہاں بھیک بھی زیادہ ملے گی،یہ سوچ کر اس نے دستک دی ، تو بہت دیر کے بعد دروازہ کھلا اور اس کو دس پیسے دئے گئے۔ فقیر نے وہ دس پیسے لے کر ایک طرف رکھ دیا اور کلہاڑی لے کر دروازہ اکھاڑنا شرو ع کردیا ، جب گھر والوں نے آواز سنی تو باہر آئے اور انہوں نے اس سے پو چھا ارے! یہ کیا کر رہے ہو ؟ تو اس فقیر نے عجیب جواب دیا کہ : میں یہاں بڑا دروازہ دیکھ کر اس لئے آیا تھا کہ دروزے کے برابر بھیک ملے گی ، مگر میں نے دیکھا کہ دروازہ تو اتنا بڑا ہے اور بھیک اتنی کم؟ اس لئے یہ چاہ رہا ہوں کہ یا تو بھیک جتنی ہے دروازہ بھی اتنا ہو جائے ،یا دروازہ جتنا بڑا ہے بھیک بھی اتنی ہو جائے ۔اب تم یا تو بھیک بھا دو ،یا میں دروازہ کو چھوٹا کر دیتا ہوں ۔اب ان لوگوں نے بھیک بڑھا دی۔
    فائدہ: اس سے ہم کو یہ سبق ملتا ہے کہ اگر اللہ بھی بندوں کو ان کو ان کی حیثیت کے حساب سے دیتا تو بہت کم ملتا ،کیونکہ ان کی حیثیت ہی کیا ہے؟ لیکن وہ اپنی رحمت کے حساب سے دیتا ہے ،اس لئے اس کو زیادہ سمجھیں اور اس پر شکر گزار رہیں ۔اسی طرح ہمارے اندر یہ بھی صفت ہو کہ زیادہ سے زیا دہ خرچ کریں۔
    محمد صدیق قریشی اور محمدداؤدالرحمن علی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور فعال رکن Staff Member وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    1,519
    موصول پسندیدگیاں:
    123
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    دامن ہی میرا تنگ ہے پر تیرے جہان کمی نہیں

اس صفحے کو مشتہر کریں