ترکِ تقلید کے نتائج

'فقہاء ومحدثین' میں موضوعات آغاز کردہ از sahj, ‏جنوری 16, 2012۔

  1. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan


    ہندوستان میں مغلیہ عہد میں صرف دوہی فرقے پائے جاتے تھے، سنی تھے یاشیعہ،

    نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:
    "ہندوستان کے مسلمان ہمیشہ سے مذہب شیعی یاحنفی رکھتے ہیں"۔
    (ترجمانِ وہابیہ:86)

    انگریزوں نے جب یہاں مذہبی آزادی کا اعلان کیا توسلاطینِ مغلیہ کی وہ گرفت جوعام مسلمانوں کوایک ہی مذہب پر رکھے ہوئے تھی ڈھیلی پڑگئی، نواب صاحب گورنمنٹ کی پالیسی کے بارے میں لکھتے ہیں:
    "جوامن وآسائش وآزادگی اس حکومت انگریزی میں تمام خلق کونصیب ہوئی کسی حکومت میں بھی نہ تھی اور وجہ اس کی سوائے اس کے کچھ نہیں سمجھی گئی کہ گورنمنٹ نے آزادی کامل ہرمذہب والے کو دی ہے"۔
    (ترجمانِ وہابیہ:101)

    فرقہ اہل حدیث کے شیخ الکل میاں نذیر حسین صاحب نے اس آزادی سے فائدہ اُٹھایا تو انگریز سے وفاداری کے عوض “سر“ کا خطاب پانے والے سرسیداحمد خان نے کل اسلاف سے ہی علمی بغاوت کردی اور نیچری فرقہ کے عنوان سے معتزلہ ایک نئی شکل میں سامنے آئے، مولانا محمدحسین بٹالوی اور مرزا غلام احمد قادیانی (ملعون) جومدتوں اہلِ حدیث مسلک پر اکٹھے کام کرتے رہے تھے، ان میں سے مرزا غلام احمد(ملعون) اسلام سے بغاوت کرگیا، اور قادیانی مذہب وجود میں آیا، میاں نذیر حسین صاحب کے شاگرد مولانا سلامت اللہ جیراجپوری فرقہ اہلِ حدیث کے نامور عالم تھے؛ مگر اُن سے ان کے بیٹے حافظ اسلم جیراجپوری ترکِ تقلید میں آگے بڑھ کرترکِ حدیث کی سرحد پر آگئے، ڈپٹی نذیراحمد صاحب کے شاگرد مولوی عبداللہ چکڑالوی جولاہور میں جماعت اہلِ حدیث کی پہلی مسجد (چینیاں والی) کے امام اور خطیب تھے، رفتہ رفتہ منکرینِ حدیث کے پیشوا بنے اور برطانوی ہندوستان میں قادیانی، نیچری، چکڑالوی سب اپنے اپنے محاذوں پرآکھڑے ہوئے، اس تلخ تجربے نے علمائے "اہلِ حدیث" کوپھر سوچنے پر مجبور کیا کہ ترکِ تقلید کا یہ انداز آخر کہاں تک چلتا رہے گا، کہیں یہ ساری جماعت کوہی اسلام سے لاباہر نہ کرے۔

    اکابر جماعت “فرقہ اہلِ حدیث“ کے بیانات

    مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے پرانے دوست مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی لکھتے ہیں:

    "پچیس برس کے تجربہ سے ہم کویہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جولوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق اور مطلق تقلید کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کوسلام کربیٹھتے ہیں"۔
    (اشاعۃ السنۃ، )


    پھرآپ یہ بھی لکھتے ہیں:

    "اگروہ اہلِ حدیث میں جو بے علم یاکم علم ہوکر ترکِ تقلید کے مدعی ہیں وہ اِن نتائج سے ڈریں، اس گروہ کے عوام آزاد اور خود مختار ہوئے جاتے ہیں"۔
    (اشاعۃ السنۃ، جلدنمبر:4،سنہ1888ء)

    مولانا سیدعلی میاں ندوی رحمہ اللہ کے والد مولانا سیدعبد الحیی مرحوم "نزہتہ الخواطر" کی آٹھویں جلد میں مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی کے ذکر میں لکھتے ہیں:

    "وشدد النکیر علی مقلدی الائمۃ الاربعۃ لاسیما الاحناف وتعصب فی ذلک تعصباً غیرمحمود فثارت بہ الفتن وازدادت المخالفۃ بین الاحناف واھل الحدیث ورجعت المناظرہ الی المکابرۃ والمجادلۃ والمقاتلۃ لماکبرت سنہ ورای ان ھذہ المنازعۃ کانت سبباً لوھن الاسلام ورجع المسلمون الیٰ غایۃ من النکبۃ والمذلۃ رجع الی ماھواصلح لھم فی ھذہ الحالۃ۔۔۔ واماماکان علیہ من المعتقد والعمل فھو علی ماقال فی بعض الرسائل ان معتقدہ معتقد السلف الصالح مماورد بہ الاخبار وجاءفی صحاج الاخبار ولایخرج مماعلیہ اھل السنۃ والجماعۃ ومذہبہ فی الفروع مذہب اہل الحدیث التمسکین بظواھر النصوص"۔
    (تقدمہ علی الاجوبۃ الفاضلۃ لاسئلۃ العشرۃ الکاملۃ للشیخ عبدالفتاح ابی غذ:8، مطبوع:بحلب)

    ترجمہ: “مولانا بٹالوی نے مقلدین ائمہ اربعہ خصوصاً احناف کے خلاف شدت اختیار کی اور اس میں ایسے تعصب سے چلے کہ اسے اچھا نہیں کہہ سکتا؛ پس اس سے بھڑک اُٹھے اور احناف اور فرقہ اہلِ حدیث کے مابین مخالفت زیادہ ہوگئی مناظرے، مکابرہ، مجادلہ؛ بلکہ مقاتلہ تک پہنچے؛ پھرجب آپ بڑی عمرکو پہنچے اور آپ نے دیکھا کہ مقلدین سے یہ کھچاؤ ضعف اسلام کا سبب ہوگیا ہے اور مسلمان رسوائی اور بدبختی کے گڑھے میں جارہے ہیں، آپ پھر اس طرف لوٹے جومسلمانوں کے لیئے اس حالت میں بہتر تھاــــــ ہاں جہاں تک آپ کے اعتقاد اور عمل کا تعلق ہے وہ اس پر تھے جیسا کہ آپ نے اپنے بعض رسالوں میں کہا ہے کہ ان کا اعتقاد سلف صالحین کا سا ہے جو اخبار اور صحیح احادیث میں آیا ہے اور وہ اس حد سے نہیں نکلیں گے جواہلِ السنۃ والجماعت کی راہ ہے، رہیں فروعات تواس میں وہ ان اہلِ حدیث کے طریقے پر رہیں گے جونصوص کے ظواہر سے تمسک کرتے ہیں۔“

    مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی کی فکری کروٹ پرپوری جماعت اہلِ حدیث کی روش بدل جانی چاہیے تھی؛ لیکن افسوس کہ وہ لفظ حنفی اور شافعی۔حنبلی وغیرہ سے اسی طرح سیخ پارہے کہ کسی درجہ میں وہ فقہ کے قریب آنے کے لیئے تیار نہ ہوئے، یہ شیخ الکل میاں نذیر حسین صاحب دہلوی اور مولانا محمدحسین بٹالوی کے مسلک کے خلاف فرقہ وارانہ منافرت کی ایک لہر تھی جو جماعت کے بیشتر علماء کولے ڈوبی، بہت کم تھے جومعتدل مزاج رہے اور اہلِ السنۃ والجماعت کے دائرہ کے اندر رہے، غالباً سنہ1326ھ کا واقعہ ہے کہ جماعت اہلِ حدیث کے اعیان وارکان لا ہور میں جمع ہوئے اور انجمن اہلِ حدیث کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس کے صدر مولانا محمدحسین بٹالوی قرار پائے، مولانا بٹالوی مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کاحال دیکھ کر ضرور سمجھتے تھے کہ غیرمقلدین فقہ اور مقلدین سے جونفرت بڑھا رہے ہیں، اس سے اندیشہ ہے کہ کسی نہ کسی وقت یہ لوگ (غیرمقلدین) پورے اسلام سے ہی منحرف نہ ہوجائیں، انہوں نے اہلِ حدیث کے ساتھ اپنے کوحنفی کہنے کی بھی راہ نکالی،
    مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی لکھتے ہیں:
    "لاہور میں ایک مجلس اہلحدیث کے نام سے نامزد ہوکر قائم ہوئی ہے (یہ مجلس نامزد ہوکر قائم ہوئی تھی حکومت برطانیہ نے یہ نام اہلِ حدیث انہیں الاٹ کیا تھا ) صدر ہونے کی عزت اس ناچیز کوبخشی گئی ہے، اس میں یہ امربحث میں آیا تھا کہ اہلِ حدیث (جس کی طرف یہ انجمن منسوب ہوئی ہے) کی کیا تعریف ہے اور اہلِ حدیث سے کون شخص موسوم ہوسکتا ہے (جواس انجمن کے ارکان اور مجلس منتظمہ میں داخل ہونے کا استحقاق رکھتا ہو) اس کا تصفیہ رسالہ اشاعۃ السنۃ، جلد:20 کے صفحہ نمبر159 (جواہلِ حدیث کی قوم کا اور گورنمنٹ میں مہتمم ایڈوکیٹ Representative ریپریزنٹیٹیو ہے) کے اس بیان سے ہوگیا کہ اہلِ حدیث وہ ہے جواپنا دستور العمل والاستدلال احادیث صحیحہ اور آثار سلفیہ کوبنادے (احادیث کے ساتھ آثار سلفیہ کوماننے کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام کے ارشادات کوبھی اپنے لیےسند سمجھے) اور جب اس کے نزدیک ثابت ومحقق ہوجائے کہ ان کے مقابلہ میں کوئی معارض مساوی یااس سے قوی پایا نہیں جاتا تووہ ان احادیث وآثار پرعمل کرنے کومستعد ہوجاوے اور اس عمل سے اس کوکسی امام یامجتہدکا قول بلادلیل مانع نہ ہو"۔


    (غیرمقلدین علماء لفظ بلادلیل کوہمیشہ قول کی صفت بتاتے ہیں، یعنی وہ بات جس پر شریعت میں کوئی دلیل نہ ہو ظاہر ہے کہ اس کا ماننا کسی کے ہاں معتبر نہیں، مقلدین اسے قول کی صفت نہیں ماننے کی صفت بتلاتے ہیں کہ کسی مجتہد کی بات کواس سے دلیل طلب کیئے بغیر اس کے اعتماد پر مان لینا کہ قرآن وحدیث کے مطابق ہی بتلارہا ہوگا)۔

    اس تعریف کی رُو سے بے تعصب ومنصف مزاج مقلدین مذاہب اربعہ حنفیہ وغیرہ جوعمل بالحدیث کوجائزرکھتے اور سعادت سمجھتے، تقلید مذہب ان کواس عمل بالحدیث سے مانع نہ ہوتی، داخل ہوسکتے ہیں، نظر برآں اس انجمن کے صدر خاکسار کی یہ رائے قرار پائی کہ اس انجمن کے نام میں ایسی تعمیم وتوسیع ہوجانی چاہیے کہ اس کا نام سنتے ہی وہ مقلدین جوعمل بالحدیث کوسعادت سمجھتے ہیں داخل سمجھے جائیں بناءً علیہ اس کے تجویز یہ ہوئی کہ لفظ انجمن اہلِ حدیث کے ساتھ بریکٹ میں حنفیہ وغیرہ بڑھادیا جائے۔
    (ماہنامہ الہدی، بابت ماہ ذیقعدہ، سنہ1327ھ، باہتمام مولوی کریم بخش، مہتمم ومالک اسلامیہ اسٹیم پریس، لاہور)

    پھرمولانا محمدحسین صاحب بٹالوی کی اپنی رائے ملاحظہ کیجئے:

    "صدرانجمن خاکسار چونکہ باوجود اہلِ حدیث ہونے کے حنفی بھی کہلانا جائز رکھتا تھا؛ لہٰذا اس امر کا اظہار اپنے ماہوار رسالہ اشاعۃ السنۃ اور "سراج الاخبار" کے ذریعہ کردیا، یہ امر ہمارے رُوحانی فرزند (مولانا ثناء اللہ امرتسری جوان دنوں پرچہ اہلِ حدیث کے ایڈیٹر تھے) نوجوانوں کوجوصرف اہلِ حدیث کہلاتے ہیں اور وہ حنفی وغیرہ کہلانا پسند نہیں کرتے ناگوار گزرا اور انہوں نے خاکسار کے اس اظہار کے خلاف اپنے اخبار اہلِ حدیث میں یہ نوٹ شائع کرادیا....الخ"۔
    مولانا ثناء اللہ صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا تھا
    کسی کا ہورہے کوئی۔۔۔ نبی کے ہورہیں گے ہم

    مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی نے اس کے جواب میں لکھا
    نبی کے ہیں سبھی حنفی۔۔۔ نہ مرزائی نہ چکڑالی
    نہ معتزلی جوجاحظ کی کرتے ہیں شاگردی

    لفظ اہلِ حدیث ماضی میں ایک علمی شان رکھتا تھا، فرقہ اہلِ حدیث میں جب جاہل بھی اہلِ حدیث کہلانے لگے توپوری کی پوری جماعت نت نئے نئے اُٹھنے والے فتنوں کا دروازہ بن گئی، مرزا غلام احمد ملعون کے پہلے جانشین حکیم نورالدین ملعون بھی پہلے اہلِ حدیث بنے تھے (تاریخ احمدیت، جلد چہارم، صفحہ:،70،

    حرمین سے واپسی پر نورالدین نے وہابیت اختیار کی اور ترکِ تقلید پروعظ کیئے اور عدم جوازِ تقلید پرکتابیں تصنیف کیں، بھیرہ میں ہیجانِ عظیم پیدا ہوگیاـــــ چودھری ظفراللہ خان قادیانی بھی اپنے دادا چودھری سکندرخان کے بارے میں لکھتے ہیں: "جہاں تک مجھے معلوم ہوسکا ہے وہ اہلِ حدیث فرقے سے تعلق رکھتے تھے" تحدیثِ نعمت:3) پھرمرزائی بنے۔


    قاضی عبدالواحد صاحب خانپوری کی رائے


    ان خیالات سے متاثر ہوکر جماعت فرقہ اہلِ حدیث کے مقتدر عالم قاضی عبدالواحد صاحب خانپوری نے اپنی جماعت کوجھنجھوڑا اور کہا:

    "اس زمانہ کے جھوٹے اہلِ حدیث مبتدعین، مخالفین، سلفِ صالحین جوحقیقت ماجاء بہ الرسول سے جاہل ہیں وہ اس صفت میں وارث اور خلیفہ ہوئے شیعہ وروافض کےـــــ جس طرح شیعہ پہلے زمانوں میں باب ودہلیز کفرونفاق کے تھے اور مدخل ملاحدہ اور زنادقہ کا تھے؛ اسی طرح یہ جاہل، بدعتی اہلِ حدیث اس زمانہ میں باب اور دہلیز اور مدخل ہیں ملاحدہ اور زنادقہ منافقین کے بعینہ مثل اہل التشیع کے
    (کتاب التوحید والسنۃ فی رد اہل الالحاد والبدعۃ:262)

    اس عبارت سے واضح ہے کہ اَن پڑھ جاہلوں کا اہلِ حدیث کہلانا کس طرح آیندہ دینی فتنوں کی اساس بنتا رہا ہے اور یہ بھی عیاں ہے کہ اس جماعت غیرمقلدین کے اعتدال پسند علماء کتنی دردمندی سے ترکِ تقلید کے کڑوے پھل چکھتے رہے ہیں اور ان کا ذائقہ بھی ساتھ ساتھ بتاتے رہے ہیں، مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی نے اچھا کیا جواپنے آپ کواہلِ حدیث حنفی کہنے لگے، یہ کسی نہ کسی دائرہ میں فقہ کی طرف لوٹنے کا ایک قدم تھا، اس پر دیگرعلماء فرقہ ہذا بہت سیخ پا ہوئے؛ تاہم مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے انجام کا یہ ایک طبعی اثر تھا، جواس کے پرانے دوست مولانا محمدحسین صاحب پر اس تبدیلی کی شکل میں ظاہر ہوا۔

    مشہور غیرمقلد عالم مولانا عبدالحق سیالکوٹی لکھتے ہیں:

    "اربابِ فہم وذکاء اصحاب صدق وصفا کی خدمت میں عرض ہے کہ کچھ عرصہ سے جناب مولوی ابوسعید محمدحسین بٹالوی نے اپنے آپ کواہلِ حدیث حنفی لکھا ہے، آپ کے اس لقب پرمولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ایڈیٹر اخبار اہلِ حدیث نے ایک نوٹ لکھا ہے"۔
    (الانصاف رفع الاختلاف:۱، مصنفہ مولانا عبدالحق، مطبوعہ سنہ 1910ع رفاہِ عام اسٹیم پریس، لاہور)

    اس سے واضح ہے کہ مولانا محمدحسین بٹالوی میں یہ تبدیلی بعد میں آئی، اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کی دینی تباہی آنکھوں سے دیکھی تھی۔

    مشہور غیر مقلد عالم مولانا وحیدالزماں کی رائے


    غیرمقلدین کا گروہ جواپنے تئیں اہلِ حدیث کہلاتے ہیں، اُنھوں نے ایسی آزادی اختیار کی ہے کہ مسائل اجماعی کی پرواہ نہیں کرتے نہ سلفِ صالحین اور صحابہؓ اور تابعین کی۔۔۔قرآن کی تفسیر صرف لغت سے۔۔۔ اپنی من مانی کرلیتے ہیں، حدیث شریف میں جوتفسیر آچکی ہے اس کوبھی نہیں مانتے۔
    (وحیداللغات مادہشعب، حیات وحیدالزماں102)

    مولانا عبدالعزیز سیکرٹری جمعیت مرکزیہ اہلِ حدیث ہند


    اہلِ حدیث جواپنے ایمانیات وعقائد کی پختگی میں ضرب المثل تھےــــــ معتزلہ اور متکلمین کی شریعت کودوبارہ زندہ کرنے والے حضرات ہم میں پیدا ہوگئے او راُن کی حوصلہ افزائی کی گئی نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج جمعیت اہلِ حدیث ایک جسم بلاروح رہ گئی؛ بلکہ جسم کہتے ہوئے بھی قلم رُکتا ہے، آج ہم میں تفرق وتشتت کی یہ حالت ہے کہ شاید ہی کسی جماعت میں اس قدر اختلاف وافتراق ہو۔
    (فیصلہ مکہ2،3)

    ترکِ تقلید کا یہ نتیجہ ان حضرات کے اپنے قلم سے آپ کے سامنے ہے، کاش کہ یہ حضرات مولانا محمدحسین بٹالوی کی بات مان لیتے، مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اس وقت تواپنے استاد مولانا بٹالوی کی مخالفت کی؛ لیکن ترکِ فقہ کے نتیجہ میں جب ترکِ حدیث کی اُٹھتی ہوئی لہردیکھی تواُن کے ذہن نے بھی پھرپلٹا کھایا، مرزا غلام احمد کے ترکِ تقلید نے مولانا محمدحسین بٹالوی میں فکری تبدیلی پیدا کی تومولوی عبداللہ چکڑالوی کی تحریک ترکِ حدیث نے مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کوسوچنے پرمجبور کیا کہ ترکِ حدیث کی ان لہروں کا پسِ منظرکیا ہے؟

    مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری، مولوی عبداللہ چکڑالوی امام مسجد چینیاں والی لاہور کے بارے میں رقمطراز ہیں:
    "جب انہوں نے دیکھا کہ اب لوگ فقہ کی بندش سے تقریباً آزاد ہوگئے ہیں توانہوں نے احادیث پرنکتہ چینی شروع کردی اور جب کچھ دنوں میں یہ مرحلہ بھی طے ہوجائے گا تووہ جمع وتدوینِ قرآن میں رخنے نکالنا شروع کردیں گے اور جب تک لوگوں کواس عیاری کا پتہ نہ چلے گا وہ عوام اور نئے تعلیم یافتہ طبقے کےدل ودماغ کواتنا مسموم کرچکے ہوں گے کہ ان کا تدارک کسی سے نہ ہوسکے گا"۔
    (فتاویٰ ثنائیہ:1جلد280)

    آزادی رائے کا غلط استعمال


    میاں نذیر حسین صاحب سے لے کر مولانا محمدحسین بٹالوی تک ہندوستان میں مطلق تقلید کا انکار کہیں نہ تھا، غیرمقلدین بھی صرف تقلید شخصی کے خلاف تھے اور جملہ موحدینِ ہند اجتہادی مسائل میں فقہ حنفی کا فیصلہ لیتے تھے، مولانا ثناء اللہ امرتسری کے عہد سے غیرمقلدین مطلق تقلید کے انکار کے درپے ہوئے؛ پھرانہی کے عہد میں ترکِ تقلید کی فضا اپنی پوری بہار پر آئی، غیرمقلدین نہ صرف مقلدین سے برسرِپیکار ہوئے؛ بلکہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہوگئے۔

    قاضی عبدالاحد صاحب خانپوری نے مولانا ثناء اللہ کے خلاف ایک کتاب لکھی اور اس کا نام "کتاب التوحید والسنۃ فی رد اہل الالحاد والبدعہ" رکھا اور اسے "اظہارِ کفر ثناء اللہ بجمیع اصول آمنت اللہ" (دیکھئے: سیرت ثنائی372۔ ہندوستان میں پہلی اسلامی تحریک:39، مولفہ:مسعود عالم ندوی) سے ملقب کیا کہ مولوی ثناء اللہ ایمان کی تمام بنیادوں کا منکر ہے۔


    غزنوی حضرات نے مولانا ثناء اللہ کے خلاف اربعین لکھی اور اس پر چالیس کے قریب علماء فرقہ اہلِ حدیث (باصطلاحِ جدید) نے دستخط کیئے اور مولانا ثناء اللہ امرتسری کواہلِ حدیث سے خارج قرار دیا، مولانا ثناء اللہ صاحب نے "مظالم روپڑی برمظلوم امرتسری" لکھ کر جماعت کی اندرونی حالت پوری طرح بے نقاب کی۔
    (مظالم روپڑی47، تالیف:مولانا ثناء اللہ امرتسری)

    مولانا عبدالوہاب ملتانی کے خلاف بانوے علماء اہلِ حدیث نے دستخط کیئے اورکہا کہ مدعی امامت (مولانا عبدالوہاب ملتانی) گمراہ ہے، اہلِ حدیث سے خارج ہے اور حدیث "مَنْ لَمْ یَعْرِفْ امام زَمَانِہ" کونہیں سمجھا۔

    پھرمولانا عبدالوہاب کے شاگرد خصوصی مولانا محمدجوناگڑھی نے مولانا عبداللہ روپڑی کے بارے میں لکھا ہے:

    "یہ مولوی صاحب جھوٹے ہیں بدعقیدہ ہیں اسے علمِ دین سے بلکہ خود دین سے بھی مس نہیںـــــ اس کا وعظ ہرگز نہ سنو؛ بلکہ اگربس ہوتو وعظ کہنے بھی نہ دو، نہ اس کے پیچھے جمعہ جماعت پڑھو"
    ۔
    مولوی محمدیونس مدرسِ اوّل مدرسہ میاں نذیر حسین صاحب دہلوی نے حافظ عبداللہ صاحب روپڑی کے بارے میں فرمایا:

    "شحص مذکور ملحد ہےـــــ ایسے لوگوں سے قطع تعلق ضروری ہے"۔

    ان حضرات کی یہ نبردآزمائی صرف اپنے علماء تک محدود نہ تھی، مولانا عبدالوہاب صاحب نے عوام فرقہ اہلِ حدیث کوبھی اپنے اس فتوےٰ میں گھسیٹ لیا، مولانا عبدالجبار صاحب کھنڈیلوی، مولانا عبدالوہاب سے نقل کرتے ہیں:

    "جب تک مسلمان امام کونہیں مانتا اس کااسلام ہی معتبر نہیں"
    (مقاصد الامامۃ:16)

    "کوئی کام نکاح ہو یاطلاق بغیر اجازتِ امامِ وقت جائز نہیں
    (مقاصد الامامۃ:16)

    ان حضرات کے اخبار محمدی کی ایک سُرخی ملاحظہ ہو

    "روپڑ کا خوفناک بھیڑیا"۔
    (اخبار محمدی، دہلی، یکم جون سنہ1939ء)

    ان کتابوں اور عنوانوں سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ترکِ تقلید کے جوش میں یہ لوگ اپنے گھر میں کیسی خوفناک آگ سے دوچار تھے، مولانا ثناء اللہ امرتسری کی خدمات اہلِ حدیث پران کے ہمنوا علماء انہیں سردارِ اہلِ حدیث کہتے تھے، مولانا عبداللہ روپڑی کوان کی یہ حیثیت پسند نہ تھی، آپ نے مولانا ثناء اللہ صاحب کومخاطب کرکے فرمایا:

    "ٹھیلے تلے کتا چل رہا تھا وہ سمجھا کہ ٹھیلے کومیں کھینچ رہا ہوں تمہاری مثال یہ ہے"۔
    (ثنائی نزاع، تالیف:عبداللہ روپڑی صاحب)


    غیرمقلدین کی اس سرد جنگ سے یہ بات بآسانی سمجھی جاسکتی ہے کہ ترکِ تقلید کی تحریک اس وقت کس مرحلہ میں داخل ہوچکی تھی۔

    اِن بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ ائمہ دین اور سلفِ صالحین سے بے نیازی کی روش جماعتِ اہلِ حدیث میں کہاں تک آزادی پیدا کرچکی تھی؛ تاہم یہ غنیمت ہے کہ جماعت کے بعض حضرات کواس کا شدت سے احساس ہوا اور جولوگ ترکِ تقلید میں حد سے بڑھتے جارہے تھے وہ اپنی اپنی جگہ خود ہی جماعت سے نکل گئے اور اہلِ حدیث (بہ اصطلاح جدید) اپنی موجودہ شکل میں کچھ نہ کچھ سنبھل گئے اور اُنہوں نے صحابہ کرام سے تمسک کرنے کواپنے اصولوں میں داخل کرلیا۔​


    استفادہ “انوار اسلام“
  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,318
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
  3. نعیم

    نعیم وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    79
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جگہ:
    Afghanistan
    شکریہ سہج جی
    بڑاجاندارمعلومات سے بھر پورمراسلہ ہے۔
    مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی میری
  4. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    354
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
  5. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,081
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    بھیا آپ نے لکھا تو لکھنے کا حق ادا کر دیا ۔

    بہت ہی خوب


    اللہ آپ کو اور لکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

اس صفحے کو مشتہر کریں