تعصب

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏دسمبر 18, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    تعصب
    جناب مفتی محمد شاہد بجنور

    اس موضوع پر لکھتے ہوئے قلب ودماغ مجتمع نہیں اورقلم بھی کچھ لرزش محسوس کررہا ہے ،ذہن ماؤف تو انگلیاں بھی ساتھ چھوڑنے کی کوشش کررہی ہیں ،لیکن جب قرآن حکیم ، حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ عمل اور جہد پیہم ،اسلاف وکابر صالحین وخدا ترس حضرات کا شیوہ تصور بدیہی کی طرح دیکھتے ہیں تو قلب مضطر کو بے کلی سے اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔لیکن آپ سوال کرسکتے ہیں کہ طفل مکتب کیوں آپ گھبرارہے ہیں اور کیا آپ کو ضرورت محسوس ہوئی کہ اس عموم بلوی حاصل کرچکے ،تعصب پر آپ لکھ رہے ہیں تو بندہ بے بضاعت یہی جواب دے گا کہ قلم کی لرزش ،قلب ودماغ کی گھبراہٹ بے معنی نہیں ، نا معلوم کتنے حضرات کی دستار اچھلتی نظر آئے گی ،تقویٰ ووررع کا بھرم راز سربستہ ٹوٹتا پھوٹتانظر آئے گا ۔نہ جانے کتنی مقدس ہستیاں اس حمام میں عریاں نظر آئیں گی کتنے مقبول ،محبوب ومعروف لیڈران کی فلک بوس سیاست زمین بوس ہوتی نظرآئے گی،کتنے صاحب تصنیف وتالیف حضرات کی شخصیت مجروح ہوتی نظر آئے گی ،کتنے جمہوریت کے علم بردر ومساوات کے داعی جھوٹے نظر آئیں گے ۔
    غرض قلم قاتل تو اہل تقدس مقتول ہوجائیں گے اور یہ ہر ایک پر واضح رہے کہ ان کی نظر میں بیچارہ قلم اور صاحب مضمون ہدف ملامت بن جائے گا لیکن تخف فی للہ لومۃ لائم پر عمل پیراہ ونے کی اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے اور ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ اسی تعصب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بیروز گار تو ہزاروں حضرات جن عہدوں کے لائق ہیں ان سے وہ محروم ہیں ۔
    برا اس تعصب کا ، نہ جانے کتنے لائق عہدوں پر نا اہل براجمان ہیں اور لائق حضرات خاک چھانتے پھررہے ہیں ،قرآن واحادیث میں اس تعصب کی بہت برائی بیان کی گئی ہے ۔تعصب کے لغوی واصطلاحی معنی یہ ہیں ’’ تعصب ‘‘پٹی باندھنا ،تعصب سے کام لینا ’’تعصب علیہ ‘‘ مقابلہ کرنا اور عصبیت دکھلانا ’’العصبۃ ‘‘دھڑے بندی ’’العصبی ‘‘تعصب کی وجہ سے ظلم میں قوم کی مدد کرنے والا۔
    ’’التعصب ‘‘دلیل ظاہر ہونے کے بعد بھی حق قبول نہ کرنا (المنجد ۶۵۶)حق بات کی دلیل ظاہر ہوتے وقت حق قبول نہ کرنا (قواعد الفقہ ۲۳۱کذا فی رد المحتار)
    اس منحوس تعصب کی وجہ سے خشکی وتری میں ہفت اقلیم میں عرب وعجم میں ایک فسادعظیم برپا ہے کتنے انصاف کے طالب نام نہاد عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے لقم�ۂ اجل ہوگئے ،لیکن ان کو اصاف نہ مل سکا،آزادی کی انتظار میں انسانیت سسک رہی ہے ان کو آزادی نصیب نہیں ہوئی اس تعصب کی چنگل میں انسانیت ایسی پھنسی ہوئی ہے کہ سسک سسک کر دم توڑرہی ہے لیکن انسانوں کو انسانیت نصیب نہیں ہوئی ، اسلم ایک ایسا منفرد ویکتا مذہب حق ہے جس نے تعصب کی مضبوط دیواروں کو ہلادیا اور منظم نظام حیات انسانیت کو بخشا اور انسانیت کی بقا اسلام ہی کی مرہون ہے جس نے انسانیت کو حیوانیت ودرندگی ،ظلم واستبداد ،تعصب وعصبیت سے باہر نکال کر جینے کا حق دیا اور صالح معاشرہ فراہم کیا اور حق وباطل ہدایت اور گمراہی کے درمیان ایک خلیج قائم کی ، رب ذو الجلال نے بڑے عمدہ پیرائے میں ایک جامع سبق انسان کو دیا ہے اور فرمایا ۔
    آیاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّاخَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآءِلَ لِتَعَارَفُوْا ط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰئکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْم’‘ خَبِیْر’‘ ۔
    ترجمہ : اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عور ت(آدم وحوا )سے بنایا اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا(محض اس لئے کیا )تاکہ تم ایک دوسرے کوپہچان سکو اللہ تعالٰ کے نزدیک تم میں سب سے بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ،بلا شبہ اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے ۔
    اس آیت کریمہ میں جن چیزوں ککا ذکر ہے ان سے تمام طرح کی عصبیت کی بیخ کنی ہوجاتی ہے ، تعصب کی کئی شاخیں ہیں ، حسبی ونسبی تعصب ،قبیلہ پرستی وذات برادری کی عصبیت ،لسانی ووطنی عصبیت ملکی وقومی عصبیت ، علاقائی عصبیت علاقائی قومی عصبیت ،مالداری وکثرت اولاد کی وجہ سے تفاخر وتعاظم اور غیروں کو حقیر وذلیل سمجھنے کا جذبہ ان تمام تر خرابیوں اور بیماریوں میں سب سے قبیح حسبی ونسبی تعصب ہے اس کے بعد قبیلہ پرستی وذات برادری کا تعصب ہے ،حسب ونسب کا تعصب تو اتنا شدید تھا کہ جو لوگ اپنے کو بزعم خود اونچا سمجھتے تھے اور جو برادریاں اپنے کو بہت اونچا وبے نظیر سمجھتی تھیں ان کی نظر میں ان کاغیر انسانیت کے مراتب حاصل کرنے کا حق دار نہیں ہوتا تھا لیکن یہ برادریا ں ہندوستان میں برہمنوں اور آریوں وآچاریوں کی ہوتی تھیں جن کی عبادت گاہوں میں دوسرے کو داخلہ کی اجازت نہ تھی جب کہ علی الصباح نیچ برادری کے کسی فرد کا گزر اس کے سامنے سے ہوجاتا تھا تو اس کو بد شگونی خیال کرتے تھے اور اس بیچارہ کو غلیظ گالیوں سے نوازا جاتاتھا وہ بیچارہ خاموشی سے گزر جاتا تھا ، افسوس یہ بیماریاں مسلمانوں میں بھی داخل ہوئیں کیونکہ یہ مسلمان بھی تو آباء واجداد کے اعتبار سے ہندی ہیں آبائی واجدادی اثر ختم نہ ہوسکا اور ان مسلمانوں کا ذہنی فاسد مادہ بھی یہی رہا کہ وہ خاندان وبرادری کے لوگ جو اونچے حسب ونسب واونچی برادری کے سمجھے جاتے تھے دوسری برادری کے لوگوں کو ان کے پائتی بیٹھنے کا بھی حق نہ ہوتا تھا یہ ذہنی تباہ کن بیماری یہی نہیں رکی بلکہ ان برادریوں سے جو علماء پیدا ہوئے ان کے اندر بھی یہ بیماری بوجوہ تمام مرجود تھی بلکہ تعصب وعصبیت کے یہ حضرات سرغنہ بنے ہوئے ہیں ۔
    افسوس تو یہ ہے کہ اس تعصب نے اامت جیسے اہم منصب کو بھی نہیں بخشا چنانچہ آج بھی کتنے شہروں میں محض زبانی وطنی وعلاقائی عصبیت کی بناء پر امام کاانتخاب ہوتا ہے خواہ وہ لیاقت وصلاحیت کے اعتبار سے کچھ بھی ہو اور دوسرا عالم خواہ جید استعداد رکھتا ہو ،خطابت وموعظت میں مہارت رکھتا ہو ،تقویٰ وپرہیزگاری میں ممتاز ہو اس کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ،اسی طرح کی ایک مثال ملا علی قاری ؒ نے بیان کی ہے کہ مثلاً کوئی عالم غریب وتنگ دست ہو او ر یونہی کوئی شیخ طریقت لوگوں کی نظروں میں حقیر ہو تو کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا (ان کا کلام سننے کے تیار نہیں ہوتا )ان کے بر خلاف کوئی عالم یا کوئی شیخ مشہور ہو اور جاہ ومنزلت کے اعتبار سے لوگوں میں اس کا تعارف ہوتو اس کی بات قبول کی جاتی ہے اس کے فعل کی اتباع کی جاتی ہے اگر چہ دوسرا اول الذکر سے علم میں کمتر عمل وتقویٰ کے اعتبار سے کمزور ہو اور اللہ تعالیٰ ہی اپنے دین کا محافظ اور نبی کا مدد گار ہے ۔(مرقاۃ المفاتیح ۹/۴۲۳ باب فضل الفقر أو ما کان من عیش النبی ؐ)ملا علی قاری ؒ نے یہ شکوہ پج سے تقریباً چارسو پچیس سال قبل کیا ہے اور آج یہ مناظر ہماری بد قسمتی سے خوب پھل پھول رہے ہیں۔
    مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ان تمام تعصبات حاندانی تفوق ، حسبی ونسبی تعلی ذات برادری کی اونچ نیچ قومی وعلاقائی عصبیت کو نہایت جاہلیت قراردیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آیت کریمہ کا شان نزول دیکھیں تو اس کی بنیادبھی یہی ہے ، شان نزول کے بارے میں تین قول ہیں ۔
    ۱:۔ امام زہری ؒ فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو بیاضہ قبیلہ والوں سے کہا کہ تم اپنے قبیلہ کی کسی لڑکی سے ابو ہندرضی اللہ عنہ صحابی کا نکاح کردو انہوں نے جواب دیاکہ ہم اپنی لڑکیوں کا نکاح اپنے غلاموں سے کردیں ، یعنی غلاموں سے نکاح کرنے کو انہوں نے اپنے لئے عار سمجھا اس واقعہ کی وجہ سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ زہریؓ فرماتے ہیں خاص طورسے یہ آیت ابو ہندؒ کے بارے میں نازل ہوئی (ابوہند ؒ پیشہ کے اعتبار سے حجام تھے) ۔(مراسیل ابو داؤ د /۱۲الجامع الاحکام للقرطبی ۸/۶۰۴،الصادی ۴/۱۴۶)
    ۲:۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ قول ابن عباسؓ کا ہے ابن عباس فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس کچھ اونچا سنتے تھے ،صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سبقت کرنے کے باوجود ان کے لئے جگہ دے دیا کرتے تھے تو یہ ثابت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کے قریب بیٹھ جاتے تھے تاکہ فرامین نبوی کو سن سکیں ایک دن یہ آئے تو ایک رکعت فجر کی ان سے فوت ہوگئی ، نماز سے فارغ ہوکر تمام صحابہ کرامؓ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اپنی اپنی نشست پکڑلی اور صحابہ کرامؓ حضور ﷺ کی مجلس میں اس طرح بیٹھا کرتے تھے کہ درمیان میں کسی کے بیٹھنے کی گنجائش نہ رہتی تھی ،ثابتؓ بن قیس نماز سے فارغ ہوکر حضور کی طرف آئے لوگوں کی گردن پھلانگتے ہوئے اور جگہ دو جگہ دو کہتے ہوئے ،صحابہ کرامؓ نے ان کے لئے گنجائش دی اور یہ حضور ؐ کے قریب پہنچ گئے ،مگر ان کے اور حضور ؐ کے درمیان ایک اور صحابی تھے ، ان آگے کے صحابی سے ثابتؓ نے کہا کہ جگہ دو آگے والے صحابیؓ نے جواب دیا :میں اپنی جگہ بیٹھا ہوں تم اپنی جگہ بیٹھو ،ثابتؓ بن قیس غصہ کی حالت میں ان کے پیچھے بیٹھے اور کسی سے پوچھا یہ کون ہے ؟جواب ملا کہ فلاں ہے ، ثاقبؓ نے ان آگے والے صحابی کو یا بن فلانہ کہا،جس سے زمان�ۂ جاہلیت کی کوئی عار دلانی مقصود تھی وہ آگے والے صحابی بہت شرمندہ ہوئے ۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا بن فلانہ کہنے والا کون ہے ؟ ثابتؓ نے عرض کیا میں یا رسول اللہ ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان سب کے چہروں کو دیکھو ،ثابت ؒ نے موجود تمام صحابہ کرام کے چہروں کو دیکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ثابت ! کیا دیکھا ؟ عرض کیا !کوئی سفید ہے، کوئی سرخ ہے، کوئی سیاہ ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دیکھو تم ان سے نہیں بڑھ سکتے مگر تقویٰ کی وجہ سے یعنی تمہارا تقویٰ وپرہیزگاری ان سے بڑھ کر ہے تو تمہارامقام عند اللہ اونچا ہوگا ، یہ دنیوی اونچ نیچ کی وقعت عند اللہ نہیں ہے ۔
    (الجامع الاحکام للقرطبی ۸/۵۹۲،الصادی ۴/۱۴۶)
    ۳:۔ ایک قول یہ ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ کو اذان پڑھنے کا حکم دیا ، حضرت بلالؓ نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی تو کفار مکہ سے عتاب بن اسید بن ابن ابی العاص نے کہا : اللہ کا شکر ہے جس نے میرے والد کو یہ برادن دیکھنے سے قبل ہی اٹھالیا ،حارث بن ہشام نے کہا : اس کالے کوے کے سوا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کوکوئی موذن ہی نہ ملا ،سہیل بن عمر و ے کہا : اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس کو بدل دیں ، ابو سفیان جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا انہوں نے کہا : میں کچھ نہیں کہتا ،مجھے خوف ہے کہ اس کی خبرآسمان کا رب محمد کو دیدے ۔
    حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور کفار مکہ کی یہ شرارت انگیز خبر حضور ﷺکو دی ،آپ نے ان کو بلایا اور ان سے پوچھا کیا یہ باتیں تم سب نے کہی ہیں ؟ ان سب نے اقرار کیا ۔(تفسیرقرطبی ۸/۶۰۵،الصادی ۴/۱۴۶)
    آیت کریمہ کے شان نزول میں تینوں اقوال میں کسی ایک کو متعین کرنا تو مشکل ہے البتہ اکابرنے حضرت بلالؓ کے واقعہ کو ترجیح دی ہے ، شان نزول خواہ کوئی بھی ہو تینوں صورتوں میں مشترکہ طورسے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل مکہ میں تعصب کی بنیادیں کتنی مضبوط تھیں ، محض رنگی وطنی علاقائی امتیاز کو بنیاد بناکر کتنا سخت برا بھلا کہا گیا ، چنانچہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی ؒ فرماتے ہیں کہ کہ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو حسب ونسب کی حقارت کے جذبہ کی بناء پر زجر وتوبیخ کی کہ عظمت وفضیلت ،تفوق وتعلی بلندی وسرفرازی کا مدار تقویٰ پر ہے، چنانچہ آیت کریمہ کے اندر اعلان کردیا ،آج کے بعد کوئی یہ بات نہ کہے سب کی تخلیق آدم وحوا سے ہوئی اور تمہارے درمیان قومیت وقبیلہ محض ایک دوسرے کی پہچان کے لئے ہیں جیسے بہت سے لوگوں کا نام زاہد ہے تو کیسے معلوم ہو سائل کو کون سا زاہد مطلوب ہے ، اس کی معرفت خاندان وبرادری وقبیلہ سے ہوگی کہ فلاں برادری وقبیلہ کا فلاں کا بینا مطلوب ہے ۔
    تعصب وتفاخر بد بختی ہے
    حضرت امام ابو عیسیٰ ترمذی ؒ نے ابن عمرؓ کی حدیث روایت کی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا ،فرمایا : اے لوگو ! پدمی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ آدمی جو عند اللہ کریم وشریف ہے او ردوسرا وہ آدمی وہ جو فاجر وبد بخت ہو عند اللہ ذلیل وبے وزن اور تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے پدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ یہی آیت شریفہ یَااَیُّھَا النَّاسُ الخ پوری تلاوت فرمائی (ترمذی ۲/۱۶۲، مسند امام احمد بن حنبل ۲/۵۲۴)
    ایک روایت میں واضح طورسے ان تمام تعصبات کی سخت انداز میں بیخ کنی کرتے ہوئے سیدنا محمدﷺ نے افضلیت کا مدار بزرگی وبرتری کا مناط محض تقویٰ وپرہیزگاری کو قرار دیا ۔
    ترجمہ ’’ابو نضرہ کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جو مقام منی میں ایام تشریق کے درمیان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبوں میں حاضر تھا در آنحالیکہ آپ اونٹ پر سوار تھے ،آپ نے فرمایااے لوگو! خبر دار تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدم )ایک ہے ، خبر دار کسی عربی آدمی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی کالے وسیاہ آدمی کو کسی سرخ پر اور نہ کسی سرخ کو کسی سیاہ آدمی پر کوئی فضیلت ہے ، ہاں تقویٰ فضیلت کا مدار ہے ، پھر آپ نے صحابہ کرام سے مخاطب ہوکر فرمایا : کیا میں نے پیغام الٰہی امت تک پہنچادیا ؟ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا : جی ہاں ! آپ نے پہنچادیا ،آپ ؐ نے فرمایا جو یہاں موجود ہے وہ اس تک پہنچادے جو موجود نہیں ہے ۔‘‘
    غور کیجئے ہاد�ئ امت نے اس مختصر پیغام کو تین مرتبہ کلمہ الا سے مربوط کیا جوتاکید وتنبیہ کے لئے آتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے سختی کے ساتھ بھید بھاؤ اونچ نیچ ہر طرح کی عصبیت کو ختم کردیا ، چنانچہ اسی طرح کی ایک روایت حضرت ابوذرؓ کی ہے ،آپ نے فرمایا : اے ابو ذر ! تم کسی سرخ وسیاہ سے بہتر نہیں ہو ،ہاں تقویٰ وپرہیزگاری کی وجہ سے تم ان سے بڑھ جاؤ گے ۔(رواہ احمد مشکوۃ ۴۴۳)
    ظاہری حسن وجمال بھی فضیلت وبرتری کامدار نہیں ہے
    تفسیر قرطبی میں بحوالہ طبری حضرت مالک اشعریؒ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہارے حسب ونسب کو نہیں دیکھتے اور نہ تمہارے جسموں ومالوں کو دیکھتے ہیں لیکن تمہارے دلوں (کے حال )کو دیکھتے ہیں پس جس کا دل صالح ونیک ہو ، اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوتے ہیں اور بلاشبہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تم میں وہ ہے جو بڑا متقی ہے ۔
    (قرطبی ۸/۶۵کذافی مسلم بلفظ غیرہ ۲/۳۰۷)
    دور جدید نے جہاں انسان کو بہت سی ترقیات سے لطف اندوزکیا وہیں سفلی عادتوں اورجبلی فطرتوں کو خوب برانگیختہ کیا ،چنانچہ مذہب اسلام نے معاشرہ کو محبت ومودت ،الفت وانسیت کے ذریعہ متحد کیا اور آج انسان بکھرا ہوا منتشر ایک دوسرے سے نالاں شکوں کناں دیکھا جارہا ہے اور بڑی بڑی خرابی تعصب وعصبیت قومیت وبرادری کے بھنور میں ایسا پھنسا ہوا ہے کہ اسے آقائے نامدام محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ملت محمدیہ سے خارج کردیا مگر مسلمان سمجھنے کے لئے تیار نہیں ۔
    تعصب کرنے والا امت محمدیہ سے خارج ہے
    جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ سولم نے فرمایا جو عصبیت کا داعی ہو اور عصبیت کی خاطر قتال وجنگ وجدل کررہا ہو اور جو تعصب کی خاطر قتال کرتا ہوا مرجائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی دعوت دی اور ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی خاطر قتل کیا اور ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی حالت میں مرگیا ‘‘۔(ابوداؤ د ،مشکوۃ ۴۱۸)
    یعنی جس وقت اس کا آخری وت تھا اس وقت بھی وہ قوم وبرادری کی ظالم ہونے کے باوجود مدد کررہا تھا اور ظلم وتعدی کو ظلم نہیں سمجھ رہا تھا ،قومیت وبرادری پر فخر کررہا تھا اسی حالت میں وہ مرگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے یہ وعید بیان فرمائی ہے ۔
    متعصب کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی
    اگر یوں کہاجائے کہ تعصب ناسور بھی بدتر ہے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگاکیونکہ ناسور جیسے امراض تو دنیوی زندگی کو تباہ وبرباد کرتے ہیں بلکہ ان امراض میں مبتلا انسانوں کو ایمان والوں کو اخروی ثواب سے نواز اجاے گا اور تعصب وعصبیت سے دنیا بھی برباد اورآخرت بھی دنیا میں بھی رسوائی اور آخرت میں بھی ۔ایک تو اس وجہ سے کہ لوگ ان کو ذلیل وحقیر سمجھتے ہیں دوسرے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ملت بیضا ء سے خارج کردیا ، تیسرے دنیوی رسوائی اس طرح سے کہ مذکورہ حدیث و دیگر احادیث کے پیش نظر فقہاء نے چار طرح کے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنے کو ناجائز لکھا ہے ۔حالانکہ یہ تمام مسلمان ہیں ۔
    ۱۔امام عدل کے خلاف اسلامی حکومت میں بغاوت کرنے والے ۔۲۔ڈاکو ۳۔تعصب کی وجہ سے آپس میں لڑنے والے دو گروپ اور اسی حالت میں قتل ہوجائیں ۔۴۔شہر میں ہتھیار وغیرہ کے ذریعہ کسی بے گناہ کے قتل کے درپے ہونے والا یامال غصب کرنے والا اور اسی حالت میں قتل ہوجائے ۔ان بد قسمت لوگوں کو نہ غسل دیا جائے گا اور نہ نمازپڑھی جائے گی تاہم یہ حکم اسی وقت ہوگا جب کہ یہ حضرات بغاوت کرتے ہوئے ڈاکا ڈالتے ہوئے ، تعصب کی خاطر قتال کرتے ہوئے ،شہر میں ہتھیار وغیرہ کے ذریعہ کسی بے گناہ کے قتل یا مال لینے کے فراق میں قتل ہوجائیں ورنہ اگر مذکورہ افعال کے صدور سے قبل یا بعد میں موت واقع ہوتو ان کو غسل بھی دیا جائے گا اور نماز بھی پڑھی جائے گی ۔ (در مختارعلی رد المحتار (شامی ): /۴۳۔۶۴۲)
    تعصب کی وجہ سے آدمی کی ذلت وہلاکت
    ایک حدیث میں اپنی قوم کی ناحق مدد کرنے والے کو اس اونٹ کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو کنویں میں گرجائے اور اس کو دم پکڑ کر کنویں سے نکالا جائے ،ملا علی قاری ؒ نے اس حدیث کے دو معنی بیان کئے ہیں کہ اس ظالم نے اپنی قوم کی نا حق مدد کرکے اپنے آپ کوہلاکت میں ڈال دیا کیونکہ اس کاارادہ نصرت باطلہ سے عزت وسرفرازی رفعت وبلندی تھا پس یہ گناہوں کے کنویں میں گر گیا اور اونٹ کی طرح ہلاک ہوگیا ،پس یہ نا حق مدد اس کیلئے ایسے ہی غیر نافع ہے جس طرح اونٹ کو کنویں سے دم پکڑکر نکالنا۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ سیدنا محمد ﷺ نے قوم کو ہلاک ہونے والے سے اونٹ کے ساتھ تشبیہ دی۔ کیونکہ جو حق پر نہیں ہوتا وہ تباہ وبرباد ہوجاتا ہے اور اس ناحق مدد کرنے والے کو اونٹ کی پونچھ (دُم )کے ساتھ تشبیہ دی کہ جس طرح اس اونٹ کو دُم کے بل کھینچ کر نکالنا ہلاکت سے نہیں بچا سکتا اسی طرح اپنی ظالم قوم کی ناحق نصرت کے ذریعہ اس قوم کو ہلاکت کے اس کنویں سے نہیں بچاسکتا۔جس میں یہ لو گ گرگئے ہیں ۔(مرقاۃ المفاتیح ۹/۱۲۸)
    حدیث میں ملاحظہ فرمائیں: عن ابن مسعود عن النئبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من نصر قومہ علی غیر الحق کالبعیر الذی ردیٰ فھو ینزع بذنبہ ۔
    ابن مسعودؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے وہ اس اونٹ کی مانند ہے جو کنویں میں گرجائے اور پھر اس کی دُ م کو پکڑکر نکالا جائے ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں