تعویذات کے بارے میں عوام کا اعتقاد

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏دسمبر 6, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    تعویذات کے بارے میں عوام کا اعتقاد​
    ایک شخص کوحضرت تھانوی نے تعویذدیااورپانی بھی دوکلیوںمیں پڑھ کردیا،اس پرملفوظ ذیل فرمایاکہ
    عوام الناس کا اعتقادتعویذکے بارے میںحد سے متجاوزہوگیا ہے اسی واسطے طبیعت تعویذدینے کو نہیں چاہتی ،جیسے اہل سائنس کا اعتقادہے کہ ہر چیزمیں ایک تاثیررکھ دی ہے جو اس سے تخلف نہیں کرسکتی اور تاثیررکھ دینے کے بعدنعوذباللہ اللہ میاں کو بھی قدرت نہیں رہی کہ اس کے خلاف ہوسکے ،مثلاً آگ کے اندر تاثیرجلانے کی رکھ دی ہے اوریہ ہوہی نہیں سکتا کہ آگ نہ جلائے ،اسی طرح عوام الناس کا اعتقادتعویذکی نسبت ہے یوں سمجھتے ہیں کہ جب تعویذباند ھ دیاتو جس غرض سے باندھا ہے اس میں تخلف ہی نہ ہوگااور اگرتخلف ہوجائے تو یہ احتمال ہو تا ہی نہیں کہ تعویذکااثرغیر لازم ہے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی شرط میں کمی رہ گئی ہوگی ان کا طرزعمل یہی بتلارہا ہے ،ان کے معاملات کو تتبع کرنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس پر حد سے زیادہ اعتمادہوجاتا ہے البتہ پانی جو پڑھ کردیاجاتا ہے اس کی نسبت یہ غلونہیں اوراس لئے اس کا اتناہی اہتمام نہیں کرتے مگر تعویذکو توخداجانے کیا سمجھتے ہیں اورایک وجہ اس سے دلچسپی کی یہ بھی ہے کہ نفس کو رغبت اس چیز میںہوتی ہے جس میں کچھ کرنا نہ پڑے اور تعویذمیں خود کچھ کرنا نہیںپڑتا،ساراکام تعویذدینے والے کے ذمہ ہوتا ہے اورتعویذپر اسی بے فکری ہوجاتی ہے کہ تعویذلے کر اصلاح اعمال کی بھی ضرورت نہیں سمجھتے ،میں طاعون کے زمانے میں کہتا تھا کہ اپنی اصلاح کرو کیونکہ اصل میںطاعون توتمہارے اندر ہے کہیں باہرسے نہیں آیا جو تعویذدروازہ پر لگانے سے کچھ کام ہوجائے اگر باہر سے طاعون آتا تو تعویذاس کو روکتا اپنی اصلاح کرنے سے طاعون جائے گا ۔
    اس کی تو ایسی مثال ہے جیسے موسیٰ فرعون کے گھرمیںتھے اوروہ باہرکا بندوبست کررہا تھا اسی کے بارے میں مولانا کہتے ہیں ۔ ؎
    در بہ بست و دشمن اندر خانہ بود
    حیلۂ فرعون زیں افسانہ بود
    تعویذسے متعلق لوگوںکاغلط عقیدہ​
    مولانامحمدیعقوب فرماتے تھے کہ کسی مقام میں دو بھائی تھے جاہل ،ان کی ماں بیمار تھی وہ دونوںمکان کے دروازوںپر تلوارلے کر بیٹھ گئے کہ موت کو نہ آنے دیں گے ان کی ماں مرگئی اب دونوںمیں لڑائی ہوئی ایک نے کہاتیری طرف سے موت گئی ،دوسرے نے کہا کہ تیر ی طرف سے گئی آخر دونوں کٹ کر مرگئے ہم ایسی حکایت سنکر ہنستے ہیں مگر ہم خوداس میں مبتلا ہیں کہ بلاکو باہر سے آتا ہواسمجھ کر اس کو تعویذوں سے روکتے ہیں اگر تعویذوں کی یہی بھرماررہی تو تھوڑے عرصے میںلوگ نکاح کرناہی چھوڑدیں گے ایسے تعویذکے طالب ہوں گے جس سے بلا نکاح ہی اولاد ہوجائے ،ایک پہلوان کا خط بمبئی سے آیا تھا کہ مجھے ایسا تعویذبھیج دیجئے کہ میں کشتی میںجیتاہی کروں میں نے کہا پھردوسرابھی ایسا ہی تعویذطلب کرے گا پھر دونوں تعویذوں میں لڑائی ہوگی چونکہ حضرت حاجی صاحب ؒ نے فرمادیا تھا کہ کچھ لکھ دیا کرواس لئے لکھ دیتا ہوں ورنہ جی تو نہیں چاہتا اورمیرے پاس تعویذ معین بھی نہیں ہے کہ یہ اس مرض کا ہے اوریہ اس کاوقت پر جو سمجھ میں آجاتا ہے لکھ دیتا ہوں بعض تعویذگنڈے والے تو دھوکہ دیتے ہیں اوربلامہارت بتلادیتے ہیں کہ یہ تعویذاس کا ہے اوریہ اس کااوربعض کے یہاں تعویذوںکا باقاعدہ فن بھی ہے مگر یہ سب دنیا ہے اورتعویذوں کے اثر کااصل مدارعاملوںکے نزدیک نجوم پر ہے اسی واسطے عاملوں نے لکھ دیا ہے کہ یہ تعویذفلاںدن اورفلاں ساعت میں ہونا چاہیے مگر میں سب قیودکو چھوڑکرتعویذ کرتا ہوں میں نے ایسی کتابیں بھی دیکھیں ہیں جن میں تسخیرنجوم کے اعمال ہیں تسخیرشمس کاایک عمل ہے جس میں ایسے ایسے خطاب ہیں ایھا النیرالاکبرالاعظم تو ایسا ہے ایسا ہے اوراس کے آخر میں ہے کہ پھر اس کو سجدہ کرے ویسے بھی نجوم سے ایسی اعانت لینا شرک ہے ایک شخص کا مریخ مسخرتھا وہ اس سے آگ لگادیتے تھے اوربھی اعمال ہیںاسی شخص کی ایک حکایت ہے کہ ایک باربادشاہ کے پاس بیٹھے تھے اوپرسے قازیں جارہی تھیںبادشاہ نے تیر سے کسی ایک کاشکارکرنا چاہا تھا اس شخص نے کہا آپ کونسی قاز کوشکارکرناچاہتے ہیں بادشاہ نے بتلایا اس نے ایک حلقہ زمین پر کھینچ کرعمل پڑھاوہ قازاس میں آکرگرپڑی اس کو ذبح کرلیااوربھی قسم قسم کے تعویذہیں ایک شخص کہتے تھے کہ ایک ایسا عمل ہے کہ دودائرے کھینچے جائیں ایک میں تھانہ بھون اوردوسرے میں دہلی لکھا جائے اوروہ عمل پڑھ کر اس دائرہ سے اس دائرہ میں قدم رکھاجائے تو اسی وقت دہلی پہنچ جائیںایک ثقہ راوی ایک عجیب حکایت بیان کرتے تھے کہ ایک شخص فلاں رئیس کے پا س آئے اورکہا کہ مجھ کوڈیڑھ سوروپیہ کی ضرورت ہے بطورقرض کے دیدیجئے میں اداکردوں گا ،رئیس نے کہا کہ میری تو اتنی ہمت نہیں البتہ میرے ایک دوست ہیں انگریزان کالندن میں ایک دشمن ہے اگر اس کوقتل کردوتو وہ تمہیںڈیڑھ سو روپیہ دیدیں گے ۔
    چنانچہ وہ ان کے پاس گئے انہوں نے ایک آئینہ منگایااورعمل پڑھااس انگریزکو اس آئینہ میں لندن نظر آنے لگااور وہ دشمن لوگوںمیں پھرتاہوابھی معلوم ہوا،اسی وقت اس سے رائفل منگایااورکہا نشانہ درست کرکے اس کے گولی ماروچنانچہ گولی لگائی گئی اورایسا معلوم ہوا کہ گولی اس کے بدن میںگھس گئی اوروہ گرگیااور مرگیا،اس انگریزنے کہا ہمیں کیسے یقین ہو کہ وہ قتل ہوگیا عامل صاحب نے کہا کہ آپ لندن کو تاردیجئے چنانچہ تاردیاوہاں سے جواب آیا کہ فلاں دن اورفلاں گھنٹہ میںاس شخص کے اچانک گولی لگی وہ مرگیا قاتل کا پتہ اب تک نہیں ہے پولیس تفتیش میں ہے اگرکوئی جانتا نہ ہو تو ایسے لوگوں کو ولی کہہ دیں۔
    چنانچہ عوام کا یہی حال ہے کہ جس سے ایسے امور کو صادر ہوتے دیکھتے ہیں اس کی ولایت کے قائل ہوجاتے ہیںبعض لوگ جنات کو عمل سے مسخر کرلیتے ہیں اورخوب ان سے کام لیتے ہیں مگر یہ شریعت میں بوجہ جبر کے حرام ہے ،ایک عامل گوالیرمیں معاصرحضرت عبدالقدوس گنگوہی ؒ کے تھے ان کے جنات تابع تھے ایک دفعہ انہوں نے حکم دیاکہ شیخ کویہاں اٹھالاؤ جن وہاں سے آئے اس وقت شیخ مسجدمیں مراقب تھے جن علیحدہ کھڑے ہوگئے یہ تو کہانہیں کہ ہم آپ کو اٹھاچلیںیوں عرض کیاکہ فلاں عامل نے ہمیں بھیجاہے ان کو آپ کی زیارت کا شوق ہے اگرآپ تشریف لے چلیںتو ہم بہت آسانی سے پہنچادیںشیخ نے ان سے کہا کہ اسی کو یہاں پکڑلاؤ وہ آکرلگے ان کو اٹھانے ،انہوںنے کہاکہ کیا تم میرے مطیع نہیں ہو جنات نے جواب دیاکہ شیخ کے مقابلہ میں آپ کوئی چیز نہیںاگر شیخ آپ کوقتل کرنے کو کہیں تو ہم قتل بھی کردیں۔
    چنانچہ ان کو پکڑکر شیخ کی خدمت میں لے آئے ،شیخ نے ان پر ملامت کی انہوں نے توبہ کی اورشیخ کے ہاتھ پر بیعت بھی کی بس اللہ والوں کے مقابلہ میں عمل کی یہ قوت ہے کچھ بھی نہیں ان عاملوںمیں بعض اہل تصرف ہوتے ہیں ایسا تصرف کرتے ہیں کہ دوسرے کے مرض کاازالہ ہوجاتا ہے اوریہ اصل میں تصرف ہے نفس کا اصل فاعل نفس ہے اگر چہ لوگ اس کو ولایت کا شعبہ خیال کرتے ہیں۔حالانکہ یہ بھی ایک شعبہ ہے طلب کا ،کبھی اللہ والے بھی ایسے تصرف کرتے ہیںجیساکبھی تداوی کرتے ہیں مگریہ شعبہ ولایت کا نہیں بعضے تصرف کرکے دوسرے سے روپیہ وصول کرلیتے ہیںیعنی قلب پر ایسا اثرڈالتے ہیں کہ وہ روپیہ دیدیتاہے یہ بھی حرام ہے کیونکہ وہ مغلوب ہوکر دیتا ہے اوربعد میں پچھتاتا بھی ہے اورگویہاں طیب نفس سورۃ تو ہے کیونکہ وہ خوددیتا ہے مگرحقیقت طیب نفس کی نہیں اورحدیث میں ہے لا یحل مال امریٍٔ ا لا بطیب نفسہ اوریہ اکراہ باطن ہے مگر کسی کو التفات بھی نہیں بلکہ اس کو تو کرامت سمجھتے ہیں ایسے لوگوںمیں دو شخص ایسے ہیں جن کو شبہ ہوا اورمسئلہ پوچھا ان کے مسئلہ پوچھنے سے مجھ کودینداراورصاحب فہیم ہونے کا اندازہ ہوا گوبدعات میں بھی بیچارے مبتلا تھے ایک نے مسئلہ تو پوچھاتھاکہ کسی کووجد آئے اوروہ گرپڑے تو اس کا وضو رہے گا یا نہیں میں نے کہا کہ ٹوٹ جائے گا جیسے غشی میں ، دوسرے ایک رئیس تھے اورشیخ بھی تھے اورمخلص اورصادق تھے گوسماع میں بھی مبتلا تھے ،عرس وغیرہ میں بھی شریک ہوتے تھے ،مجلس میں حالت وجدمیں صرف رویا کرتے تھے رقص وغیرہ نہ کرتے تھے ایک دفعہ ایک شخص ان کی مجلس میں اٹھااورٹپکیاں بجانے لگا اوراٹھاتھامکرسے ان صاحب نے حکم دیا کہ اس کوکان پکڑکرنکالدوتو ان رئیس صاحب نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھا تھا کہ ایک شخص نے مجھ کوستایاتھا میں نے اس کو بد دعا دی تھی اوروہ مرگیامجھ پر گناہ تونہ ہو گاانہوں نے کیا اچھی بات کہی اورآج کل تو ایسی صورت میں اپنا کمال اورکرامت سمجھنے لگتے ہیں میں نے جواب دیا کہ دوحال سے خالی نہیں وہ یہ کہ بد دعا کے وقت تو جہ اہلاک کی طرف تھی یا نہیں اگرتوجہ نہ تھی تو قتل کا گناہ تو نہیں ہوا البتہ اگر اس قدربد دعادیناجائزنہ تھا بد دعا دینے کا گناہ ہوا ،ورنہ اس کا بھی گناہ نہیںاوراگرتوجہ اہلاک کی طرف تھی گویا آپ کے اندرقوت تصرف ہے اکتساباً یا فطرتاً یا نہیں ہے اگر نہیں ہے تب بھی قتل کا گناہ نہیں ہوا اوراگر ہے تو دیکھنا چاہیے کہ وہ شخص اگرمباح الدم نہ تھا تو قتل کا گناہ بھی ہوا اوراگر مباح الدم تھا تو قتل کاگناہ نہیں ہوا غرض تصرفات علی الاطلاق جائز نہیں ہے مگر لوگ تصرف کو مطلقاً شعبہ تصوف کا سمجھتے ہیں لوگو ںنے تصوف کاناس کردیا ہے حالانکہ تصوف تو عین سنت ہے کیا حضور ا نے کبھی تصرف کرکے روپئے وصول کئے ہیں،لوگ تعویذگنڈے کراتے ہیں کہ نکاح ہوجائے چنانچہ اس کے اثر سے کبھی ہو بھی جاتا ہے اور ہوتا ہے بے موقع پھر پچھتاتے ہیں میرامذاق تو بالکل اس کے خلاف ہے مجھ کو اس سے وحشت ہوتی ہے میں ویسے تعویذبھی نہیں کرتا جیسے لوگ کرتے ہیں میں تو وہ کرتا ہوں جو احادیث سے ثابت ہے جیسے بسم اللّٰہ ارقیک الخ وہ بھی تعویذکے طورپر نہیں بلکہ دعاکے طورپرمیں کبھی توجہ بیماری کی طرف نہیں کرتا کہ اس کو نکال رہا ہوں بلکہ اللہ کی طرف دعاکے ساتھ توجہ کرتا ہوں ،عامل تو توجہ اس طرح کرتے ہیں کہ میں نکال رہا ہوں یہ بھی تجربہ ہو ا ہے کہ صاحب تصرف کو یکسوئی رہے تو تصرف میں قوت آجاتی ہے مگرانبیاء کا طریقہ یہی تھا کہ وہ رجوع الی اللہ کرتے تھے کہ لوگوںکی اصلاح ہوجائے نہ یہ کہ ان کے قلوب پر تصرف کرتے تھے اورزورڈالتے تھے کہ قلوب کو اپنی طرف پھیرلیں،قرآن شریف میں زورڈالنے کی تو نفی ہے فرماتے ہیں اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْامُوْمِنِیْنَ ۔
    ہاں بعض دفعہ حکم ہوتا ہے اہل اللہ کوکہ ایسا کریں تو وہ کرتے ہیں باقی یہ کوئی بزرگی نہیں ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے روٹی سے پیٹ بھردیا،کسی کے سرکادردکھودیاتو اس میںکیا ولایت ہوگئی بعضے مشائخ آج کل دھوکے میںہیں چھوپھوکرتے ہیں اس سے کچھ ہوجاتا ہے اس کو بڑ ی بات سمجھتے ہیں حضرت حاجی صاحبؒ کی نسبت بعض شبہ کرتے ہیںکہ توجہ نہیں دیتے میں یہ جواب دیتا ہوں کہ متعارف توجہ کی اس کو ضرورت ہے جس کو ہر وقت توجہ نہ ہو ان کی تو یہ حالت تھی ؎
    بندۂ پیر خرابانم کہ لطفش دائم ست
    زانکہ شیخ و زاہد گاہ ہست و گاہ نیست ​
    چنانچہ اس توجہ دائمی کے آثارکا مشاہدہ کرلیجئے ،محبت شوق زہد خشیت دیکھ لیجئے کہ یہ آثاراس سلسلہ میں زیادہ ہیں یا دوسرے سلسلوںمیں۔یہ دوسری بات ہے کہ توجہ دینے سے اس وقت گرمی ہوجائے ٹھنڈک ہوجائے تو یہ توبرف اورسنکھیاسے بھی ہوسکتی ہے پھر یہ کیا کمال ہوا ۔
  2. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    105
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت پتے کی بات بتائی ہے، ایک واقعہ یاد آ رہا ہے کہ ایک بزرگ سے ایک شخص دُعاٗ کراتا تھا کہ اولاد ہو جائے، کچھ عرصہ ایسے ہی دُعاء کراتا رہا۔ تین سال بعد وہ شخص اُن بزرگ سے ملا، تو پوچھا کہ کیا کوئی اولاد ہوئی؟ اُس نے کہا کہ نہیں۔ بزرگ نے پوچھا کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ شادی بھی ہوئی ہے یا نہیں؟ اُس شخص نے کہا کہ نہیں۔ تو فرمایا کہ اللہ کے بندے! پہلے شادی تو کراؤ پھر اولاد کے لیے دُعاء کراؤ، بغیر شادی کے کیسے اولاد پیدا ہو گی۔ یہی حال ہمارا ہو گیا ہے کہ نیک اعمال کرتے نہیں اور ثواب کی اُمید رکھتے ہیں، گناہ کے کام چھوڑتے نہیں اور مغفرت کی اُمید رکھتے ہیں، یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی آم کا درخت لگائے اور مالٹے کے پھل کی اُمید رکھے۔ اللہ ہمیں سمجھ نصیب فرمائے۔
    آج ہر طرف یہی دیکھنے کومل رہاہے کہ ہم غیر مقصود کو مقصود بنا بیٹھے ہیں، اور تصوف کا بدنام کر دیاہے۔
    آج ہم اس فن کو ہی کمال سمجھ بیٹھے ہیں، جو بُعدِ خداوندی کا ذریعہ ہے۔ اصل دولت ’’رجوع الی اللہ‘‘ ہی ہے، اللہ ہمیں یہ عظیم دولت نصیب فرمائے۔
    یہ بات عطرِ تصوف کی حیثیت رکھتی ہے۔
  3. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  4. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    452
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کو مشتہر کریں