تقلید مجتہد کیوں

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از imani9009, ‏ستمبر 16, 2017۔

  1. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یہ مضمون میں نے 2012 میں ایک ویب سائٹ پر لکھے تھے ۔ اور اس مضمون سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ لیکن یہ مضمون امیج فارمیٹ میں تھے میں یونیکوڈ میں تبدیل کرکے کہ یہاں نشر کر کررہا ہوں۔ غلطی کا احتمال میں کیونکہ میں کوئی عالم نہیں۔

    تقلیدمجتہد
    تقلید کیوں
    جامع ترمذی کے چند با ب نقل کرتا ہوں۔جس سے اندازہ ہوگا کہ چند احادیث میں تعارض بھی ہے۱۔با ب الوضوء مما غیرت النار باب جن چیزوں کو آگ نے چھواان سے وضو ٹوٹنے کا بیان۲۔ باب فی ترک الوضوء مما غیرت النار باب جن چیزوں کو آگ نے چھواان سے وضونہیں جاتا۳۔باب الوضوء من مس الذکر باب شرماگاہ کو چھونے سے دوبارہ وضو کرنا چاہیے۴۔باب ترک الوضوء من مس الذکر باب شرماگاہ کو چھونے سے دوبارہ وضونہیں کرنا چاہیے۵۔باب ترک الوضوء من القی والرعاف باب قے اور نکسیر پھوٹنے خون نکلنے سے وضو دوبارہ کرے۶۔باب الوضوء بالنبیذ باب نبیذ پینے کے بعد دوبارہ وضوکرے

    اب یہا ں عام آدمی کیا کرے اور کیسے فیصلہ کرے،اس میں ضرورت تھی کہ اجتہادکرے ایک متعین مسئلہ بتادیا جاتا اور اس کو ترجیح دے کر دوسری احادیث کی تاویل یا ترجیح الراجح کردی جاتی، یہی کام ائمہ مجتہدین نے کیا ہے وضوٹوٹنے میں آگ پر پکی ہوئی چیز ،مس ذکر ،اونٹ کا گوشت،خون کا نکلنا کئی چیزیں ہیں ایک آدمی ان میں سے کس کو اختیار کرے۔ سبھی باتیں بیک وقت آدھ گھنٹے میں پیش آسکتی ہیں ۔ سردیوں کا موسم ہے ایک آدمی اونٹ کا گوشت کھا لیتا ہے اسے ایک آدمی کہتا ہے کہ وضو دوبارہ کرو،وہ کہتا ہے کہ فلاں حدیث یا امام کا قول ہے کہ وضو نہیں ٹوٹتا۔پھر وہ روٹی یا آگ پر پکی ہوئی چیز کھا لیتا ہے اسے ایک آدمی کہتا ہے کہ وضو دوبارہ کرو،وہ کہتا ہے کہ ایک حدیث کی رو سے یافلاں امام کا قول ہے کہ وضو نہیں ٹوٹتا۔پھر مس ذکر کرتا ہے اب کہا جاتا ہے اب تمہار ا وضو ٹوٹ گیا ہے وہ کہتا ہے کہ نہیں فلاں حدیث کے مطابق نہیں ٹوٹا۔خون نکلتا ہے تو اس پر بھی یہی صورت پیش آتی ہے حالانکہ اس کا وضو سب احادیث اور ائمہ اربعہ کی فقہ کہ رو سے ٹوٹ گیا۔اصل با ت یہ ہے کہ یہ شخص سردی سے ڈرتا ہواوضو نہیں کرتا،گویا اپنے نفس کہ خواہش پر عمل کرتا اور اس آیت کا مصداق بنتا ہے۔
    ارایت من اتخذ الھہ ھواہٗ
    (کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشات کو خدا بنا رکھا ہے)
    (سورۃ الفرقان ۴۳)

    قرآنی آیت۱۔یایھا الذین آمنو اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولی الامرمنکم
    مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی
    (سورہ النساء ۔۵۹)
    اب آگے قرآن خود ہی اولی الامر منکم کا کام اس انداز سے بتاتا ہے۲۔واذا جاء ھم امرمن الامن اوالخوف اذا عوابہ ،و لو ردؤ ہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم
    اور جب ان عوام الناس کے پاس امن یا خوف کی کوئی با ت پہنچتی ہے تو یہ اس کی اشاعت کر دیتے ہیں اور اگر یہ اس معاملے کو رسول ؐ کی طرف یا اپنے اولی الامر کی طرف لوٹا دیتے ہیں تو ان میں سے جو لوگ اس کے استنباط کے اہل ہیں وہ اس کی حقیقت کو خوب معلوم کر لیتے۔
    (سورہ نساء ۸۳)

    اس آیت سے یہ با ت واضح ہے کہ اولی الامر میں وہی لوگ شامل ہیں جو استنباط کے اہل ہوں ۔یعنی اہل استنباط ہوں۔اور یقیناًمجتہد اور فقہیہ قرآن و حدیث سے استنباط کی اہلیت رکھتے ہیں۔
    حدیث نبویؐ

    حدیث نمبر ۱
    حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن بھیجا تو فرمایا کہ جب کو ئی قضیہ تمہارے سامنے پیش آئے گا تو کس طرح فیصلہ کرو گے؟ عرض کیا کے کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کروں گا،فرمایا اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ہو؟ تو عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلہ کروں گا،آپؐ نے فرمایا کہ اگر کتاب اللہ اور سنت دونوں میں نہ ملے ؟ عرض کیا اس وقت اپنی رائے سے اجتہاد و استنباط کرونگا، اور (حق تک پہنچنے کی کوشش میں)کوتاہی نہیں کرونگا،اس پرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرط مسرت سے) حضرت معاذؓ کے سنیے پر اپنا دست مبارک مارا اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے،اس نے اللہ کے رسولؐ کے اس قاصد کو اس با ت کی توفیق دی جس پر اللہ کا رسولؐ راضی ہو
    (سنن ابی داؤد ،کتاب الاقضیہ ،باب اجتہاد الرأی فی القضاء)

    حدیث نمبر ۲
    آپ ؐ نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے ،اور غلطی کر جائے تو اسے ایک ثواب ملتا ہے(اجتہاد کا)۔
    (صحیح بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنتہ باب ۱۲۲۴ اجرالحاکم اذا اجتھد فاصاب اواخطا)

    قرآنی آیت اور حدیث مبارک میں حاکم کا ذکر ہے اور کوئی شک نہیں کے جب حاکم اللہ اور سولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمابردار ہو تو اجتہاد اور قضاء کا منصب اسی کے لیے ہے۔

    اب یہ با ت سمجھنے کی ہے کہ کیا قضاء صرف دنیاوی امور کے لئے ہے ؟
    نہیں۔ بلکہ دینی امور کے لیے بھی ہے حدیث معاذؓ میں حضرے معاذؓ صرف ایک حکمران بن کر یمن تشریف نہیں لے گئے تھے بلکہ ایک معلم اور مفتی کی حیثیت سے بھی تشریف لے گئے تھے لہذا یہ خیال درست نہیں کے اس حدیث کا تعلق حکم اور قضاء سے ہے اور افتاء سے نہیں۔

    حضرت اسو بن یزید ؒ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبلؓ ہمارے پاس یمن آئے وہ ہمارے امیر بھی تھے اور معلم بھی تھے ،ہم نے ان سے ہی مسئلہ پوچھا کہ ایک شخص نے وفات کے بعد اپنی بیٹی اور بہن چھوڑی ہے (ان کو کیا میراث ملے گی؟)تو حضرت معاذؓ نے بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف میراث دی
    (صحیح بخاری ،کتاب الفرائض ،با ب میراث اللبنات حدیث ۶۳۵۳)
    صحابہؓ کے شروع کے دور میں دنیاوی ودینی دونو ں امور حاکم اوروقت کے امیر المومنین کے ذمہ ہوتے تھے چناچہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بیعت خلافت کے وقت حضرت عمرؓ نے یہ قیاس فرمایا کہ نماز اہم العبادات ہے اس امامت صغریٰ کے لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکرؓ کو مقرر فرمایا ہے تو ہم امامت کبریٰ کو اسی پر قیاس کرکے ان کو اپنا خلیفہ تسلیم کرتے ہیں

    حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے منشور کا اعلان یوں فرمایا کہ آپ پہلے مسئلہ کتاب اللہ سے لیتے اگر نہ ملتا تو سنت سے لیتے اگر کسی مسئلہ کا نشان نہ قرآن میں ملتا نہ سنت میں تو اجتہاد کرتے اور فرماتے ھذا رأی یہ میری رائے ہے۔اگر صواب ہو تو اللہ کہ طرف سے ہے اگر خطا ہو تو میری طرف سے ہے اور میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں
    (جامع بیان العلم ج۲ ص۵۱)

    اگر حاکم کو ئی فاسق فاجر شخص ہوتب اس قرآنی آیت اور حدیث کے پہلے مصداق مجتہدین اور فقہا ہیں۔
    اولو الامر کی تفسیر سے مراد فقہاء اور علماء ہیں اس کو عام مفسرین نے اختیار کیا ہے جن میں ترجمان القرآن
    حضرت عبداللہ بن عباس ،مجاہد،عطاء بن ابی رباح،حسن بصری،اور امام ابوا لعالیہ شامل ہیں
    (تفسیر ابن کثیر ص۵۱۸ ج۱۔روح المعانی ص۶۵ج۵)
    اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو رسول پاک ؐ نے دعادی تھی
    حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتب نبی ؐ بیت الخلاء آئے ،میں نے پیچھے سے وضوکا پانی رکھ دیا ،جب نبی ؐباہر نکلے تو پوچھا کہ یہ پانی کس نے رکھا ہے؟بتایا کہ ابن عباسؓ نے ،نبی ؐ نے فرمایا اے اللہ! اسے فقہیہ بنا۔
    (مسند امام احمد بن حنبلؒ مسند عبداللہ بن عباسؓ حدیث ۳۰۲۳)

    ایک اور حدیث
    حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسولؐ اللہ!اگر ہمیں کوئی ایسا واقع پیش آئے جس کے متعلق (قرآن و سنت میں)کو ئی حکم یا ممانعت موجود نہ ہو تو میر لیے آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایسے معاملے میں تم فقہاء وعابدین سے مشورہ کرلیا کرو اور کسی خاص شخص کی رائے کو نافذ نہ کرو۔
    (مجمع الزوائد کتاب العلم با ب فی الاجماع ص ۱۷۸ج۱)

    تقلید کا مطلب
    اب ہم تقلید کا مطلب سمجھتے ہیں اور پھر یہ بات کریں گے کہ تقلید کی ضرورت کن احکام میں ہے
    تقلید کااصطلاحی مطلب ہے
    کہ آدمی دوسرے کے قول یا فعل کو حق سمجھتے ہوئے اس کی اتباع کرے۔گویا اس اتباع کنندہ نے دوسر ے کے قول یا فعل کو اپنے گلے کا ہاربنا لیا اور کسی دلیل کا مطالبہ نہیں کیا۔
    (کشاف اصطلاحات الفنون ص۱۱۷۸)
    آسان الفاظ میں یوں کہیے کہ تقلید سے مراد مجتہد کی راہنمائی میں کتاب وسنت کے اس جامع مفہوم پر چلنا جس پر صحابہ ،تابعین ،تبع تابعین کے عمل سے مواظبت ہوچکی ہو۔اب با ت آسان ہو گئی ہے کہ ہم تقلید کے ذریعے کتاب و سنت پر اس طرز پر پیر اعمل ہو نگے جس پر صحابہ ،تا بعین ،تبع تابعین پیر ا عمل تھے نہ کہ اس طرز پر جو ہمیں کتاب اللہ اور حدیث رسول ؐ سے خو داپنی عقل کے مطابق سمجھ آئے۔
    قرآن اوراجماع امت۱۔اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالفت کرے اور مومنوں کے رستے کے سواکسی اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلا دیں گے اور قیامت کے دن اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے۔
    (سورۃ النساء ۔۱۱۵)
    حدیث نبوی اور اجماع امت۱۔حضرت معاذؓ سے مروی ہے کہ نبی ؐ نے ارشاد فرمایاجس طرح بکریوں کے لئے بھیڑیا ہوتاہے ،اسی طرح انسان کے لئے شیطان بھیڑیا ہے ،جو اکیلی رہ جانے والی اور سب سے الگ تھلگ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے ،اس لئے تم گھاٹیوں میں تنہا رہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ ،اور جماعت مسلمین کو،عوام کو اور مسجد کو اپنے اوپر لازم کر لو۔
    (مسند امام احمد بن حنبل ؒ مسند الانصار حدیث ۲۲۳۷۹)
    ۲۔حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا بلاشبہ میر ی امت گمراہی پر مجتمع (متفق )نہ ہوگی جب تم اختلاف دیکھو تو سواداعظم کا ساتھ دو۔
    (سنن ابن ماجہ جلد سوم کتاب الفتن باب السواد الاعظم)
    اور اگر کوئی کہتا ہے کہ دین تو مکمل ہے پھر یہ اجتہاد اور قیا س کیا۔ہم بھی کہتے ہیں کے دین واقعی مکمل ہے اور دین نے وہ تمام اصول مہیا کر دیے جس کے ذریعے سے اجتہاد ہوسکے ۔اب نئے مسائل پیش آسکتے ہیں اور ان کے لیے اجتہاد کے ذریعے حل نکالا جا سکتا ہے۔
    اگر پھر بھی کسی کو اعتراض ہوپھر ایسے بند ے سے ہم تمام جملہ حیوانات کے نام گنواتے جاتے ہیں اور وہ ہمیں ہر حیوان کا حدیث میں صراحت کے ساتھ حلال یا حرام ہونا دکھا دے۔
    تقلید کن احکاما ت میں
    احکام دو قسم کے ہیں
    منصوص اور غیر منصوص
    پھر منصوص کی دو اقسام ہیں
    متعارض اور غیر متعارض
    پھر غیر متعارض کی دو اقسام ہیں
    محکم اور محتمل
    محکم
    محکم میں تقلید کی ضرورت نہیں ہوتی۔جیسے نماز ،زکوۃ ،روزہ کی فرضیت ،نماز کی تکبیر تحریمہ ۔وغیرہ

    محتمل
    محتمل سے مراد اللہ کے رسول ؐ کے حکم پر کسی قسم کا احتمال ہو۔اس احتمال کا پتہ صحابہ ،تابعین اور تبع تابعین سے چلے گا۔اس احتما ل سے ترک اور بھو ل کا حکم معلوم ہو جاتا ہے
    ایک مثال
    صحیح بخاری کی حدیث ہے
    نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ہر بالغ کے لیے غسل ضروری ہے
    (صحیح البخاری جلد۱ کتاب الصلوٰۃ حدیث ۸۱۳)
    حدیث میں غسل کے لئے واجب کا لفظ استعمال ہو اہے۔
    ابن عباسؓ سے منقول ہے آپ نے فرمایا تھا کہ لوگوں کے پا س ابتداء اسلام میں کپڑے بہت کم تھے اس لیے کام کرنے میں پسینہ کہ وجہ سے کپڑوں میں بدبو پیدا ہوجاتی تھی اور اسی بدبو کو دور کرنے کے لیے اس دور میں جمعہ کے دن غسل واجب تھا ۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وسعت دی تو یہ وجوب باقی نہیں رہا ۔
    اس سے معلوم ہو اکہ اصلی وجہ وجوب بدبو سے لوگو کو اذیت تھی اس لئے اب بھی ایسے افراد پر غسل واجب ہوگا جن کے کپڑے یا پسینے کی بدبو سے لوگ اذیت محسوس کریں ۔
    یہ ایک مثال تھی اوراحناف کی ایک دلیل بھی۔
    اس طرح حکم رسولؐ اللہ سے فرض ،واجب،سنت،مستحب نکالنا تاکہ بھول اور ترک کے حکم کا پتہ چل سکے یہ مجتہد ہی کا کام ہے۔

    مسائل متعارض
    متعارض مسائل میں مجتہد تعارض کو رفع کرتا ہے۔ حدیث کی کتب میں بہت سے مسائل متعارض آئے ہیں امام ابو حنیفہ ؒ اس بارے میں کیا کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں
    اوجز میں یہ کلام تفصیلی ہے اس میں ابن حجر شافعی سے نقل کیا گیا ہے ۔کہ تمہارے لیے ضروری ہے کہ علماء کے اس قول کا جو امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کے بارے میں ہے کہ وہ اصحاب الرائے ہیں کا مطلب یہ نہ سمجھنا ۔کہ وہ اپنی رائے کو حضوراقدس ﷺکی سنت پر یا صحابہؓ کے اقوال پر ترجیح دیتے ہیں۔کیونکہ وہ اس سے بالکل بری ہیں ۔کیونکہ امام ابوحنیفہؒ سے مختلف طرق سے یہ ثابت ہے ۔جس کا حاصل یہ ہے ۔کہ امام صاحب اولاً قرآن کو لیتے ہیں اور اگر قرآن میں نہ ملے تو سنت سے،اگر سنت میں بھی نہ ملے ۔تو صحابہؓ کے قول سے۔ اگر صحابہؓ میں اختلاف ہو۔تو ان میں سے اس قول کو اختیار کرتے ہیں ۔جو اقرب الی القرآن و سنت ہو اور صحابہؓ کے اقوال سے باہر نہیں جاتے ۔او ر اگر صحابہؓمیں سے کسی کا کوئی قول نہ ملے تو تابعین کے اقوال کو نہیں لیتے بلکہ خوداجتہاد فرماتے ہیں۔جیسا کہ ان لوگوں نے اجتہاد کیا۔
    امام صاحب کا تدوین فقہ کا طریقہ یہ تھا کہ کسی خاص باب کا کوئی اصول پیش کیا جاتا تھا تو اگر اس کے جواب میں سب لوگ متفق الرائے ہوتے تو اسی وقت قلمبند کر لیاجاتا ،ورنہ نہایت آزادی سے بحثیں شروع ہوتیں ۔کبھی کبھی بہت دیر تک بحث قائم رہتی ۔امام صاحب رحمہ اللہ بہت غور اور تحمل کے ساتھ سب کی تقریر سنتے۔آخرکار ایسا جچا تلا فیصلہ کرتے کہ سب کو تسلیم کرنا پڑتا۔کبھی کبھی یہ بھی ہوتا کہ مختلف اقوال رہتے ۔اب سب کو قلمبند کر لیا جاتا۔ اس کا التزام تھا کہ جب تک تمام شرکائے جلسہ جمع نہ ہولیں کسی مسئلہ کو طے نہ کیا جائے
    (سیرۃ النعمان ص۲۵۵)
    مثال کے طور پہ صحابہؓ میں چند ایک متعارض مسائل۱۔بعض بسم اللہ کو جھر ا پڑھتے تھے اور بعض سراپڑھتے تھے۔۲۔بعض صحابہؓ قے وغیرہ سے وضو کیا کرتے تھے اور بعض نہیں کرتے تھے۔۳۔بعض اونٹ کے گوشت کھانے سے وضو کرتے اور بعض نہیں کرتے تھے۔

    مسائل غیر منصوص
    وہ تما م مسائل ہیں جن کے بارے قرآن و حدیث میں صراحت نہیں ہوتی مجتہد منصوص مسائل میں کوئی علت تلاش کرکے اس علت کے ذریعہ اس منصوص حکم کو غیر منصوص میں جاری کرتا ہے
    ایک مثال
    بھینس (عربی میں جاموس کہتے ہیں)کے حلال یہ حرام ہونے پر کوئی صراحت قرآن و حدیث میں نہیں ہے۔مجتہدین نے جو علت استعمال کی ہے وہ یہ ہے کہ اونٹ،گائے،بکری،بھیڑ کے حلال ہونے پر صراحت موجود ہے اور ان چاروں میں جگالی کی صفت ہے اور بھینس میں بھی ،لحاظہ بھینس کو بھی جگالی کرنے کہ وجہ سے اسی پر قیا س کیا ۔
    ایک اور مثال
    مکھی کے کھانے میں گر جانے کہ صراحت حدیث میں موجود ہے مکھی اگر گر جائے تو اس کو ڈبو کے نکال دینا چاہیے اور اگر مچھر ،بھیڑ،چیونٹی گر جائے ۔مجتہدین نے قاعدہ نکالا کہ مکھی میں دوڑنے پھرنے والا خون نہیں ہوتا اور دم مسفوح (دوڑنے پھرنے والا خون)کو قرآن نے نجس کہا ہے اور مچھر ، بھیڑ،چیونٹی میں بھی یہ خون نہیں ہوتا لحاظہ انہوں نے ان کو بھی مکھی پر قیاس کر لیا۔
    یہ بھی یاد رہے کے مجتہد اگر خطا کرے تو بھی اس کو ایک ثواب تو بہر حال ہے ہی۔

    احکام الہٰی اور درجہ بندی
    ائمہ اربعہ نے اجتہاد کرے امت کے لیے ایک راہ متعین کر دی ہے اجتہاد کرکے انہوں نے
    ٖفرائض(وہ ارکان جن کے بغیر کوئی عمل ادا نہیں ہو سکتا)
    واجبات(وہ ارکان جن کا درجہ فرائض سے کم ہے لیکن فرائض کے قریب تر ہے)
    سنن(وہ ارکان جن کے اد ا کرنے سے سنت کے ثواب سے تو محرومی ہوگی مگر عمل ادا ہو جائیگا)
    مستحب(وہ حکم ہے جس کو نبی کریم ؐ نے کبھی کیا ہو اور کبھی چھوڑ دیا ہو)
    مکروہ(وہ کام ہے جس کے کرنے سے کسی عمل کے ثواب میں کمی آجاتی ہے)
    مفسدات(ایسا کام جس کے کرنے سے وضو،غسل،نماز،روزہ وغیرہ ٹوٹ جائے)
    ۱۔غسل کے فرائض،سنن،مفسدات۲۔کون کون سی چیزیں ہلکی نجاست اور سخت نجاست میں شامل ہیں۳۔ہلکی نجاست کتنی معاف ہے اور سخت نجاست کتنی معاف ہے۴۔نجاست پانی کے سوا کن چیزوں سے پاک ہوسکتی ہے۵۔استنجاہ کے مکروہات۶۔وضو کے فرائض، سنن،مستحباب،مکروہات، مفسدات۷۔کن پانیوں سے وضو جائز ہے اور کن سے نہیں۸۔نماز کی شرائط۹۔نماز کے فرائض ،واجبات،سنن،مستحباب،مکرہات،مفسدات۱۰۔اعتکاف کے مفسدات۱۱۔روزہ کے مفسدات۱۲۔حج و عمرہ کے فرائض،واجبات،سنن ،مستحبات،مکروہات۱۳۔حیوانت میں حلال وحرام

    اور بھی بہت سے مسائل نکال کران کی حدود مقرر کردی ہیں۔

    مجتہدین کااختلاف
    اجتہاد میں اختلاف ہوجانا ایک بدیہی امر ہے۱۔حضورؐ نے فرمایا کہ دو عورتیں اپنا اپنا بچہ لئے جا رہی تھیں ،اتنے میں بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ لے گیا ،ایک نے دوسری سے کہا کہ تیرا ہی لڑکا لے کر گیا ہے ،وہ بولی کہ تیرا لے کر گیا ہے ،بالآخر دونوں اپنا فیصلہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس کرانے کے لئے لائیں ۔انہوں نے بچہ بڑی عورت کو دلادیا،پھر وہ دونوں حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان کے سامنے تمام واقعہ بیان کیا، انہوں نے کہاکہ چھری لاؤ ،تم دونوں کو میں دو ٹکرے کرکے دیتا ہوں ،چھوٹی بولی اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ایسا مت کرو،بڑی ہی کو دے دو،چناچہ آپ نے بچہ چھوٹی کو دلادیا
    (صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب بیان اختلاف المجتھدین)
    ۲۔ عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں مجھے یہ بات پسند نہیں کہ صحابہ کرام کے درمیان اختلاف نہ ہوتا اس لیے کہ اگر وہ سب لوگ کسی بات پر اکٹھے ہوجاتے اور پھر کوئی شخص اس بات کو ترک کرتا تو اس نے سنت کو ترک کرنا تھا ، لیکن اب اگر ان کے درمیان اختلاف ہو اور کوئی ایک شخص ان میں سے کسی ایک قول کو اختیار کرلے تو اس نے سنت پر عمل کیا۔
    حمید بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبدالعزیز سے کہا اگر آپ لوگوں کو ایک بات پر اکٹھا کرلیں تو یہ مناسب ہوگا۔ انہوں نے جواب دیا مجھے یہ بھی بات پسند نہیں ہے کہ ان کے درمیان اختلاف ہو حمید بیان کرتے ہیں پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تمام شہروں اور علاقوں میں یہ خط لکھا کہ ہر علاقے کے لوگ اسی کے مطابق فتوی دیں جس پر ان کے اہل علم کا اتفاق ہو۔
    (سنن دارمی،مقدمہ دارمی،اہل علم کا اختلاف)
    قیامت کے قرب کی ایک نشانی
    حضرت حذیفہؓ نے حضورؐ سے قیامت کی ۷۲ نشانیاں روایت کی ہیں ان میں سے ایک نشانی یہاں روایت کر رہا ہوں
    امت کے آخری لوگ اپنے سے پہلے لوگوں پر لعن طعن کریں گے یعنی ان پر تنقید کریں گے اور ان پر اعتماد نہیں کریں گے اور تنقید کرتے ہوئے کہیں گے کہ انہوں نے یہ بات غلط کہی اور یہ غلط طریقہ اختیار کیا ۔
    (چناچہ آج بہت بڑی مخلوق صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخیا ں کر رہی ہے بہت سے لوگ ان آئمہ دین کی شان میں گستاخیا ں کررہے ہیں جن کے ذریعے یہ دین ہم تک پہنچا اور ان کو بیوقوف بتا رہے ہیں کہ وہ
    لوگ قرآن و حدیث کو نہیں سمجھے ،دین کو نہیں سمجھے ،آج ہم نے دین کو صحیح سمجھا ہے )۔
    (درمنثورجلد ۶ص۵۲)

    اقوال آئمہ جن میں یہ ہے کہ میر تقلید نہ کرو
    اب ائمہ اربعہ کے ان ا قوال کے طرف نظر کرتے ہیں جن میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میری تقلید نہ کرنا اور کتاب و سنت ہی سے استدلال کرو۔
    ائمہ اربعہ کے شاگرد خود اپنے وقت کے مجتہد تھے اور اگر وہ چاہتے تو وہ بھی وقت کے امام بن سکتے تھے۔
    یہ سارے اقوال انہوں نے اپنے مجتہد شاگردوں سے کہے ہیں۔
    وہ خود اس کے قائل ہیں کے عامی کے لیے تقلید واجب ہے۔

    یعنی لائق یہی ہے کہ مفتی ایسا شخص ہوجس سے سب لوگ مسئلہ فقہ کا پوچھتے ہوں اور علم فقہ کو سیکھتے ہوں اور اس شہر میں اس کے فتویٰ پر اعتماد رکھتے ہوں اور مفتی جب اس طرح کا ہو تو عامی پر پیروی اس کی واجب ہے ۔روایت کیا ہے اس کو امام حسنؒ نے امام ابو حنیفہ ؒ سے اور ابن رستم نے امام محمدؒ سے اور بشیر نے ابویوسف ؒ سے۔
    (الکفایہ ص ۲۴۹ج۲)
    ابن عثمان اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں