تقلید مجھے سمجھا دو۔!

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از اصلی حنفی, ‏مارچ 28, 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ناصرنعمان

    ناصرنعمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    58
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    جگہ:
    Akrotiri
    محترم اصلی حنفی بھائی آپ ایک بار پھر اپنے مقصد کو بھول گئے ہمیں بار بار یاد دلانا پڑرہا ہے ۔۔۔میرے بھائی آپ مسئلہ تقلید پر شدید الجھنوں کا شکار ہیں ۔۔۔۔اور آپ مسئلہ تقلید سمجھنے آئے ہیں ۔۔۔۔۔ اور آپ فرماتے ہیں کہ آپ کو ٹو دی پوائینٹ جواب دیا جائے ؟؟؟
    میرے بھائی یہ کیسے ممکن ہے کہ جو کچھ آپ پوچھیں اور وہ جواب قدرے وضاحت طلب ہو اور ہم ٹودی پوائینٹ جواب دیں؟؟؟ ۔۔۔۔ اس طرح تو آپ کی الجھنوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا ؟؟؟پھر آپ مسئلہ تقلید کیسے سمجھیں گے ؟؟؟
    اب دیکھیے کہ ہم نے آپ کو ایک نکتہ کی مختصر وضاحت کی لیکن اس کے باوجود آپ ہماری ایک سادہ سی بات سمجھنے کے بجائے الجھن کا شکار ہوگئے اور آپ کو تضاد نظر آگیا ؟؟؟پھر سوچیں کہ اگر ہم آپ کو آپ کے مطالبہ کے مطابق ٹودی پوائینٹ جواب دیتے رہے پھر آپ کس قدر الجھنوں کا شکار ہوسکتے ہیں ؟؟؟
    لہذا ایک تو صبر و تحمل کا مظاہرہ فرمائیے ۔۔۔۔ دوسرا آپ اپنے ذہن کو نیوٹرل فرمائیے۔۔۔۔کیوں کہ جب تک آپ جانبدارانہ نظر سے مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں گے آپ کو ہر بات مثبت کے بجائے منفی نظر آئے گی ۔۔۔۔لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنے ذہن کو غیر جانبدار فرمائیں ۔۔۔۔۔ اس طرح ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کی بہت سے الجھنیں خود بخود دور ہوتی چلیں جائیں گی ۔
    آپ کا تضاد والا نکتہ قدرے وضاحت والا ہے ۔۔۔لہذا تھوڑا صبر سے انتظار فرمائیں ۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کو جلد اور مزید آسان الفاظ میں جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔
    (وما توفیقی الاباللہ)
  2. نعیم

    نعیم وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    78
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جگہ:
    Afghanistan
    ناصر نعمان صاحب
    یہ صاحب مقصد لے کر ہی نہیں آئے ان کی نیت میں فتور ہے آپ دس بیس صفحہ لکھ ڈالیں ،دلائل کے انبار لگادیں کوئی فائدہ نہیں۔
  3. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بھائی ناصر میں اپنے مقصد کو بالکل نہیں بھولا ہوں اور کئی بار کہہ چکا ہوں کہ مجھے جہاں بھی کوئی ا شکال پیدا ہوگا کھل کر لکھ دوں گا کیونکہ مسائل دینیہ میں کوئی شرم نہیں ہے۔
    اور پھر یہ بات بھی کہہ چکا ہوں کہ جب ساتھیوں نے کہنا شروع کردیا کہ آپ سمجھنے نہیں آئے بلکہ بحث ومباحثہ کرنے آئے ہیں۔تومیں نے کہا آپ جو مرضی سمجھیں بحث ومباحثہ سمجھیں یا جیسےسمجھانا ہوتا وہ سمجھ لیں مجھے تو تقلید سمجھانی ہے۔
    تواب میں اپنا کونسا مقصد بھولا ہوں؟ آپ مجھے بتائیں

    بھائی جان شاید میں اپنی بات کی وضاحت نہیں کرسکا تھا۔دوبارہ بیان کردیتا ہوں میرا مطلب یہ تھا کہ ایک نقطے کو بیان کرتے ہوئے صرف اسی نقطے کی تعریف و تشریح میں چاہے جتنا مرضی لکھیں لیکن اسی نقطہ کے ضمن میں کوئی اور ایسی بات بیان نہ کریں جس پر چلنے سے بات موضوع سے دور نکل جائے۔
    امید ہے کہ اب سمجھ آگیا ہوگا۔

    جی بھائی تضاد تھا تو میں نے بیان کیا۔ اب جب آپ وضاحت کریں گے تو بات کھل کر سامنے آجائے گی۔ان شاءاللہ
    ابھی تو ہم ان شاءاللہ تعریفات کو حل کریں گے اور پھر اس کے بعد شرعی حیثیت کو واضح کریں گے۔ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔اور شاید اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بھی سکھانا ہے۔

    بھائی میں نے شروع سے اب تک صبروتحمل کی ڈور کو نہیں جانے دیا۔یہ رویہ شاید آپ بھائیوں کی طرف سے اپنایا گیا ہے۔اور پھر تلقین میں کرتا آیا ہوں۔چلیں آپ مجھے تلقین کررہے ہیں تو جزاک اللہ
    میری طرف سے اس طرح کی کوئی بات پیدا نہیں ہوگی۔ان شاءاللہ

    بھائی جان جب ایک مسئلہ کو سمجھا جاتا ہے تو اس کی تہہ تک بھی جایا جاتا ہے۔اور مسئلہ کوسمجھا بھی تب جاتا ہے جب آدمی ہر طرح سے خالی الذہن ہوکر سمجھے۔
    اور ابھی تک میری طرف سے کوئی جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کیا گیا۔اور آئندہ بھی کوشش کرونگا کہ اس کلیے سے دور ہی رہوں۔

    میں انتظار کررہا ہوں۔
  4. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حسن ظن کا بہت بہت شکریہ عزیز بھائی
    نیت کے مسائل قلوب سے تعلق رکھتے ہیں اور قلبی بات پر حکم لگانا ہمارے بس میں نہیں ہم ظاہر کے مکلف ہیں۔
    ابھی تو میں نے صرف ایک ہی تضاد،اشکال،سوال،اعتراض اٹھایا ہے اور اس کا جواب طلب کیا ہے۔اورابھی سے آپ نے بھائی ناصر نعمان کو نصیحت کردی اور مجھے فتوریت کےدائرےمیں ڈال دیا۔
    ابھی تو ہم دلائل پر پہنچے ہی نہیں ہیں ابھی تو تعریفات ہی حل ہورہی ہیں۔ اور پھر میں نےکوئی غیر اخلاقی جس کی وجہ سے فورم کے اصول وقواعد پر زد آتی ہو نہیں کی
    تو پھر آپ کو کونسی بات بری لگ رہی ہے۔؟
    کیا آپ لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ بیس،تیس صفحات کامضون لکھ کر ڈال دیا اور پھر اس پر کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ؟
    بھائی میرے بحث ومباحثہ سیکشن میں یہ مضمون شروع ہی اس وجہ سے کیا تھا کہ اس پر گفتگو کی جائے، مسئلہ کی تہہ تک جایا جائے اورعلماء سے کچھ سمجھاجائے۔
    امید ہے کہ آئندہ آپ کوئی قیمتی مشورہ دینے کےلیے درمیان میں حائل ہونگے لیکن اس طرح کی باتیں بیان کرنے سے کلی طور گریز ہی کریں گے۔ان شاءاللہ
  5. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    مجھے لگتا ہے کہ شاید آپ مصروف ہونگے لیکن پھر بھی آپ کو یاد دلا رہا ہوں۔

    میں نے ایک بات سے متفق کی وضاحت اور ایک تضاد کی وجہ پوچھی تھی

    وضاحت طلب بات:
    مسلم الثبوت کی پیش کردہ تعریف میں ایک بات یہ بھی منکشف ہوتی ہے کہ عرف میں ان سب باتوں کو تقلید کہا جاسکتا ہے جیسا کہ یہ الفاظ واضح ہیں
    ’’لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے‘‘
    اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عرفاً تقلید کہہ دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن اصطلاحاً تقلید نہیں کہہ سکتے کیونکہ نص پر عمل تقلید نہیں ہوتا۔ اور اس بات کو آپ بھی مانتے ہیں اور واضح کہہ بھی چکےہیں۔
    اور ہماری بحث تقلید عرفی پر نہیں بلکہ تقلید اصطلاحی پر ہے جیسا کہ تعریف میں میں نے کہا کہ تقلید کی لغوی واصطلاحی تعریف کی وضاحت کی جائے۔

    تضاد کی وضاحت
    تضاد یہ پیش کیا تھا کہ کہ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ نص پر عمل تقلید نہیں اور دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ
    عامی کا عالم سے مسئلہ پوچھنا تقلید نہیں لیکن عالم کا عامی کو مسئلہ بتانا اور عامی کا اس پر عمل کرلینا تقلید ہے۔
    تو کیا جو عالم عامی کو مسئلہ بتائے گا وہ ماخذ شریعت کی رو سے نہیں بتائے گا؟ کیا اس مسئلہ کی اصل ماخذ شریعت میں نہیں ہوگی ؟
    اس تضاد کو رفع کریں۔جزاکم اللہ خیرا
  6. شرر

    شرر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جن کو نواب صدیق حسن خان بانی غیر مقلدیت نے سراہا ، تر جمان القرآن مولانا محمد جونا گڈھی نے جن کی تعریف کی ،حافظ ارشاد الحق اثری جن کے مدح خواں ہیں۔شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی نے تحریک آزادی فکر اور ولی اللہ کی مساعٰ جمیلہ نامی کتاب لکھی ۔،مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم جن کو اہل حدیث اور مخالف غیر مقلد سمجھتے تھے اور جو حنفیوں کے یہاں انتہائی محترم سمجھے جاتے ہیں ،انھوں نے جو تقلید کی تعریف فر مائی اسے قبول کیوں نہیں کیا گیا؟
    شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید قبول نہ کرنا کون سی حدیث میں ہے یا قرآن میں ہے ۔۔۔۔واضح فر مائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انتہائی آسان اور عام فہم تعریف ہے ۔کسی ماہر کی رہنمائی میں روایت کا اتباع تقلید ہے ۔
    اس تعریف میں میں کوئی خامی ہو تو واضح فر مائیں ۔ورنہ بحث کو آگے بڑھائیں۔
  7. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    محترم قابل قدر شرر صاحب
    امید ہے کہ مزاج گرامی اعلیٰ ہونگے۔ان شاءاللہ
    جاری بحث میں شامل اگر ہونا بھی ہو تو یہ انداز بالکل غیر مناسب ہوتا ہے۔ دل تو کرتا ہے کہ انتظامیہ سےکہہ کر آپ کی یہ پوسٹ ڈیلیٹ کروا دوں لیکن ایک بار معاف کیا جاتا ہے۔
    آپ نے کچھ معروضات لکھی۔ان معروضات پر کچھ عرض ہے۔اب آئندہ جو سوال اور تضاد ماقبل پیش کیا گیا ہو اور جس پر بحث جاری ہو۔ اسی کے حوالے سے کچھ کہنا ہو تو درمیان میں حائل ہونا ورنہ خاموشی سے جزاک اللہ کہتے ہوئے گزر جانا۔



    آپ تو ایسے ہی غصہ کررہے ہیں آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ اب تک کی گئی بحث میں کہاں پر دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف زیر بحث آئی ہے۔؟
    جب تعریف زیر بحث آئی ہی نہیں اور میرے بھائی ناصر نے یہ تعریف پیش ہی نہیں کہ تو پھر قبول کیوں نہیں کیا جا رہا چھ معنی؟
    آپ سے گزارش ہے کہ پوسٹ نمبر34 میں ناصر بھائی نے تقلید کی لغوی واصطلاحی تعریفات پیش کی ہیں۔ از بر یاد کرلیں۔ جزاک اللہ

    پہلی بات شاہ صاحب کی تعریف بیان ہی نہیں کی گئی
    دوسری بات معذرت کے ساتھ کچھ سخت لفظ لکھ رہا ہوں امید ہے کہ انتظامیہ درگزر کرے گی۔ لیکن اگر درگزر کے قابل نہ ہوتو مناسب الفاظ سےترمیم کردے گی۔ یہ سوال جہالت پر مبنی ہے۔ اس لیے لب کشائی سے پرہیز کیا جارہا ہے۔
    اگر ایسی بات ہے جو آپ کہہ رہے ہیں تو پھر آپ اپنا مسلمان ہونا اپنے امام سے ثابت کرو؟ ؛کہ امام صاحب نے فرمایا ہو کہ ایک آدمی شرر ہوگا اس کا کلر اور قد یہ ہوگا۔وہ فلاں قبیلہ سے تعلق رکھے گا۔ اصلی نام اور ہوگا لیکن جب نیٹ چلائے گا تو نام کچھ اچھا نہیں رکھے گاوغیرہ ویغرہ وہ یہ یہ کام کرے گا اور وہ مسلمان ہوگا۔

    اس طرح کے سوالات وہی لوگ کرتے ہیں جن کا مقصد اصلاح نہیں ہوتا بلکہ کھپ ڈالنا ہوتا ہے۔
    آپ اگر نظر اصلاح سے بیچ میں آنا چاہیں تو ویلکم ورنہ دوبارہ اس طرح کی پوسٹ کرنے کی زحمت مت کرنا۔شکریہ اور پیشگی معذرت برادرعزیز

    پہلی بات حوالہ کے بغیر کوئی بات قابل قبول نہیں کی جاتی
    دوسری بات یہ تعریف ماقبل پیش ہی نہیں ہوئی
    تیسری بات حنفی علماء کی معتبر کتب سے جو تعریفات پیش کی گئی ہیں کیا آپ ان کو نہیں مانتے ؟ کیونکہ ہم انہیں تعریفات پر ہی بات کررہے ہیں۔
    چوتھی بات مسائل میں کسی ایک حدیث وآیات پر فیصلہ نہیں کیاجاتا۔بلکہ ماخذ شریعت پر کلی نظر گھما کر ایک اتھنٹک فیصلہ کیا جاتا ہے۔
    پانچویں بات آپ کی اس تعریف میں اتباع اور تقلید دو لفظ استعمال ہوئے ہیں کیا آپ کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ؟ اصطلاحاً
    چھٹی بات آپ کو اس تعریف سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ شاہ صاحب یہاں تقلید مصطلح مراد لے رہے ہیں ؟ عرفی نہیں
    ساتویں بات آپ کی یہ تعریف اپنے بھائی کے موقف سے مترادف ہے۔ جو وہ معتبر کتب کی روشنی میں بیان کرچکےہیں۔

    بحث تو ہم آگے بڑھا ہی رہے تھے۔آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ بحث جاری کرنا چاہتے ہیں تو ماقبل پوچھی گئی وضاحت پیش فرمائیں۔
    ورنہ پھر ایک طرف ہوکر ناصر بھائی کےجواب کے منتظر ہوں اور ہاں آپ کی پوسٹ پر جو معروضات میں نے پیش کی ہیں ان کا جواب وغیرہ لکھنے کی بھی کوشش مت کرنا۔
    جو بات ناصر بھائی سے مجھے مطلوب ہے اس کا جواب فراہم کردینا ۔
  8. ناصرنعمان

    ناصرنعمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    58
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    جگہ:
    Akrotiri
    محترم اصلی حنفی بھائی ہم پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ ہمارے پاس وقت کی کمی ہوتی ہے ۔۔۔۔اور ہم نے آخری جواب میں آپ سے انتظار کرنے کے لئے درخواست کی تھی لیکن شاید آپ جلدی میں ہیں جو آپ نے اپنا سوال دوبارہ دہرادیا؟؟؟
    میرے بھائی ہماری کچھ نجی مصروفیات بھی ہیں اور کچھ سسٹم کی پرابلم تھی جس کی وجہ سے ہماری آئی ڈی بھی لاگ ان نہیں ہورہی تھی ۔۔۔جس کے بعد ہمیں مجبورا یہ نئی آئی ڈی بنانی پڑی اور پھر اس نئی آئی ڈی کے ساتھ لاگ ان ہوئے ۔۔۔۔لہذا آپ سے درخواست ہے جواب کے لئے انتظار فرمایا کریں ۔جزاک اللہ
    اب آجائیں اپنے جواب کی طرف :
    آپ کا یہ فرمانا کہ ”تو کیا جو عالم جواب دے گا اس کی دلیل شریعت میں نہیں ہوگی ؟“تقلید کی تعریف نہ سمجھنے کی دلیل ہے ۔۔۔مجتھد کا اجتھاد قرآن و حدیث سے اخذ کیا ہواضرورہوتا ہے ۔۔۔لیکن ”مجتھد کا اجتھاد“ قرآن و حدیث نہیں بن جاتا۔
    بس یہی آپ کی غلطی ہے کہ آپ نے تقلید کی تعریف میں ”من غیرحجة “ سے مراد یہ سمجھ لی کہ جب کسی مسئلہ پر شرعی دلیل نہ ہوگی تب ہی تقلید کہلائے گی ۔۔۔اور جب کسی مسئلہ پر شرعی دلیل ہوگی تو تقلید نہیں ہوگی ؟؟؟
    اسی لئے آپ نے فرمایا کہ ”اگر تو دلیل ہوگی پھر تقلید نہیں لیکن اگر دلیل نہیں ہوگی پھر تقلید ہے“
    حالانکہ مسلم الثبوت میں پیش کی گئی ”تقلید کی تعریف میں ” من غیر حجة “سے مراد حج اربعہ شرعیہ میں سے کوئی ایک حجت ہے ۔۔۔یعنی قرآن و حدیث یا اجماع یا قیاس
    لہذا جب مجتھد اپنے اجتھاد سے کسی مسئلہ کا جواب اخذ کرتا ہے تو مجتھد کااجتھادایک رائے کی حیثیت رکھتا ہے ۔۔۔نہ تومجتھد کی رائے قرآن و حدیث ہوتی ہے ۔۔۔نہ اجماعی مقولہ اور نہ بے علم کے حق میں قیاس ۔۔۔اس لئے کہا گیا کہ ”تقلید غیر کے قول جو حجت( اربعہ میں سے) نہیں اُس پر عمل کرنے کانام ہے“ب
    اوراگر آپ ” تقلید “کی تعریف کو اپنے زاویہ سے بھی لے لیں تو پھر آپ پہلے یہ سمجھیں کہ مجتھدکا اجتھاد کن مواقع پر ہوتا ہے ؟؟
    ایک مسلمان کو روز مرہ کی زندگی میں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔اُن کے جوابات کے لئے جب قرآن وحدیث سے رجوع کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث میںروز مرہ کی زندگی میں درپیش آنے والے بے شمار مسائل پرصراحت نہیں۔۔۔جن کو غیر منصوص مسائل کا نام دیا گیا ۔۔۔۔ان غیر منصوص مسائل کے لئے مجتھدقرآن وحدیث میں غوروفکر کرکے ان میں موجود چھپے مسائل کا استنباط کرتا ہے یعنی مجتھد اجتھاد کرتا ہے اور مقلدمجتھد کی تقلیدکرتاہے ۔
    جبکہ دوسری طرف وہ مسائل ہیں جن پر نصوص توموجود ہیں ۔۔۔لیکن ان منصوص مسائل پردو یا دو سے زائد نصوص ہوں اوران میں اختلاف ہو تو رفع تعارض کے لئے مجتھد اجتھاد کرتا ہے اور اپنے اجتھاد کی بنیاد پر ایک نص کو راجح قرار دیتا ہے ۔۔۔لیکن کیوں کہ جاہل نصوص میں اجتھاد کی اہلیت نہیں رکھتا اس لئے وہ مجتھد کی تقلید کرتا ہے۔
    اسی طرح بہت سے ایسے مسائل سامنے آئے جن پر نصوص بھی موجود تھیں ۔۔۔اور اُن میں دیگر نصوص سے تعارض بھی نہ تھا ۔۔۔لیکن ایسی غیر معارض نصوص میں بعض نصوص محتمل ہوتی ہیں اوربعض محکم ہوتی ہیں۔۔۔۔ محتمل یعنی ایسی نص جس میں ایک سے زیادہ معنی کا احتمال پایا جائے۔۔۔۔لہذا مجتھد اجتھاد سے ایک معنی کو راجح قرار دیتا ہے اور مقلد اسکی تقلید کرتا ہے۔
    اور محکم وہ نص جو نہ معارض ہو نہ اسکے معنی میں کوئی احتمال ہو۔ اپنے مرادمیں واضح ہوں۔ ایسے نصوص میں کوئی اجتھاد نہیں۔ نا ہی ان میں تقلید ہے۔
    باقی اس کے علاوہ جتنے بھی مقامات ہیں یعنی جو غیر منصوص ہوں۔۔۔ ۔ یا اگر کسی مسئلہ پر کسی آیت یا حدیث سے ثبوت پایا جاتا ہے تو وہ آیت یا حدیث اور بھی معنی اور وجوہ کا احتمال رکھتی ہو۔۔۔۔یا کسی دوسری آیت یا حدیث سے بظاہر متعارض معلوم ہوتی ہو۔۔۔۔ایسے تمام مقامات پر حضرات مجتھدین جتنا بھی غور وحوض کے ساتھ احتیاط کے ساتھ اجتھاد فرمایا ہو ۔۔۔لیکن آخر کار مجتھد حضرات کیوں کہ غیر نبی تھے ۔۔۔اور ان کی رائے کو ایسی سوفیصد یقینی اور قطیعت حاصل نہیں جیسا کہ صاحب وحی کے فرامین کو یقین اور قطعیت حاصل ہوتی ہے ۔۔۔۔لہذامجتھدین حضرات کی تمام تر احتیاط اور کوششوں کے باوجود اُن کے اجتھاد میں خطاءکا احتمال باقی رہتا ہے ۔
    لہذاجب واضح ہوجاتا ہے کہ مجتھد کا اجتھاد اُس وقت ہوتا ہے کہ جب کسی مسئلہ پر قرآن و حدیث سے صریح ،محکم دلیل نہ پائی جاتی ہو ۔۔۔ تو پھر اس کے بعدقرآن وحدیث کی کسی بھی نص پر مجتھد کا اجتھاد اُس کا گمان تو ہوسکتا ہے کہ اس نص کا مفہوم فلاں مسئلہ کی دلیل ہے۔۔۔ لیکن مجتھد کے پاس صاحب وحی جیسا سوفیصدی یقین اور قطعی علم نہیں ہوتا کہ اسی نص کا مفہوم مسئلہ پر دلیل ہے ۔۔۔۔تو جب مجتھد کے پاس ہی اُس کے اجتھاد کی دلیل کے قطعی ہونے کایقین نہیں تو پھر عامی کا ایسی دلیل جاننے کے بعد ”تقلید“ سے خارج کیسے کہا جاسکتا ہے ؟؟
    البتہ وہ جو مقام ہے کہ جن مسائل پر نص بھی موجود ہے ۔۔۔اور وہ نص کسی دوسری نص سے معارض بھی نہیں ۔۔۔۔اور وہ نص محتمل بھی نہیں ۔۔۔۔بلکہ اُس نص کی مراد واضح ،صریح اور محکم ہے ۔۔۔۔توجب ایسے مقامات پر مسائل کی دلیل واضح،صریح اورمحکم ہونے کی وجہ سے اپنے مفہوم پر سوفیصدی یقین اور قطعیت کا درجہ رکھتی ہے ۔۔۔تو پھراس مقام پرتو مقلدین حضرات خود کہتے ہیں کہ جہاں(صریح ،واضح اور محکم) دلیل ہو پھر کسی کی تقلید نہیں ۔۔۔۔یعنی ایسے صریح مقامات پر نہ تو اجتھاد جائز ہے اور نہ کسی کی تقلید درست ہے ۔۔۔۔باقی آپ کا دوسراجملہ کہ ”دلیل نہیں تو پھر تقلید ہے“ وہ پہلا مقام ہے جو ہم اوپر واضح ہے ۔
    واللہ و اعلم بالصواب
    اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطاءفرمائے۔آمین
    (ضروری گذارش :اگر کسی بھائی یا دوست کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی کمی کوتاہی نظر آئے تو نشادہی کی درخواست ہے ۔جزاک اللہ)
  9. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ناصر بھائی مجھے پتہ نہیں کیوں محسوس ہورہا ہے کہ متقدمین مقلدین علماء نے تقلید کی تعریف سے کچھ اور بیان کرنا چاہا تھا اور متاخرین مقلدین علماء کچھ اور بیان کرنا چاہ رہےہیں۔ چلیں خیر سمجھتے سمجھاتے معلوم ہی جائے گا۔ان شاءاللہ
    ہم کہتے ہیں کہ تقلید بے دلیل بات پر ہوتی ہے۔ آپ کہتے ہیں نہیں دلیل تو ہوتی ہے لیکن بلانظر یعنی مطالبہ دلیل نہیں کیاجاتا۔(دلیل کے طلب نہ کرنے میں کیاحکمتیں ہیں اس پر ان شاءاللہ بحث ہوگی)
    آپ نے جو تقلید کی تعریفات پیش کی تھیں۔ ان تعریفات میں سے بےدلیل کامفہوم اخذ کیا تھا۔ آپ کے بقول بے دلیل نہیں بلکہ بلا مطالبہ دلیل۔
    آپ سے ایک چھوٹی سی گزارش ہے کہ آپ متقدمین علماء احناف کی کتب سے اس بات کاثبوت پیش کرسکتے ہیں ؟
    کیونکہ مقلدین اور غیر مقلدین کانزاع اس تقلید پر ہے جو بے دلیل ہوتی ہے۔( کیونکہ جو عمل دلیل پر ہوگا عرفاً نام اس کو تقلید کا دو یا اتباع کا دو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا) ابھی آپ اس کے انکاری ہیں۔اور ہاں ایک مثال پیش کرتا ہوں

    محمود الحسن دیوبندی فرماتے ہیں:
    ’’ والحق والانصاف ان الترجیح للشافعی فی ھذہ المسالۃ ونحن مقلدون یجب علینا تقلید امامنا ابی حنیفۃ۔‘‘ (تقریر ترمذی، جلد 1، صفحہ 49)
    اور حق اور انصاف یہ ہے کہ (خیار مجلس کے مسئلہ میں) امام شافعی کو ترجیح حاصل ہے لیکن ہم مقلد ہیں ہم پر امام ابوحنیفہ رح کی تقلید واجب ہے۔

    تو یہ تقلید کی کونسی قسم ہے ؟ اور کیا آپ ایسی تقلید کو نہیں مانتے؟ بظاہر تو آپ یہ کہہ رہےہیں لیکن کچھ وسوسہ پیدا ہوا اس لیے پیش کردیا۔ امید ہے کہ تسلی بخش جواب ملے گا۔

    نوٹ
    یہ بات لغوی واصطلاحی تعریف کے سمجھنے سے ہی مطابقت رکھتی تھی اس وجہ سے پیش کردی۔

    باقی اس پوسٹ کی وضاحت پر ہی آپ کی پیش کردہ ماقبل پوسٹ پر گزارشات پیش کرونگا۔ ان شاءاللہ
  10. ناصر نعمان

    ناصر نعمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    29
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    جگہ:
    Pakistan
    میرے بھائی آپ کو ایسا صرف اس لئے محسوس ہورہا ہے کیوں کہ آپ مسئلہ سمجھنا نہیں چاہتے بلکہ مقلدین کو ہرانا چاہتے ہیں
    کیوں کہ اگر تو آپ کا مقصد سیکھنا ہوتا تو آپ اس بات کو یوں محمول کرلیتے کہ ہوسکتا کہ آپ کی عقل و فہم میں مقدمین علماء کی بات نہیں سمجھ آئی ہو۔۔۔لیکن جب متاخرین علماء نے مسئلہ کی وضاحت فرمادی توپھر اعتراض کیسا ؟؟؟
    کیوں کہ اگر تو کسی سیکھنے والے یا اعتراض کرنے والے کے نزدیک مقدمین علماء کی کوئی عبارت ایسی تھی جو مجمل تھی یا اُس میں اشکالات تھے تو پھر یقینا مقدمین علماء اپنی کتابوں سے نکل کر اپنی عبارتوں کی وضاحت کرنے تو آنہیں سکتے تھے بعد کے علماء ہی وضاحت کرسکتے تھے جو انہوں نے کی ۔۔۔لیکن افسوس اُن متعصب لوگوں پر کہ جنہیں عبارت کی وضاحت مل جانے کے بعد بھی اپنی مرضی کے معنوں پر اصرار کرتے ہیں ؟؟؟
    اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین
    میرے بھائی آپ کے کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے ....تقلید مقلدین کرتے ہیں ...لہذا جو کچھ مقلدین کہیں گے وہ مانا جائے گا یا وہ مانا جائے گا جو غیر مقلدین کہیں گے ؟؟؟
    نیز آپ کویہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ بے دلیل یا بنا دلیل سے کیا مراد ہے ..... لیکن پھر آپ کا اصرار سمجھ سے بالاتر ہے ؟؟؟
    ہمیں نہیں سمجھ کہ “حجت“ اور“ دلیل“ میں کیا فرق ہے ؟؟؟ اگر آپ کوئی فرق سمجھتے ہیں تو خود ہی واضح فرمادیں
    افسوس کی بات یہ ہے کہ آپ توجہ سے ہماری پوسٹ کا مطالعہ بھی نہیں فرماتے ۔۔۔یہ لیجیے ہم اپنی پچھلی پوسٹ میں یہ تعریفات بھی پیش کیں تھیں :
    بے دلیل سے کیا مراد ہے ؟؟؟اور آپ کو سمجھنے میں کیا غلطی لگی تھی؟؟؟ .... یہ آپ کو پچھلی پوسٹ میں واضح کیا جاچکا ہے
    میرے بھائی اس سوال کو اگلے مرحلہ کے لئے اٹھا رکھیں ...کیوں کہ یہ سوال دوسرے مرحلہ سے تعلق رکھتا ہے ....پہلے آپ "تقلید" کو سمجھ لیں...اس کے بعد ان شاء اللہ آپ کے اس اشکال کی بھی وضاحت پیش کرنے کی کوشش کریں گے.
  11. ناصرنعمان

    ناصرنعمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    58
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    جگہ:
    Akrotiri
    ضروری تصحیح :ہم نے اصلی حنفی صاحب کے مطالبہ “مقدمین علماء احناف سے بلا مطالبہ دلیل کے حوالہ“ کے ضمن لفظ“مقدمین“ پر غور نہ کرسکے اور متاخرین علماء کے حوالاجات پیش کردئیے ۔۔۔۔لہذا مذکورہ مطالبہ کے جواب میں ہماری اسی پوسٹ میں شروع کا جواب ہی اس مطالبہ کا جواب سمجھ لیا جائے۔جزاک اللہ
  12. شرر

    شرر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
  13. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اصلی حنفی بھائی تقلید کے مختلف درجے ہیں ۔۔۔۔!
    پہلا درجہ جاہل اور ان پڑھ عوام کے لئے بلا دلیل اور بغیر حجت ہی ماننا تقلید ہے ۔۔۔! کیونکہ ان کی عقلی سطح اور ان کا شعور ان دلائل کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔۔۔!
    اہلِ علم حضرات کے لئے دلیل کا دوسرا درجہ ہے ۔۔۔ وہ بلا دلیل نہیں بلکہ با دلیل مانتے ہیں ۔۔۔۔! جیسا کہ علماء حضرات اپنے سے بڑے اور پہلے کے بزرگانِ دین کے دلائل کو سمجھ کر ان کی بات کو مانتے ہیں ۔۔۔!
    اور تیسرا درجہ دورِ حاضر کے مجتہد حضرات کا ہے ۔۔۔ وہ خود توبنیادی طور پر مقلد ہوتے ہیں مگر اپنے اجتہاد سے اپنے امام کے قول سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں ۔۔۔۔! مگر دوسرے لوگوں پر اپنا اجتہاد زبردستی ٹھونس نہیں سکتے ۔۔۔۔!

    اگر آپ واقعی تقلید کے بارے میں سمجھنا چاہتے ہیں تو مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’’تقلید کی شرعی حیثیت ‘‘ کا مطالعہ کریں ۔۔۔ ! ان شاء اللہ آپ کے اشکالات دور ہو جائیں گے ۔۔۔!

    اور اگر آپ کا مقصد محض بحث کرنا ہے اور مقلدین پر اعتراضات لگانا ہے تو اس کے لئے بھی فقیر حاضر ہو گا ۔۔۔۔! ان دنوں فقیر امتحانات کی تیاری کے سلسلہ میں مشغول ہے ۔۔۔ ان شاء اللہ امتحانات کے بعد آپ اپنا یہ شوق بھی پورا فرما سکتے ہیں ۔۔۔!
  14. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ناصر بھائی کی پوسٹ نمبر47 پر کچھ گزارشات

    ناصر بھائی کہ پوسٹ نمبر47 کے عوض میں نے پوسٹ نمبر48 میں اس بات کو واضح کرنے کےلیے کہ تقلید بغیر دلیل کے ہوتی ہے پر مولانا محمود الحسن دیوبندی کا قول نقل کیا تھا۔ لیکن اس کےجواب میں ناصر بھائی نےکہا کہ اس کو اگلے مرحلے تک مؤخر کردیا جاتا ہے۔چلیں جیسے ناصر بھائی کی مرضی۔

    پوسٹ نمبر47 پر ہی کچھ باتیں بیان کرنے کا کہا تھا وہ اب پیش کی جاتی ہیں۔
    میں نے سوال کیا تھا کہ جو عالم عامی کو مسئلہ بتائے گا تو کیا اس کی اصل شریعت میں موجود نہیں ہوگی ۔؟ اس پر بھائی جان آپ نے کہ ’’ مجتہد کا اجتہاد قرآن وحدیث سے اخذ کیا ہوا ضرور ہوتا ہے لیکن ’’مجتہد کا اجتہاد‘‘ قرآن وحدیث نہیں بن جاتا۔‘‘

    بھائی جان اس بات سے میں بھی متفق ہوں کہ مجتہد کی بات قرآن وحدیث نہیں بن جاتی ۔لیکن اشکال ابھی بھی باقی ہے کہ مجتہد بھی تو اپنی بات نہیں کررہا ناں۔ وہ بھی تو قرآن وحدیث سے مسئلہ سمجھ کر اور غوروخوض کرکے عامی کو بتا رہا ہے۔ یعنی اصل تو قرآن وحدیث ہی ٹھہرے۔ یا تو آپ یہ کہیں کہ جو مسئلہ درپیش ہوا ہے اس کا حل شریعت محمدیہﷺ میں سرے سے تھا ہی نہیں۔مجتہد نے اپنی طرف سے بتایا ہے؟ پھر تو کہا جاسکتا ہے کہ مجتہد کا اپنا قول ہے۔اور اس قول کی اصل بھی مجتہد ہی ہے۔قرآن وحدیث نہیں۔امید ہے کہ اب آپ میرے اشکال کو سمجھ گئے ہونگے۔ان شاءاللہ

    میں نے کہا تھا کہ ’’جہاں پر دلیل ہوگی وہاں تقلید نہیں اور جہاں تقلید ہوگی وہاں دلیل نہیں ہوگی۔‘‘ اس پر آپ نے کہا کہ آپ نے ’’من غیر حجۃ‘‘ سے غلط مراد سمجھ لی ہے۔ تو بھائی جان آپ سے ہی گزارش کررہاہوں کہ اس کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟ متقدمین کی کتب سے واضح کردیں۔ کچھ مزید گزارشات اس کے جواب کے بعد پیش کرونگا یا پھر موقعہ اور وقت ملتے ہیں متقدمین اور متاخرین کی تعریفات میں پیش کرنے کی کوشش کرونگا۔آپ تسلی بخش تبصرہ فرمادینا۔

    مزید آپ نے اس پوسٹ میں منصوص علیہ مسائل، غیر منصوص علیہ مسائل، متعارض منصوص ، محتمل منصوص وغیرہ کی بات کی۔جن کاخلاصہ کچھ یوں تھا۔
    صرحی منصوص علیہ مسائل: ان میں تقلید نہیں اور نہ ہی مجتہد کو اجتہاد کی ضرورت ہے۔کیونکہ واضح نص موجود ہے۔
    غیر منصوص علیہ مسائل ، جن میں مجتہد اجتہاد اور عامی مجتہد کی تقلید کرتا ہے۔
    محتمل منصوص: مجتہد اپنے اجتہاد سے ایک معنی متعین کرتا ہے اور عامی تقلید کرتا ہے۔

    اب آپ کی بیان کردہ ان باتوں سے مجھے تو کہیں بھی یہ بات ثابت ہوتی نظر نہیں آتی کہ عامی پر یہاں تقلید مصطلح کا ٹھپہ لگا دیا جائے۔
    کیونکہ یہ ساری باتیں دلیل پر ہی ہیں۔کیونکہ اصل (نص) موجود ہوتی ہے۔(و ہ الگ بات ہے کہ واضح نہیں ہوتی) پس مجتہد مخفی وپوشیدہ کو ظاہراور واضح بنارہا ہوتا ہے۔

    نوٹ
    یہ کچھ اشکال تھا اس وجہ سے مزید وضاحت طلب کرنے کےلیے بیان کردیا ہے۔امید ہے کہ مدلل اور تسلی بخش جواب ملے گا۔ان شاءاللہ
  15. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    چليں يوں ہی سمجھ لو جيسا کہ آپ لوگ بار بار کہہ چکے ہو؟ اگر آپ کے ذہن ميں يہ بات آہی چکی ہے تو پھر ايسا ہی کرليتے ہيں ؟ شاید اسی طرح ہی کوئی حل نکل آئے
    اگر ميری بار بار وضاحت کے باوجود بھی آپ لوگ نہيں سمجھ پائے تو پھر اصلاح نہيں ہرانا جتانا ہی بيچ ميں لے آتے ہيں کيا آج تک اس ہرانے جتانے کے چکر ميں کوئی ايک دوسرے کو اپناموقف سمجھا پايا ہے ؟ مالکم کیف تحکمون

    متقدمين علماء کا وہی مفہوم جو وہ بيان کرنا چاہتے تھے اور جس مفہوم پر آج تک مقلديت عمل پيرا ہے۔ اسی مفہوم کو متاخرين بيان کريں گے تو ہم جيسے سادہ لوح مانيں گے۔ متقدمين کی طرف سے بيان کی گئی تعريفات کی تشريح متاخرين پر ہوتی ہے تحريف نہيں ہوتی۔ اور آپ لوگ تعريف ميں تحريف کر رہے ہيں ليکن عملاً وہی تقليد مانتے ہو جو متقدمين بيان کرچکے ہيں۔يعنی منہ ميں رام رام اور بقل ميں چھری

    اللہ تعالی صراط مستقيم کی توفيق دے۔ آمين ليکن يہدي من يشاء الي صراط مستقيم

    بہت خوب سائيکل بنانے والا سائيکل کو کار کا نام دے دے اور ہم مان ليں؟ بہت خوب بيان ہے۔ ٹھيک ہے تقليد آپ لوگ کرتے ہيں تو جو عملاً تقليد کرتے ہيں اسی کو اسی مفہوم ميں لفظاً بيان کرنے سے کيوں کتراتےہيں ؟

    بھائی صاحب يہ آپ لوگوں کی چالاکی ہے۔ آپ مجھے متقدمين مقلدين علماء سے جن ميں شوافع، حنابلہ اور مالکيہ سب شامل ہيں يہ ثابت کرکےدے ديں کہ تقليد بلا مطالبہ دليل ہوتی ہے۔ حقيقت ميں دليل موجود ہوتی ہے۔؟

    ماشاءاللہ عربی عبارت ميں کچھ بيان ہے اور ترجمہ کچھ سے کچھ کيا ہوا ہے بھائی جان محض حنس عقيدت پر دليل کی موجودگی میں دليل کا مطالبہ نہ کرنا اگر آپ يہاں سے ثابت کررہےہيں تو پھر آپ مجھے بتائيں کہ تھانوی صاحب نے آگے يہ الفاظ کس وجہ سے بيان فرمائے ہيں ؟؟
    ’’فلا يکون الرجوع الي الرسول تقليدا لہ‘‘


    بريکٹ ميں موجود الفاظ عبارت کے کس حصے کاترجمہ ہے ؟ من غير تامل الدليل ميں تامل کا کيا معني کريں گے آپ ؟

    بلانظر في الدليل يہاں آپ نے نظر کامعني دھيان کرناکياہوا ہے اگر ميں اس کاترجمہ يوں کردوں کہ تقليد غير کي اتباع کانام ہے(يعني جو وہ کہے اسي کو آنکھ بند کرکے مان ليا جائے) دليل کو ديکھے بغير (يعني يہ نہ سوچے سمجھے کہ اس پر دليل ہے بھي کہ نہيں)
    کيا آپ اس ترجمہ سے متفق ہيں ؟

    ٹھيک ہے بھائي
    پھر ايک باراپني تمام باتوں کا خلاصہ کچھ ان الفاظ ميں کہہ ديتاہوں کہ تقليد مصطلح جس پر آپ عامل ہيں اس کي جامع مانع تعريف پيش کريں?باقي باتيں اس تعريف کے پيش کرنے کے بعد
  16. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    معذرت کے ساتھ کچھ پوسٹ رہتی ہیں جن پر کچھ لکھا جانا چاہیے لیکن معلوم نہیں کہ چار، پانچ دن سے نیٹ کا مسئلہ ہے یا میرے پی سی میں مسئلہ ہے یا کوئی اور گڑ بڑ۔ براوزنگ نہیں ہو پارہی ۔ جو ہی یہ مسئلہ حل ہوتا ہے۔ان شاءاللہ پھر بھر پور شرکت کرونگا۔
  17. ناصر نعمان

    ناصر نعمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    29
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    جگہ:
    Pakistan
    میرے بھائی پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ ہم اپنی بات اُس وقت تک آگے لے کر چلتے ہیں جب تک سامنے والا سیکھنا سکھانے کی خواہش رکھتا ہو ...لیکن جب وہ "ضد" پر اتر آئے تو پھر ہم مزید بات چیت سے اجتناب کرتے ہیں ...کیوں‌ کہ ایک طرف تو بات چیت بحث برائے بحث تک محدود ہوجاتی ہے تو دوسری طرف ایسے شخص کے لئے ہزاروں دلائل بھی ناکافی ہوتے ہیں‌...کیوں کہ جنہوں نے ماننا ہوتا ہے تو اُن بھلے لوگوں کے لئے چند باتیں ہی کافی ہوتی ہیں .
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح کی سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے.آمین
    ویسے آپ کی ہر بات کا جواب بحث برائے بحث کے طور پر دینے کے بجائے صرف ایک نکتہ کی وضاحت کردیتےہیں کہ آپ نے ہماری بات سمجھنے کے بجائے کیا رویہ اختیار کیا ؟؟؟
    جب ہم نے لکھا :
    تو آپ فرماتے ہیں کہ :
    اور ہم نے لکھا کہ :
    تو آپ نے فرمایا:
    آپ کے ان دونوں جوابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو یہ آپ کی کم فہمی یا فراست کی کمی ہے یا پھر یہ جوابات آپ کے سخت معتصب رویہ کی وجہ سے ؟؟؟
    میرے بھائی آپ آسانی کے لئے اپنے اعتراضات کی حقیقت یوں سمجھیں کہ مقدمین حضرات محدثین کرام نے کچھ اصول حدیث واضح فرمائے .....اس کے بعد بعد میں آنے والے محدثین کرام نے ان اصولوں کی تشریحات واضح فرمادیں‌.....پھر آج اگر کسی منکر حدیث کو ان اصولوں میں سے کسی اصول کوئی اعتراض ہوتا ہے ..
    ..اور جب اُس کو بعد والے محدثین کرام کی تشریحات سے مسئلہ واضح کیا جاتا ہے .
    .لیکن اس کے باوجود وہ منکر الحدیث مسئلہ سمجھنے کے بجائے اپنے خود ساختہ مفہوم اڑجاتا ہے کہ نہیں جی جو میں سمجھا ہوں وہ ہی صحیح ہے ..... یا تم لوگوں نے فلاں اصول کے مفہوم میں تحریف کردی ہے وغیرہ وغیرہ
    تو ایمانداری سے جواب دیں‌کہ کیا ایسے شخص کی خود ساختہ تشریحات قابل التفات ہوں گی ؟؟؟(جبکہ خود وہ منکر الحدیث ہے)
    یعنی جو لوگ کسی علم و فنون سے وابستگی رکھتے ہیں اُنہی کی پیش کردہ تشریحات معتبر ہوں گی یا اُن کی جو اس کے منکر ہیں ؟؟؟
    یہ تو وہی بات ہوجائے گی کہ کوئی غیر مسلم کسی دینی اصول کے من مانے مفہوم نکال کر اصرار کرے تو اُس کیا بات معتبر ہو گی یا مسلمانوں کی جو دین اسلام کے ماننے والے ہیں ؟؟؟
    ہاں البتہ ایسے لوگوں کو اُن کے حال پر ضرور چھوڑا جاسکتا ہے کہ تم لوگ جو چاہے من مانے مطلب اخذ کرتے رہو .... ایک روز مقرر ہے جزا و سزا کا وہیں اس کا فیصلہ ہوجائے گا کہ کون صحیح تھا یا کون غلط؟؟؟
    اور یہ نکتہ بھی سمجھ لیں کہ دو علیحدہ علیحدہ مفہوم اپنی اپنی جگہ درست کیوں محسوس ہوتے ہیں ؟؟
    کیوں کہ اکثر اوقات بعض بعض عبارتوں کے کئی کئی مفہوم نکل آتے ہیں جو مختلف زاویوں سے دیکھنے والوں کو مختلف مفہوم کے نظر آتے ہیں ..... بس اسی لئے اکثر اوقات اختلاف پیدا ہوجاتا ہے کہ دونوں فریقین اپنی اپنی زاویہ سے عبارت کو دیکھتے ہوئے اپنے اپنے اخذ کئے ہوئے مفہوم پر مصر ہوجاتے ہیں ..... اس کی سادہ سی مثال یوں سمجھ لیں کہ دو اچھے دوستوں میں کسی بات پر جھگڑا ہوجانے کے بعد ایک دوست کہتا ہے کہ تم یہاں سے چلے جاؤ .
    اب یہ ایک سادہ سا جملہ ہے .... اور دوست کی مراد یہ ہے کہ یہ ابھی یہاں سے چلا جائے تاکہ بات زیادہ نہ بڑھے .
    لیکن دوسرا دوست یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے دوست نے جھگڑے کے سبب اُس کو یہاں سے نکل جانے کو کہہ دیا
    لہذا بات بننے کے بجائے مزید بگڑ جاتی ہے
    تو مقصد یہ ہے کہ جب اتنے سادہ سادہ الفاظ ہونے کے باوجود دو الگ الگ مفہوم نکل آنے کے سبب غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے تو پھر ایک غیر زبان کو سمجھنے میں غلط فہمی پیدا کیوں نہیں ہوسکتی ؟؟؟
    لیکن اصل بات یہ ہے کہ غلط فہمی دور کرنے کے لئے دلوں میں گنجائش ہونا ضروری ہے .۔۔۔لیکن افسوس کے کچھ لوگ ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے لئے دلوں مین گنجائش پیدا کرنے کے بجائے اپنے موقف پر اس طرح جم جاتے ہیں کہ (معاذ اللہ ) اُن کی فہم سے اخذ کی ہوئی رائے کوئی حدیث ہے کہ جس رائے کو چھوڑنے سے اُن کا ایمان کا ضیاع ہوجائے گا ؟؟؟
    دوبارہ سمجھیں کہ ایک طرف "بنا دلیل" سے مراد یہ نکلتی ہے کہ بغیر کسی شرعی دلیل کے کسی کی بات ماننا
    تو "بنا دلیل" سے دوسری مراد یہ بھی نکلتی ہے کہ وہ قول جو شریعت کی حجتوں (یعنی کتاب اللہ ، حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ، اجماع اور قیاس صحیح) میں سے نہ ہو اُس کی بات ماننا
    یعنی فقہی قول نہ تو قرآن کی آیات ہے ....نہ حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے .... نہ اجماعی مقولہ ہے .... نہ بے علم کے حق میں قیاس شرعی ہے .
    .یعنی کسی کا قول قرآن و حدیث سے اخذ کیا ہونا اور بات ہے ......اور یہی قول قرآن وحدیث ہونا اور بات ہے .
    اور یہ دوسری بات کی نفی کرنے کے لئے فقہائے کرام نے "بنا دلیل" کا استعمال کیا ..... اور آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں‌کہ مراد یہ ہے کہ مقلدین کے نزدیک تقلید اُس قول پر عمل کرنا ہے جس کی شریعت میں کوئی دلیل ہی نہ ہو ؟؟؟
    اگر تھوڑا بھی عقل کو استعمال کریں گے تو اتنی معمولی بات تو آپ خود بھی سمجھ سکتے ہیں‌کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ پوری امت کا ایک بہت بڑا طبقہ ایسی کسی تقلید پر عمل کرسکتا ہے جیسا کہ آپ لوگ سمجھتے ہیں ؟؟؟
    لہذا اگر سمجھنے والا کوئی ہو تو اُس کو سمجھنے کے لئے بے شمار دلائل ہیں ....لیکن جس نے نا سمجھنا ہو تو اس کے لئے ہزاروں دلائل بھی ناکافی ہیں .
    اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے ،آمین
    اگر تو آپ کو ہماری بات سمجھ آجائے تو بات آگے بڑھائیے گا ۔۔۔بصورت دیگر معذرت
  18. ناصرنعمان

    ناصرنعمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    58
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    جگہ:
    Akrotiri
    میرے بھائی آپ کو مذکورہ اشکال ہم سمجھ گئے تھے ۔۔۔لہذا اسی لئے ہم نے آپ کو مسئلہ دوسرے طریقہ سے بھی سجھایا تھا لیکن آپ نے شاید غور نہیں فرمایا۔۔۔۔لہذا ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں اپنے اس اشکال کا جواب ۔۔۔۔لیکن گذارش صرف اتنی ہے کہ براہ مہربانی توجہ سے مطالعہ فرمائیے گا۔جزاک اللہ
    ہم نے لکھا تھا :
    اوراگر آپ ” تقلید “کی تعریف کو اپنے زاویہ سے بھی لے لیں تو پھر آپ پہلے یہ سمجھیں کہ مجتھدکا اجتھاد کن مواقع پر ہوتا ہے ؟؟
    ایک مسلمان کو روز مرہ کی زندگی میں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔اُن کے جوابات کے لئے جب قرآن وحدیث سے رجوع کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث میںروز مرہ کی زندگی میں درپیش آنے والے بے شمار مسائل پرصراحت نہیں۔۔۔جن کو غیر منصوص مسائل کا نام دیا گیا ۔۔۔۔ان غیر منصوص مسائل کے لئے مجتھدقرآن وحدیث میں غوروفکر کرکے ان میں موجود چھپے مسائل کا استنباط کرتا ہے یعنی مجتھد اجتھاد کرتا ہے اور مقلدمجتھد کی تقلیدکرتاہے ۔
    جبکہ دوسری طرف وہ مسائل ہیں جن پر نصوص توموجود ہیں ۔۔۔لیکن ان منصوص مسائل پردو یا دو سے زائد نصوص ہوں اوران میں اختلاف ہو تو رفع تعارض کے لئے مجتھد اجتھاد کرتا ہے اور اپنے اجتھاد کی بنیاد پر ایک نص کو راجح قرار دیتا ہے ۔۔۔لیکن کیوں کہ جاہل نصوص میں اجتھاد کی اہلیت نہیں رکھتا اس لئے وہ مجتھد کی تقلید کرتا ہے۔ 
    اسی طرح بہت سے ایسے مسائل سامنے آئے جن پر نصوص بھی موجود تھیں ۔۔۔اور اُن میں دیگر نصوص سے تعارض بھی نہ تھا ۔۔۔لیکن ایسی غیر معارض نصوص میں بعض نصوص محتمل ہوتی ہیں اوربعض محکم ہوتی ہیں۔۔۔۔ محتمل یعنی ایسی نص جس میں ایک سے زیادہ معنی کا احتمال پایا جائے۔۔۔۔لہذا مجتھد اجتھاد سے ایک معنی کو راجح قرار دیتا ہے اور مقلد اسکی تقلید کرتا ہے۔
    اور محکم وہ نص جو نہ معارض ہو نہ اسکے معنی میں کوئی احتمال ہو۔ اپنے مرادمیں واضح ہوں۔ ایسے نصوص میں کوئی اجتھاد نہیں۔ نا ہی ان میں تقلید ہے۔
    باقی اس کے علاوہ جتنے بھی مقامات ہیں یعنی جو غیر منصوص ہوں۔۔۔ ۔ یا اگر کسی مسئلہ پر کسی آیت یا حدیث سے ثبوت پایا جاتا ہے تو وہ آیت یا حدیث اور بھی معنی اور وجوہ کا احتمال رکھتی ہو۔۔۔۔یا کسی دوسری آیت یا حدیث سے بظاہر متعارض معلوم ہوتی ہو۔۔۔۔ایسے تمام مقامات پر حضرات مجتھدین جتنا بھی غور وحوض کے ساتھ احتیاط کے ساتھ اجتھاد فرمایا ہو ۔۔۔لیکن آخر کار مجتھد حضرات کیوں کہ غیر نبی تھے ۔۔۔اور ان کی رائے کو ایسی سوفیصد یقینی اور قطیعت حاصل نہیں جیسا کہ صاحب وحی کے فرامین کو یقین اور قطعیت حاصل ہوتی ہے ۔۔۔۔لہذامجتھدین حضرات کی تمام تر احتیاط اور کوششوں کے باوجود اُن کے اجتھاد میں خطاءکا احتمال باقی رہتا ہے ۔
    لہذاجب واضح ہوجاتا ہے کہ مجتھد کا اجتھاد اُس وقت ہوتا ہے کہ جب کسی مسئلہ پر قرآن و حدیث سے صریح ،محکم دلیل نہ پائی جاتی ہو ۔۔۔ تو پھر اس کے بعدقرآن وحدیث کی کسی بھی نص پر مجتھد کا اجتھاد اُس کا گمان تو ہوسکتا ہے کہ اس نص کا مفہوم فلاں مسئلہ کی دلیل ہے۔۔۔ لیکن مجتھد کے پاس صاحب وحی جیسا سوفیصدی یقین اور قطعی علم نہیں ہوتا کہ اسی نص کا مفہوم مسئلہ پر دلیل ہے ۔
    لہذا یہی وہ مقام ہے کہ جہاں مقلد مجتھد کی (بنا دلیل) تقلید کرتا ہے
    اور یہی بات نہ سمجھنے کے سبب آپ لوگ ایسے مواقع پر اپنے گمان (یعنی کسی ایسے غیر منصوص مسائل یامحتمل نصوص یا متعارض نصوص کو دیکھ کر اپنی رائے قائم کرنا) کو یقین اور قطعیت سے دلیل سمجھ لیتے ہیں اور پھر جو آپ کے گمان سے اختلاف کرتا ہے اُس پر آپ مخالفت حدیث کا الزام لگادیتے ہیں ؟؟؟؟گویا آپ کی رائے نہ ہوئی بلکہ(معاذاللہ) حدیث ہوگئی کہ آپ لوگوں کا اخذکردہ مفہوم ہی مسئلہ پر سوفیصدی یقینی قطعی دلیل ہے ؟؟؟
    البتہ وہ جو مقام ہے کہ جن مسائل پر نص بھی موجود ہے ۔۔۔اور وہ نص کسی دوسری نص سے معارض بھی نہیں ۔۔۔۔اور وہ نص محتمل بھی نہیں ۔۔۔۔بلکہ اُس نص کی مراد واضح ،صریح اور محکم ہے ۔۔۔۔تو ایسے مقامات پر مسائل کی دلیل واضح،صریح اورمحکم ہونے کی وجہ سے اپنے مفہوم پر سوفیصدی یقین اور قطعیت کا درجہ رکھتی ہے ۔۔۔تو پھراس مقام پرتو مقلدین حضرات خود کہتے ہیں کہ جہاں(صریح ،واضح اور محکم) دلیل ہو پھر کسی کی تقلید نہیں ۔۔۔۔یعنی ایسے صریح مقامات پر نہ تو اجتھاد جائز ہے اور نہ کسی کی تقلید درست ہے ۔
    واللہ و اعلم بالصواب
    اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین
    (کسی بھائی یا دوست کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی کمی کوتاہی نظر آئے تو نشادہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں۔جزاک اللہ)
  19. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    دیکھیں بھائی میرا ارادہ نہ کسی کو ہرانا ہے اور نہ جتانا اور نہ ہی ایسے سوالات واشکالات پیدا کرکے واہ واہ یا اوئے اوئے کی آوازیں سننا۔
    اقتباس کےبجائے آپ کی باتوں کو بلیو کلر کردیا ہے۔

    آپ کے ان دونوں جوابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو یہ آپ کی کم فہمی یا فراست کی کمی ہے یا پھر یہ جوابات آپ کے سخت معتصب رویہ کی وجہ سے ؟؟؟

    کم فہمی سمجھیں یا فراست کی کمی سمجھیں یا پھر لغویین اور مصطلحین کی تقلید پر بیان کی گئی تعریفات کو وجہ بنالیں۔ لیکن متعصب سمجھنا یہ آپ کی بھول ہے۔ اگر متعصب ہوتا تو اب تک میرے کلمات واضح ہوچکے ہوتے۔
    میرا فی الحال تو صرف یہ اعتراض ہے کہ تقلید کی تعریفات کو دیکھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تقلید بے دلیل بات پر ہوتی ہے اور آپ کہتے ہیں نہیں دلیل تو ہوتی ہے لیکن دلیل طلب نہیں کی جاتی۔ اسی پر ابھی تک ہماری بات ہے۔

    یعنی جو لوگ کسی علم و فنون سے وابستگی رکھتے ہیں اُنہی کی پیش کردہ تشریحات معتبر ہوں گی یا اُن کی جو اس کے منکر ہیں ؟؟؟

    بالکل بھائی جان جو علم وفنون سےوابستگی رکھتے ہیں ۔ انہیں کی بات معتبر ہوگی۔اسی وجہ تو بار بار کہہ رہا ہوں کہ تقلید کی اصطلاحی تعریفات میں یہ بات کہاں ہے کہ ’’ دلیل تو ہوتی ہے لیکن دلیل کا مطالبہ نہیں کیاجاتا ۔‘‘ کسی بھی اصول کی کتاب سے آپ پیش فرمادیں۔ ان شاءاللہ میرا یہ اشکال رفع ہوجائے گا۔اور آپ کے پیش کرنے کےبعد اگر نہ مانوں پھر مجھے کہنا کہ بھائی آپ متعصب ہیں۔سیکھنے نہیں آئے ۔

    ہاں البتہ ایسے لوگوں کو اُن کے حال پر ضرور چھوڑا جاسکتا ہے کہ تم لوگ جو چاہے من مانے مطلب اخذ کرتے رہو .... ایک روز مقرر ہے جزا و سزا کا وہیں اس کا فیصلہ ہوجائے گا کہ کون صحیح تھا یا کون غلط؟؟؟

    کسی بھی سچے ، مخلص مسلمان کی یہ سوچ قطعاً نہیں ہوسکتی ۔کہ جو جس حال میں ہے اسی کو اسی حال میں مرنے دو۔ ہمیں اس سے کیا غرض۔ ہم تو اسلامی احکامات پر عمل کرنے والے ہیں۔
    نہیں بھیا ہر مسلمان کے دل میں وہ جذبہ ہونا چاہیے جو جذبہ ہمارےنبی ﷺ کےدل میں تھا اور آپﷺ کو بستر پر آرام نہیں کرنےدیتا تھا۔

    ایک غیر زبان کو سمجھنے میں غلط فہمی پیدا کیوں نہیں ہوسکتی ؟؟؟

    میں آپ کی بات سمجھ چکا ہوں بھائی جان۔ اسی وجہ سے تو بار بار کہہ رہا ہوں ۔کیونکہ کئی کتب سے تقلید کی تعریفات دیکھی ہیں ۔ اور جو کتاب آپ لوگوں نے پیش کی تھی اس میں موجود ص 30 پر یہ تعریف تھی۔اور نقل تب ہی کی جب اس تعریف سے متفق تھے۔وہ تعریف یہ تھی۔
    ’’معنی تقلید کے اصطلاح میں اہل اصول کی یہ ہے کہ مان لینا اور عمل کرنا ساتھ قول بلا دلیل اس شخص کے جس کا قول حجت شرعی نہ ہو۔ تو بناء بر اس اصطلاح کی رجوع کرنا عامی کا طرف مجتہدوں کی اور تقلید کرنی ان کی کسی مسئلہ میں تقلید نہ ہوگی۔(کیونکہ لاعلمی کےوقت ان کی طرف رجوع کرنا نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اوروہ شخص اہل الذکر اوراہل علم کی بات ماننے کا شرعاً مکلف ہے۔صفدر)‘‘ بلکہ اس کو اتباع اور سوال کہیں گے۔ اور معنی تقلید کے عرف میں یہ ہیں کہ وقت لاعلمی کےکسی اہل علم کاقول مان لینا اور اس پر عمل کرنا اور اسی اور اسی معنی عرفی میں مجتہدوں کے اتباع کو تقلید بولا جاتا ہے۔الخ (معیار الحق ص66) ‘‘
    اب اس تعریف میں جو باتیں بیان ہوئی ان باتوں سے آپ متفق ہیں۔اس تعریف میں تقلید کے دو معانی بیان ہوئے ہیں ایک اصطلاحی اور ایک عرفی۔ ہم تو اصطلاحی کی بات کررہےہیں۔عرفی کی نہیں۔اور اصطلاحی میں یہ الفاظ ہیں
    ’’ عمل کرنا ساتھ قول بلا دلیل اس شخص کے جس کا قول حجت شرعی نہ ہو۔ ‘‘
    اور ساتھ پھر اس تعریف میں یہ بھی کہ نص کی طرف رجوع تقلید نہیں۔اگر تقلید دلیل پر ہوتی تو پھر اس بات کو علیحدہ ذکر کرنےکی ضرورت کیوں تھی ؟؟؟

    دوبارہ سمجھیں کہ ایک طرف "بنا دلیل" سے مراد یہ نکلتی ہے کہ بغیر کسی شرعی دلیل کے کسی کی بات ماننا
    تو "بنا دلیل" سے دوسری مراد یہ بھی نکلتی ہے کہ وہ قول جو شریعت کی حجتوں(یعنی کتاب اللہ ، حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ، اجماع اور قیاس صحیح) میں سے نہ ہو اُس کی بات ماننا۔

    ’’ وہ قول شریعت کی حجتوں میں سے نہ ہو اس کی بات ماننا۔‘‘ میں کچھ سمجھا نہیں ؟ کیا آپ کی مراد یہ تو نہیں کہ ’’ جو قول شریعت کی حجتوں میں سے نہ ہو وہ ماننا ‘‘
    اور پھر جو مجتہد اجتہاد کرے گا آپ کے بقول وہ غیر منصوص مسائل میں، متعارض دلائل میں ، محتمل دلائل میں،اجتہاد کرے گا اور مقلد تقلید۔یہ تینوں صورتیں علیحدہ ہیں۔
    غیر منصوص مسائل: جن پیش آمدہ مسائل پر واضح نص موجود نہیں۔
    متعارض دلائل: نص تو ہے لیکن نصوص میں ٹکراؤ ہے۔
    محتمل دلائل: نص تو ہے لیکن کئی احتمالات ہیں ۔ایک معنی مختص کرنا

    تو کیا تینوں صورتوں میں تقلید کی جائے گی ؟ کیونکہ آپ کےبقول دلیل تو صرف پہلی صورت میں نہیں ہے باقی دونوں صورتوں میں دلائل تو ہیں لیکن واضح نہیں۔

    اگر تھوڑا بھی عقل کو استعمال کریں گے تو اتنی معمولی بات تو آپ خود بھی سمجھ سکتے ہیں‌کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ پوری امت کا ایک بہت بڑا طبقہ ایسی کسی تقلید پر عمل کرسکتا ہے جیسا کہ آپ لوگ سمجھتے ہیں ؟؟؟

    یہ تو لاعلمی والی بات ہے بھائی جان ۔ مزید اس پر کچھ نہیں کہتا

    اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے ،آمین

    آمین ثم آمین
  20. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یعنی آپ کی مراد احکام حوادث ہیں؟ یعنی جو نت نئے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ یا آپ کی مراد مجتہدین کی حیات تک جو نئے مسائل پیدا ہوئے تھے۔ وہ مراد ہیں۔جن کا جواب مجتہدین نے نصوص پر قیاس کرکے دے دیا تھا۔؟ کنفیوژ ہوگیا تھا۔ سوچا تصدیق کرلوں۔
    کیونکہ دور رواں میں تو بہت سارے نئے نئے مسائل ایسے جنم لے رہے ہیں جن کی واضح نصوص تو شریعت میں نہیں ؟

    بھائی یہ تو واضح بات ہے اگر قرآن وحدیث میں قیامت تک آنے والے ہر ہر مسئلہ کاحکم موجود ہوتا تو پھر پتہ نہیں یہ قرآن کتنا ضخیم ہوتا۔؟ اللہ نے قرآن وحدیث کے ذریعے اصول بتائےہیں۔ان اصول کی روشنی میں ہی اہل الذکر نت نئے مسائل کاحل تلاش کرتے رہیں گے۔
    یہاں پر آپ مجھے ایک بات بتائیں جس کی طرف پہلے بھی کئی بار اشارہ کرچکا ہوں۔ کہ نئے پیدا ہونےوالے مسائل کا جواب بالکل قرآن وحدیث میں نہیں ہے ؟ یا کسی صورت جواب تو ہے لیکن اہل الذکر نے اس جواب کو تلاش کرنا ہے ؟

    بھائی جان تقلید کی تعریف کو اگر دیکھاجائے تو یہ تقلید میں آتا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے بھی اس بات کو قبول کرلیا ہے کہ نص پر عمل تقلید نہیں۔ جب مجتہد نے دو نصوص میں سے ایک نص کے بارے میں بتا دیا کہ یہ راجح ہے۔ تو وہ راجح قرار دی جانے والی نص تو ہے۔ اور نص پر عمل تقلید نہیں کہلاتا اور اس بات کا اعتراف آپ خود کرچکے ہیں۔
    تو پھر آپ کیوں کہہ رہےہیں کہ جاہل تقلید کرے گا۔ ؟ جاہل تو یہاں نص پر ہی عمل کررہا ہے۔ ہاں نص میں تعارض تھا اور جاہل کےلیے اس تعارض کو رفع کرنا مشکل تھا۔ اب اس کو مجتہد نے تعارض رفع کردیا ہے۔ تو وہ عمل مجتہد کی بات پر نہیں بلکہ نص پر کررہاہے۔

    یہ بھی پہلی صورت ہے۔ یعنی نص پر عمل ہی ہے۔

    ایک سوال ہے کہ کیا احناف واقعی ایسی نصوص کےمقابلہ میں تقلید نہیں کرتے ؟ یعنی نص کی موجودگی میں احناف تقلید نہیں کرتے ؟

    بھائی پھر وہی بات کردی۔ آپ خود کہہ رہے ہیں کہ نص ہوتی ہے۔لیکن محکم نہیں محتمل۔ اور پھر مجتہد اس محتمل نص سے موجود محتمل مسائل کو قیاس کرکے یادوسرے الفاظ میں اجتہاد سے محکم بنادیتاہے۔ اور عامی مجتہد کی طرف سے بتائی جانے والی نص پر عمل کرتا ہے۔ نہ کہ مجتہد کی بات پر ۔ اورمیرے خیال میں نہ ہی اس کو قیاس کا نام دیاجاسکتا ہے۔
    تو جب تقلید غیر منصوص مسائل میں ہوتی ہے تو بھائی جان یہاں تو نص ہے۔ اور نص پر عمل تقلید نہیں ہوتا۔ اقرار کرچکےہیں۔
    اور پھر تقلید کی تعریف میں بھی یہ بات نہیں آتی

    ہم کسی پر الزام نہیں لگاتے۔؟ کیا آپ ثابت کرسکتے ہیں کہ جہاں ہم نے بغیر دلیل کےالزام لگایاہو۔ لیکن جس ضمن میں آپ کہہ رہے ہیں۔اس ضمن میں دکھانا ہے۔

    یہ بھی آپ کا الزام ہی سمجھ رہا ہوں۔ کیونکہ آپ کو روکا نہیں جا سکتا کہ آپ صرف یہ یہ لکھیں۔ آپ آزاد ہیں ۔ لیکن میں موضوع سے باہر نہیں جاؤں گا۔ ان شاءاللہ

    بھائی جان کہنا اور ہوتا ہے۔ اور پھر عمل اور ہوتا ہے۔ کہنے میں تو آدمی بہت کچھ کرنے کا اور نہ کرنے کا کہہ جاتا ہے۔ لیکن دیکھا عمل سے جاتا ہے۔
    کیا آپ شورٹی سے کہہ سکتے ہیں کہ احناف نص کی موجودگی میں تقلید نہیں کرتے ؟

    نوٹ
    باقی اللہ سے سمجھنے کی توفیق کی دعا آپ سب کےلیے کریں۔ اور خود بھی اپنےموقف کو حتمی نہ سمجھ لیں۔ بلکہ خود بھی سوچیں کہ آیا کہیں میں تو پھسلا ہوا نہیں ہوں ؟
    ہر وقت میرے لیے، اپنے لیے اور باقی سب کےلیے جو ہمارے مسلمان بھائی صراط مستقیم سے کسی بھی طرح ہٹےہوئے اللہ سب کو صراط مستقیم پر لے آئے۔آمین
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں