تقلید کی شرعی حیثیت

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از sahj, ‏مارچ 25, 2012۔

  1. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

    حیثیت تقلید
    اس بات سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا کہ دین کی اصل دعوت یہ ہے کہ صرف اللہ تعالٰی کی اطاعت کی جائے،یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی اس لئے واجب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے احکام الٰہی کی ترجمانی فرمائی ہے،کونسی چیز حلال ہے؟ کونسی چیز حرام؟ کیا جائز ہے؟ کیا ناجائز؟ ان تمام معاملات میں خالصۃً اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنی ہے ، اور جو شخص اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے کسی اور کی اطاعت کرنے کا قائل ہو، اور اس کو مستقل بالزات مطاع سمجھتا ہو وہ یقیناً دائزہ اسلام سے خارج ہے، لہٰزہ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کے احکام کی اطاعت کرے۔

    لیکن قرآن و سنت میں بعض احکام تو ایسے ہیں جنہیں ہر معمولی لکھا پڑھا آدمی سمجھ سکتا ہے، ان میں کوئی اجمال،ابہام یا تعارض نہیں ہے، بلکہ جو شخص بھی انہیں پڑھے گا وہ کسی الجھن کے بغیر ان کا مطلب سمجھ لے گا، مثلاً قرآن کریم کا ارشاد ہے:-
    لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا
    الحجرات،،سورۃ نمبر49آیت12
    ترجمہ:- “تم میں سے کوئی کسی کو پیٹھ پیچے برا نہ کہے“
    جو شخص عربی جانتا ہو وہ اس ارشاد کے معنی سمجھ جائے گا ، اور چونکہ نہ اس میں کوئی ابہام ہے اور نہ کوئی دوسری شرعی دلیل اس سے ٹکراتی ہے، اسلئے اس میں کوئی الجھن پیش نہیں آئے گی، یا مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے :-

    لا فضل لعربی علی عجمی
    “کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں“
    یہ ارشاد بھی بلکل واضح ہے، اس میں کوئی پیچیدگی اور اشتباہ نہیں ، ہر عربی داں بلا تکلف اس کا مطلب سمجھ سکتا ہے، اسکے برعکس قرآن و سنت کے بہت سے احکام وہ ہیں جن میں کوئی ابہام یا اجمال پایا جاتا ہے، اور ایسے بھی ہیں جو قرآن ہی کی کسی دوسری آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کسی دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتے ہیں ، ہر ایک کی مثال ملاحظہ فرمائیے:-
    (1)
    وَ الۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ
    سورۃ: 2 آیۃ: 228
    “اور جن عورتوں کو طلاق دیدی گئی ہو وہ تین “قر“۔گزرنے تک انتظار کریں گی“
    اس آیت میں مطلقہ عورت کی عدت بیان کی گئی ہے ، اور اس کے لئے “تین قر“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ، لیکن “قر“ کا لفظ عربی میں “حیض“ (ماہواری) کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور “طہر“ (پاکی) کے لئے بھی، اگر پہلے معنی لئے جائیں تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ مطلقہ کی عدت تین مرتبہ ایام ماہواری کا گزر جانا ہے،اور اگر دوسرے معنی لئے جائیں تو تین طہر گزرنے سے عدت پوری ہوگی، اسموقع پر ہمارے لئے یہ سوال پیدہ ہوتا ہے کہ ان میں سے کونسے معنی پر عمل کریں؟

    (2)
    اک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:-
    من لم یترک المخابرۃ فلیؤذن بحرب من اللہ و رسولہ
    (ابوداؤد)
    “جوشخص بٹائی کا کاروبار نہ چھوڑے وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان جنگ سن لے“
    اس حدیث میں بٹائی کی ممانعت کی گئی ہے ، لیکن بٹائی کی بہت سی صورتیں ہیں ، یہ حدیث اس بارے میں خاموش ہے کہ یہاں بٹائی کی کونسی صورت مراد ہے؟
    کیا بٹائی کی ہر صورت ناجائز ہوگی؟
    یا بعص صورتیں جائز قرار پائیں گی،اور بعض ناجائز؟
    حدیث میں اک قسم کا اجمال پایا جارہا ہے، جس کی وجہ سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ بٹائی کو علی الاطلاق ناجائز کہہ دیں؟ یا اس میں کوئی تفصیل یا تقسیم ہے؟

    (3)
    اک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:-
    من کان لہ امام فقراءۃ الامام لہ قراءۃ
    “جس شخص کا کوئی امام ہوتو امام کی قراءت اسکے لئے بھی قراءت بن جائے گی“
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ نماز میں جب امام قراءت کر رہا ہو تو مقتدی کو خاموش کھڑا رہنا چاہیئے ، دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد ہے :-
    لاصلواۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب
    (بخاری)
    “جس شخص نے سورہء فاتحہ نہ پڑھی اسکی نماز نہیں ہوگی“
    اس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کے لئے سورہء فاتحہ پڑھنی ضروری ہے ، ان دونوں حدیثوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ سوال پیدہ ہوتا ہے کہ آیا پہلی حدیث کو اصل قرار دیے کر یوں کہا جائے کہ دوسری حدیث میں صرف امام اور منفرد کو خطاب کیا گیا ہے اور مقتدی اس سے مستثنٰی ہے ، یا دوسری حدیث کو اصل قرار دے کر یوں کہا جائے کہ پہلی حدیث میں قراءت سے مراد سورہء فاتحہ کے سوا کوئی دوسری سورۃ ہے اور سورہء فاتحہ اس سے مستثنٰی ہے؟

    آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قرآن و حدیث سے احکام کے مستنبط کرنے میں اس قسم کی بہت سی دشواریاں پیش آتی ہیں ، اب اک صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنی فہم و بصیرت پر اعتماد کرکے اس قسم کے معاملات میں خود کوئی فیصلہ کرلیں اور عمل کریں ، اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں ازخود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے یہ دیکھیں کہ قرآن و سنت کے ان ارشادات سے ہمارے جلیل القدر اسلاف نے کیا سمجھا ہے؟ ان کی فہم و بصیرت پر اعتماد کریں ، اور انہوں نے جوکچھ سمجھا ہے اس کے مطابق عمل کریں،

    اگر انصاف اور حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو ہمارے خیال کے مطابق اس بات میں دورائے نہیں ہوسکتیں کہ ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت خاصی خطرناک ہے، اور دوسری صورت بہت محتاط ، یہ صرف تواضح اور کسر نفسی ہی نہیں ، اک ناقابل انکار حقیقت ہے ، کہ علم و فہم ، ذکاوت و حافظہ و دیانت، تقوٰی اور پرہیزگاری، ہر اعتبار سے ہم اسقدر تہی دست ہیں کہ قرون اولٰی کے علماء سے ہمیں کوئی نسبت نہیں،پھر جس مبارک ماحول میں قرآن کریم نازل ہوا تھا ،قرون اولٰی کے علما اس سے بھی قریب ہیں، اور اس قرب کی بناء پر انکے لئے قرآن و سنت کی مراد کو سمجھنا زیادہ آسان ہے ، اسکے برخلاف ہم عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے عرصہ بعد پیدہ ہوئے ہیں کہ ہمارے لئے قرآن و حدیث کا مکمل پس منظر، اسکے نزول کے ماحول، اس زمانے کے طرز معاشرت اور طرز گفتگو کا ہوبہو اور بعینہی تصور بڑا مشکل ہے، حالانکہ کسی کی بات کو سمجھنے کے لئے ان تمام باتوں کی پوری واقفیت انتہائی ضروری ہے،

    ان تمام باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے اگر ہم اپنی فہم پر اعتماد کرنے کی بجائے قرآن و سنت کے مختلف التعبیر پیچیدہ احکام میں اس مطلب کو اختیار کرلیں جو ہمارے اسلاف میں سے کسی عالم نے سمجھا ہے ، تو کہاجائے گا کہ ہم نے فلاں عالم کی تقلید کی ہے۔

    یہ ہے تقلید کی حقیقت ، اگر میں اپنے مافی الضمیر کو صحیح سے سمجھا سکا ہوں تو یہ بات آپ پر واضح ہوگئی ہوگی کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید صرف اس موقع پر کی جاتی ہے جہاں قرآن و سنت سے کسی حکم کے سمجھنے میں کوئی دشواری ہو، خواہ اس بناء پر کہ قرآن و سنت کی عبارت کے ایک سے زیادہ معنی نکل سکتے ہوں، خواہ اس بناء پر کہ اس میں کوئی اجمال ہو، یا اس بناء پر کہ اس مسئلے میں دلائل متعارض ہوں، چنانچہ قرآن و سنت کے جو احکام قطعی ہیں ، یا جن میں کوئی اجمال و ابہام، تعارض یا اسی قسم کی کوئی الجھن نہیں ہے وہاں کسی امام و مجتہد کی تقلید کی کوئی ضرورت نہیں، چنانچہ مشہور حنفی عالم علامہ عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں:-

    “فالامر المتفق علیہ المعلوم من الدین بالضرورۃ لا یحتاج الی التقلید فیہ لاحد الاربعۃ کفر ضیۃ الصلوٰۃ والصوم والزکوٰۃ والحج و نحو ھاوحرمۃ الزنا واللواطۃ و شرب الخمر والقتل والسرف والغصب وما اشبہ ذلک والامر المختلف فیہ ھوالذی یحتاج الی التقلید فیہ“
    (خلاصۃ التحقیق فی حکم التقلید و التلفیق، صفحہ 4، مطبوعہ مکتبۃالیشیق، استنبول)

    “پس وہ متفقہ مسائل جن کا دین میں ہونا بداہتہً معلوم ہے، ام میں ائمہ اربعہ میں سے کسی کی تقلید کی ضرورت نہیں،
    مثلاً نماز،روزے، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کی فرضیت اور زنا، لواطت،شراب نوشی، قتل،چوری اور غصب وغیرہ کی حرمت ،
    دراصل تقلید کی ضرورت ان مسائل میں پڑتی ہے جن میں علماء کا اختلاف رہا ہو“

    اور علامہ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :-
    “واما الاحکام الشرعیۃ فضربان: احد ھما یعلم ضرورۃ من دین الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کالصوات الخمس والزکوٰۃ وصوم شھر رمضان والحج و تحریم الزنا و شرب الخمر و مااشبہ ذلک،فھذالایجوز التقلید فیہ لان الناس کلھم یشترکون فی ادراکہ والعلم بہ، فلامنی للتقلید فیہ، وضرب اٰخر لایعلم الا بالنظر و الاستدلال کفروع العبادات و المعاملات و الفروج والمناکحات و غیر ذلک من الاحکام فھذایسوغ فیہ تقلید بدلیل قول اللہ تعالٰی “فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون“ ولاء نالو منعنا التقلید فی ھذہ المسائل التی ھی من فروغ الدین لاحتاج کل احد ان یتحلم ذلک وفی ایجاب ذلک قطع عن المعایش وھلاک الحرث والماشیۃ فوجب ان یسقط“
    (الفقیہ والمتفقہ،للخطیب البغدادی رحمہ اللہ،جلد2،صفحہ27،28،مطبوعہ دارالافتا،سعودیہ ریاض سن 1389ھ)

    “اور شرعی احکام کی دوقسمیں ہیں، اک وہ احکام ہیں جن کا جزو دین ہونا بداہۃً ثابت ہے ، مثلاً پانچ نمازیں ، زکوٰۃ ۔۔۔۔ رمضان کے روزے،حج ، زنا، شراب نوشی کی حرمت اور اسی جیسے دوسرے احکام، تو اس قسم میں تقلید جائز نہیں، کیونکہ ان چیزوں کا علم تمام لوگوں کو ہوتا ہی ہے ، لہٰزہ اس میں تقلید کے کوئی معنی نہیں اور دوسری قسم وہ ہے جس کا علم فکر و نظر اور استدلال کے بغیر نہیں ہوسکتا، جیسے عبادات و معاملات اور شادی بیاہ کے فروعی مسائل، اس قسم میں تقلید درست ہے، کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے “فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون“ ، نیز اس لئے کہ اگر ہم دین کے ان فروعی مسائل میں تقلید ممنوع کردیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر شخص باقاعدہ علوم دین کی تحصیل میں لگ جائے ، اور لوگوں پر اس کو واجب کرنے سے زندگی کی تمام ضروریات برداب ہوجائیں گی اور کھیتیوں اور مویشیوں کی تباہی لازم آئے گی، لہٰزہ ایسا حکم نہیں دیا جاسکتا“۔

    اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں :-

    “مسائل تین قسم کے ہیں، اول و جن میں نصوص متعارض ہیں،
    دوم وہ جن میں نصوص متعارض نہیں مگر وجوہ و معانی متعددہ کو محتمل ہوں ، گو اختلاف نظر سے کوئی معنی قریب کوئی بعید معلوم ہوتے ہوں،
    سوم وہ جن میں تعارض بھی نہ ہو اور ان میں اک ہی معنی ہوسکتے ہیں،
    پس قسم اول میں رفع تعارض کے لئے مجتہد کو اجتہاد کی اور غیر مجتہد کو تقلید کی ضرورت ہوگی،قسم ثانی ظنی الدلالۃ کہلاتی ہے، اس میں تعیین احد الاحتمالات کے لئے اجتہاد و تقلید کی حاجت ہوگی قسم ثالث قطعی الدلالت کہلاتی ہے اس میں ہم بھی نہ اجتہاد کو جائز کہتے ہیں نہ اس کی تقلید کو“
    (الاقتصادفی التقلید والاجتہاد،صفحہ 34، مطبوعہ دہلی بہ جواب شبہ سیزدہم)


    مزکورہ بالا گزارشات سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اسے بزات خود واجب الاطاعت سمجھ کر اتباع کی جارہی ہے، یا اسے شارع (شریعت بنانے والا ، قانون ساز) کا درجہ دی کر اس کی ہر بات کو واجب الاتباع سمجھا جارہا ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پیروی تو قرآن و سنت کی مقصود ہے، لیکن قرآن و سنت کی مراد کو سمجھنے کے لئے بحیثیت شارح قانون کی ان بیان کی ہوئی تشریح و تعبیر پر اعتماد کیا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت کے قطعی احکام میں کسی امام یا مجتہد کی تقلید ضروری نہیں سمجھی گئی، کیونکہ وہاں اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا اصل مقصد اس کے بغیر بآسانی حاصل ہوجاتا ہے۔

    یہ بات (کہ جس امام کی تقلید کی جائے اسے صرف شارح قرار دیا جائے بزات خود اسے واجب الاتباع نہ سمجھا جائے) خود اصطلاح “تقلید“ کے مفہوم میں داخل ہے، چنانچہ علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ اور علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ “تقلید“ کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں :-
    “التقلید العمل بقول من لیس قولہ احدی الحجج بلا حجۃ منھا“
    (تیسرا التحریر، لاءمیربادشاہ البخاری رحمہ اللہ ، جلد4،صفحہ246،مطبوعہ مصر1351ھ و فتح الغفارشرح المنار لابن نجیم رحمہ اللہ، جلد2،صفحہ3، مطبوعہ مصر1355ھ)
    “تقلید کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کا قول مآخز شریعت میں سے نہیں ہے اسکے قول پر دلیل کا مطالبہ کئے بغیر عمل کرلینا“

    اس تعریف نے واضح کردیا کہ مقلد اپنے امام کے قول کو مآخز شریعت نہیں سمجھتا، کیونکہ مآخز شریعت صرف قرآن و سنت (اور انہی کے ذیل میں اجماع و قیاس) ہیں،البتہ یہ سمجھ کر اس کے قول پر عمل کرتا ہے کہ چونکہ وہ قرآن و سنت کے علوم میں پوری بصیرت کا حامل ہے ، اسلئے اس نے قرآن و سنت سے جو مطلب سمجھا ہے وہ میرے لئے زیادہ قابل اعتماد ہے۔

    اب آپ بہ نظر انصاف غور فرمائیے کہ اس عمل میں کونسی بات ایسی ہے جسے “گناہ“ یا “شرک“ کہا جاسکے؟

    اگر کوئی شخص کسی امام کو شارع (قانون ساز) یا بزات خود واجب الاطاعت قرار دیتا ہو تو بلاشبہ اس عمل کو شرک کہا جاسکتا ہے ، لیکن کسی کو شارح قانون قرار دے کر اپنے مقابلے میں اس کی فہم و بصیرت پر اعتماد کرنا تو افلاس علم کے اس دور میں اس قدر ناگزیر ہے ، کہ اس سے کوئی مفر نہیں ہے ۔



    اسکی مثال یوں سمجھئیے کہ پاکستان میں جو قانون نافز ہے وہ حکومت نے کتابی شکل میں مدون اور مرتب کرکے شایع کر رکھا ہے ۔ لیکن ملک کے کروڑوں عوام میں سے کتنے آدمی ہیں جو براہ راست قانون کی عبارتیں دیکھ دیکھ کر اس پر عمل کرسکتے ہوں؟ بے پڑھے لکھے افراد کا تو کچھ کہنا ہی نہیں ہے، ملک کے وہ بہترین تعلیم یافتہ افراد جنہوں نے قانون کا باقاعدہ علم حاصل نہیں کیا ، اعلٰی درجہ کی انگریزی ناننے کے باوجود جراءت نہیں کرتے کہ کسی قانونی مسئلہ میں براہ راست قانون کی کتاب دیکھیں، اور اس پر عمل کریں، اس کے بجائے جب انہیں کوئی قانون سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ کسی ماہر وکیل کو تلاش کرکے اس کے قول پر عمل کرتے ہیں، کیا کوئی صحیح العقل انسان اس طرز عمل کا یہ مطلب سمجھ سکتا ہے کہ انہوں نے اس وکیل کو قانون سازی کا اختیار دے دیا ہے اور وہ ملکی قانون کی بجائے وکلاء کو اپنا حاکم تسلیم کرنے لگے ہیں؟
    بلکل یہی معاملہ قرآن و سنت کے احکام کا ہے ، کہ ان کی تشریح و تفسیر کے لئے ائمہ مجتہدین کی طرف رجوع کرنے اور ان پر اعتماد کرنے کا نام “تقلید“ ہے ، لہٰزہ تقلید کرنے والے کو یہ الزام نہیں دیا جاسکتا کہ وہ قرآن و سنت کے بجائے ائمہ مجتہدین کا اتباع کر رہا ہے۔

    تقلید کی دو صورتیں

    پھر اس تقلید کی بھی دو صورتیں ہیں ، اک تو یہ کہ تقلید کے لئے کسی خاص امام، مجتہد کو معین نہ کیا جائے، بلکہ اگر اک مسئلہ میں اک عالم کا مسلک اختیار کیا گیا ہے تو دوسرے مسئلہ میں کسی دوسرے عالم کی رائے قبول کرلی جائے اس کو “تقلید مطلق“ یا “تقلید عام“ یا “ تقلید غیر شخصی“ کہتے ہیں،
    اور دوسری صورت یہ ہے کہ تقلید کے لئے کسی ایک مجتہد عالم کو اختیار کیا جائے، اور ہر اک مسئلہ میں اسی کا قول اختیار کیا جائے، اسے “تقلید شخصی“ کہا جاتا ہے۔
    تقلید کی ان دونوں وسموں کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اک شخص براہ راست قرآن و سنت سے احکام مستنبط کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ جس مجتہد کو قرآن و سنت کے علوم کا ماہر سمجھتا ہے اس کی فہم و بصیرت اور اس کے تفقہ پر اعتماد کرکے اس کی تشریحات کے مطابق عمل کرتا ہے، اور یہ چیز ہے جس کا جواز بلکہ وجوب قرآن و سنت کے بہت سے دلائل سے ثابت ہے:-


    قرآن کریم اور تقلید

    تقلید کی جو حقیقت اوپر بیان کی گئی ہے اس کی اصولی ہدایتیں خود قرآن کریم میں موجود ہیں:-

    پہلی آیت
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ
    النساء، سورۃ نمبر 4،آیت نمبر 59
    اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو، اور اپنے آپ میں سے “اولالامر“ کی اطاعت کرو۔

    “اولوالامر“ کی تفسیر میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا کہ اس سے مراد مسلمان حکام ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے فقہاء مراد ہیں، یہ دوسری تفسیر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ تفسیر معاویہ بن صالح عن علی بن ابی طلحہ کے طریق سے مروی ہے،(ابن جریر رحمہ اللہ۔جلد5،صفحہ 88) جو ان کی روایات کا قوی ترین طریق ہے(دیکھئیے الاتقان نوع نمبر 80)، تفسیر ابن کبیر، جلد3،صفحہ334) حضرت مجاہد رحمہ اللہ، حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ ، حضرت عطاء بن السائب رحمہ اللہ ، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ ، حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ اور دوسرے بہت سے مفسرین سے منقول ہے، اور امام رازی رحمہ اللہ نے اسی تفسیر کو متعدد دلائل کے زریعہ ترجیح دیتے ہوئے لکھا ہے :-
    “اس آیت میں لفظ “ اولواالامر “ سے علماء مراد لینا اولٰی ہے “
    اور امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ دونوں مراد ہیں ، اور مطلب یہ ہے کہ حکام کی اطاعت سیاسی معاملات میں کی جائے ، اور علماء و فقہا کی مسائل شریعت کے باب میں (احکام القرآن للجصاص رحمہ اللہ، جلد 2،صفحہ256،باب فی طاعۃ اولی الامر) اور علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امراء کی اطاعت کا نتیجہ بھی بالآخر علماء ہی کی اطاعت ہے، کیونکہ امراء بھی شرعی معاملات میں علماء کی اطاعت کے پابند ہیں، “فطاعۃ الامراء تبح لطاعۃ العلماء“(اعلام الموقعین لابن القیم رحمہ اللہ، جلد1،صفحہ 7)
    بحرحال اس تفسیر کے مطابق آیت میں مسلمانوں سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں اور ان علماء و فقہاء کی اطاعت کریں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے شارح ہیں ، اور اسی اطاعت کا اصطلاحی نام “تقلید“ ہے، رہا اسی آیت کا اگلہ جملہ جس میں ارشاد ہے کہ :-

    فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ،
    “پس اگر کسی معاملہ میں تمہارا باہم اختلاف ہوجائے تو اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دو اگر اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو“

    سو یہ اس تفسیر کے مطابق مستقل جملہ ہے، جس میں مجتہدین کو خطاب کیا گیا ہے ، چنانچہ امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ “اولوالامر“ کی تفسیر علماء سے کرنے کے تائید میں لکھتے ہیں:-

    “وقولہ تعالٰی عقیب ذلک فان تنازعتم فی شی ء فردوہ الی اللہ والرسول ، یدل علٰی ان اولی الامرھم الفقھا لانہ امر سائر الناس بطاعتھم ثم قال فان تنازعتم الخ فامراولی الامر برد المتنازع فیہ الی کتاب اللہ و سنۃ نبیتہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اذکانت العامۃ و من لیس من اھل العلم لیست ھذہ وجوہ دلائلھا علٰی احکام الحوادث فثبت انہ خطاب للعلماء۔“

    “اور اولالامر کی اطاعت کا حکم دینے کا حکم دینے کے فوراً بعد اللہ تعالٰی کا یہ فرمانا کہ “اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان اختلاف ہوتو اس کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹادو“ اس بات کی دلیل ہے کہ “اولالامر“ سے مراد فقہاء ہیں، کیونکہ اللہ تعالٰی نے تمام لوگوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا، پھر فان تنازعتم الخ فرماکر “اولوالامر“ کو حکم دیا کہ جس معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہو اسے اللہ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف لوٹا دو ، یہ حکم فقہاء ہی کو ہوسکتا ہے ، کیونکہ عوام الناس اور غیر اہل علم کا یہ مقام نہیں ہے ،اس لئے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں ہوتے کہ اللہ کی کتاب اور سنت کی طرف کسی معاملے کو لوٹانے کا کیا طریقہ ہے ؟ اور نہ انہیں نت نئے مسائل مستنبط کرنے کے لئے دلائل کے طریقوں کا علم ہوتا ہے ، لہٰزہ ثابت ہوگیا کہ یہ خطاب علماء کو ہے۔(احکام القرآن ،جلد،2،صفحہ257)




    مشہور اہل حدیث عالم حضرت علامہ نواب صدیق حسن خانصاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی تفسیر میں اعتراف فرمایا ہے کہ “فان تنازعتم ۔۔الخ۔۔“ کا خطاب مجتہدین کو ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:-

    “والظاھر انہ خطاب مستقل مستانف موجہ للمجتھدین۔“
    “اور ظاہر ہے کہ یہ مستقل خطاب ہے جس میں روئے سخن مجتہدین کی طرف ہے“
    (تفسیر فتح البیان،جلد2،صفحہ308،مطبعۃ العاصمۃ،قاہرہ)

    لہٰزہ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ جولوگ اجتہاد کی اہلیت نہیں رکھتے ، وہ مختلف فیہ مسائل میں براہ راست قرآن و حدیث سے رجوع کر کے خود فیصلہ کریں بلکہ پہلے جملے میں خطاب ان لوگوں کو ہےجو قرآن و سنت سے براہ راست احکام مستنبط نہیں کرسکتے، اور ان کا فریضہ بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں، جس کا طریقہ یہ ہے کہ “اولوالامر“ یعنی فقہاء سے مسائل پوچھیں،اور ان پر عمل کریں، اور دوسرے جملے میں خطاب مجتہدین کو ہے کہ وہ تنازعہ کے موقعہ پر کتاب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا کریں، اور اپنی اجتہادی بصیرت کو کام میں لاکر قرآن و سنت سے احکام نکالا کریں،


    دوسری آیت

    قرآن کریم میں ارشاد ہے:-
    وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ
    النساء،سورۃ نمبر 4،آیتن نمبر 83
    “اور جب ان (عوام الناس) کے پاس امن یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو یہ اس کی اشاعت کردیتے ہیں، اور اگر یہ معاملے کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یا اپنے “اولوالامر“ کی طرف لوٹادیتے ہیں، تو ان میں سے جو لوگ اسکے استنباط کے اہل ہیں وہ (اسکی حقیقت) کو خوب معلوم کرلیتے“
    (اس آیت کا پسمنظر یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے منافقین جنگ و امن کے بارے میں نت نئی افواہیں اڑاتے رہتے تھے، بعض سادہ لوح مسلمان ان افواہوں پر یقین کرکے انہیں آگے بڑھادیتے، اور اس سے چہر میں بدمزگی اور بدامنی پیدہ ہوجاتی تھی۔ آیت مزکورہ نے اہل ایمان کو اس طرز عمل سے منع کرکے انہیں اس بات کی تلقین فرمائی کہ جنگ و امن کے بارے میں جو کوئی بات ان تک پہنچے وہ اس کے مطابق از خود کوئی عمل کرنے کی بجائے اسے “اولوالامر“ تک پہنچادیں، ان میں سے جو حضرات تحقیق و استنباط کے اہل ہیں، وہ معاملے کی تہہ تک پینچ کر حقیقت معلوم کرلیں گے اور اس سے باخبر کردیں گے، لہٰزہ ان کا کام ان اطلاعات پر ازخود کوئی ایکشن لینا نہیں، بلکہ ان باتوں سے “اولوالامر“ کو مطلع کرکے ان کے احکام کی تعمیل ہے)

    یہ آیت اگرچہ اک خاص معاملے میں نازل ہوئی ہے، لیکن جیسا کہ اصول تفسیر اور اصول فقہ کا مسلم قاعدہ ہے،آیات سے احکام و مسائل مستنبط کرنے کے لئے شان نزول کے خصوصی حالات کے بجائے آیت کے عمومی الفاظ کا اعتبار ہوتا ہے،اس لئے اس آیت سے یہ اصولی ہدایت مل رہی ہے کہ جولوگ تحقیق و نظر کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کو اہل استنباط کی طرف رجوع کرنا چاہیئے، اور وہ اپنی اجتہادی بصیرت کو کام میں لاکر جو راہ عمل متعین کریں اس پر عمل کرنا چاہیئے، اور اسی کانام تقلید ہے، چنانچہ امام رازی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت تحریر فرماتے ہیں:-

    “فثبت ان الا استنباط حجۃ، والقیاس اما استنباط اوداخل فیہ، فوجب ان یکون حجۃ اذاثبت ھذا فنقول: الاٰیۃ دالۃ علٰی امور حدھا ان فی احکام الحوادث مالا یعرف بالنص بل بالاستنباط و ثانیھا ان الاستنباط حجۃ، وثالثھا ان العامی یجب علیہ تقلید العلماء فی احکام الحوادث“
    “پس ثابت ہوا کہ استنباط حجت ہے، اور قیاس یا تو بزات خود استنباط ہوتا ہے یا اس میں داخل ہوتا ہے، لہٰزہ وہ بھی حجت ہوا، جب یہ بات طے ہوگئی تو اب ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت چند امور کی دلیل ہے، ایک یہ کہ نت نئے پیش آنے والے مسائل میں بعض امور ایسے ہوتے ہیں جو نص سے (صراحۃً) معلوم نہیں ہوتے، بلکہ ان کا حکم معلوم کرنے کے لئے استنباط کی ضرورت پڑتی ہے، دوسرے یہ کہ استنباط حجت ہے، اور تیسرے یہ کہ عام آدمی پر واجب ہے کہ وہ پیش آنے والے ،مسائل واحکام کے بارے میں علماء کی تقلید کرے“ (تفسیرکبیر،جلد3،صفحہ272)

    “بعض حضرات نے اس استدلال پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت جنگ کے مخصوص حالات پر مشتمل ہے۔ لہٰزہ زمانہ امن کے حالات کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا،(تحریک آزادی فکر از مولانا محمد اسمٰعیل سلفی،صفحہ31) لیکن اس اعتراض کا جواب ہم شروع میں دے چکے ہیں، کہ اعتبار آیت کے عام الفاظ کا ہوتا ہے نہ کہ شان نزول کے مخصوص حالات کا، چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ اس اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں:-

    “ان اقولہ واذاجاء ھم امرین اوالخوف عام فی کل مایتعلق بالحروب و فیما یتعلق بسائر الوقائع الشرعیہ، لان الامن ولخوف حاصل فی کل ما یتعلق بباب التکلیفم فثبت انہ لیس فی الٰیتہ مایوجب تخصیصھا بامر الحروب،“
    (تفسیر کبیر،جلد3،صفحہ273)
    “اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد کہ “جب ان کے سامنے امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ہو۔۔۔۔الخ۔۔۔“ بلکل عام ہے جسمیں جنگ کے حالات بھی داخل ہیں اور تمام شرعی مسائل بھی،اسلئے کہ امن اور خوف ایسی چیزیں ہیں کہ تکلیفات شرعیہ کا کوئی باب ان سے باہر نہیں، لہٰزہ ثابت ہوا کہ آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جواسے صرف جنگ کے حالات سے مخصوص کردے“

    امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس اعتراض کی یہی جواب نہایت تفصیل کے ساتھ دیاہے،اور اس بارے میں ضمنی شبہات کی بھی شبہات کی بھی تردید فرمائی ہے،(احکام القرآن للجصاص،جلد2،صفحہ263،باب طاعۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم)۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور اہل حدیث عالم نواب صدیق حسن خانصاحب نے اسی آیت سے قیاس کے جواز پر استدلال کرتے ہوئے لکھاہے:-
    “فی الاٰیۃ اشارۃ الٰی جواز القیاس ، وان من العم۔۔۔۔۔۔مایدرک بلاسباط(تفسیر فتح البیان،ازنواب صدیق حسن خاں صاحب،جلد2،صفحہ230)
    اگر آیت سے “زمانہ امن“ کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں ملتی تو قیاس کے جواز پر اس سے استدلال کیسے درست ہوگیا؟


    تیسری آیت

    قرآن کریم کا ارشاد ہے:-
    فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ
    التوبہ،سورہ نمبر9،آیت122
    “پس کیوں نہ نکل پڑا ان کی ہر بڑی جماعت میں سے اک گروہ تاکہ یہ لوگ دین میں تفقہ حاصل کریں اور تاکہ لوٹنے کے بعد اپنی قوم کو ہوشیار کریں شاید وہ لوگ (اللہ کی نافرمانی سے) بچیں“

    اس آیت میں اس بات کی تائید کی گئی ہے کہ مسلمانوں میں تمام افراد کو جہاد وغیرہ کے کاموں میں مشغول نہ ہوجانا چاھئیے، بلکہ ان میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو اپنے شب و روز “تفقہ“(دین کی سمجھ) حاصل کرنے کے لئے وقف کردے اور اپنا اوڑھنا بچھونا علم کو بنائے، تاکہ یہ جماعت ان لوگوں کو احکام شریعت بتلائے جو اپنے آپ کو تحصیل علم کے لئے فارغ نہیں کرسکے۔
    لہٰزہ اس آیت نے علم کے لئے مخصوص ہوجانے والی جماعت پر یہ لازم کیا ہے کہ وہ دوسروں کو احکام شریعت سے باخبر کرے، اور دوسروں کے لئے اس بات کو ضروری قرار دیا ہے کہ وہ ان کے بتلائے ہوئے احکام پر عمل کریں، اور اسطرح اللہ تعالٰی کی نافرمانی سے محفوظ رہیں، اور اسی کا نام تقلید ہے، چنانچہ امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ اس آیت پر گفتگو کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:-


    فا وجب الحزربانذا ھم و الزام المذرین قبول قولھم
    (احکام القرآن للجصاص،جلد2،صفحہ263،باب طاعۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم)
    “اس آیت میں اللہ تعالٰی نے عام لوگوں پر واجب کیا ہے کہ جب علماء ان کو (احکام شریعت بتاکر) ہوشیار کریں تو وہ (اللہ کی نافرمانی سے) بچیں، اور علماء کی بات مانیں“

    چوتھی آیت

    قرآن کریم کا ارشاد ہے:-
    فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ
    النحل،43،اور الانبیاء7)
    “اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔۔۔“

    اس آیت میں یہ اصولی ہدایت دیدی گئی ہے کہ جو لوگ علم و فن کے ماہر نہ ہوں انہیں چاہیئے کہ وہ اس علم و فن کے ماہرین سے پوچھ پوچھ کر عمل کرلیاکریں، اور یہی چیز تقلید کہلاتی ہے، چنانچہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :-

    واستدل بھا ایضا علٰی وجوب لمراجعۃ للعلماء فیما لا یعلم وفی الاکیل للجلال ۔۔۔۔ السیوطی انہ استدلال بھا علٰی جواز تقلید العامی فی الفروع
    (روح المعانی ،جلد14،صفحہ 148،سورہ نحل)
    “اور اس آیت سے اس بات پر بھی استدلال کیا گیا ہے کہ جس چیز کا علم خود نہ ہو اس میں علماء سے رجوع کتنا واجب ہے۔ اور علامہ جلال الدین چیوطی رحمہ اللہ اکلیل میں لکھتے ہیں کہ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ عام آدمیوں کے لئے فروعی مسائل میں تقلید جائز ہے“اس پر بعض حضرات کو یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ یہ آیت اک خاص موضوع سے متعلق ہے، اور وہ یہ کہ مشرکین مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالے کا انکار کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس کسی فرشتے کو رسول بناکر کیوں نہیں بھیجا گیا؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جس کے پورے الفاظ یہ ہیں :-
    وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ
    الانبیا،7
    اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی مرد ہی رسول بناکر بھیجے ہیں جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے ، پس اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو“ اہل الزکر سے پوچھ لو“

    “اہلالزکر “ سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک علماء اہل کتاب ہیں، بعض کے نزدیک وہ اہل کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسلمان ہوگئے تھے، اور بعض کے نزدیک اہل قرآن یعنی مسلمان، اور مطلب یہ ہے کہ یہ تمام حضرات اس حقیقت سے واقف ہیں کہ پچھلے تمام انبیاء علیھم السلام بشر تھے، ان میں سے کوئی بھی فرشتہ نہ تھا، لہٰزہ آیت کا سیاق و سباق تقلید و اجتہاد کے مفہوم سے نہیں ہے،
    اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت دلالۃ النص کے طور پر تقلید کے مفہوم پر دلالت کررہی ہے، “اہل الزکر“ سے خواہ کوئی مراد ہو، لیکن ان کی طرف رجوع کرنے کا حکم ذاتی ناواقفیت کی بناء پر دیا گیا ہے، اور یہ بات اسی وقت درست ہوسکتی ہے، جب یہ اصول مان لیا جائے کہ “ہر ناواقف کو واقف کی طرف رجوع کرنا چاھئیے“ یہی وہ اصول ہے جس کی طرف یہ آیت رہنمائی کررہی ہے، اور اسی سے تقلید پر استدلال کیا جارہا ہے، اور یہ بات ہم پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ اصول تفسیر اور اصول فقہ کا یہ مسلم قاعدہ ہے“العبرۃ بعموم اللفاظ لالخصوص المورد“ یعنی اعتبار آیت کے عمومی الفاظ کا ہوتا ہے نہ کہ خاص اس صورت کا جس کے لئے آیت نازل ہوئی ہو، لہٰزہ آیت کا نزول اگرچہ خاص مشرکین مکہ کے جواب میں ہوا ہے، لیکن چونکہ اس کے الفاظ عام ہیں۔ اسلئے اس سے یہ اصول بلاشبہ ثابت ہوتا ہے کہ جولوگ خود علم نہ رکھتے ہوں انہیں اہل علم کی طرف رجوع کرنا چاہیئے اور یہی تقلید کا حاصل ہے، چنانچہ خطیب بغداد رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:-

    “امامن یوغ لہ التقلید فھو العامی الذی لایعرف طوق الاحکام الشرعیۃ ، فیجوزلہ ان یقلد عالما و ویعمل بقولہ، قال اللہ تعالٰی “فاسئلوا اھل الزکر ان کنتم لاتعلمون “،
    (الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی،جلد2،صفحہ68،مطبوعہ دارالافتاء سعودیہ ریاض،1389ھ)
    “رہا یہ مسئلہ کہ تقلید کس کے لئے جائز ہے، سو یہ وہ عامی شخص ہے جو احکام شریعہ کے طریقے نہیں جانتا پس اس کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی عالم کی تقلید کرے اور اس کے قول پر عمل کرے، اسلئے اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے“فاسئلوا اھل الزکر۔۔ “

    اسکے بعد خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے حضرت عمو بن قیس رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت بالا میں اہل الزکر سے مراد اہل علم ہیں،

  2. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

    تقلید اور حدیث

    قرآن کریم کی طرح بہت سی احادیث سے بھی تقلید کا جواز ثابت ہوتا ہے، ان میں سے چند درج زیل ہیں،

    (1)
    عن حذیفہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی لاادری مابقائی فیکم ، فاقتدوا باللذین من بعدی ابی بکر و عمر ۔
    (رواہ الترمذی و ابن ماجہ و احمد)
    (متقاۃ المفاتیح،جلد5،صفحہ549،باب مناقب ابی بکر و عمر رضوان اللہ علیھم اجمعین)
    “حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں ، میں کتنا عرصہ تمہارے درمیان رہوں گا؟ پس تم میرے بعد دو شخصوں کی اقتداء کرنا، اک ابوبکررضی اللہ عنہ،اور دوسرے عمر رضی اللہ عنہ“

    یہاں یہ بات بطور خاص قابل غور ہے کہ حدیث میں الفاظ “اقتداء“ استعمال کیا گیا ہے، جو انتظامی امور میں کسی کی پیروی کے لئے استعمال ہوتا ہے، عربی لغت کے مشہور عالم ابن منظور رحمہ اللہ لکھتے ہیں: القدوۃ و القدوۃ ماتسننت بہ“ القدوۃا الاسوۃ“ (السان العربج،20،صفحہ31،مادہ “قدا“) (“قدوہ“ کے معنی ہیں “اسوہ“یعنی نمونہ) قرآن کریم میں بھی یہ الفاظ دینی امور میں انبیاء علیہم السلام اور صلحاء کی پیروی کے لئے استعمال ہوا ہے، ارشاد ہے:-
    اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقۡتَدِہۡ
    الانعام، سورۃ نمبر6،آیت نمبر90
    “یہی لوگ ہیں جنکو اللہ نے ہدایت دی ہے، پس تم ان کی ہدایت کی اقتداء کرو“

    نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کے واقعہ میں ہے کہ :-

    “یقتدی ابوبکر بصلوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و الناس مقتدون بصلوٰۃ ابی بکر“
    (صحیح بخاری،باب الرجل یاتم بالامام،جلد1،صفحہ99)
    “حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتدا کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کررہے تھے“

    اور مسند احمد میں حضرت ابو وائل رحمہ اللہ کی روایت ہے :-
    جلست الٰی شیبۃ بن عثمان رضی اللہ عنہ، فقال جلس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فی مجلسک ھذا ، فقال لقد ھمت ان لا ادع فی الکعبۃ صفراء ولا بیضاء الاقسمتمھما بین الناس ، قال قلت؛ لیس ذلک ، قد سبقک صاحباک لم یغعلا ذلک ، فقال ھما المرٰان یقتدٰی بھماء
    (مسند احمد ،جلد3،صفحہ 410،مسند شیبۃ بن عثمان رضٰ اللہ عنہ)
    “میں شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا ، انہوں نے کہا کہ (ایک دن) حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی جگہ بیٹھے تھے جہاں تم بیٹھے ہو، وہ فرمانے لگے کہ میرا ارادہ ہوتا ہے کہ کعبہ میں جتنا سونا چاندی ہوتا ہے وہ سب لوگوں کے درمیان تقسیم کردوں، شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ اس کا حق آپ کو نہیں، کیونکہ آپ کے دونوں پیش رو صاحبان (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) نے ایسا نہیں کیا، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ دونوں حضرات واقعی ایسے ہیں کہ ان کی اقتداء کی جانی چاہیئے“


    نیز مسند احمد میں ہی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں ارشاد فرمایا کہ :-
    “ابھی تمہاری مجلس میں اک جنتی شخص داخل ہوگا“
    چنانچہ اس کے بعد ایک انصاری صحابی داخل ہوئے، دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا، اور تیسرے دن بھی، اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اک دن انہی انصاری صحابی کے پاس پہنچ گئے، اور رات کو ان کے ہاں رہے، خیال یہ تھا کہ وہ بہت عبادت کرتے ہوں*گے، مگر دیکھا کہ انہوں نے صرف اتنا کیا کہ سوتے وقت کچھ اذکار پڑھے اور پھر فجر تک سوتے رہے، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:-
    “فاردت ان اٰوی الیک لا نظر ماعملک، فاقتدی بہ فلم اول تعلم کثیر عمل“(حضرت عبداللہ بن عمرو رضٰ اللہ عنہ کے جواب میں انصاری صحابی رضٰ اللہ عنہ نے بتایا کہ عمل تو کوئی خاص نہیں کرتا البتہ میرے دل میں کسی مسلمان کی طرف سے کھوٹ نہیں ہے،نہ میں کسی پر حسد کرتا ہوں ، اخرجہ احمد من طریق عبدالرزاق ثنا معمر عن الزہری اخبرنا انس رضٰ اللہ عنہ وہواسناد صحیح )
    مسند احمد ،جلد،3،صفحہ166،مسندات انس رضٰ اللہ عنہ
    “میں تو اس ارادے سے تمہارے پاس رات گزارنے آیا تھا کہ تمہارا عمل دیکھوں اور اس کی “اقتداء“ کروں“

    ان تمام مقامات پر ““اقتداء““ دینی امور میں کسی کی اتباع اور پیروی کے لئے آیا ہے، خاص طور پر پہلی دو احادیث میں تو اس لفظ کا استعمال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے اسی معنی میں

    *ہوا ہے، لہٰزہ مزکورہ بالا حدیث کا اصل مقصد دینی امور میں حضرت ابوبکر و عمر رضٰ اللہ عنہما کی اقتداء کا حکم دینا ہے، اور اسی کا نام تقلید ہے،

    (2)
    صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-
    “ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعاً ینتزعہ من العباد، ولکن یقبض العلم یقبض العلماء حتٰی اذالم یبق عالماً اتخذالناس رء وساجھالا، فسئلوا فافتوابغیر علم فضلواواضلوا“
    (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب العلم، الفضل الاول، صفحہ33)

    “بلاشبہ اللہ تعالٰی علم کو (دنیاسے) اسطرح سے نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں (کے دل) سے سلب کرلے، بلکہ علم کو اسطرح اٹھائے گا۔ کہ علماء کو (اپنے پاس) بلالے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے ، ان سے سوالات کئے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“

    اس حدیث میں واضح طور سے فتوٰی دینا علماء کا کام قرار دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگ ان سے مسائل شرعیہ پوچھیں ، وہ ان کا حکم بتائیں، اور لوگ اس پر عمل کریں، یہی تقلید کا حاصل ہے۔
    پھر اس حدیث میں اک اور بات بطور خاص قابل غور ہے، اور وہ یہ کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے زمانے کی خبر دی جس میں علماء مفقود ہوجائیں گے، اور جاہل قسم کے لوگ فتوے دینے شروع کردیں گے، یہاں سوال یہ ہے کہ اس دور میں احکام شریعت پر عمل کرنے کی سوائے اس کے اور کیا صورت ہوسکتی ہے کہ وہ لوگ گزرے ہوئے علماء کی تقلید کریں، کیونکہ جب زندہ لوگوں میں کوئی عالم نہیں بچا تو نہ کوئی شخص براہ راست قرآن و سنت سے احکام مستنبط کرنے کا اہل رہا، اور نہ کسی زندہ عالم کی طرف رجوع کرنا اس کی قدرت میں ہے، کیونکہ کوئی عالم موجود ہی نہیں،لہٰزہ احکام شریعت پر عمل کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں رہتی کہ جو علماء وفات پاچکے ہیں ان کی تصانیف وغیرہ کے زریعے ان کی تقلید کی جائے،
    لہٰزہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک علمائے اہل اجتہاد موجود ہوں اس وقت تک ان سے مسائل معلوم کئے جائیں، اور ان کے فتووں پر عمل کیا جائے، اور جب کوئی عالم باقی نہ رہا تو اہل لوگوں کو مجتہد سمجھ کر ان کے فتووں پر عمل کرنے کے بجائے گزشتہ علماء میں سے کسی کی تقلید کی جائے۔

    (3)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-

    “من افتٰی بغیر علم کان اثمہ علیٰ من افتاہ “
    (رواہ ابوداؤد)(مشکوٰۃ المصابیح ،کتابالعلم ،الفضل نالثانی،صفحہ37)
    “جوشخص بغیر علم کے فتوٰی دے گا اس کا گناہ فتوٰی دینے والے پر ہوگا “

    یہ حدیث بھی تقلید کے جواز پر بڑی واضح دلیل ہے، اسلئے کہ اگر تقلید جائز نہ ہوتی اور کسی کے فتوے پر دلیل کی تحقیق کے بغیر عمل جائز نہ ہوتا تو مزکورہ صورت میں سارا گناہ فتوٰی دینے والے پر ہی کیوں ہوتا ؟ بلکہ جس طرح مفتی کو بغیر علم کے فتوٰی دینے کا گناہ ہوتا اسی طرح سوال کرنے والے کو اس بات کا گناہ ہونا چاھئیے تھا کہ اس نے فتوے کی صحت کی تحقیق کیوں نہیں کی؟ لہٰزہ حدیث بالا نے یہ واضح فرمادیا کہ جو شخص خود عالم نہ ہو اس کا فریضہ صرف اس قدر ہے کہ وہ کسی ایسے شخص سے مسئلہ پوچھ لے جو اس کی معلومات کے مطابق قرآن و سنت کا علم رکھتا ہو، اسکے بعد اگر وہ عالم اسے غلط مسئلہ بتائے گا تو اس کا گناہ پوچھنے والے پر نہیں ہوگا، بلکہ بتانے والے پر ہوگا۔

    (4)
    حضرت ابراہیم بن عبد الرحمٰن العزری سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-

    “یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین و تاویل الجاھلین، “
    (رواہ البیھقی فیالمدخل) (مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب العلم،الفصل السانی،صفحہ28)
    “ہر آنے والی نسل کے ثقہ لوگ اس علم دین کے حامل ہوں گے جو اس سے غلو کرنے والوں کی تحریف کو باطل پرستوں کے جھوٹے دعووں کو، اور جاہلوں کی تاویلات کو دور کریں گے“

    اس حدیث میں “ جاہلوں کی تاویلات“ کی مزمت کی گئی ہے ، اور بتایا گیا ہے کہ ان تاویلات کی تردید علماء کا فریضہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جولوگ قرآن و سنت کے علوم میں مجتہدانہ بصیرت نہیں رکھتے انہیں اپنی فہم پر اعتماد کرکے احکام قرآن و سنت کی تاویل نہیں کرنی چاھئیے ، بلکہ قرآن و سنت کی صحیح مراد سمجھنے کے لئے اہل علم کی طرف رجوع کرنا چاھئیے، اور اسی کا نام “ تقلید“ ہے، پھر یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن و سنت میں تاویلات وہی شخص کرسکتا ہے جسے کچھ تھوڑی بہت شد بد ہو، لیکن ایسے شخص کو بھی حدیث میں “جاہل“ قرار دیا گیا ہے اور اس کی “تاویل“ کی مزمت کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و سنت سے احکام و مسائل کے استنباط کے لئے عربی زبان وغیرہ کی معمولی شدبد کافی نہیں،بلکہ اس میں مجتہدانہ بصیرت کی ضرورت ہے۔

    (5)
    صحیح بخاری میں تعلیقاً اور صحیح مسلم میں مسنداً حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جماعت میں دیر سے آنے لگے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جلدی آنے اور اگلی صفوں میں نماز پڑھنے کی تاکلید فرمائی،اور ساتھ ہی فرمایا :-
    “ایتموابی ولیاتم بکم من بعدکم“
    (صحیح بخاری،باب الرجل یاتم بالامام ویاتم الناس بالماموم،جلد1،صفحہ99)
    “تم مجھے دیکھ دیکھ کر میری اقتداء کرو اور تمہارے بعد آنے والے لوگ تمہیں دیکھ دیکھ کر تمہاری اقتداء کریں“

    اس کا اک مطلب تو یہ ہے کہ اگلی صفوں کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں، اور پچھلی صفوں کے لوگ اگلی صف کے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اقتداء کریں، اور پچھلی صفوں کے لوگ اگلی صف کے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اقتداء کریں، اس کے علاوہ اس کا دوسرا مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جلدی آیا کریں ، تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق نماز کو اچھی طرح دیکھ لیں، کیونکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد جو نسلیں آئیں گی وہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تقلید اور ان کی اتباع کریں گی،چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :-

    “وقیل معنا تعلموامنی احکام الشریعۃ، ولیتعلم منکم التابعون بعدکم وکذلک اتباعھم الٰی۔۔۔۔۔انقراض الدنیا،“
    (فتح الباری،جلد2،صفحہ171،طبع میریہ،1300ھ)
    “بعض حضرات نے اس حدیث کا مطلب یہ بتایا ہے کہ تم مجھ سے احکام شریعت سیکھ لو اور تمہارے بعد آنے والے تابعین تم سے سیکھیں،اور یہ سلسلہ دنیا کے خاتمے تک چلتا رہے“

    (6)
    مسند احمد میں حضرت سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :-

    “ان امراۃ اتتہ فقالت یا رسول اللہ الطلق زوجی غازیاً وکنت اقتدی بصلاتہ اذا صلی و بفعلہ کلہ فاخبرلی یعمل یبلغی عملہ حتی یرجع۔۔۔الخ“
    (مسند احمد ،جلد3،صفحہ439،مسند معاذبن انس رضی اللہ عنہ،و رواہ الہیثمی۔۔۔۔۔)
    “ایک عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ، کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا شوہر جہاد کے لئے چلاگیا ہے، اور جب وہ نماز پڑھتا تو میں اس کی پیروی کرتی تھی، اور اس کے تمام افعال کی اقتداء کرتی تھی، اب آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے اس کے عمل 0یعنی جہاد) کے برابر پہنچادے۔۔۔الخ“

    یہاں اس خاتون نے صراحۃً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں اپنے شوہر کی صرف نماز میں نہیں، بلکہ تمام افعال میں اقتداء کرتی ہوں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔

    (7)
    جامع ترمزی میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص میں دو خصلتیں ہوں گی اللہ تعالٰی اسے شاکر و صابر لکھے گا، و خلتیں یہ ہیں :-
    “من نظرنی دینہ الیٰ من ھو فوقہ فاقتدیٰ بہ و نظر فی دنیاہ الیٰ من ھردونہ فحمداللہ“
    “جوشخص دین کے معاملے میں اپنے سے بلند مرتبہ شخص کو دیکھے اور اس کی اقتداء کرے، اور دنیا کے معاملے میں نیچے کے کسی شخص کو دیکھے اور اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس (اللہ) نے مجھے اس سے اچھی حالت میں رکھا“
    (جامع ترمزی بشرح ابن العربی،جلد9،صفحہ317،ابواب القیامہ باب بلاترجمہ)

    (جاری ہے)
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,649
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    شکریہ جناب عالی
    بہت مفید پوسٹ ہے ۔
  4. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

    عہد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تقلید مطلق

    چنانچہ عہد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بکثرت تقلید پر عمل ہوتا رہا ہے ، یعنی جو حضرات صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین تحصیل علم میں زیادہ وقت صرف نہیں کرسکتے تھے،یا کسی خاص مسئلے میں اپنے اجتہاد سے کوئی فیصلہ نہیں کرپاتے تھے وہ دوسرے فقہاء صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین سے پوچھ پوچھ کر عمل کیا کرتے تھے ، اور ان حضرات میں تقلید مطلق اور شخصی دونوں صورتوں کا ذکر ملتا ہے، خاص طور سے تقلید مطلق کی مثالیں تو اس کثرت سے ہیں کہ ان سے پوری ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے ان میں سے چند مثالیں درض ذیل ہیں:-

    (1)
    عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال خطب عمر بن الخطاب الناس بالجابیۃ وقال یا الھالناس من ارادان یسال عن القرآن فلیات ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، ومن ارادان یسال عن الفرائض فلیات زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ومن ارادان یسال عن الفقۃ فلیات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، ومن ارادان یسال عن المال فلیاتنی فان اللہ جعلنی لہ والیا و قاسماً
    (رواہ الطبرانی فی الاوسط)(ذکروالہیثمی رحمہ اللہ وقال:وفیہ سلیمان بن داؤد بن خصینین لم اومن ذکرۃ(مجمع الزوایئد،جلد1،صفحہ135) قست:ذکر ابن ابی خاتم رحمہ اللہ فی الجرح والتعدیل(جلد،2،قسم1،صفحہ111) والخطیب رحمہ اللہ فی تاریخ بغداد(جلد10،صفحہ63) فلم یصف احد ہما بجرح ولا تعبدیل،وہوا بن لداؤد بن الحصین رحمہ اللہ ۔تقی)

    “حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جانیہ کے مقام پر خطبہ دیا، اور فرمایا ، اے لوگو ! جو شخص قرآن کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہو وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس جائے، جو میراث کے احکام کے بارے میں پوچھنا چاہے وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جائے، اور جو شخص فقہ کے بارے میں پوچھنا چاہے وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس جائے ، اور جو شخص مال کے بارے میں سوال کرنا چاہے وہ میرے پاس آجائے، اسلئے کہ اللہ نے مجھے اس کا والی اور تقسیم کنندہ بنایا ہے“

    اس خطبے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عام طور پر یہ ہدایت فرمائی ہے کہ تفسیر، فرائض اور فقہ کے معاملات میں ان ممتاز علماء سے رجوع کرکے ان سے معلومات کیا کریں، ظاہر ہے ہر شخص دلائل سمجھنے کا اہل نہیں ہوتا، اس لئے یہ حکم دونوں صورتوں کو شامل ہے جولوگ اہل ہوں وہ ان علماء سے دلائل بھی سیکھیں ، اور جو اہل نہ ہوں وہ محض ان کے اقوال پر اعتماد کرکے ان کے بتائے ہوئے مسائل پر عمل کریں، جس کا نام تقلید ہے، چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے جو حضرات اپنے آپ کو اہل استنباط و اجتہاد نہیں سمجھتے تھے وہ فقہاء صحابہ رضوان اللہ علیہھم اجمعین سے رجوع کرتے وقت ان سے دلائل کی تحقیق نہیں فرماتے تھے ، بلکہ ان کے بتائے ہوئے مسائل پر اعتماد کرکے عمل فرماتے تھے، جس کی نظیر آگے آرہی ہیں:-

    (2)
    عن سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ انہ سئل عن الرجل یکون لہ الدین علی الرجل الیٰ اجل فیض عنہ صاحب الحق ویجعلہ الاخر، فکرہ ذلک عبداللہ بن عمر رضٰ اللہ عنہ ونھیٰ عنہ ،
    (موطا امام مالک رحمہ اللہ،صفحہ279،ماجاء فی الربانی الدین)
    “حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ کسی شخص کا دوسرے شخص پر کچھ میعادی قرض واجب ہے، اور صاحب حق اسمیں سے کسی قدر اس شرط پر معاف کرتا ہے کہ وہ میعاد سے پہلے ادائیگی کردے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ناپسند کیا، اور اس سے منع فرمایا “

    اس مثال میں جو مسئلہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا ، اسمیں کوئی صریح حدیث مرفوع منقول نہیں، اس لئے یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا اجتہاد و قیاس تھا، یہاں نہ سوال کرنے والے نے دلیل پوچھی، نہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بتائی اور یہی تقلید ہے۔

    (3)
    عن عبدالرحمٰن قال سالے محمد بن سیرین عن دخول الحمام ، فقال: کان عمر بن الحطاب رضی اللہ عنہ یکرھہ،
    (اخرجہ،مسدد) (المطالب العالیہ للحافظ ابن حجر رحمہ اللہ،جلد1،صفحہ51، حدیث نمبر 187)
    “عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ (غسل کے لئے) حمام میں داخل ہونا جائز ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے مکروہ کہتے تھے“

    ملاحظہ فرمائیے ، یہاں حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر تابعی نے صرف اتنا کہنے پر اکتفاء فرمایا کہ “ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے مکروہ کہتے تھے، اور اس کی کوئی دلیل نہیں بتائی، حالانکہ اس ۔۔۔ بارے میں مرفوع احادیث بھی موجود ہیں، اور اک حدیث خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔(دیکھئیے الفتح الربانی(تہزیب مسند احمد رحمہ اللہ) جلد2،صفحہ150،حدیث نمبر 494)

    (4)
    عن سلیمان بن یسار ان اباایوب الانصاری رضی اللہ عنہ اخرج حاجا حتٰی اذکان بالنازیۃ من طریق مکۃ اضل رواحہ وانہ قدم علیٰ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ یوم النعر فذکر ذلک لہ فقال عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اصنع ما یصنع المتعم ، ثم قد عللت ، فاذا ادرکک الحج قابلاً نا حج واھد ما استیسر من الھدی ،
    (موطٰا امام مالک رحمہ اللہ، صفحہ149، ھدی من فاتہ الحج)

    “حضرت سلیمان بن یسار رضٰ اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ حج کے ارادے سے نکلے ، یہاں تک کہ جب مکہ مکرمہ کے راستہ میں نازیہ کے مقام تک پہنچے تو ان کی سواریاں گم ہوگئیں، اور وہ یوم النحر (دس ذی الحجہ) میں (جبکہ حج ہوچکا تھا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، اور ان سے یہ واقعہ ذکر کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم وہ ارکان ادا کرو جو عمرہ والا ادا کرتا ہے ٰیعنی طواف اور سعی) اسطرح تمھارا احرام کھل جائے گا، پھر اگلے سال جب حج کا زمانہ آئے تو دوبارہ حج کرو، اور جو قربانی میسے ہو ذبح کرو“

    (5)
    عن مصعب بن سعد قال کال ابی اذا صلیٰ فی المسجد تجرزو اتم الرکوع و السجود والصوٰۃ واذا صلیٰ فی البیت اطال الرکوع و السجود و الصلوٰۃ ، ولت یا ابتاہ اذاصلیت فی المسجد بنا، رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ رجال الصحیح،
    (مجمع الزوائد،للہیثمی رحمہ اللہ ، جلد1،صفحہ182، باب الاقتداء بالسف)

    “حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) جب مسجد میں نماز پڑھتے تو رکوع اور سجدہ پورا تو کرلیتے مگر اختصار سے کام لیتے، اور جب گھر میں نماز پڑھتے تو رکوع ، سجدہ اور نماز کے دوسرے ارکان طویل فرماتے، میں نے عرض کیا، اباجان! آپ جب مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو اختصار سے کام لیتے ہیں ، اور جب گھر میں پڑھتے ہیں تو طویل نماز پڑھتے ہیں ؟۔۔۔۔۔۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ بیٹے! ہم (لوگوں کے) امام ہیں، لوگ ہماری اقتداء کرتے ہیں(یعنی لوگ ہمیں طویل نماز پڑھتے دیکھیں گے تو اتنی لمبی نماز پڑھنا ضروری سمجھیں گے، اور جا و بیجا پابندی شروع کردیں گے )“




    اس روایت سے معلوم ہوا کہ عام لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے صرف اقوال ہی کی تقلید نہیں کرتے تھے بلکہ بڑے صحابہ رضوان اللہ علیہھم اجمعین کا صرف عمل دیکھ کر اسکی بھی تقلید کی جاتی تھی، اور طاہر ہے کہ عمل دیکھ کر اسکی اقتداء کرنے میں دلائل کی تحقیق کا سوال ہی پیدہ نہیں ہوتا، اسی لئے یہ حضرات اپنے عمل میں اتنی باریکیوں کا بھی لحاظ رکھتے تھے۔

    (6)
    اسی طرح موطٰا امام مالک رحمہ اللہ میں ایک روایت ہے:-
    عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ رائ علٰی طلعۃ بن عبید اللہ ثوبا مصبوغا وھو محرم، فقال عمر رضی اللہ عنہ: ماھذا الثواب المصبوغ بالطلعۃ؟ فقال طلعۃ بن عبید اللہ ، یا امیر المومنین انما ھو مدد ، فقال عمر رضی اللہ عنہ : انکم ایھاالرھط اتمۃ یقتدی یکم یکم الناس ، فلوان رجلاً جاھلاً رای ھذا الثواب القال ان طلعۃ بن عبید اللہ قد کان یلبس الثیاب المصبغۃ فی الاحرام فلا تلبسوا ایھالرھط شیئا من ھذا الثیاب المبصبغۃ،
    (مسند احمد،جلد1،صفحہ192، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ)

    “حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے احرام کی حالت میں رنگا ہوا کپڑا پہن رکھا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: طلحہ یہ رنگا ہوا کپڑا کیسا ؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: امیر المومنین، یہ تو کیروہی (جس میں خوشبو نہیں ہوتی، اور بغیر خوشبو کے رنگین کپڑا پہننا جائز ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ حضرات امام و مقتداء ہیں ، لوگ آپ کی اقتداء کرتے ہیں، لہٰزہ اگر کوئی ناواقف آدمی (آپ کے جسم پر) یہ کپڑا دیکھے گا تو وہ کہے گا کہ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں رنگے ہوئے کپڑے پہنا کرتے تھے(لہٰزہ ہر قسم کے رنگین کپڑے پہننا جائز ہے، چنانچہ وہ خوشبو والے رنگین کپڑے بھی پہننے لگیں گے) لہٰزہ آپ حضرات اس قسم کے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنا کریں“


    (7)
    اک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ( خاص قسم کے ) موزے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا :-

    “عزمت علیک الاتزعتھما ، فانی اخاف ان ینظر الناس الیک فیقیدون “
    (الاستعیاب لابن عبدالبر رحمہ اللہ(تحت الاصابۃ) جلد 2،صفحہ 315، والاصابہ للحافظ ابن حجر رحمہ اللہ، جلد2،صفحہ361، و اعلام الموقعین لابن قیم،جلد2،صفحہ171)

    “میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ان کو اتار دو، اسلئے کہ مجھے خوف ہے کہ لوگ تمہیں دیکھیں گے تو تمہاری اقتداء کریں گے“

    مزکورہ بالا تینوں واقعات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے جو حضرات علم و فقہ میں امتیازی مقام رکھتے تھے ، ان کے صرف اقوال اور فتووں کی نہیں بلکہ ان کے افعال کی بھی تقلید اور اتباع کی جاتی تھی، جس میں دلائل معلوم کرنے کا سوال ہی پیدہ نہیں ہوتا ، اسکی وجہ سے یہ حضرات اپنے عمل میں خود بھی بہت محتاط رہتے تھے ، اور دوسروں کو بھی محتاط رہنے کی تاکید فرماتے تھے ۔

    (8)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا ، اور اہل کوفہ کے نام اک خط تحریر فرمایا :-

    “ انی قد بعثت الیکم بعمار بن یاسرامیرا، و عبداللہ بن مسعود معلماً و وزیراً، وھما من النجباء من اصحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اھل بدر فاقتدوا بھماواسمعو من قولھا،“

    “میں نے تمہارے پاس عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو امیر بناکر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلم اور وزیر بناکر بھیجا ہے، اور یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نجبا صحابہ میں سے ہیں،اور اہل بدر میں سے ہیں،پس تم ان کی اقتداء کرو اور ان کی بات سنو،“


    (9)
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قضا کے اصول بتاتے ہوئے فرماتے ہیں :-

    فمن عرض لہ منکم قضاء بعد الیوم فلیقض کتاب اللہ ، فان جاء امرلیس فی کتاب اللہ فلیقض بما قضی بہ نبیۃ صلی اللہ علیہ وسلم فیقض بماقضی بہ الصالحون، فان جاء امر لیس فی کتاب اللہ ولاقضی بہ نبیتہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا قضی بہ الصالحون فلیجتھد راءیہ،
    (سنن النسائی،جلد2،صفحہ1305،کتاب ادب الاقصیہ،الحکم باتفاق اھل العلم و سنن الدارمی ، جلد1،صفحہ54، مقدمہ ، باب الفتبا دومافیہ من الشدۃ)

    “ آج کے بعد جس شخص کو قضاء کا معاملہ پیش آئے اسے چاہیئے کہ وہ کتاب اللہ سے فیصلہ کرے، پھر اگر اس کے سامنے ایسا معاملہ آجائے جو کتاب اللہ میں نہیں ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ کیا ہو اس کے مطابق فیصلہ کرے، پھر اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو نہ کےاب اللہ میں ہو اور نہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ ہوتو صالحین نے جو فیصلہ کیا ہو اس کے مطابق فیصلہ کرے، اور اگر ایسا معاملہ پیش آجائے جو نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہو، اور نہ صالحین نے تو اپنی رائے سے اجتہاد کرے۔“

    اس روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار درجے بیان فرمائے ہیں، پہلے قرآن کریم ، پھر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، پھر صالحین کے فیصلے، پھر اجتہاد و قیاس، یہاں جو بات بطور خاص قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس بات میں کسی بھی ہوش مند کو اختلاف نہیں ہوسکتا ، کہ پہلے کتاب اللہ اور پھر سنت کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے سنت سے بلکل قطع نظر کرلی جائے، یعنی کتاب اللہ کا مفہوم صرف اپنی رائے سے معین کیا جائے، اور اگر سنت اس مفہوم کے خلاف نظر آئے تو اسے چھوڑ دیا جائے ، بلکہ باتفاق علماء، اس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب اللہ کی تفسیر میں سنت سے کام لیا جائے گا ، اور کتاب اللہ کی تشریح سنت کی روشنی میں کی جائے گی، ورنہ کہا جا سکتا ہے کہ زانی کا حکم قرآن میں موجود ہے کہ اس کو سو کوڑے لگائے جائیں، لہٰزہ سنت کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں، رجم کا حکم ( معاذ اللہ) کتاب اللہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے بے اصل ہے، طاہر ہے یہ طرز استدلال باجماع امت غلط ہے۔
    بلکل اسی طرح صالحین کے فیصلوں کو تیسرے نمبر پر رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کتاب و سنت کی تشریح کرتے ہوئے صالحین کے فیصلوں سے بلکل قطع نظر کرلی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کی تشریح صالحین کے فیصلوں کی روشنی میں کی جائے، اور تقلید کا حاصل بھی یہی ہے کہ کتاب و سنت کے جو احکام قطعی طور پر واضح نہ ہوں ان کے مختلف ممکنہ معانی میں سے کسی ایک معنی کو معین کرنے کے لئے کسی مجتہد کے قول کا سہارہ لیا جائے جیسا کہ پیچھے تشریح گزر چکی ہے،
    پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حکم اس شخص کو دیا ہے ، جسے قضاء کے منصب پر فائز کیا گیا ہو۔ لہٰزہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ تقلید صرف جاہل اور ان پڑھ ہی کا کام نہیں ، بلکہ علماء کو بھی اپنی اجتہادی آراء پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے زیادہ علم رکھنے والے اسلاف کی طرف رجوع کرنا چاہیئے،(یہ اور بات ہے کہ ایک بالکل جاہل شخص کی تقلید اور ایک متبحر عالم کی تقلید میں فرق ہوتا ہے ، جس کی تشریح آگے آرہی ہے۔(مزکورہ بالا تشریح سے علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کے ان تمام اعتراضات کا جواب ہوجاتا ہے جو انھوں نے اس روایت سے استدلال پر وارد کئے ہیں)(اعلام الموقعین،جلد،2،صفحہ 178)

    (10)
    حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :-
    “کان ابن عمر رضی اللہ عنہ لا بقراء خلف الامام ء قال ؛ فساءلت القاسم بن محمد عن ذلک فقال : ان ترکے فقد ترکہ ناس یقتدٰی بھم وان قراءہ ناس یقتدٰی بھم، و کامن القاسم ممن لایقراء“
    (موطا امام محمد رحمہ اللہ ص96 طبع اصح المطابق باب القراۃ خلف الامام و فیہ اسامہ بن زید المدنی و ثقہ یحیٰی بن معین رحمہ اللہ و ابن عدی رحمہ اللہ و ضعقہ رحمہ اللہ وقال الحافظ رحمہ اللہ فی التقریب صدوق بہم)
    “حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قراءت نہیں کرتے تھے، تو میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا، اس پر انہوں نے فرمایا:اگرتم (امام کے پیچھے قراءت) ترک کردو تو بھی گنجائش ہے، کیونکہ بہت سے ایسے لوگوں نے قراءت خلف الامام کو ترک کیا ہے جو قابل اقتداء ہیں، اور اگر قراءت کرو (تب بھی گنجائش ہے) کیونکہ بہت سے ایسے لوگوں نے قراءت کی ہے جو قابل اقتداء ہیں، اور خود قاسم بن محمد رحمہ اللہ قراءت خلف الامام کے قائل نہ تھے“

    ملاحظہ فرمائیے! حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ کبار تابعین اور مدینہ طیبہ کے فقہاء سبعہ میں سے ہیں، اور ان کا یہ مقولہ صراحۃً اس پر دلالت کر رہا ہے کہ جہاں دلائل متعارض ہوں وہاں جس کسی امام کی (نیک نیتی کے ساتھ) تقلید کرلی جائے جائز ہے۔

    (11)
    کنزالعمال میں طبقات ابن سعد رحمہ اللہ کے حوالے سے روایت ہے:-

    “عن الحسن انہ سالہء رجل اتشرب من ماء ھٰذہ السقایۃ التی فی المسجد فانھا صدقۃ، قال الحسن، قد شرب ابوبکر و عمر من سقایۃ اءم سعد۔ فمہ؟“
    (کنزالعمال ،جلد3،صفحہ318،کتاب الزکوٰۃ ، فصل فی المصرف)

    “حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا: کیا آپ مسجد سے پانی پیتے ہیں؟ حالانکہ وہ تو صدقہ ہے؟ حجرت حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ام سعد رضی اللہ عنہ کی سبیل سے پانی پیا ہے، تو اگر میں نے پانی پی لیا تو کیا ہوا؟“

    ملاحظہ فرمائیے کہ یہاں حضر حسن رضٰ اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کے سوا کوئی دوسری دلیل پیش نہیں کی ، گویا حضرت شیخین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تقلید فرمائی۔

    یہ چند مثالیں سرسری طور سے عرض کردی گئیں، ورنہ کتب آثار ایسے واقعات سے لبریز ہیں، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    “والزین حفظت عنھم الفتوٰی من اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم مائۃ و نیف وثلاثون نفسامابین رجل و اماءۃ“
    ترجمہ:صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین میں سے جن حضرات کے فتاوٰی محفوظ ہیں ان کی تعداد ایک سوتیس سے کچھ اوپر ہے، ان میں مرد بھی داخل اور عورتیں بھی۔
    (الاعلام الموقعین،لابن القیم رحمہ اللہ ،جلد1،صفحہ1)

    اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کے ان فتوؤں میں دونوں طریقے رائج تھے، بعض اوقات یہ حضرات فتوٰی کے ساتھ کتاب و سنت سے اسکی دلیل بھی بیان فرماتے، اور بعض اوقات دلیل بتائے بغیر صرف حکم کی نشاں دہی فرمادیتے، جسکی چند مثالیں اوپر گزری ہیں، اور مزید بہت سی مثالیں موطا امام مالک رحمہ اللہ، کتاب الاثار للامام ابی حن یفہ رحمہ اللہ ، مصنف عبدالرزاق رحمہ اللہ، مصنف ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ ، شرح معانی الآثار للطحاوی رحمہ اللہ اور المطالب العالیۃ للحافظ ابن حجر رحمہ اللہ وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

    تقلید شخصی عہد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین میں

    مزکورہ مثالیں تو تقلید مطلق کی تھیں، یعنی ان مثالوں میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین و تابعین رحمہ اللہ نے کسی فرد واحد کو معین کرکے تقلید نہیں کی، بلکہ کبھی کسی عالم سے مسئلہ پوچھ لیا، اور کبھی کسی اور سے، اسی طرح تقلید شخصی کی بھی متعدد مثالیں ذخیرہء احادیث میں ملتی ہیں ، جن میں سے چند درج زیل ہیں:-

    پہلی نظیر

    (1)
    صحیح بخاری رحمہ اللہ میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:-
    “ان اھل المدینۃ سالوا ابن عباس رضی اللہ عنہما عن امراۃ طافت ثم حاضت، قال لھم تنفر قالو الانا خز بقولک ق نزع قول زید رضی اللہ عنہ“
    (صحیح بخاری، کتاب الحج،باب اذاحاضت المراۃ بعد ما افاضت)

    “بعض اہل مدینہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو طواف فرض کے بعد حائضہ ہوگئی ہو،۔۔(کہ وہ طواف وداع کے لئے پاک ہونے کا انتظار کرے؟یا طواف وداع اس سے ساقط ہوجائے گا! اور بغیر طواف کے واپس آنا جائز ہوگا!) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ (طواف وداع کے بغیر) جاسکتی ہے، اہل مدینہ نے کہا کہ آپکے قول پر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کو چھوڑ کر عمل نہیں کریں گے۔“

    اور یہی روایت معجم اسماعیلی رحمہ اللہ میں عبدالوہاب الثقفی کے طریق سے مروی ہے، اس میں اہل مدینہ کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔
    “لانبالی افتییتنا اولم تفتنا، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ یقول لاتنفر“
    (فتح الباری ،جلد3،صفحہ468،طبع میریہ سن 1300ھ و عمدۃالقاری،جلد4،صفحہ777)

    “ہمیں پرواہ نہیں کہ آپ فتوٰی دیں یا نہ دیں، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ وہ (طواف وداع کے بغیر) نہیں جاسکتی۔“

    اور یہی واقعہ مسند ابوداؤد طیالسی رحمہ اللہ بروایت قتادۃ رحمہ اللہ منقول ہے ، اس میں اہل مدینہ کے یہ الفاظ مروی ہیں ۔

    “لاتنا بعک یا ابن عباس رضی اللہ عنہ و انت تخالف زید، فقال سلواصاحبتکم ام سلیم رضی اللہ عنہ۔“
    (مسند ابوداؤد طیالسی ،صفحہ229،مرویات ام سلیم رضی اللہ عنہ)

    “اے ابن عباس رضی اللہ عنہ! جس معاملہ میں آپ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مخالفت کررہے ہیں اس میں ہم آپ کی اتباع نہیں کریں گے ، اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا (مدینہ پہنچکر) ام سلیم رضی اللہ عنہ سے پوچھ لینا۔(کہ جوجواب میں نے دیا ہے وہ درست ہے)۔“

    اس واقعہ میں اہل مدینہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی گفتگو سے دوباتیں وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہیں،
    ایک تو یہ کہ اہل مدینہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی تقلید شخصی کیا کرتے تھے اور ان کے قول کے خلاف کسی کے قول پر عمل نہیں کرتے تھے، بلکہ معجم اسماعیل رحمہ اللہ کی روایت سے تو یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حجرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے فتوے کی دلیل میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا وغیرہ کی احادیث بھی سنائیں تھیں،(کیونکہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے رجوع کے بعد جب اہل مدینہ کی ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وجدناالحدیث کماحدثنا(عمدۃالقاری حوالہ بالا)) اس کے باوجود چونکہ ان حضرات کو حضرت زید رضی اللہ عنہ کے علم پر پورا اعتماد تھا اس لئے
    انہوں نے اپنے حق کے قول کو حجت سمجھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے فتوے پر عمل نہ کرنے کی اسکے سوا کوئی وجہ بیان نہیں کی کہ وہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فتوے کے خلاف ہے،
    دوسرے یہ کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضیاللہ عنہ نے بھی ان حضرات پر یہ اعتراض نہیں فرمایا کہ تم تقلید کے لئے ایک شخص کو معین کرکے “گناہ“ یا “شرک“ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ بلکہ انہیں ام سلیم رضٰ اللہ عنہا سے مسئلہ کی تحقیق کرکے حضرت زید بن ثابت رضٰ اللہ عنہ کی طرف مراجعت کرنے کی ہدایت فرمائی، چنانچہ یہ حضرات مدینہ طیبہ پہنچے، تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضٰ اللہ عنہ کے ارشاد کے مطابق ام سلیم رضٰ اللہ عنہا سے واقعہ کی تحقیق کرکے دوبارہ حضرت زید بن ثابت رضٰ اللہ عنہ کی طرف مراجعت کی، جسکے نتیجے میں حضرت زید رضٰ اللہ عنہ نے مکرر حدیث کی تحقیق فرما کر اپنے سابقہ فتوے سے رجوع فرمالیا، اور اس کی اطلاع حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بھی دی، جیسا کہ مسلم، نسائی اور بہقی وغیرہ کی روایات میں تصریح ہے۔
    (فتح الباری،جلد3، صفحہ 468،469)

    بعض حضرات نے اس استدلال کے جواب میں فرمایا کہ اگر اہل مدینہ مقلد ہوتے تو حضرت ام سلیم رضٰ اللہ عنہا کی حدیث کی تحقیق کیوں کرتے۔(تحریک آزادی فکر،ازمولانا محمد اسمٰعیل سلفی رحمہ اللہ علیہ،صفحہ 136) لیکن یہ جواب اس غلط فہمی کی بنیاد پر مبنی ہے کہ کسی مجتہد کی تقلید کرنے کے بعد احادیث کی تحقیق حرام ہوجاتی ہے،غیر مقلد حضرات کے بیشتر دلائل اور اعتراضات اسی غلط مفروضے پر مبنی ہیں، حالانکہ جیسا کہ پیچھے بیان کیا جاچکا ہے، تقلید کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ جوشخص براہراست قرآن و حدیث کا مطلب سمجھنے، ان کے ظاہری تعارض کو رفع کرنے، یا ناسخ و منسوخ وغیرہ کا فیصلہ کرنے کی اہلیت اپنے اندر نہیں*پاتا وہ کسی مجتہد سے تفصیلی دلائل کا مطالبہ کئے بغیر اس کے علم پر اعتماد اور اسکے فتوے پر عمل کرلیتا ہے، لہٰزہ تقلید کے مفہوم میں یہ بات ہرگز داخل نہیں ہے کہ مجتہد کے فتوے پر عمل کرنے کے بعد قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے کی کوشش ہی نہ کی جائے، بلکہ یہ دروازہ تقلید کے بعد بھی کھلا رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں مقلدین نے کسی امام کی تقلید شخصی کرنے کے باوجود قرآن کریم کی تفسیریں اور احادیث کی شرح لکھی ہیں، اور اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے علم کو بڑھانے اور تحقیق و نظر کا سلسلہ جاری رکھا ہے، اور اگر اس تحقیق کے دوران کسی مسئلے میں قطعی طور سے واضح ہوگیا ہے کہ کوئی حدیث صریح مجتہد کے قول کے خلاف ہے، اور اس کے معارض کوئی قوی دلیل موجود نہیں، تو اس مسئلے میں اپنے امام کے بجائے حدیث صریح پر عمل کیا ہے، جسکی پوری تحقیق و تفصیل آگے آرہی ہے، لہٰزہ اگر کسی مقلد کو اپنے امام کا کوئی قول کسی حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے تو اس حدیث کی تحقیق کرنا تقلید کے خلاف نہیں ہے، اور مزکورہ بالا حدیث میں تو تحقیق اور تقلید دونوں کا پورا پورا موقع موجود تھا، کیونکہ حضرت زید بن ثابت رضٰ اللہ عنہ بقید حیات تھے ، اور وہ حدیث کی تحقیق کرنے کے بعد اس تحقیق کے نتائج سے ان کو مطلع کرسکتے تھے، چنانہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور بالآخر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے قول سے رجوع فرمایا، اور اسطرح حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے یہ مقلدین حدیث کی مخالفت سے بھی بچ گئے اور اپنے امام کی مخالفت سے بھی،

    لیکن زیر بحث مسئلے میں جوبات بطور خاص قابل توجہ ہے وہ ان حضرات کا یہ جملہ ہے کہ “ہم زید رضی اللہ عنہ کے قول کو چھوڑ کر آپ کے قول پر عمل نہیں کرسکتے“ یہ اگر تقلید شخصی نہیں*تو اور کیا ہے؟


    دوسری نظیر
    (2)
    صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ھزیل بن شرجیل رحمہ اللہ سے اک واقعہ مروی ہے کہ ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے کچھ لوگوں نے ایک مسئلہ پوچھا، انہوں نے جواب تو دے دیا ، مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھ لو، چنانچہ وہ لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضٰ اللہ عنہ کے پاس گئے، اور ان سے بھی وہ مسئلہ پوچھا، اور ساتھ ہی حضرت ابوموسٰٰی اشعری رضی اللہ عنہ کی رائے بھی ذکر کردی، حضرت عبداللہ بن مسعود نے جو فتوٰٰی دیا وہ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کے فتوے کے خلاف تھا، لوگوں نے حضرت ابوموسٰی اشعری رضٰ اللہ عنہ سے حضرت ابن مسعود رضٰ اللہ عنہ کے فتوے کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا:-

    “لاتسالونی مادام ھذا البحر فیکم، جب تک یہ متبحر عالم(یعنی عبداللہ بن مسعود رضٰ اللہ عنہ) تمہارے درمیان موجود ہیں اس وقت تک مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو“

    اور مسند احمد رحمہ اللہ وغیرہ کی روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ:-

    “لاتسالونی عن شئی مادام ھٰزاالبحر بین اظھر کم، یعنی جب تک یہ متبحر عالم تمہارے درمیان موجود ہیں مجھ سے کچھ نہ پوچھا کرو“
    (صحیح بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث ابنتہ ،جلد2،صفحہ997 و مسند احمد جلد1،صفحہ 464،احادیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ)

    ملاحظہ فرمائیے ! یہاں حضرت ابوموسٰی اشعری رضٰ اللہ عنہ اس بات کا مشورہ دے رہے ہیں کہ جب تک حضرت عبداللہ بن مسعود رضٰ اللہ عنہ زندہ ہیں اس وقت تک تمام مسائل انہیں سے پوچھا کرو، اور اسی کا نام تقلید ہے۔

    بعض حضرات نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حضرت ابوموسٰی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے اپنی تقلید سے تو منع فرمادیا ، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہوں نے دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کی طرف رجوع سے بھی منع کردیا ہو، اس وقت اکابرین صحابہ موجود تھے، وہ ان کی طرف رجوع سے کیسے روک سکتے تھے؟ غایت یہی ہوسکتی ہے کہ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی طرف رجوع نہ کیا جائے۔(تحریک آزادی فکر،صفحہ 138)

    اسکا جواب یہ ہے کہ یہ سارا واقعہ کوفہ میں پیش آیا ہے جہاں حضرت عبداللہ بن نسعود رضی اللہ عنہ سب سے بڑے عالم تھے، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں پیش آیا ہے،(عمدۃالقاری،جلد11،صفحہ 98،و فتح الباری،صفحہ14،جلاد12) جبکہ حضرت علی رضٰ اللہ عنہ بھی کوفہ تشریف نہیں لائے تھے، اور اس وقت وہاں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بڑا عالم باتفاق کوئی نہیں تھا، لہٰزہ اگر حضرت ابوموسٰی رضی اللہ عنہ کے ارشاد کی علت یہی ہو کہ “ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی طرف رجوع نہ کیا جائے ، تب بھی اس کا حاصل یہی نکلتا ہے کہ جب تک حضرت عبداللہ بن مسعود رضٰ اللہ عنہ موجود ہیں اس وقت تک صرف انہیں سے مسائل پوچھتے رہو، انہیں چھوڑ کر میری یا کسی اور کی طرف رجوع نہ کرو، کیونکہ کوفہ میں ان سے افضل عالم کوئی نہیں، چنانچہ معجم طبرانی میں ہے کہ رضاعت کے اک مسئلہ میں حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کیا گیا تو اس وقت بھی انہوں نے یہی بات ارشاد فرمائی ، بلکہ وہاں یہ الفاظ ہیں کہ :-

    “لاتسالونی عن شئی مااتام ھٰزہ بین اظھر نامن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “
    (معجم الزوائد،جلد4،صفحہ262،باب الرضاع، یہی روایت کنزالمال جلد6صفحہ147 میں بحوالہء عبدالرزاق آئی ہے ۔وہاں واللہ لا مفتیکم ماکان بھا)
    “مجھ سے کسی معاملہ میں سوال نہ کیا کرو جب تک کہ یہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) صحابہ میں سے ہمارے درمیان موجود ہیں“

    لہٰزہ جن حالات اور جس ماحول میں حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، اس میں بخالص تقلید شخصی کا مشورہ ہے، اور اس سے یہ بات بلاشبہ واضح ہوتی ہے کہ تقلید شخصی عہد صحابہ رضوان اللہ علیہم میں کوئی شجرہء ممنوعہ نہیں تھی۔

    تیسری نظیر
    (1)
    جامع ترمزی اور سنن ابی داؤد رحمہ اللہ وغیرہ میں حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث منقول ہے ؛-
    “عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لما بعثہ الی الیمن،
    قال : کیف تقضی اذا عرض لک قضاء؟
    قال اقضی فبسنۃ،
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فاءن لم تجد فی سنۃ رسول اللہ ولافی کتاب اللہ ؟
    قال: اجتھد راء بی، ولااٰلو ، فضرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدرہ: فقال: الحمد للہ الذی وفق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لما یرضی رسول اللہ“
    (سنن ابی داؤد،کتاب الاقضیہ، باب اجتھادالرائی فی القضاء)
    “حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن بھیجا تو فرمایا کہ جب کوئی قضیہ تمہارے سامنے پیش آئے گا تو کسطرح فیصلہ کروگے؟
    عرض کیا کہ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کروں گا،فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ہو؟
    تو عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کتاب اللہ اور سنت دونوں میں نہ ملے؟
    عرض کیا کہ اس وقت اپنی رائے سے اجتہاد و استنباط کرونگا، اور (حق تک پہنچنے کی کوشش میں) کوتاہی نہیں کروں گا، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے(فرط مسرت سے) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اللہ کاشکر ہے، اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جس پر اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو۔“

    یہ واقعہ تقلید و اجتہاد کے مسئلہ میں اک ایسی شمع ہدایت ہے کہ اس پر جتنا غور کیا جائے اس مسئلہ کی گتھیاں سلجھتی چلی جاتی ہیں، یہاں ہمیں اس واقعہ کے صرف ایک پہلو پر توجہ دلانا مقصود ہے، اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لئے اپنے فقہاء صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین میں سے اک جلیل القدر صحابی کو بھیجا۔ اور انہیں حاکم و قاضی، اور معلم و مجتہد بناکر اہل یمن پر لازم کردیا کہ وہ انکی اتباع کریں، انہیں صرف قرآن و سنت ہی نہیں بلکہ قیاس و اجتہاد کے مطابق فتقٰی صادر کرنے کی اجازت عطا فرمائی، اس کا مطلب اسکے سوا اور کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ان کی تقلید شخصی کی اجازت دی بلکہ اس کو ان کے لئے لازم کردیا۔
    (ناچیز کے اس استدلال پر ایک صاحب نے جو ناچیز اور تمام مقلد علماء کو کافر و مشرک کہتے ہیں لکھا کہ:-حدیث پیش کرنے سے پہلے یہ تو دیکھ لیاہوتا کہ حدیث صحیح بھی ہے یا نہیں(تحقیق فی جواب التقلید،صفحہ 49)،اور اسکے بعد ابوداؤد کے حاشیہ سے وہی مشہور اعتراضات نقل کردیتے ہیں جو علامہ جوزقانی نے اس حدیث پر وارد کئے ہیں، اول تو موصوف تقلید کی تردید فرماتے ہوئے خود تقلید کے مرتکب ہوئے ہیں،
    کہ حدیث کورد کرنے کے لئے صرف امام جوزقانی کے قول کو کافی سمجھا ہے،دوسرے یہ کہ موصوف نے صرف ابوداؤد کا حاشیہ دیکھ لینا حدیث کی تحقیق کے لئے کافی سمجھا، اگر وہ کسی اور کی نہیں امام ابن القیم رحمہ اللہ ہی کی تحقیق دیکھ لیتے تو یہ شبہات رفع ہوجاتے،علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے امام جوزقانی رحمہ اللہ کے اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے اور بتایا ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے جن اصحاب سے یہ حدیث مروی ہے ان م یں سے کوئی بھی متہم،کذاب یا مجروح نہیں ہے، دوسرے انہوں نے خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے حوالہ سے اسی حدیث کا ایک دوسرا طریق“عبادۃ بن نسی عن عبدالرحمٰن بن غنم عن معاذ رضی اللہ عنہ “بھی زکر کیا ہے، اور لکھا ہے “وھذا اسناد متصل و رجال-معروفون بالثقُ“-نیز بتلایا ہے کہ یہ حدیث امت کی تلقی بلقبول کی وجہ سے بھی قابل استدلال ہے“اعلام الموقعین،جلد1،صفحہ،175اور176)

    حضرت معاذ رضی اللہ عنہ صرف ایک مستبد حکمران بن کر یمن تشریف نہیں لے کئے تھے ،بلکہ ایک معلم اور مفتی کی،،،حیثیت سے بھی تشریف لے گئے تھے،لہٰزہ یہ خیال درست نہیں ہے کہ “اس حدیث کا تعلق حکم اور قضاء سے افتاء سے نہیں“(تحریک آزادی فکر از حضرت اسمٰعیل سلفی،صفحہ140)

    صحیح بخاری کی روایت ہے:-
    “عن الاسود بن یزید قال اتانا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بالیمن معلما اوامیرا، فسالناہ رجل توفی وترک ابتہ و اختہ فاعطی الابنتہ النصف والاخت النصف“
    (صحیح بخاری،کتاب الفرائض باب میراث البنات،جلد2،صفحہ997)

    “حضرت اسود بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے پاس یمن آئے وہ ہمارے امیر بھی تھے معلم بھی تھے، ہم نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک شخص نے وفات کے بعد اپنی بیٹی اور بہن چھوڑی ہے، (انکو کیا میراث ملے گی؟) تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بیٹی اور بہن کو نصف میراث دی“

    یہاں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بحیثیت اک مفتی کے فتوٰی دیا، اور اس کی دلیل بھی بیان نہیں فرمائی، اور اسے تقلیداً قبول کیا گیا، پھر اس واقعہ میں تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اگرچہ دلیل بیان نہیں فرمائی، لیکن ان کا فیصلہ کتاب و سنت پر مبنی تھا، ایک اور فتوٰی ملاحظہ فرمائیے ، جس کی بنیاد حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے اجتہاد و استنباط پر تھی:-

    “عن ابی الاسود الدیلی قال کان معاذ رضی اللہ عنہ بالیمن فارتفعوا الیہ فی یھودی مات وترک اخامسلما فقال معاذ رضی اللہ عنہ انی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ان الاسلام یزید ولا ینقض فورثہ“
    (مسند احمد،جلد5،صفحہ 230،236،واءخر الحاکم وقال“صحیح الاسناد یخرجاہ وقال الزہبی رحمہ اللہ،صحیح“، ،ستدرک حاکم رحمہ اللہ،جلد4،صفحہ345)

    “حضرت ابوالاسود دیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں تھے، لوگ ان کے پاس یہ مسئلہ لے گئے کہ یہودی اپنے پیچھے اپنا ایک مسلمان بھائی چھوڑ کر مرگیا ہے،(آیا۔۔۔اسکا مسلمان بھائی وارث ہوگا یا نہیں؟)، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام زیادتی کرتا ہے کمی نہیں کرتا، (لہٰزہ میرے نزدیک مسلمان ہونے کی بناء پر یہودی کے بھائی کو میراث سے محروم نہیں کیا جائے گا)، چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اسے میراث دلوائی۔“
    (واضح رہے کہ یہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا اپنا استنباط تھا، ورنہ جمہور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین اور فقہاء کے نزدیک مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا،لقولہ علیہ السلام،“لایرث المسلم الکافر“)

    ملاحظہ فرمائیے ! یہاں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے دور کی حدیث سے استدلال فرمایا کس کا موضوع وراثت کے مسائل نہیں ہیں، یہ محض ان کا اجتہاد تھا، اور اہل یمن نے اسے قبول کیا۔
    نیز مسند احمد رحمہ اللہ اور معجم طبرانی رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ :-

    “ان معاذ اقدام الیمن فلقیقۃ امراہ من خولان۔۔۔فقالت فسلمت علٰی معاذ۔۔۔فقالت من ارسلک ایھاالرجل؟ قال لھا معاذ : ارسلنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فلا تخبرنی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،فقال لھا معاذ:سلینی عماشئت“
    (الہیثمی فی مجمع الزوائد4:307،308،باب حق الزوج علی المراء وقال:رواہ احمد و الطبرانی من روایۃ عبدالمجید بن بہرام عن شہر،فیہما ضعف و قد ثقا)
    “حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یمن تشریف لائے تو خود ان کی ایک عورت ان کے پاس آئی اور سلام کے بعد کہنے لگی کہ اے شخص: تمہیں کس نے بھیجا ہے؟حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے،عورت نے کہا: آپکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجاہے اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی ہیں، تو اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیامبر ؛ کیا آپ مجھے (دین کی باتیں) نہیں بتائیں گے؟حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :مجھ سے جو چاہو پوچھو“

    اس سے واضح ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو محض ایک گورنر کی حیثیت میں نہیں بھیجا گیا تھا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر اور نمائندے کی حیثیت سے ان کا فریضہء منصبی یہ بھی تھا کہ لوگ ان سے دین کے احکام معلوم کریں اور وہ انہیں بتائیں، چنانچہ اسی حیثیت کا واسطہ دے کر مزکورہ خاتون نے ان سے سوالات کئے، اور اسی حیثیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حجرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ سے جو چاہو پوچھو، چنانچہ اسی حدیث میں آگے بیان کیا گیا ہے کہ اس خاتون نے یہ معلوم کیا کہ بیوی پر شوہر کے کیا حقوق ہیں؟ اس کے جواب میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کوئی آیت یا حدیث نہیں سنائی،بلکہ اصول اسلام کے مطابق جواب دیا، اور اسکی کوئی دلیل بیان نہیں فرمائی،اس سے اس کے سوا اور کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ محض قضاء اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لئے نہیں گئے تھے، بلکہ ان کو اسلئے بھیجا گیا تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علی وسلم کے نمائندے کی حیثیت میں لوگوں کو احکام شریعت سے باخبر کریں،اور لوگ ان کی تقلید کریں۔

    پھر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے “آعلمھم بالحلال و الحرام“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین میں حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم قرار دیا۔(رواہ النسائی و الترمزی و ابن ماجہ ،باسانید صحیحہ حسنۃ وقال الترمزی؛ہوحدیث حسن صحیح،“تہزیب الاسماء واللغات للعودی،جلد1صفحہ99)اور جن کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا کہ :
    “انہ یحشر یوم القیامۃ بین یدی العلماء نبذۃ“
    (اخرجہ احمد فی مسندہ عن عمر رضی اللہ عنہ، و فی روایۃ “برثوۃ“ والرتوۃ والنبزۃ کلا ہما رمیۃ سہم،الفتح الربانی،ج21،ص352)

    “ان کو قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا کہ یہ علماء کی قیادت کرتے ہوئے ان سے اتنے آگے ہوں گے جتنی دور تک ایک تیر جاتا ہے“

    چنانچہ صرف اہل یمن ہی نہیں، بلکہ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی ان کی تقلید کرتے تھے :-

    “عن ابی مسلم الخولانی قال اتیت مسجد اھل دمشق فاذا حلقۃ فیھا کھول من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفی روایۃ کثیر بن ھشام:فاذا فیہ نحو ثلاثین کھلا من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اذاشاب فیھم اکحل العینین براق الثنایاکلما اختلفوافی شیء ردوہ الی الفتنی فتی شاب، قال، قلت لجلیس لی: من ھذا؟ قال: ھذا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ“
    (مسند احمد رحمہ اللہ ،جلد5،صفحہ 236،مرویات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ)

    “ابومسلم خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل دمشق کی مسجد میں آیا تو دیکھا کہ وہاں ایک حلقہ ہے جس میں ادھیڑ عمر کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین موجود ہیں(ایک روایت میں ہے کہ ان صحابہ رضی اللہ عہما کی تعداد تیس کے لگ بھگ تھی،“احمد،ج5،ص،239)انہی میں میں نے دیکھا کہ اک نوجوان ہے جسکی آنکھیں سرمگیں اور سامنے کے دانت چمکدار ہیں، جب ان صحابہ کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف رائے ہوتا تو وہ اسکا فیصلہ اسی نوجوان سے کراتے، میں نے اپنے ایک ہمنشیں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا یہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔“

    ملاحظہ فرمائیے کہ تیس کے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اختلافی مسائل میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے تھے، اک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ؛“اذا اختلفوا فی شئی سندوہ الیہ و صدروا عن رایہ“
    (مسند احمد۔جلد5،صفحہ233،مرویات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ)
    “یعنی کسی مسئلہ میں انکا اختلاف ہوتا تو وہ اسکا فیصلہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیتے، اور ان کی رائے قبول کرکے لوٹتے۔“

    خلاصہ یہ کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان فقہاء صحابہ میں سے ہیں ، جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے “اعلم بلحلال و الحرام“ قرار دیا، خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمٰعین جن کی تقلید کرتے تھے، لہٰزہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن روانہ فرمایا اور انہیں قضاء سے لے کر تعلیم و افتاء تک تمام ذمہ داریاں سونپیں، تو اہل یمن پر لازم فرمادیا کہ وہ اپنے تمام دینی معاملات میں انہیں کی طرف رجوع کیا کریں، چنانچہ اہل یمن نے ایسا ہی کیا، اور اسی کا نام تقلید شخصی ہے۔






    مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب "تقلید کی شرعی حیثیت" سے اقتباس پیش کیا ۔
    مکمل کتاب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔ شکریہ​
  5. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلام علیکم احمد قاسمی صاحب

    کیا آپ بتائیں گے کہ اک ایسی پوسٹ جسے لکھنے میں مجھے ایک مہینہ لگا اسے آپ نے چند منٹ میں کیسے پڑھ لیا ؟ یا یہ اندازہ کیسے لگالیا کہ یہ ایک مفید پوسٹ ہوسکتی ہے ؟^o^||3
  6. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اس تعریف نے واضح کردیا کہ مقلد اپنے امام کے قول کو مآخز شریعت نہیں سمجھتا، کیونکہ مآخز شریعت صرف قرآن و سنت (اور انہی کے ذیل میں اجماع و قیاس) ہیں،البتہ یہ سمجھ کر اس کے قول پر عمل کرتا ہے کہ چونکہ وہ قرآن و سنت کے علوم میں پوری بصیرت کا حامل ہے ، اسلئے اس نے قرآن و سنت سے جو مطلب سمجھا ہے وہ میرے لئے زیادہ قابل اعتماد ہے۔

    سبحان اللہ ۔ ۔ ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ۔ ۔

    اب آپ بہ نظر انصاف غور فرمائیے کہ اس عمل میں کونسی بات ایسی ہے جسے “گناہ“ یا “شرک“ کہا جاسکے؟

    جناب ضد بھی تو کسی چیز کا نام ہے ۔ ۔ ۔ جب زبان پہ ایک ہی رٹ ہو میں نہ مانوں تو پھر اس کا کیا علاج کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں