جانشین حکیم الاسلام حضرت مولانامحمدسالم قاسمی

'تہنیتی پیغامات' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏فروری 9, 2014۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    سپاس نامہ
    بخدمت گرامی قدرجانشین حکیم الاسلام حضرت مولانامحمدسالم قاسمی دامت برکاتہم
    مہتمم دارالعلوم( وقف) دیوبند
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    سب سے پہلے میں اپنی جانب سے اوراپنے احباب ومتعلقین کی جانب سے اللہ وحدہ لاشریک لہ کاشکرگزارہوں کہ اس نے ہمیں دولت ایمان سے سرفرازفرمایااورقدسی صفات ہستیوں سے نسبت نصیب فرمائی۔
    ہدیۂ تبریک :
    حضوروالا!عالم اسلام کی مشہورومعروف تنظیم ’’مؤتمرعالمی لخدمت الانسانیۃ‘‘کے زیراہتمام سرزمین افریقہ کے شہرجوہانسبرگ میں ۸۰؍سے زائدممالک کے زعماء ومفکرین،علماء ودانشوران،مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ وسربرآوردہ افراد وشخصیات کے ذریعہ منعقدہ کانفرنس میں’’جائزۃ امام قاسم نانوتوی‘‘ایوارڈکے لئے آنجناب کانام نامی اسم گرامی منتخب کئے جانے اورمسلک علماء دیوبندکی ہمہ جہت خدمات کے اعتراف پرمبارک بادپیش کرتاہوں۔
    خانوادۂ قاسم کی ہمہ جہت خدمات:
    حضوروالا!اللہ تعالیٰ نے آپ کو،آپ کے آباء واجدادکواورخانوادۂ قاسمی کواپنے فضل خاص سے نوازاہے ،چنانچہ علم دین،سلوک وتصوف،روح وروحانیت،فقہ ،تفسیر،حدیث اورکلام وغیرہ اہم علوم وفنون کے باب میں ہی نہیں ملکی وغیرملکی مسلمانوں کے لئے اتحادواخوت کی فضاکواستوارکرنے،ہندوستان کوغلامی کی ذلت سے آزادی دلانے،مسلمانوں کے ایمانی تحفظ اورتشخص کے لئے ہرممکن خدمات انجام دینے،جہالت کی گھٹاؤں کوعلوم نبوت سے مٹانے،باطل افکارونظریات کوصحیح اسلامی سمت اوردینی فکرسے مالامال کرنے جیسے بے شمارنقش ونقوش ہیں جوخانوادہ قاسم کی رہین منت ہیں۔
    حجۃالاسلام حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ :
    حضورعالی!آپ کے والدماجدحکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب قاسمی ؒ کے جدامجدحجۃ الاسلام حضرت مولانامحمدقاسم نانوتویؒ (۱۸۳۲ء۔۱۸۸۰ء)ان علماء امت اوراساطین ملت میں سے ہیں جن کے کارہائے نمایاں تاقیامت باقی رہیں گے اوران کے لگائے ہوئے شجرعلم دارالعلوم دیوبندسے نسل انسانی روحانی تازگی،فکری بالیدگی اورروشن ضمیری حاصل کرتی رہے گی،گویاعلوم نبوت کی وہ خوشبوجوصدیوں سال قبل حضرت اقدس سیداحمدشہیدؒ نے دیوبندسے گزرتے ہوئے محسوس فرمائی تھی اس خوشبوسے اسلام مخالف ہرقسم کی بدبودارہوائیں،باطل عقائد،جاہلی رسوم اورشیطانی تحریکات کاخاتمہ ہوتارہے گا،نیکی کاغلبہ ہو گا،بدی کومنہ کی کھانی ہوگی،ضلالت کے بادل چھٹیں گے،ایمان کی بادبہاری چلے گی،قرآن کی تعلیم عام ہوگی،بدعات کازورختم ہوگا،کفرکے خرمن میں آندھیاں آئیں گی،ہوائے ایمان سے فضاء ہدایت کاتسلط ہوگااورآیت قرآنی:جاء الحق کی نویدجانفزاسے ذھق الباطل کی بشارت عظمی حاصل ہوتی رہے گی۔
    حجۃ الاسلام حضرت مولانامحمدقاسم نانوتویؒ کی ذات گرامی اپنی عظمت وعبقریت میں مثالی تھی وہ استاذالکل حضرت مولانامملوک العلی نانوتویؒ ،محدث کبیرحضرت مولاناشاہ عبدالغنیؒ مجددی دہلویؒ اورمحدث کبیرحضرت مولانااحمدعلی محدث سہارنپوری(یکے ازبانیان مظاہرعلوم)کے شاگردرشیدتھے تودوسری طرف سیدالطائفہ حضرت اقدس حاجی امداداللہ مہاجرمکی ؒ کے خلیفہ اورفیض یافتہ تھے،اورحضرت حاجی صاحبؒ نے ایک بارغایت فرحت ومسرت میں ارشادفرمایاتھاکہ:
    ’’مولوی رشیداحمدصاحب سلمہ اورمولوی محمدقاسم صاحب سلمہ کودرجات میں مجھ سے زیادہ خیال کریں اگرچہ بظاہرمعاملہ الٹاہوگیاہے اوروہ مریدکی جگہ اورمیں مرشدکی جگہ ہوگیااوران کی صحبت کو غنیمت جانیں ،اس قسم کے لوگ اس زمانہ میں نایاب ہیں‘‘
    حقیقت یہ ہے کہ حجۃ الاسلام حضرت مولانامحمدقاسم نانوتویؒ اسلام کی دلیل اوربرہان تھے،یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیراحمدعثمانیؒ نے فرمایاتھاکہ:
    ’’حضرت نانوتویؒ نے اسلام کی اتنی حجتیں جمع فرمادی ہیں کہ سوبرس تک کوئی اسلام کامقابلہ اوراسلام پرحجت سے حملہ نہیں کرسکتا‘‘
    حضرت مولاناحافظ محمداحمدنانوتویؒ :
    اسی طرح حضرت حجۃ الاسلام مولانامحمدقاسم نانوتویؒ کے فرزندارجمنداورحکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب ؒ کے والدماجدحضرت مولاناحافظ محمداحمدصاحب ؒ (۱۸۶۲ء۔۱۸۲۸ء)بھی بڑی خوبیوں کے مالک تھے،آپ نے تھانہ بھون،گلاؤٹھی، مرادآباد،گنگوہ اوردیوبندمیں تعلیم کی تحصیل کے بعدایک مدت تک تھانہ بھون میں تعلیم دے کر۱۸۸۵ء میں دارالعلوم دیوبندمیں تدریس کے لئے مامورہوئے اوراپنی بے پناہ صلاحیتوں اورخداددادلیاقتوں کے باعث اپنااعتمادحاصل کرلیااورمحض دس سال بعد۱۸۹۵ء میں دارالعلوم دیوبندکے عہد�ۂاہتمام پرفائزہوئے۔
    آپ کے عہدمیں دارالعلوم دیوبندنے حیرت انگیزترقی پائی چنانچہ موجودہ عالی شان دارالحدیث اوراس سے ملحقہ مختلف درسگاہیں،اورقیام گاہیں آپ ہی کے عہدمیمون کی یادگارہیں۔
    حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب قاسمیؒ :
    حضوروالا!آپ کے والدماجداورمیرے مشفق ومربی حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب ؒ خلیفہ حضرت حکیم الامت مجددالملت مولانااشرف علی تھانویؒ بیسویں صدی میں سرمای�ۂملت کی نگہبانی اورطائفۂ امت کی جہانبانی کے لئے ہمیشہ یادرکھے جائیں گے۔
    آپ کے عہدزریں میں دارالعلوم کوپوری دنیامیں نیک نامی کے ساتھ جوشہرت حاصل ہوئی وہ مثالی ہے،بیسیوں ممالک میں آپ نے اپنی عالمانہ خطابت اورحکیمانہ تقاریرسے دعوت الی اللہ کافرض انجام دیا۔
    آپ نے درس وتدریس،خطابت وتقریر،سلوک وتصوف،تصنیف وتالیف ہرمیدان میں قابل قدرنمایاں خدمات انجام دیں اورسچائی یہ ہے کہ دنیائے اسلام میں دارالعلوم دیوبندکی جوشہرت ومقبولیت حضرت حکیم الاسلام قاری محمدطیبؒ کے عہدمبارک میں ہوئی اس کی نظیرنہیں ملتی۔
    روایات کے امین:
    مذکورہ اکابرواسلاف کی روایات کے امین اوردورحاضرمیں مسلمانان ہندکامرجع اورمرکزآنجناب کی ذات گرامی ہے ،اللہ تعالیٰ نے آنجناب میں وہ تمام خوبیاں ودیعت فرمائی ہیں جوآپ کے آباء واجدادمیں موجودتھیں چنانچہ آپ کے اندرحجۃ الاسلام حضرت مولانامحمدقاسم نانوتویؒ کافکروتدبر،ان کی جرأت ایمانی،ان کی مؤمنانہ فراست ،علم کلام پرپختگی ومہارت ہے تواپنے جدمحترم حضرت مولاناحافظ محمداحمدنانوتویؒ کانظم وانتظام،ترتیب وتہذیب اورتعمیرات میں تنوع بھی۔آپ کے اندرآپ کے والدماجدحکیم الاسلام حضرت قاری محمدطیبؒ کی بالغ نظری ، دوراندیشی،حکیمانہ بلاغت،بے لوث وبے باک خطابت اورمعقولات ومنقولات پریکساں مہارت ودیعت ہے۔
    عہدحاضرمیں مختلف دینی اداروں کی سرپرستی،مختلف دینی تنظیموں کی سربراہی ،مسلم پرسنل لاء بورڈکی قیادت،آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کی سیادت وغیرہ کے علاوہ دارالعلوم( وقف) کی شکل میں آپ کے خوابوں کی حسین تعبیرموجودہے ۔
    ایں خانہ ہمہ آفتاب است:
    حضوروالا!آپ کے برادرحضرت مولانامحمداسلم صاحب مدظلہ بھی الولدسرلابیہ کامصداق ہیں اورخطابت ،تدریس،تحریروغیرہ کے علاوہ نظم وتعلیم میں عظیم الشان صلاحیتوں کے مالک ہیں توآپ کے برادراصغرحضرت مولانامحمداعظم قاسمی صاحب مدظلہ بھی دینی اورعصری علوم کے سنگم ہیں اورعلی گڑھ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    آنجناب کے فرزندارجمندحضرت مولانامحمدسفیان قاسمی صاحب اورآپ کے پوتے جناب مولانامحمدشکیب قاسمی سلمہما کی خوابیدہ وخفتہ صلاحیتیں الحمدللہ نکھرتی جارہی ہیں اورعالم اسلام ان کی خدمات سے بھی مستفیض ہورہاہے۔گویا’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘ کامصداق خانوداۂ قاسم ماضی کی طرح حال میں اورحال کی طرح ان شاء اللہ مستقبل میں دین اسلام کے احیاء اورسربلندی کے لئے آب وتاب کے ساتھ تیاری میں مشغول ہے۔
    حضوروالا!حسن ختام کے طورپرعرض کرناضروری سمجھتاہوں کہ جامعہ رحمانیہ دارالقراء ۃ الطیبہ کے قیام کے اصل محرک آپ کے والدماجداورمیرے مربی ومشفق حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیبؒ ہی ہیں ،حضرت علیہ الرحمۃ نے میراتقرردارالعلوم دیوبندکے شعبہ تجویدمیں فرمالیاتھالیکن میں بعض مجبوریوں کے پیش نظردارالعلوم نہیں گیاتوحضرت ؒ نے فرمایاکہ سہارنپورمیں قراء ت کی تعلیم کے لئے ایک معیاری شعبہ قائم کرو،چنانچہ یہ جامعہ رحمانیہ دارالقراء ت الطیبہ قائم ہوا،جس کاسنگ بنیادخودخکیم الاسلام حضرت قاری محمدطیب ؒ نے ۱۹۷۵ء میں رکھااورتاحیات جامعہ کی سرپرستی ورہنمائی فرماتے رہے ۔
    حضوروالا!خودمیرااورمیرے اہل خانہ کااصلاحی وروحانی تعلق بھی الحمدللہ حضرت حکیم الاسلام ؒ ہی سے ہے ،ان کے مبارک ہاتھوں پربیعت کاشرف حاصل ہے اوراس حقیقت کابرملااظہارواعتراف کرنے میں فخرمحسوس کررہاہوں کہ الحمدللہ ۲۷؍سال تک حضرت علیہ الرحمۃ سے قلبی ،ذہنی، روحانی ،نیازمندانہ جذباتی تعلق رہااوردعاہے کہ جنت الفردوس میں بھی حضرت علیہ الرحمۃ کی معیت ورفاقت نصیب ہوجائے۔
    آپ سے درخواست ہے کہ اس ادارہ کواپنی مخصوص دعاؤں میں یادرکھیں اورسابق کی طرح سرپرستی فرماتے رہیں۔ وقتاًفوقتاً اپنے قدوم میمنت لزوم سے ادارہ کورونق مرحمت فرمائیں ۔
    اللہ تعالیٰ صحت وعافیت کے ساتھ آپ کے سایۂ عاطفت کوہمارے سروں پردیرتک قائم رکھے۔
    نیازمندوکفش بردارخانوادہ قاسم
    عبدالرحمن طیبی
    ناظم جامعہ رحمانیہ دارالقراء ۃ الطیبہ بہٹ روڈسہارنپور
  2. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ تعالیٰ حضراتِ اکابر کی حفاظت فرمائے، آمین۔

اس صفحے کو مشتہر کریں