جس نے سر کہ اور سبزی پر قناعت اختیار کر لی

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏ستمبر 2, 2018۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,586
    موصول پسندیدگیاں:
    774
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مَنْ صَبَرَ عَلٰی الْخَلِّ وَالْبَقْلِ لَمْ یَسْتَبْعَد
    جس نے سر کہ اور سبزی پر قناعت اختیار کر لی وہ کبھی دوسروں کا غلام اور دست نگر نہیں بنا یا جا سکتا۔
    حضرت مسعر ابن کدامؓ کے یہ وہ معنیٰ خیز اثر آفریں اور حقیقت آگیں الفاظ ہیں جن کی تہ میں حقائق ومعارف
    اور انسانی زندگی کے تجرباتبونتائج کا ایک اتاہ سمندر اور بحر زخار موجزن ہے ۔تجربہ شاہد ہے جو ابن البطن اور پیٹ کے گدھے ہوتے ہیں اور جن کی زندگی کا مقصد مرغ ومسلم ولذیذ کھانے ہوتا ہے پھر وہ بے ما ئگی وتہی دستی کے عالم میں کا سہ لیسی ودریوزہ گری اختیار کرتے ہیں ،اور اپنی زبان کے ذائقہ اور پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لیے وہ دست سوال دراز کر نے اور اپنے کو عبید وغلام بنانے میں بھی کسی طرح کی عار اور ندامت وشرمندگی محسوس نہیں کرتے، انہیں تا کنے جھاکنے اور دوسروں کے یہاں حاضری دینے میں کسی طرح کی قباحت وشناع اور شرمندگی وخفت محسوس نہیں ہو تی ہے جس کا دستر خوان وسیع وکشادہ اور عمدہ وخوش ذائقہ کھانوں کا حامل ہوتا ہے وہ اپنے ضمیر کا سودا کر کے کسی نہ کسی بہانہ وہاں پہنچ جا تے ہیں اور جو اپنی سوکھی روٹی اور سبزی وبھاجی پر صبر وقناعت کر لیتا ہے وہ با ضمیر وبا کردار اس کمزوری اور ضمیر کے سودےبازی سے ما مون ومحفوظ رہتا ہے ، دوسرے کے سامنے دست سوال دراز کر نے کے بجائے وہ مر جانا پسند کرتا ہے ، اور غلامیت کی زندگی پر ہمیشہ موت کو ترجیح دیتا ہے ۔(اثر آفریں باتیں )

اس صفحے کو مشتہر کریں