جعلی علماء کی تیاری

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از بے باک, ‏اپریل 17, 2011۔

  1. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    اس سے پہلے عام لوگ صرف سوچ سکتے تھے ، کہ یہ مسلمانوں میں مختلف تفرقہ بازی کیوں ہے ، اور لوگ کیوں ایک اسلام پر متفق نہیں ، آئیے ایک سربستہ راز سے پردہ اٹھاتے ہیں ، تاکہ آپ دیکھ سکیں ، کہ کس طرح عیسائی ممالک اس کی آبیاری کرتے ہیں ،
    یہ داستان ماہنامہ "اردو ڈائجسٹ " جولائی 2010 کے شمارے میں لکھی گئی ہے ، یہاں اس کی سکین شدہ کاپی پیش کر رہا ہوں ، تاکہ ہمارے سب دوست اسے مطالعہ کریں اور آگاہ رہیں کہ ہماری صفوں میں کس طرح ایسے جعلی مولوی حضرات انجیکٹ کیے جاتے ہیں جنہیں ہم جانتے نہیں ،اور وہ ہمیں تخیلاتی اور تصوراتی ثواب کے چکر میں الجھائے رکھتے ہیں ، جس کا اسلام سے دور دور کا تعلق نہیں ، برائے کرم آپ ایسے فتنے کو سمجھنے کی کوشش کریں
    یہاں چار عدد تصاویر لگا رہا ہوں ، ترتیب سے دیکھیے.

    نمبر 1
    [​IMG]
    نمبر 2
    [​IMG]
    نمبر 3
    [​IMG]
    نمبر 4
    [​IMG]
    کیفی خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. سیما

    سیما وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,131
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک آللہ انکل [hr]
    کیا میں آپ کو انکل پکار سکتی ہو ؟؟؟؟؟؟؟؟
  3. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    شکریہ آپ سب نے اسے پسند کیا
    :)/\:) :)/\:) :)/\:)
    مجھے بھی بیٹی کہنے کا حق ملے گا نا،
    پھر انکل کہہ سکتی ہو ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  4. سیما

    سیما وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,131
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جی جی کیوں نہں میں تو بہت خوش نصیب ہوں جو اتنے پیارے پیارے لوگ میرے رشتہ دار بن گئے ہیں شکریہ چاچا جی :)/\:)
  5. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    ہاہا
    باقی باتیں گپ شپ کی لڑی میں ہوں گی ، یہاں موضوع بہت اہم ہے ، شکریہ،،،،
    اس پر کچھ تبصرہ جات ہونے چاھیے ،انشاءاللہ مجھے جب بھی وقت ملا، ایسے فتنوں کے متعلق سب کو ضرور آگاہ رکھوں گا ،
  6. سیما

    سیما وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,131
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    شکریہ چاچا جی ۔ اللہ پاک آپکو ہمت دیں آمین
  7. سرحدی

    سرحدی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    91
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    [size=x-large]جزاک اللہ خیراً
    بہت اچھا اور معلوماتی مضمون ہے۔
    یہود و ہنود کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح سے دنیا پر اپنی حکمرانی قائم کرسکیں اور باقی مذاہب کو مسخ کرکے اس کے ماننے والوں کا عقیدہ خراب کیا جاسکے۔ اسی سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہمیں روایات میں ملتی ہیں۔ یہودیوں کی اسلام دشمنی کسی سے مخفی نہیں ہے، حتی کہ عیسائیت کو بھی انہوں اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیے بدلنے کی اور اس میں افتراق پیدا کرنے کی کوشش کی، کئی ایک جگہ سے ایسا معلوم ہوا ہے کہ عیسائیت کے دو مختلف فرقوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی بنیاد ڈالنے والے بھی یہودی تھے جنہوں نے عیسائی پادریوں کا روپ دھارا اور عیسائیت کے اندر افتراق پیدا کردیا۔
    مسلمانوں کے ساتھ بھی یہودیوں کا سلوک کچھ مختلف نہ تھا، بلکہ یہودیوں نے مختلف زمانوں میں مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے ایمان کو کمزور کرنے کی بھر پور کو شش کی، اسی طرح ہندوستان میں اسلام کی اساس کو کمزور کرنے اور مسلمانوں کو اُن کے اصل دین سے ہٹاکر ہندوانہ رسم و رواج میں ڈھالنے کی پوری کوشش کی اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہندوستان میں مسلمان برائے نام مسلمان رہ گئے تھے اور اسلامی شعائر اور حسن معاشرت کو چھوڑ کر ہندوانہ رسم و رواج کو اپنا گئے تھے۔
    اللہ تعالیٰ بہت جزائے خیر عطا فرمائے اور ان حضرات کی قبروں کو اپنی رحمت سے بھردے جنہوں نے انگریزوں کی اس چال کو سمجھا اور بروقت اور درست فیصلہ کرکے دین اسلام کی بنیاد کو کمزور ہونے سے بچایا اور عرب کی سرزمین کو خیر باد کہتے ہوئے ہندوستان آئے جہاں نے انہوں نے اسلامی تعلیمات کی بنیاد رکھی اور مسلمانوں میں اصل دین متعارف کرایا۔
    یہ بات حقیقت سے بہت قریب ہے کہ غیر مسلم اپنی تمام تر کوششوں میں مصروف ہیں کہ نہ صرف جنگ کے میدان میں بلکہ تعلیم و تعلم اور عقائد و معاملات میں بھی مسلمانوں کے ایمان پر ضرب لگائی جاسکے جس کے لیے لازمی ہے کہ انہوں نے ایسے لوگ اپنے اندر پیدا کیے جو بظاہر مسلمان نظر آئیں لیکن اندر سے مکمل یہودی یا عیسائی ہوں۔
    الحمدللہ! اللہ کا بڑا ہی کرم ہے کہ ہندوستان کی سرزمین پر اللہ رب العزت نے علمائے حق کی صورت میں برصغیر کو ایسے رہنما عطا فرمائے جو کہ دین اسلام کی حفاظت اور مسلمانانِ برصغیر کے ایمان کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ثابت ہوئے۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان پہچانیں اور دیکھیں کہ وہ کس کی پیروی کررہے ہیں اور کس کی اقتدا میں چل رہے ہیں ۔ ہے تو بہت مشکل لیکن اگر دعا مانگیں تو اللہ تعالیٰ رہنمائی ضرور عطا فرمائیں گے۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ایسے فتنوں سے اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ اور دنیا و آخرت میں محض اپنے فضل و کرم سے کامیابی اور کامرانی عطا فرمائے۔آمین
    جزاک اللہ بے باک ، اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں ترقی عطا فرمائے اور حق بات کہنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
  8. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    اس واقعہ سے متعلق بعض دوستوں کو کچھ عبارات مشتبہ محسوس ہوئیں ۔ اور انہوں نے اظہار کیا کہ اس کا ماخذ معلوم نہیں کیا ہے ۔
    اس پر کچھ عرصہ پہلے کچھ لکھا تھا۔۔۔


    یہ واقعہ کافی مشہور ہے ۔ اور نواب چھتاری مشہور تاریخی شخصیت ہے ۔ واقعی وہ گورنر تھے ۔
    http://aligarhmovement.com/karwaan_e_aligarh/Nawab_Chattari
    نیٹ پہ یہ واقعہ اردو ڈائجسٹ کے پرانے شمارے کے حوالے سے ہے ۔ جو صفحات اوپر نقل ہوئے ۔۔وہ دوبارہ ۲۰۱۰ میں چھاپے گئے ۔۔۔
    اس سے کئی سال پہلے کے اردو ڈائجسٹ میں یہ شائع ہوا تھا۔۔۔

    لیکن نواب چھتاری کی خود نوشت ۔۔ہے ۔۔۔یاد ایام۔۔کے نام سے ۔ یہ یقیناََ اس میں ہوگا۔
    [​IMG]
    اور قرائن بتاتے ہیں کہ بالکل صحیح ہے ۔
    کسی کو شبہ نہ ہو کہ اکثر صحیح علما بھی کچھ ان بحثوں میں کتب لکھتے رہے ۔ تو یہ کوئی اشکال نہیں ۔ مسئلہ جب چِھڑ جائے تو کیا ہو سکتا ہے ۔ سب اس میں حصہ لیتے ہیں ۔ شرارت تو اس کی جس نے شروع کیا۔

    ضروری تنبیہ یہ ہے کہ عام سطحی ذہن سے پڑھیں گے تو ۔۔۔ایک برا اثر بھی ہوسکتا ہے کہ ۔۔ موجود علما میں جس سے آپ متفق نہ ہوں ۔یاکسی کی کوئی بات اچھی نہ ہوں ۔۔۔یا وہ کچھ لبرل ٹائپ ہو ۔ ۔۔۔ تو ہم لوگ سب پہ اوپر والے سازشی مولوی کا الزام نہ لگا دیں ۔ بتانا صرف یہ ہے کہ یہ سب کچھ شروع میں ہوا۔۔
    بعد میں ہوسکتا ہے ۔۔ ان میں سے کوئی نہ بچا ہو ۔۔۔لیکن انہوں نے آگ بھڑکائی یعنی شروع کیا ۔۔۔
    یہ اہم بات ہے یاد رکھیے گا۔

    اور درس و تدریس کا یہ منظر کہ ایک جگہہ قرآن پڑھایا جارہا ہے ۔۔ ایک جگہہ حدیث کی کتب ۔۔یا مسائل پر بحث۔۔۔
    تو یہ عمل ہر صحیح مدرسے میں بھی ہوتا ہے ۔
    اصل ماخذ چونکہ موجود نہیں ۔۔ اسلئے حرف بحرف سے اتفاق نہیں کہ واقعی لفظ بلفظ یہی ہوا ہوگا۔۔مضمون کی اصل سے اتفاق لگتا ہے ۔ ۔۔کیونکہ بعض ناقل اپنی سوچ کے مطابق روایت میں مزید شدت پیدا کر دیتے ہیں ۔


    پھر مجھے یاد آیا کہ مجھے ایک سائٹ ۔ rekhta پہ یہ کتاب کا نیا ایڈیشن نظر آیا ۔ سائٹ ادبی ٹائپ کی ہے ۔
    انہوں نے کتاب کی صرف آنلائن ریڈنگ (وہ بھی کافی سست) ہی کھولی ہوئی ہے ۔ ڈاؤنلوڈنگ نہیں ہو سکتی ۔
    میں نے اس کی جلدی جلدی (میری طرف سے جلدی تھی ۔ سائٹ کی طرف سے پیچ لوڈ ہونے میں سستی ) ورق گردانی کی ہے ۔ لیکن جلدی میں تو نہیں نظر آیا ۔ کتنا مشکل کام ہے ۔ ایک بور کتاب (اگرچہ اس میں پارٹیشن کے وقت کی تاریخی باتیں بھی ہیں ) لیکن چونکہ اس سے مناسبت نہیں ۔ اوپر سے پیچ لوڈ ہونے میں ٹائم لے تو کیا حال ہو ۔

    بہر حال واقعہ کی اصل کوئی ہے ۔۔۔پورا یہ نہیں جو بیان ہوا۔
    واللہ اعلم۔
  9. جمشید

    جمشید وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    111
    موصول پسندیدگیاں:
    33
    جگہ:
    Afghanistan
    واقعہ مشتبہ معلوم ہوتاہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے درمیان جس قدر فرقے ہیں، اوران فرقوں کے بانی مبانی اوراس سے وابستہ جتنے لوگ ہیں، ان میں کوئی یوروپین نہیں ہے،ہندوستان میں عمومی طورپر تین فرقے ہیں،دیوبندی، بریلوی، اور اہل حدیث یاغیرمقلد،تینوں جماعتوں کے اکابر کا حال دیکھئے ،دیوبندی مولانا قاسم نانوتوی سے شروع ہے،یاشاہ ولی اللہ سے کرلیں، کوئی یوروپین اورباہری ملک کا نہیں ہے، بریلوی مولانا احمد رضاخان صاحب اوران سے وابستہ افراد سبھی ہندوستانی ہیں، تیسرے اہل حدیث ان کی ابتداء چاہے عبدالحق سے کریں یاپھر میاں نذیر حسین صاحب سے ،یوروپین کوئی بھی نہیں ہے، سب کہاں پیداہوئے، ان کے والدین کون تھے، انہوں نے کس سے تعلیم پائی ،سب معلوم ہے، لہذا یہ افسانہ اس لحاظ سے توبے کار ہےکہ اس طرح سے فرقے بنائے گئے ہیں،پھر یہ منقول بھی ہے ایک اردو ڈائجست میں ،جس میں زیادہ تر ناول اور افسانے کا ہی گزر ہے، ایسالگتاہے کہ مضمون نگار نے تاریخی ناول نگاری کی کوشش کی ہے۔اگراس واقعہ کو کسی درجہ میں تاویل کے ساتھ درست قراردیاجاسکتاہے تو وہ محض اس حد تک کہ اس سے ہوسکتاہے کہ مستشرقین کی کھیپ تیار کی جاتی ہو،
    یہ معلوم بات ہے کہ مستشرقین کی جائے پیدائش کوئی علمی ادارہ نہیں بلکہ چرچ ہے اورماضی میں اورآج بھی چرچ ہی مستشرقین کی زیادہ پرورش وپرداخت کرتاہے،ہوسکتاہے کہ کسی چرچ کے زیراہتمام عیسائی طالب علموں کو اسلامی علوم میں مہارت حاصل کرنے کا ارادہ ہو،جیسے ہمارے مدرسوں میں طلباء کو عیسائیت اوربابئیل کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ وہ مخالفین کے مذہب سے واقف ہوں، ہوسکتاہے کہ ویساہی وہاں بھی ہو اورزیادہ بڑے پیمانہ پر ہو۔چونکہ ان کے وسائل زیادہ ہیں۔
    اتنی سی بات تھی اسے افسانہ کردیا
    والسلام
  10. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    آپ کی بات میں بھی وزن ہے ۔۔۔ظاہر ہے واقعہ اگر نواب صاحب کی کتاب میں ہو بھی تو ۔۔تاریخی نوعیت کا ہی ہے ۔۔۔بلکہ آج کل کے حساب سے ایک میڈیا کی خبر کی طرح کا ہے ۔

    لیکن اس میں یہ ہے کہ ۔۔۔مضمون میں ان تین مسالک کا یا ان کے بانیوں کا نام لے کر کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔۔۔بلکہ فرقہ واریت کی اصطلاح تو غالباََ مضمون نگار کی ہے ۔۔۔

    مضمون میں نام لے کر جن کا تذکرہ ہے ۔۔۔وہ قادیانی ، رشدی وغیرہ بھی ہیں ۔۔اور ۔۔وہ تو اس مضمون کی مرکزی تعریف پر پورے اترتے ہیں ۔

    یعنی وہ تو سراسر۔۔۔پلانٹڈ۔۔۔لوگ۔۔اور مذہب ہیں ۔

    باقی مسلکی اختلافات ۔۔یا ۔۔باریک مذہبی مسائل ۔۔۔کے لئے بانیان کا ملوث ہونا واقعی صحیح نہیں ہے۔

    البتہ کوئی آدمی مسلک کا طرف دار بن کر تو کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔اس کے لئے انگریز یا یورپین ہونا ضروری نہیں ۔۔۔
    اسلام کے شروع کے دور میں منافقین اس کی مثال ہیں ۔۔۔وہ اندر گھُسے ہوئے ہی لوگ تھے۔۔

    اور آج کل ۔۔۔ این جی او ز ۔۔۔یا میڈیا بھی ۔۔۔اس کے ہتھیار ہیں ۔۔یا جیسے آپ نے فرمایا ۔۔۔مستشرقین وغیرہ۔۔

    اور آج کل ۔مختلف مذہبی ٹائپ گروہوں کو ۔۔۔فنڈنگ ۔۔۔ملنا ۔۔مشہور بات ہے ۔۔۔اور ثابت ہے ۔۔

    واللہ اعلم۔
  11. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    میں نے اس سے پہلے بھی کچھ اس طرح کے مضمون پڑھیں ہیں۔ اور یہ واقعہ اس لحاظ سے سچا ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے جو دہشتگرد سرحد سے پکڑے گئے ان کے ختنے نہیں ہوئے تھے اوران میں سے کچھ لوگ بحثیت امام کی خدمات بھی انجام دے چکے تھے۔
    باقی فرقوں والی بات شروع کی جائے تو 1857 کی جنگ آزادی سے۔
    بہت سی کتب کے حوالے سے پتا چلتا ہے کہ
    اہل حدیث مسلک کی بنیاد بھی انگریز کے زمانے سے ہوئی۔ اگر مزید تاریخ کا مطالعہ کریں تو تلبیس ابلیس میں آپ کو 72 فرقوں کا ذکر ملے گا جس میں سے ایک ظاہری فرقہ ہے جو قیاس اجتہاد کو نہیں مانتا تھا۔ تاریخ ابن خلدون اور امام شعرانی کی کتاب المیزان الکبری میں ایک امام داوؤد ظاہری کا نام ملتا ہے لیکن کوئی کتب اس مذہب کی مجھے نہیں ملی۔ البتہ اسی طرح ایک نام ابن حزم ظاہری کا بھی ملتا ہے جنہوں نے المحلی لا بن حزم لکھی ہے اور waqfeya.com ( جس میں تمام مشہور کتب تفاسیر حدیث فقہ تاریخ موجود ہیں) پر جہاں فقہ میں چار فقہ ملتے ہیں وہاں ایک فقہ عام میں ابن حزم کی کتاب کا لنک بھی موجود ہے۔ لیکن مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری اجماع کے منکر نہیں تھے جیسا کہ آج کل کے غیر مقلد صحابہ کے اجماعی مسائل جیسے 20 رکعت تروایح تین طلاق اذان عثمانی صحابہ کے فتوی کو حجت تسلیم نہ کرنا اور ساری کوششیں صرف ترک رفع یدین قرات خلف الامام امین بالجہر پر صرف کرنے میں خرچ کرنا ظاہری ایسے نہیں تھے
    آپ اہل حدیث بمنام منکر فقہ و اجماع کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو انکا سارا زور ان مسائل کے خلاف احادیث کو ضعیف ثابت کرنے میں لگا ہے۔ ایسا پوری تاریخ میں نہیں ہوا۔
    البتہ طلاق ثلثہ کے ایک ہونے پر صرف امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد جن میں سے ابن قیم کا نام پیش پیش ہے کا فتوی دیا تھا جس کو امت نے قبول نہیں کیا۔

    غیر مقلدوں کے رد پر صرف تین باتوں پر اکتفا کرونگا۔
    اصحاب صحاح ستہ میں سے امام ترمذی نے اپنی جامع ترمذی میں جگہ جگہ احادیث کے ساتھ امام مالک۔ امام شافعی۔ امام احمد اور امام ابو حنیفہ کے اقوال بنام اہل کوفہ ذکر کیے ہیں۔ جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امام ترمذی ان فقہاء کو مانتے تھے۔
    اور تیرویں صدی سے پہلے کسی بھی عالم نے تقلید کے رد پر کوئی کتاب نہیں لکھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تقلید پر اجماع تھا۔
    اس کے علاوہ غیر مقلدین کی کوئی علمی سند مقلدین کے بغیر موجود نہیں جس میں انکا اتصال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ہو۔
    غیر مقلد کے انگریز وں سے نوازے جانے سے متعلق ان کے اپنے گھر سے حوالہ کے لیے مطالعہ کریں
    الحیا ت بعد الممات۔ فتاوی نذریہ۔ الاقتصاد فی المسایل الجہاد۔الشاعةالسنة
    اگر ان کے سنیپ شارٹ مطلوب ہوں تو وہ میر ے پاس موجود ہیں


    دوسرا فرقہ بریلوی مکتب فکر ہے
    جو احمد رضا خان بریلوی سے شروع ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد بھی انگریز سے منسلک ہے شروع ہوئی۔ اگر اس فرقے کی بنیادی عقائد کا مطالعہ کیا جائے جہاں سے اختلاف ہوتا ہے وہ یہ ہیں حاظر ناظر ۔نور بشر۔ علم غیب ۔ مختار کل۔ غیر اللہ سے مدد۔یا علی مدد ۔یاغوث اعظم مدد۔
    مسائل کی بات کی جائے تو ۔عرس۔ ختم شریف۔ تیجہ دوجہ۔گیارویں۔ چالیسواں۔میلاد۔ صلاةالسلام شامل ہیں
    انکے عقائد پر بحث ہونی چاہیے تو عقائد میں خیر القرون پر اس مسئلہ میں بہت ہو چکی۔ اور امامیہ۔ قدریہ۔ جہمیہ۔معتزلہ۔ وغیرہ وغیرہ۔یہ خیر القرون میں ہی بنے۔ اگر یہ عقائد جن پر آج کے بریلوی مسلک کے لوگ بڑی زور دار بحث کرتے ہیں۔ اگر اس کی کوئی اصل ہوتی تو لازما خیر القرون میں بھی ایسے مسئلے پر کتابیں لکھیں گئی ہوتیں۔ لیکن کوئی کتاب ایسی نہ ملے گی۔ جس میں مذکورہ مسائل کا ذکر ہو۔ معلوم ہوا یہ عقائد انکے احمد رضا خان صاحب سے شروع ہوئے۔اس کے علاوہ عقائد میں دو طرح کے لوگ ہیں جن میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو اہل سنت والجماعت سے خارج کرے وہ ہیں اشعری اور ماتریدی۔
    لیکن بریلوی مسلک کے عقائد ان سے نہیں ملتے۔ چونکہ یہ لوگ اپنے عقائد کے کے دلائل قرآن و حدیث سے اپنی من مانی تشریحات کے ذریعے کرتے ہیں اور اگر ان کی اصل دیکھنی ہو اہلسنت والجماعت کے بزرگوں کی تفاسیر اور شروحات حدیث کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ بریلوی طبقے نے امت کے عقائد بگاڑنے کے لیے من مانی تشریحات کی ہیں۔
    اب مسائل پر آجائیں جو انکے مسائل اختلافی ہیں ان کی کوئی اصل کتب فقہ حنفی میں موجود نہیں اگر انکے مسائل گھڑے ہوئے نہیں تو علماء احناف کی مشہور کتب جیسے قدوری۔ کنز الدقائق۔ ھدایہ۔عالمگیری۔درمختار میں ان مسائل کے بارے میں ذکر ہونا چاہیے تھا اور یہ ذکر بھی ہونا چاہیے تھا کہ یہ فرض واجب سنت نفل مستحب یا مباح ہیں۔ پر ایسا کوئی ذکر نہیں۔ لحاظہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ فرقہ بھی انگریز کے زمانے کی پیداوار ہے۔
    حوالہ کے لیے اور بریلوی مکتب فکر کی انگریز نوازیوں کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ فرمائیں
    الجوابات السیه علی زھاء السوالات الیگیه از میاں قادری برکاتی
    مسلم لیگ کی زریں بکنیہ دری از میاں قادری برکاتی
    احکام نور شرعیہ برمسلم لیگ از حشمت علی قادری
    تجانب اہل السنتہ عن اہل الفتنہ از طیب قادری واناپوری

    آخر میں دیوبند مکتب فکر کی بات ہونی چاہیے۔ تو دیوبند مکتب فکر کوئی نیا فرقہ نہیں۔ البتہ چونکہ بریلوی بھی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں لیکن عقائد اور مسائل میں گڑ بڑ کرتے ہیں تو اس وجہ سے اصلی حنفی کی پہچان بتانے کے لیے ہم اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں۔ بریلوی مکتب فکر کے علماء نے علماء حرمین والوں کو دیوبند سے متنفر کرنے کے لیے علماء دیوبند کی کتب سے عبارتوں کو توڑ مروڑ کر غلط قسم کے عقائد کو علماء دیوبند سے منسلک کرنے کے لیے حسام الحرمین لکھی۔ البتہ چونکہ ایسا نہیں تھا تو علماء دیوبند نے اس کے رد میں المہند علی المفند لکھی جس میں اپنے عقائد کا تذکرہ کیا اور ان عقائد کی حقانیت کو ثابت کرنے کےلیے علماء حرمین سے دستخط کروا کر اس کو چھپوایا۔ یہ کتاب کتب خانوں کے علاوہ نیٹ پر بھی دستیاب ہے۔

    بہت سے لوگوں نے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے علماء دیوبند کا تعلق انگریز اور ہندؤں سے جوڑنے کے لیے کچھ عبارات مختلف کتابوں سے پیش کیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ علماء دیوبند کا سلسلہ حضرت قاسم نانوتوی سے شروع نہیں ہوتا۔ سید احمد شہید کو بھی ہم اپنے اکابر میں سے ہی شمار کرتے ہیں اور انکا انگریز کے خلاف جہاد اور اس میں شہادت مشہور ہے۔
    شاہ ولی اللہ کو بھی ہم اپنے اکابر میں شمار کرتے ہیں وہ بھی۔ ہندوستان میں جس نے بھی علم دین سیکھا اسکی سند شاہ ولی اللہ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔
    انگریز کے خلاف جہاد شاملی میں ہمارے ہی اکابر شریک تھے جن میں مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی پیش پیش تھے۔ ہمارے اکابر میں دیوبند کےپہلے شاگرد مولانا محمود الحسن مالٹا کے جزائر میں انگریز کی قید میں رہے ہیں۔لکھنے کو بہت کچھ ہے پر میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں

    باقی سب فرقوں کی نشانی کسی نہ کسی بنیاد پر ہے
    بریلوی مکتب فکر والے اپنی مساجد کے نام کیساتھ اکثر غوثیہ لکھواتے ہیں اور سر پر سبز عمامہ بھی انکی پہچان ہے۔
    غیر مقلد حضرات اکثر ننگے سر رہتے ہیں اور لمبی داڑھیاں بھی انکی پہچان ہے۔ انکی مساجد کے نام میں اہل حدیث لکھا ہوتا ہے۔
    صرف علماء دیوبند کی کوئی خاص نشانی نہیں۔
    اللہ تعالی ہمیں حق بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    Last edited: ‏ستمبر 14, 2017
  12. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    محترم دوست ، لیکن اب عرصہ بھی تو بہت گزر گیا ہے ۔ میرا خیال ہے اب کوشش یہ کرنی چاہیے کہ فرقہ واریت کو ختم کرنے کی نیت سے دوسرے مسلک کے معتدل آدمی کو ڈھونڈا جائے ۔ اور حسن ظن پر چلا جائے ۔ جیسے اہلحدیث میں فرقہ واریت کا پرچم کچھ حضرات مثلاََ توصیف صاحب وغیرہ نے اٹھایا ہوا ہے تو ان میں معتدل حضرات مثلاََ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر بھی تو ہیں ، اسی طرح بریلوی طبقہ میں اگر مظفر شاہ صاحب فرقہ واریت کو پسند کرتے ہیں تو بریلوی مکتبہ فکر کے مفتی اعظم مفتی منیب الرحمٰن جیسے معتدل بھی تو ہیں ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں